آج ہندستان توانائی کے شعبے میں بے پناہ مواقع کی سرزمین ہے: وزیر اعظم
ہند-یورپی یونین ایف ٹی اے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی کی ایک قابل ذکر مثال ہے: وزیر اعظم
ہندوستان اب توانائی کے تحفظ سے آگے توانائی کی خود انحصاری کے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے:وزیر اعظم
ہماری توانائی کا شعبہ ہماری امنگوں پر مرکوز ہے ، اس میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں ، اسی لیے میک اِن انڈیا ، انوویٹ اِن انڈیا ، اسکیل ود انڈیا ، انویسٹ ان انڈیا کواہمیت دی گئی ہے:وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انڈیا انرجی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب کے دوران اجتماع سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب نریندر مودی نے کہا کہ انرجی ویک کے اس نئے ایڈیشن میں تقریباً 125 ممالک کے نمائندے گوا میں جمع ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اس بات  کو اُجاگر کیا کہ وہ توانائی  کے لحاظ سے محفوظ اور پائیدار مستقبل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ہندوستان آئے ہیں اور انہوں نے تمام شرکاء کا خیرمقدم کیا ۔

انہوں نے  کہا  کہ انڈیا انرجی ویک بہت ہی کم وقت میں بات چیت اور اقدام کے عالمی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہندوستان توانائی کے شعبے میں  بے پناہ مواقع کی سرزمین ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے ، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں توانائی کی پیداوار کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان عالمی مانگ کو پورا کرنے کے بہترین مواقع بھی فراہم کرتا ہے ۔ جناب  نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کے سب سے بڑے پانچ برآمد کنندگان میں شامل ہے ، جس کی برآمدات کا دائرہ 150 سے زیادہ ممالک تک پھیلا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی یہ صلاحیت سب کے لیے بہت فائدہ مند ہوگی ۔ انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ  انرجی ویک کا پلیٹ فارم شراکت داری کی دریافت کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے اور انہوں نے تمام شرکاء کو نیک خواہشات پیش کیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپنی بات  آگے بڑھانے سے پہلے ، وہ ایک بڑی پیش رفت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کل ہی ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان ایک اہم معاہدے پر دستخط ہوئے ، جسے دنیا بھر کے لوگوں نے‘‘تمام سودوں کی ماں’’ قرار دیا ہے ۔ جناب  نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے 140 کروڑ لوگوں اور یورپی ممالک کے لاکھوں لوگوں کے لیے بے پناہ مواقع کا ضامن ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سےدو  ملکوں کے درمیان ہم آہنگی کی ایک قابل ذکر مثال ہے ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ معاہدہ عالمی جی ڈی پی کا تقریبا 25 فیصد اور عالمی تجارت کا تقریبا ایک تہائی حصے پر مشتمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ تجارت سے بالاتر یہ معاہدہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تئیں مشترکہ عزم کو مضبوط کرنےوالا ہے ۔

جناب نریندر مودی نے واضح  کیا کہ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ سےبرطانیہ اور ای ایف ٹی اے کے ساتھ معاہدوں کی تکمیل ہوگی ، جس سے تجارتی اور عالمی سپلائی چین دونوں کو تقویت ملے گی ۔  انہوں نے اس کامیابی پر ہندوستان کے نوجوانوں اور تمام شہریوں کو دلی مبارکباد پیش کی اور ٹیکسٹائل ، جواہرات اور زیورات ، چمڑے اور جوتوں جیسے شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ، اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ معاہدہ ان کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا ۔  وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ نہ صرف ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دے گا بلکہ خدمات کے شعبے کو بھی مزید وسعت دے گا ۔  انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ آزاد تجارتی معاہدہ سے ہندوستان میں عالمی کاروبار اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوطی ملے گی۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان ہر شعبے میں عالمی شراکت داری پر فعال طور پر کام کر رہا ہے ، جناب نریندر مودی نے کہا کہ صرف توانائی کے شعبے میں ہی انرجی ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔  جناب نریندر مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان نے اپنے ایکسپلوریشن سیکٹر کو نمایاں طور پر کھول دیا ہے ۔اس ضمن میں انہوں نے  گہرے سمندر میں ایکسپلوریشن کی پہل کا  تذکر ہ کیا جسے سمدر منتھن مشن کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ اس دہائی کے آخر تک ، ہندوستان کا مقصد تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو 100 بلین ڈالر تک بڑھانا ہے ، جس کے ذریعے ایکسپلوریشن کا دائرہ کار ایک ملین مربع کلومیٹر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔  وزیر اعظم نے کہا کہ 170 سے زیادہ بلاکس پہلے ہی مختص کیے جا چکے ہیں ، اور انڈمان و نکوبارکی  طاس ہائیڈرو کاربن کی نئی امید کے طور پر ابھر رہی ہے ۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دریافتوں  کے شعبے میں متعدد اصلاحات کی گئی ہیں ، جن میں نو گو ایریا کو کم کرنا بھی شامل ہے ، جناب نریندر مودی نے مزید کہا کہ انڈیا انرجی ویک کے پچھلے ایڈیشن کے دوران موصول ہونے والی تجاویز کو قوانین اور قواعد میں ترمیم کے لیے زیر غور لایا گیا ہے ۔  انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ ایکسپلوریشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہونا یقینی ہے ۔

وزیر اعظم  نریندر مودی نے ہندوستان کی ایک اور مخصوص طاقت کواُجاگر کیا جو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو انتہائی فائدہ مند بناتی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس ریفائننگ کی بہت بڑی صلاحیت ہے اور اس وقت وہ اس سلسلے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔  جناب نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ جلد ہی ہندوستان ریفائننگ کی صلاحیت میں عالمی سطح پر پہلے نمبر کا ملک بن جائے گا ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ ریفائننگ صلاحیت تقریبا 260 ایم ایم ٹی سالانہ ہے ، اور اسے 300 ایم ایم ٹی سالانہ سے زائد تک  بڑھانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں ۔  وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سرمایہ کاروں کے لیے بڑا فائدے کا شعبہ ہے ۔

اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ہندوستان میں ایل این جی کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے اور ملک نے ایل این جی کے ذریعے اپنی توانائی کی کل مانگ کا 15 فیصد پورا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ، وزیر اعظم نے پوری ایل این جی ویلیو چین میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نقل و حمل کے شعبے  میں بڑے پیمانے پر کوششیں کر رہا ہے ۔  جناب نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان گھریلو سطح پر ایل این جی کی نقل و حمل کے لیے درکار جہازوں کی تعمیر کے لیے کام کر رہا ہے ، جسے حال ہی میں شروع کیے گئے ستر ہزار کروڑ روپے کے جہاز سازی پروگرام کی حمایت حاصل ہے ۔  انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی بندرگاہوں پر ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ری گیسیفیکیشن پروجیکٹوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو ایل این جی کی نقل و حمل کے لیے وسیع پائپ لائن نیٹ ورک کی ضرورت ہے ، جس کے لیے  پہلے ہی اہم سرمایہ کاری کی جا چکی ہے ، لیکن بڑے پیمانے پر مواقع اب بھی باقی ہیں ۔  انہوں نےاس بات کی  نشاندہی کی کہ سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پہلے ہی بہت سے ہندوستانی شہروں تک پہنچ چکا ہے اور تیزی سے دوسرے شہروں تک پھیل رہا ہے ، جس سے یہ شعبہ سرمایہ کاری کے لیے انتہائی پرکشش بن گیا ہے ۔

جناب نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان کی بڑی آبادی اور مسلسل بڑھتی ہوئی معیشت کے تناظر میں ، پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا ، جس سے توانائی کے وسیع بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی ۔  انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری سے خاطر خواہ ترقی ہوگی ۔انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے ڈاؤن اسٹریم سرگرمیوں میں بھی وافر مواقع موجود ہیں ۔

جناب نریندر مودی نے زور دے کر کہا ، ‘‘آج کا ہندوستان ریفارمز ایکسپریس پر پیہم گامزن ہے اور ہر شعبے میں تیزی سے اصلاحات کر رہا ہے ۔’’  انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی شراکت  کے لیے ایک شفاف اور سرمایہ کاروں کے موافق  ماحول پیدا کرکےگھریلو ہائیڈرو کاربن کو مضبوط کرنے کے لیے اصلاحات کی جا رہی ہیں ۔  وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اب توانائی کے تحفظ سے آگے بڑھ کر توانائی کی آزادی کے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان توانائی کے شعبے کا ایسا ماحولیاتی نظام تیار کر رہا ہے جو مقامی طلب کو پورا کرنے پر قادر ہو اور سستی ریفائننگ اور نقل و حمل کے حل کے ذریعے برآمدات کو دنیا کے لیے انتہائی مسابقتی بنا رہا ہے ۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا توانائی کا شعبہ ملک کی توقعات  پر مرکوز ہے ، جو 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔  انہوں نے عالمی برادری کو میک ان انڈیا ، انوویٹ ان انڈیا ، اسکیل ود انڈیا ، انویسٹ ان انڈیا کا پیغام  دینے کے ساتھ اپنے خطاب  کا اختتام کیا ۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری ، گوا کے وزیر اعلی جناب پرمود ساونت اور دیگر معززین اس تقریب میں موجود تھے ۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects

Media Coverage

India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog
June 11, 2026
Vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village: PM
PM calls India's 70 crore youth its asset, urges States to transform this Demographic dividend into Development dividend
PM encourages States to create opportunities for youth and MSMEs and actively attract investments from countries with which India has signed FTAs
States to strengthen ODOP and leverage opportunities in defence manufacturing: PM
PM emphasizes that AI should be viewed as an opportunity and people should be equipped with future ready skills
PM highlights the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud
PM draws attention to concerns arising from El Niño and urges States to conserve water and promote natural farming
CMs/LGs/Administrators congratulate PM Modi on completing 12 years in office
States express solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience
All States and 5 UTs attend meeting; first time when CMs of all 28 States participate
Theme of meeting : Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog at Rashtrapati Bhavan Cultural Centre, New Delhi, earlier today. This year’s theme was Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047. It was attended by Chief Ministers, Lt. Governors and Administrators representing 28 States and 5 UTs. This was the first time when Chief Ministers of all 28 States participated in the Governing Council Meeting of NITI Aayog.

Prime Minister noted that at a time when many major economies are facing uncertainty and economic challenges, India’s growth story continues to inspire the world. He emphasized the need to further strengthen the nation’s resolve towards self-reliance and highlighted the importance of adopting and implementing global best practices, particularly in the renewable energy sector.

Underscoring the importance of cooperative federalism, Prime Minister stated that the Centre and the States must work together to achieve the goal of a Viksit Bharat. He stressed that the vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village.

Highlighting the strength of India’s demographic profile, Prime Minister observed that the country’s youth constitute its greatest asset, with nearly 70 crore Indians below the age of 25 years. Calling this a demographic dividend, he urged States to focus on transforming it into a development dividend through education, skilling and capacity-building initiatives that prepare young people for future opportunities and challenges.

Referring to India’s recently concluded trade agreements with several countries, Prime Minister encouraged States to create opportunities for youth and MSMEs and to equip stakeholders to effectively leverage the benefits arising from these agreements. He also urged States to actively attract investments from partner countries.

Emphasizing women-led development, Prime Minister called upon States to work towards increasing the number of Lakhpati Didis from 3 crore to 6 crore and stressed the importance of ensuring a safe and secure environment for Nari Shakti.

Prime Minister urged States to focus on One District One Product (ODOP) initiatives and develop export-oriented strategies around it. He also identified defence manufacturing as an emerging sector where India is establishing a distinct identity and encouraged States to formulate policies to leverage the opportunities arising from its growth.

Prime Minister highlighted the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud through preventive measures, awareness campaigns and effective governance.

Prime Minister also drew attention to concerns arising from El Niño conditions and appealed to States to promote water conservation and encourage natural and organic farming practices. He noted that the purchase of 11 lakh tonnes of organic manure by farmers during the current Kharif season reflected growing confidence in sustainable agriculture.

Prime Minister emphasized the need to evaluate progress at the district level, particularly through aspirational district parameters. Prime Minister suggested that on similar lines, 100 districts should be identified in the field of agriculture to bring positive results. He urged the States to take lead in this pursuit so that a phenomenal change can be achieved through the aspirational approach.

Prime Minister emphasised the need for a monitoring framework and targeted 100-day and five-year goals towards achieving the vision of Viksit Bharat@2047.

Highlighting the importance of good governance, transparency, and infrastructure for attracting investment, he urged States to focus on branding, ease of doing business, and emerging opportunities in sectors such as data centres and artificial intelligence. He emphasized that AI should be viewed as an opportunity and called for greater efforts to equip people with the skills required for the future economy.

The Chief Ministers/Lt. Governors/Administrators congratulated Prime Minister Modi on completing 12 years in his office. They also expressed solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience with respect to energy requirements, and sustain its growth trajectory.

Prime Minister noted that the discussions were constructive and reflected the aspirations, hopes, experiences, best practices, and challenges of the States. Prime Minister expressed his gratitude to all the CMs, LGs and Administrators for participating in the meeting and expressed confidence that Together, through cooperation, innovation, and a shared commitment to development, India can accelerate its journey towards a Viksit Bharat by 2047.