’’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل’مقصد کے اتحاد کے ساتھ ساتھ عمل کے اتحاد کی ضرورت کا اشارہ دیتا ہے’’
’’عالمی جنگ کے بعد کی عالمی گورننس مستقبل کی جنگوں کو روکنے اور مشترکہ مفادات کے مسائل پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے اپنے دونوں مینڈیٹ میں ناکام رہی‘‘
’’ کوئی بھی گروپ اپنے فیصلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کو سنے بغیر عالمی قیادت کا دعویٰ نہیں کر سکتا‘‘
’’ ہندوستان کی جی 20 صدارت نے گلوبل ساؤتھ کو آواز دینے کی کوشش کی ہے‘‘
’’جن مسائل کو ہم مل کر حل نہیں کرسکتے انہیں ان مسائل کی راہ میں حائل نہیں ہوناچاہئے جنہیں ہم حل کرسکتے ہیں‘‘
’’ ایک طرف ترقی اور کارکردگی اور دوسری طرف لچک کے درمیان صحیح توازن تلاش کرنے میں جی 20 کو اہم کردار ادا کرنا ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعے جی 20 کے وزراء  خارجہ کی میٹنگ سے خطاب کیا۔

تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات کی وضاحت کی کہ  ہندوستان نے اپنی جی 20  صدارت کے لیے ‘ایک کرہ ارض، ایک خاندان، ایک مستقبل’  کا موضوع کیوں منتخب کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مقصد کے اتحاد کے ساتھ ساتھ عمل کے اتحاد کی ضرورت کا اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آج کا اجلاس مشترکہ اور ٹھوس مقاصد کے حصول کے لیے اکٹھا ہونے کے جذبے کی عکاسی کرے گا۔

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ آج دنیا میں کثیرالجہتی بحران کی کیفیت سے دوچار ہے، وزیر اعظم نے ان دو اہم کاموں کی نشاندہی کی جن کا مقصد دوسری عالمی جنگ کے بعد تخلیق کردہ عالمی طرز حکمرانی کے ڈھانچے سے کیا جانا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سب سے پہلے، مسابقتی مفادات کو متوازن کرکے مستقبل کی جنگوں کو روکنا تھا، اور دوسرا، مشترکہ مفادات کے مسائل پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ گزشتہ چند سالوں میں مالیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض، دہشت گردی اور جنگوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپنے دونوں مینڈیٹ میں عالمی حکمرانی کی ناکامی کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ناکامی کے المناک نتائج زیادہ تر تمام ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں اور دنیا کو کئی سالوں کی ترقی کے بعد پائیدار ترقی سے محروم ہونے کا خطرہ  لاحق ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی ذکر کیا کہ بہت سے ترقی پذیر ممالک اپنے لوگوں کے لیے خوراک اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہوئے غیر پائیدار قرضوں کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ترقی پذیر ممالک ہیں جو امیر ممالک کی وجہ سے گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔  وزیراعظم نے تبصرہ کیا‘‘ ہندوستان  کی جی20  صدارت نے گلوبل ساؤتھ کو آواز دینے کی کوشش کی ہے’’،  انہوں نے  وضاحت کی کہ کوئی بھی گروپ اپنے فیصلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کو سنے بغیر عالمی قیادت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی میٹنگ گہری عالمی تقسیم کے وقت ہو رہی ہے اور وزرائے خارجہ کی حیثیت سے یہ فطری بات ہے کہ بات چیت اس وقت کی جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے متاثر ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ‘‘ہم سب کے اپنے موقف اور اپنے نقطہ نظر ہیں کہ اس کشیدگی  کو کیسے  دورکیا جائے’’۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی سرکردہ معیشتوں کے طور پر، ان لوگوں کی ذمہ داری ،جو اس حیثیت میں نہیں ہیں، ہم پر عائد ہوتی ہے۔وزیراعظم نے  تبصرہ کیا ‘‘دنیا جی 20 کی طرف دیکھتی ہے تاکہ نمو، ترقی، اقتصادی لچک،  قدرتی آفات سے نمٹنے، مالی استحکام، بین الاقوامی جرائم، بدعنوانی، دہشت گردی، اور خوراک اور توانائی کے تحفظ کے چیلنجوں کو کم کیا جا سکے’’، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جی 20 میں  ان تمام شعبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے اور ٹھوس نتائج دینے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جن مسائل کو  ہم حل نہیں کرسکتے انہیں ان مسائل کی راہ میں حائل نہیں ہوناچاہئے۔ جنہیں ہم حل کرسکتے ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ یہ میٹنگ گاندھی اور بدھ کی سرزمین پر ہو رہی ہے، وزیر اعظم نے عزت مآب خواتین و حضرات پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی تہذیبی اقدار سے تحریک لیں جو ہمیں تقسیم  نہیں کرتی ہے، بلکہ اس بات پر  مرتکز  ہے جو ہم سب کو متحد کرتی ہے۔

قدرتی آفات میں ہزاروں جانوں کے ضیاع پر روشنی ڈالتے ہوئے اور دنیا کو جس تباہ کن وبا کا سامنا کرنا پڑا، وزیر اعظم نےتبصرہ  کیا کہ کس طرح  کشیدگی  اور افراتفری کے وقت عالمی سپلائی چین ٹوٹ گئے ہیں۔ اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ مستحکم معیشتیں اچانک قرضوں اور مالیاتی بحران سے مغلوب ہوگئیں، وزیراعظم نے اپنے معاشروں، معیشتوں، صحت کی دیکھ بھال کے نظام اور انفراسٹرکچر میں لچک دکھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے تبصرہ  کیا  ‘‘ایک طرف ترقی اور کارکردگی اور دوسری طرف لچک کے درمیان صحیح توازن تلاش کرنے میں جی 20 کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔’’ انہوں نے  مشورہ دیا  کہ مل کر کام کر کے اس توازن کو زیادہ آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے اجتماعی دانش اور قابلیت پر اعتماد کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ آج کا اجلاس پرجوش، جامع اور عمل پر مبنی ہو گا جہاں اختلافات سے بالاتر ہو کر قراردادیں سامنے  لائی جائیں گی۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Pyaaz Khaate Hai, Dimaag Nahi': PM Modi's Jhalmuri Video Breaks The Internet With 100M+ Views

Media Coverage

Pyaaz Khaate Hai, Dimaag Nahi': PM Modi's Jhalmuri Video Breaks The Internet With 100M+ Views
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister condoles the loss of lives in a mishap at a cracker factory in Thrissur, Keralam
April 21, 2026
PM announces ex-gratia from PMNRF

The Prime Minister, Shri Narendra Modi has condoled the loss of lives due to a mishap at a cracker factory in Thrissur, Keralam. Shri Modi also wished speedy recovery for those injured in the mishap.

The Prime Minister announced an ex-gratia from PMNRF of Rs. 2 lakh to the next of kin of each deceased and Rs. 50,000 for those injured.

The Prime Minister posted on X:

“Saddened to hear about the loss of lives due to the mishap at a cracker factory in Thrissur, Keralam. My deepest condolences to those who have lost their loved ones. May the injured recover at the earliest: PM @narendramodi"

"The Prime Minister has announced that an ex-gratia of Rs. 2 lakh from PMNRF would be given to the next of kin of each deceased. The injured would be given Rs. 50,000." 

"തൃശൂരിലെ പടക്ക നിർമാണശാലയിലുണ്ടായ അപകടത്തിൽ നിരവധി ജീവനുകൾ പൊലിഞ്ഞ വാർത്തയറിഞ്ഞതിൽ ദുഃഖമുണ്ട്. പ്രിയപ്പെട്ടവരെ നഷ്ടപ്പെട്ടവരുടെ വേദനയിൽ പങ്കുചേരുന്നു. പരിക്കേറ്റവർ എത്രയും വേഗം സുഖം പ്രാപിക്കട്ടെ: പ്രധാനമന്ത്രി

@narendramodi."

"മരിച്ച ഓരോ വ്യക്തിയുടെയും കുടുംബത്തിന് പ്രധാനമന്ത്രിയുടെ ദേശീയ ദുരിതാശ്വാസ നിധിയിൽ (PMNRF) നിന്ന് 2 ലക്ഷം രൂപ ധനസഹായം നൽകുമെന്ന് പ്രധാനമന്ത്രി അറിയിച്ചു. പരിക്കേറ്റവർക്ക് 50,000 രൂപ വീതം നൽകും."