عالی مرتبت وزیر اعظم اور میرے دوست انور ابراہیم جی،

عالی جناب،

عالی مرتبت خواتین و حضرات،
نمسکار۔
اپنے آسیان کنبے کے ساتھ پھر ایک مرتبہ مجھے جڑنے کا موقع حاصل ہوا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔

آسیان کی کامیاب صدارت کے لیے، میں وزیر اعظم انور ابراہیم کو تہہ دل سے مبارکباد دیتا ہوں۔ بھارت کے کنٹری کوآرڈی نیٹر کا کردار مہارت کے ساتھ ادا کرنے پر فلپائن کے صدر مارکوس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور آسیان کے نئے رکن کے طور پر تیمور لیسٹے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

 

تھائی لینڈ کی مادر ملکہ کی رحلت پر میں تمام بھارتیوں کی جانب سے تھائی لینڈ کے شاہی کنبے اور عوام کے تئیں اظہار تعزیت کرتا ہوں۔

دوستو،

بھارت اور آسیان مل کر دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم صرف ’’جغرافیہ‘‘ ہی ساجھا نہیں کرتے، ہم گہرے تاریخی تعلقات اور مشترکہ اقدار کے دھاگے سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

ہم گلوبل ساؤتھ کے ساتھی مسافر ہیں۔ ہم صرف کاروباری ہی نہیں، بلکہ ثقافتی شراکت دار بھی ہیں۔ آسیان بھارت کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ بھارت ہمیشہ ’’آسیان سینٹرلیٹی‘‘ اور بھارت – بحرالکاہل پر آسیان کے آؤٹ لک کی مکمل طور پر حمایت کرتا رہا ہے۔

 

غیر یقینی صورتحال سے دوچار اس دور میں بھی، بھارت – آسیان جامع کلیدی شراکت داری میں مسلسل پیشرفت ہوئی ہے۔ اور ہماری یہ مضبوط شراکت داری عالمی استحکام اور ترقی کی مضبوط بنیاد بن کر ابھر رہی ہے۔

دوستو،

اس سال کے آسیان سربراہ اجلاس کا موضوع ہے – ’’شمولیت‘‘ اور ’’پائیداری‘‘ ۔ اور یہ موضوع ہماری مشترکہ کوششوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے، خواہ وہ ڈیجیٹل شمولیت ہو، یا پھر موجودہ عالمی چنوتیوں کے درمیان خوراک سلامتی اور مضبوط سپلائی چین کو یقینی بنانا ہو۔ بھارت ان ترجیحات کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہے اور اس سمت میں ساتھ آگے بڑھنے کے لیے پابند عہد ہے۔

دوستو،

بھارت ہر مصیبت میں اپنے آسیان دوستوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا ہے۔  ایچ اے ڈی آر، بحری سلامتی اور نیلگوں معیشت میں ہمارا تعاون تیزی سے آگے بڑھ رہا  ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے، ہم 2026 کو ’’آسیان – بھارت بحری تعاون کا سال‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

 

ساتھ ہی ہم تعلیم، سیاحت، سائنس اور تکنالوجی، صحت، سبز توانائی، اور سائبر سلامتی میں آپسی تعاون کو بھی مضبوطی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ اپنی ساجھا ثقافتی وراثت کے تحفظ اور عوام سے عوام کے مابین تعلقات کو مضبوط  بنانے کے لیے ہم ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔

دوستو،

اکیسویں صدی ہماری صدی ہے، بھارت اور آسیان کی صدی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آسیان برادری وژن 2045 اور ترقی یافتہ بھارت 2047 کا ہدف تمام بنی نوع انسانی کے لیے ایک روشن مستقبل کی تعمیر کرے گا۔ آپ سبھی کے ساتھ، بھارت کندھے سے کندھا ملاکر اس سمت میں کام کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
A first: Life insurers collected ₹4 trn in new business premium in FY26

Media Coverage

A first: Life insurers collected ₹4 trn in new business premium in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister marks opening of Shri Kedarnath Dham and commencement of Chardham Yatra
April 22, 2026
Prime Minister conveys his sentiments through a letter addressed to all devotees

The Prime Minister today expressed deep reverence on the sacred occasion of the opening of the doors of Shri Kedarnath Dham in Devbhoomi Uttarakhand, marking the commencement of this year’s Chardham Yatra. On the occasion, the Prime Minister shared his heartfelt sentiments through a letter addressed to all devotees visiting Uttarakhand for the Yatra, and extend his best wishes and prayers for their well-being.

Highlighting the spiritual significance of the occasion, Shri Modi noted that the journey to Kedarnath Dham and the Chardham is a divine celebration of India’s enduring faith, unity, and rich cultural traditions. He emphasized that such pilgrimages offer a glimpse into the country’s eternal heritage and spiritual consciousness.

The Prime Minister posted on X:

"देवभूमि उत्तराखंड की पवित्र धरती पर आज श्री केदारनाथ धाम के कपाट पूरे विधि-विधान के साथ हम सभी श्रद्धालुओं के लिए खोल दिए गए हैं।

केदारनाथ धाम और चारधाम की यह यात्रा हमारी आस्था, एकता और समृद्ध परंपराओं का दिव्य उत्सव है। इन यात्राओं से हमें भारत की सनातन संस्कृति के दर्शन भी होते हैं।

इस वर्ष चारधाम यात्रा के आरंभ उत्सव पर, उत्तराखंड आने वाले सभी श्रद्धालुओं के लिए मैंने एक पत्र के माध्यम से अपनी भावनाएं व्यक्त की हैं।

मेरी कामना है कि बाबा केदार सभी पर अपनी कृपा बनाए रखें और आपकी यात्राओं को शुभ करें।

हर-हर महादेव!"