’’گیمز میسکوٹ ’اشٹلکشمی‘ اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح شمال مشرق کی امنگوں کو نئے پنکھ مل رہے ہیں‘‘
’’کھیلو انڈیا کھیلوں کی تقریبات کا انعقاد ہندوستان کے ہر کونے میں کیا جا رہا ہے، شمال سے جنوب تک اور مغرب سے مشرق تک‘‘
’’جس طرح تعلیمی کامیابیوں کا جشن منایا جاتا ہے، ہمیں کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو عزت دینے کی روایت کو فروغ دینا چاہیے، ہمیں ایسا کرنے کے لیے شمال مشرق سے سیکھنا چاہیے‘‘
’’چاہے یہ کھیلو انڈیا، ٹاپس، یا دیگر اقدامات ہوں، ہماری نوجوان نسل کے لیے امکانات کا ایک نیا ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے‘‘
’’ہمارے کھلاڑی کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں اگر ان کی سائنسی نقطہ نظر سے مدد کی جائے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج شمال مشرق کی سات ریاستوں میں منعقد ہونے والے کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز سے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا۔ پی ایم مودی نے کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز کے شوبھنکر کو نوٹ کیا، یعنی تتلی کی شکل میں اشٹلکشمی۔ پی ایم جو اکثر شمال مشرقی ریاستوں کو اشٹلکشی کہتے ہیں نے کہا کہ ’’ان کھیلوں میں تتلی کو شوبھنکر بنانا بھی اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح شمال مشرق کی امنگوں کو نئے پنکھ مل رہے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ایتھلیٹس کو اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے گوہاٹی میں ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ کی عظیم الشان تصویر بنانے کے لیے ان کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’پورے دل سے کھیلیں، بے خوف ہو کر کھیلیں، اپنے اور اپنی ٹیم کے لیے جیتیں، اور اگر آپ ہار جائیں تو بھی پریشان نہ ہوں، ہر جھٹکا سیکھنے کا موقع ہوتا ہے۔‘‘

ملک گیر کھیلوں کے اقدامات پر غور کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے شمال مشرق میں موجودہ کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز کے ساتھ ساتھ لداخ میں کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں، تمل ناڈو میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز، دیو میں بیچ گیمز کا تذکرہ کیا اور کہا، ’’مجھے خوشی ہے شمال سے جنوب اور مغرب سے مشرق تک ہندوستان کے کونے کونے میں کھیلوں کی تقریبات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کھیلوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے مواقع فراہم کرنے میں ان کے تعاون کے لئے مختلف ریاستی حکومتوں بشمول آسام حکومت کی کوششوں کو سراہا۔

 

کھیلوں کے تئیں بدلتے ہوئے سماجی تاثرات کو مخاطب کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے والدین کے رویوں میں تبدیلی پر زور دیا، انہوں نے کہا، پہلے، والدین اپنے بچوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل کرنے سے ہچکچاتے تھے، اس خوف سے کہ اس سے ان کی تعلیم کی طرف سے توجہ ہٹ جائے گی۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی ذہنیت کو اجاگر کیا جہاں اب والدین اپنے بچوں کی کھیلوں میں کامیابیوں پر فخر کرتے ہیں، چاہے وہ ریاستی، قومی یا بین الاقوامی سطح پر ہو۔

وزیر اعظم مودی نے کھلاڑیوں کی کامیابیوں کا جشن منانے اور ان کی عزت کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’جس طرح تعلیمی کامیابیوں کا جشن منایا جاتا ہے، ہمیں کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو اعزاز دینے کی روایت کو فروغ دینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے شمال مشرقی خطے کے بھرپور کھیلوں کے کلچر سے سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا، جہاں کھیلوں کو جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، فٹ بال سے لے کر ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن سے باکسنگ، ویٹ لفٹنگ سے لے کر شطرنج تک کھیل کھلاڑیوں کو متاثر کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم مودی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز میں حصہ لینے والے کھلاڑی نہ صرف قیمتی تجربات حاصل کریں گے بلکہ پورے ہندوستان میں کھیلوں کی ثقافت کو فروغ دینے میں بھی اپنا حصہ ادا کریں گے۔

وزیر اعظم نے نوجوانوں کے لیے مواقع کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’چاہے یہ کھیلو انڈیا، ٹاپس، یا دیگر اقدامات ہوں، ہماری نوجوان نسل کے لیے امکانات کا ایک نیا ماحولیاتی نظام تیار کیا جا رہا ہے۔‘‘

 انہوں نے کھلاڑیوں کے لیے تربیتی سہولیات سے لے کر اسکالرشپ تک سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں پر زور دیا اور اس سال کھیلوں کے لیے 3500 کروڑ روپے سے زیادہ کا ریکارڈ بجٹ مختص کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے عالمی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں میں ہندوستان کی کامیابی کو فخر کے ساتھ  تصدیق کرتے ہوئے مشترک کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت کا جشن منایا، مختلف ٹورنامنٹس میں قابل ذکر کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، بشمول ورلڈ یونیورسٹی گیمز جہاں ہندوستانی کھلاڑیوں نے بے مثال کامیابی حاصل کی، 2019 میں صرف 4 سے 2023 میں کل 26 تمغے جیتے۔ انہوں نے ایشین گیمز میں ریکارڈ میڈل جیتنے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ صرف تمغوں کی تعداد نہیں ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہمارے ایتھلیٹس کی سائنسی نقطہ نظر کے ساتھ مدد کریں تو وہ کیا حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘

کھیلوں کے ذریعے پیدا ہونے والی اقدار کی عکاسی کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے زور دیا، ’’کھیلوں میں کامیابی کے لیے صرف ہنر سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے؛ اس کے لیے مزاج، قیادت، ٹیم ورک اور لچک کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نہ صرف جسمانی تندرستی کے لیے بلکہ ضروری زندگی کی مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے بھی کھیلوں کو اپنائیں، یہ کہتے ہوئے، ’’جو کھیلتے ہیں، وہ بھی پھلتے پھولتے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ کھیلوں کے میدان سے ہٹ کر شمال مشرقی خطے کی خوبصورتی کو تلاش کریں۔ اس نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایونٹ کے بعد کی مہم جوئی کا آغاز کریں، یادیں حاصل کریں، اور #NorthEastMemories ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات مشترک کریں۔ مزید برآں، انہوں نے اپنے ثقافتی تجربے کو بڑھانے کے لیے، جن کمیونٹیز میں وہ جاتے ہیں ان کے ساتھ مشغول ہونے کے لیے کچھ مقامی فقرے یا جملے سیکھنے کا مشورہ دیا۔ پی ایم مودی نے ان سے بھاشنی ایپ کا تجربہ کرنے کو کہا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.