وزیر اعظم نے پولیس کے بارے میں عوامی تصور کو تبدیل کرنے، نوجوانوں سے رابطے میں اضافے، شہری اور سیاحتی مقامات کے تحفظاتی نظام کی مضبوطی، اور نئے فوجداری قوانین کے بارے میں بیداری عام کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا
وزیر اعظم نے تکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور نیٹ گرڈ ارتباط کے استعمال میں اضافے کی اپیل کی؛ جزیروں اور ساحلی علاقوں کی سلامتی اور فارنسک پر مبنی تفتیش میں اختراع پر زور دیا
کانفرنس کے دوران وژن 2047 پولیسنگ روڈمیپ، انسداد دہشت گردی کے رجحانات، خواتین کے تحفظ، مفرور مجرموں کی تلاش اور فارنسک اصلاحات سمیت قومی سلامتی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
وزیر اعظم نے آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط تر انتظام کاری اور مربوط ردعمل کی ضرورت پر زور دیا؛ سمندری طوفانوں، سیلاب اور قدرتی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل حکومت کے نقطہ نظر کو اپنانے کی اپیل کی
وزیر اعظم نے پولس قیادت پر زور دیا کہ وہ پولیس کے طریقہ کار کو جدید اور نئے سرے سے وکست بھارت کے قومی وژن کے مطابق بنائیں
وزیر اعظم نے امتیازی خدمات کے لیے پریزیڈنٹس پولیس میڈلز پیش کیے؛ نئے قائم کیے گئے شہری پولیسنگ ایوارڈس کے تحت بہترین کارکردگی دکھانے والے شہروں کو اعزاز سے نوازا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے رائے پور میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں پولیس کے ڈائرکٹر جنرلس/انسپکٹر جنرلس کی 60ویں کل ہند کانفرنس میں شرکت کی۔ اس سہ روزہ کانفرنس کا موضوع ہے ’وکست بھارت: سلامتی کے زاویے‘۔

وزیر اعظم نے پیشہ ورانہ مہارت، حساسیت اور جوابدہی کو بڑھا کر پولیس کے بارے میں،خصوصاً نوجوانوں کے درمیان عام تاثر کو تبدیل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں اور سیاحتی مقامات پر حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورپر زور دیا۔ انہوں نے حال ہی میں نافذ کردہ بھارتیہ نیائے سنہیتا، بھاتیہ ساکشیہ ادھینیم، اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا جیسے قوانین کے بارے میں عوامی سطح پر بیداری عام کرنے پر بھی زور دیا جنہوں نے نوآبادی دور کے فوجداری قوانین کی جگہ لی ہے۔

وزیر اعظم نے ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام پولیس اور وسیع تر انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ غیر آباد جزیروں کو مربوط کرنے کے لیے اختراعی حکمت عملی اپنائیں، نیٹ گرڈ کے تحت مربوط ڈیٹا بیس کا موثر استعمال کریں، اور قابل عمل انٹیلی جنس پیدا کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان نظاموں کو جوڑیں۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ فارنسک کے بہتر استعمال سے فوجداری نظام انصاف کو مزید تقویت ملے گی انہوں نے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے پر زور دیا کہ وہ پولیس تفتیش میں فرانزک کے استعمال پر کیس اسٹڈیز شروع کریں۔

انہوں نے کالعدم تنظیموں کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ایک نظام کے قیام، بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نجات حاصل کرنے والے علاقوں کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے اور ساحلی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے اختراعی ماڈلز اپنانے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے استعمال سے نمٹنے کے لیے مکمل حکومت کے نقطہ نظر کی ضرورت ہے، جس میں نفاذ، بحالی اور کمیونٹی کی سطح پر مداخلت کی ضرورت ہے۔

کانفرنس میں قومی سلامتی کے وسیع تر معاملات پر گہرائی سے غور و خوض کیا گیا۔ وژن 2047 کے تئیں پولیسنگ کے طویل المدتی روڈ میپ، انسداد دہشت گردی اور انسداد بنیاد پرستی میں ابھرتے ہوئے رجحانات، خواتین کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے، بیرون ملک مقیم ہندوستانی فراریوں کو واپس لانے کے لیے حکمت عملی، اور مؤثر تفتیش اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے فارنسک صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔

وزیر اعظم نے مضبوط تر تیاری اور بہتر تال میل کی ضرورت کو اجاگر کیا، اور پولیس کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ سمندری طوفانوں، سیلاب اور دیگر قدرتی ہنگامی صورتحال مثلاً جاری سمندری طوفان دِتواہ  جیسی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر انتظام کاری کے لیے میکنزم قائم  کریں۔ انہوں نے  زور دیتے ہوئے کہا کہ فعال منصوبہ بندی، ریئل ٹائم تعاون، فوری ردعمل، اور مکمل حکومت کا نقطہ نظر، یہ تمام تر چیزیں اس طرح کی صورتحال میں زندگیوں کے تحفظ اور کم از کم رخنہ اندازی کو یقینی بنانے کے لیے لازمی ہیں۔

اپنے خطاب میں، وزیر اعظم نے پولس قیادت پر زور دیا کہ وہ ایک ترقی پذیر ملک کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے پولیسنگ کے انداز کو از سر نو تشکیل دیں تاکہ ایک وکست بھارت بننے کی راہ پر گامزن ہو۔

وزیراعظم نے انٹیلی جنس بیورو کے افسران میں ممتاز خدمات کے لیے پریزیڈنٹس پولیس میڈلز تقسیم کیے۔ انہوں نے شہری پولیسنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تین شہروں کو بھی ایوارڈس پیش کیے۔ یہ ایوارڈ شہری پولیسنگ میں اختراع اور بہتری کو فروغ دینے کے لیے پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے۔

اس کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ، قومی سلامتی مشیر، وزرائے مملکت برائے امور داخلہ، مرکزی داخلہ سکریٹری نے شرکت کی۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈی جی پی اور آئی جی پی حضرات  کے علاوہ سی اے پی ایف اور مرکزی پولیس کی تنظیموں کے سربراہان بھی  اس کانفرنس میں شرکت کے لیے حاضر ہوئے، جبکہ مختلف عہدوں پر فائز ملک کے 700 سے زائد افسران نے ورچووَل طریقے سے اس کانفرنس میں شرکت کی۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates

Media Coverage

PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 52nd PRAGATI Meeting
June 24, 2026
PM reviews four key infrastructure projects worth around ₹30,000 crore spanning four states across Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors
PM emphasises use of PM GatiShakti National Master Plan and timely updation of project, utility and infrastructure data on the portal for efficient planning
PM asks Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring
PM reviews TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasizes need to leverage latest digital technologies including AI
PM reviews grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest and stresses timely action, coordinated response and e-Zero FIR registration mechanism

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 52nd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State Governments, earlier today at Seva Teerth.

During the meeting, the Prime Minister reviewed four critical infrastructure projects across the Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors, covering four States and costing around ₹30,000 crore. These projects, important for economic growth, regional connectivity, industrial development and public welfare, were reviewed with focus on timelines, inter-agency coordination, issue resolution and timely completion.

Prime Minister underlined that delays in infrastructure projects not only lead to cost escalation, but also deprive people and industries of timely benefits. He asked the concerned Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring at the highest level.

Prime Minister emphasised the use of PM GatiShakti National Master Plan for efficient planning and timely implementation of infrastructure projects. He also underlined the need for regular and timely updation of project details, utilities, infrastructure layers, clearances and other field-level information on the portal. He further emphasised that the platform must reflect the latest ground situation so that bottlenecks can be identified in advance, inter-agency coordination can be improved and decisions can be taken on the basis of reliable, real-time data.

Prime Minister reviewed TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasised the need to leverage latest digital technologies including Artificial Intelligence. He suggested a team of NCC cadets and MY Bharat volunteers, for awareness, patient follow-up and community mobilisation.

Prime Minister also reviewed grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest. He expressed concern over the rising misuse of digital platforms to defraud citizens and stressed that such matters require coordinated, sensitive and time-bound handling by all concerned agencies. He noted that citizens should not be made to run from one department or agency to another. He also emphasized the need for clear ownership, faster response, better coordination among law enforcement agencies, banks and digital platforms, and stronger public awareness campaigns.

Prime Minister observed that in cases involving cyber fraud, timely action is crucial to prevent financial loss and restore public confidence. He asked all stakeholders to work in close coordination to strengthen prevention, reporting, investigation and grievance redressal mechanisms. He also emphasised that States should work towards enabling e-Zero FIR mechanisms for faster registration and response in cyber fraud cases.