عالی جناب صدر لولا،

دونوں ممالک کے وفود کے معزز اراکین،

میڈیا کے معزز نمائندگان،

نمسکار!

’’بوا تاردے‘‘!

صدر لولا اور اُن کے وفد کا بھارت میں خیرمقدم کرتے ہوئے مجھے انتہائی خوشی ہو رہی ہے۔

گزشتہ برس برازیل میں جس خلوص اور گرمجوشی کے ساتھ آپ نے میرا استقبال کیا تھا، آج اُسی جذبے کے ساتھ میں بھارت میں آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ یہ میرے لیے خاص مسرت کا باعث ہے۔ بھارت اور برازیل کے تعلقات کو صدر لولا کی دوراندیشی اور متاثر کن قیادت سے طویل عرصے سے فائدہ پہنچتا رہا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں مجھے ان سے کئی مرتبہ ملاقات کا موقع ملا ہے، اور ہر ملاقات کے دوران میں نے بھارت کے لیے اُن کی گہری دوستی اور اعتماد کو محسوس کیا ہے۔ صدر لولا کے اس دورے نے تاریخی اے آئی امپیکٹ سمٹ کی شان میں بھی اضافہ کیا ہے اور ہماری کلیدی  شراکت داری کو نئی توانائی بھی دی ہے۔ میں دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اُن کے عزم اور دوستی پر اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

دوستو،

آج ہماری بات چیت میں ہم نے ہر شعبے میں مشترکہ مقصد اور مشترکہ امنگوں کے ساتھ آگے بڑھنے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

برازیل، لاطینی امریکہ میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ہم آئندہ پانچ برسوں میں دو طرفہ تجارت کو بیس ارب ڈالر سے بھی آگے لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہماری تجارت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی عکاس ہے۔ صدر کے ساتھ آنے والا بڑا تجارتی وفد اسی اعتماد کی علامت ہے۔

بھارت-مرکوسور تجارتی معاہدے کی توسیع سے ہمارا اقتصادی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے  میں ہمارا  اشتراک نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے عالمی خطۂ جنوب  کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم برازیل میں ڈیجیٹل  عوامی بنیادی ڈھانچے  کے لیے مہارت کے مرکز  کے قیام پر کام کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹر، سیمی کنڈکٹرز اور بلاک چین جیسے شعبوں میں بھی ہم اپنے تعاون کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہم دونوں ممالک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی سب کے لیے قابلِ رسائی ہونی چاہیے اور مشترکہ ترقی کا ذریعہ بننی چاہیے۔

توانائی کے شعبے میں اشتراک  ہمارے تعلقات کا ایک مضبوط ستون رہا ہے۔ ہائیڈرو کاربن کے ساتھ ساتھ ہم قابلِ تجدید توانائی، ایتھنول کی آمیزش اور پائیدار ہوا بازی ایندھن جیسے شعبوں میں بھی اشتراک  کو تیز کر رہے ہیں۔ "گلوبل بایو فیول الائنس" میں برازیل کی فعال شرکت ہمارے ماحول کے لیے سازگار  مستقبل کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

 

برازیل نے کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر کی شریک صدارت کی پیشکش بھی کی ہے۔ میں اس اقدام پر صدر لولا کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اس شعبے میں برازیل کا وسیع تجربہ سی ڈی آر آئی  کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اہم معدنیات اور زیر زمین نایاب اہم معدنیات  کے حوالے سے ہونے والا معاہدہ مضبوط سپلائی چینز کی تعمیر کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ دفاع کے شعبے میں بھی ہمارااشتراک  مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ باہمی اعتماد اورکلیدی  ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ ہم اس باہمی فائدہ مند شراکت داری کو مزید مستحکم کرتے رہیں گے۔

ہم زراعت اور مویشی پروری کے شعبے میں بھی اپنی شراکت داری کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق نئی جہتیں دے رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، پریسیژن فارمنگ اور بایو فرٹیلائزر جیسے شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کی غذا کی یقینی فراہمی  کو مضبوط کرے گا۔ برازیل میں تلہن ، دالوں اور مربوط کاشتکاری کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس کا قیام اسی سمت میں ایک اہم قدم ہوگا۔

 

صحت اور ادویات  کے شعبے میں بھی اشتراک  کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ہم بھارت سے برازیل کو سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی بڑھانے پر کام کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ برازیل میں آیوروید اور روایتی طب کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ ہمہ جہتی صحت کی دیکھ بھال کو تقویت ملے۔

دوستو،

عالمی سطح پر بھارت اور برازیل کی شراکت داری مضبوط اور مؤثر رہی ہے۔ جمہوری ممالک کی حیثیت سے ہم عالمی خطۂ جنوب  کی ترجیحات اور امنگوں کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔

جب بھارت اور برازیل مل کر کام کرتے ہیں تو عالمی خطۂ جنوب کی آواز مزید مضبوط اور پراعتماد ہو جاتی ہے۔

 

ہم سمجھتے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ بھارت اور برازیل اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی اور اس کی معاونت کرنے والے  پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔ ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں کی اصلاح انتہائی ضروری ہے، اور ہم اس سمت میں مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔

عالی جناب،

مجھے مکمل یقین ہے کہ آپ کا یہ دورہ ہماری  کلیدی شراکت داری کو مزیدمستحکم  کرے گا اور آنے والے برسوں میں اشتراک  کے نئے ابواب رقم کرے گا۔

میں ایک بار پھر آپ کے دورے اور آپ کی گہری دوستی پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

’’مویتو اوبریگادو!‘‘

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
From 'chalta hai' to 'badal sakta hai': Decoding PM Modi's Punctuality narrative

Media Coverage

From 'chalta hai' to 'badal sakta hai': Decoding PM Modi's Punctuality narrative
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
The world must now be looking for Indian startups: PM Modi during the interaction with Space Startup CEOs
August 23, 2026
Prime Minister highlights policy consistency, global opportunities and India’s growing strengths in the space sector
We should create an aura that makes people across the world look to India to build their future: PM
We can establish ourselves very fast as we are highly competitive in terms of cost; our talent and the risk-taking capacity of our people is also very high: PM

Prime Minister – You have shown courage in a new field. The most important thing is that you trusted the government’s word. My view has always been that whatever decisions we take, we must remain consistent in them, we must not keep changing them again and again, so that anyone who wants to take a risk can have confidence that, fine, if something goes wrong it will be because of my mistake, but no one will abandon me. And this was our effort - to create that trust.

CEO – We are India’s first Space Tech Unicorn. On July 18 we successfully launched India’s first private rocket, ejecting satellites. And this is just the beginning. Generally, we say this is just a warm‑up for Skyroot, it is only the start. By mid next year we will be doing one launch per month. And also, thanks to you sir for opening up the sector. Three factories have already been built. We already have the capacity for one rocket per month. And this is just the beginning. Our future dream is to do one launch per week and several launches per day.

CEO – We have made an engine that comes among the most modern engines in the world. Sir, we have prepared it, and its testing is ongoing.

Prime Minister – Do they have confidence, the investors?

CEO – Sir, after Skyroot’s first launch, their confidence has increased.

Prime Minister – Good. That route is helping you?

CEO – It is helping a lot.

Prime Minister – Now the world must be searching for India’s startups, wondering who is behind this. Because when there is a breakthrough, immediately people’s attention goes there.

CEO – I think, after the space industry opened up, we have seen a very good trend. Our citizens who are in the US and Europe want to come back and work with us.

Prime Minister – We have to connect many people, and as Mehta said, now people who had gone abroad are coming back. I believe we must create such an aura that people all over the world feel that if they want to build their life, they should come to Hindustan. Join some Indian startup. Join some Indian space agency. I firmly believe that the entire talent pool, like a magnet, because of you we can attract, and that can become a very great strength for us.

CEO – Our vision is that in the next 18 months we want to set up a global ground station network.

CEO – We make the engines that satellites use to move from one place to another in space, for 5 years or 15 years. Globally we have received very good traction. And sir, your effort has been very important in this too, because now Indian companies have government support for exporting.

Prime Minister – In cost we are very competitive, in talent there is no question at all, and the risk‑taking capacity of our people is anyway greater. And because of that we can very quickly make our place.

CEO – This robotic spacecraft will go to space, physically capture the dead satellite and remove it from orbit.

CEO – We are the first Indian company working on docking and refueling technologies, with the vision of establishing a fuel station in space.

CEO – My name is Antariksh, my co‑founder Monika is also here. Sir, we are India’s first space pharma startup. We are making satellites that can go to space, manufacture pharmaceuticals there, and bring them back from space.

Prime Minister – Your name is Antariksh - was your family already in this field?

CEO – No sir, my mother gave me this name.

CEO – After one launch, in the last one month we have received eight launch contracts.

Prime Minister – Good, good.

CEO – And mostly they are international.

CEO – Sir, right now we are planned to launch this innovation with 1 million farmers.

CEO – Sir, this is for you, so that a memory will remain.

Prime Minister – Wonderful.

CEO – This opening, which you did for the private sector, through that the private satellites are now showing the beauty of India.