وزیر اعظم نے شری سنت گیانیشور مہاراج پالکھی مارگ اور شری سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کے اہم سیکشن کو چار لین میں تبدیل کرنے کا سنگ بنیاد رکھا
وزیر اعظم نے پنڈھرپور سے ربط بڑھانے کےلئے کئی سڑک پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقت کیا
’’یہ یاترا دنیا کی سب سے پرانی عوامی یاترا میں سے ایک ہے اور اِسے عوامی تحریک کی شکل میں دیکھا جاتا ہے، یہ ہندوستان کے داخلی علم کی علامت ہے، جو ہمارے اعتقاد کو قید نہیں کرتا، بلکہ آزاد کرتا ہے‘‘
’’بھگوان وٹھل کا دربار سب کے لئے یکساں طور سے کھلا ہے، سب کا ساتھ ، سب کا وکاس، سب کا وشواس کے پیچھے بھی یہی جذبہ کار فرما ہے‘‘
وقت وقت پر متعدد خطوں میں ایسی عظیم ہستیاں اُبھرتی رہیں اور ملک کو سمت دکھاتی رہیں‘‘
’’پنڈھری کی واری، موقع کی یکسانیت کی علامت ہے، وارکری تحریک امتیاز کو غلط مانتی ہے اور یہی اس کا عظیم نعرہ ہے‘‘
عقیدت مندوں سے یہاں تین وعدے لیے جاتے ہیں-شجرکاری، پینے کے پانی کا انتظام اور پنڈھرپور کو سب سے زیادہ شفاف تیرتھ مقام بنانا
’’’دھرتی پتروں ہندوستانی روایت اور ثقافت کو زندہ رکھا ہے، ایک سچا ’انّ داتا‘سماج کو جوڑتا ہے اور سماج کے لئے جیتا ہے، آپ ایک سبب ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سماج کی ترقی کا عکس بھی ہے‘‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے متعدد قومی شاہراہوں اور سڑک پروجیکٹوں کی بنیاد رکھی اور قوم کو وقف کیا۔ اس موقع پر سڑک ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہ کے مرکزی وزیر، گورنر اور وزیر اعلیٰ مہاراشٹر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج یہاں سری سنت گیانیشور پالکھی مارگ اور سنت تکا رام مہاراج پالکھی مارگ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ سری سنت گیانیشور پالکھی مارگ کی تعمیر  پانچ مرحلوں میں اور سنت تکارام مہاراج پالکھی مارگ کی تعمیر تین مرحلوں میں پوری کی جائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ اِن پروجیکٹوں سے علاقے کے ساتھ  بہتر جڑاؤ ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عقیدت مندوں ، سنتوں اور بھگوان وٹھل کو پروجیکٹوں کے لئے اُن کے آشیرواد کےلئے اپنی عقیدت پیش کی۔اُنہوں نے کہا کہ بھگوان وٹھل میں اعتقاد تاریخ کی  اُتھل پُتھل کے دوران بھی اٹوٹ رہی اور آج بھی یہ یاترا دنیا کی سب سے پرانی اجتماعی یاتراؤں میں سے ایک ہے اور اسے  لوگوں کی تحریک کی شکل میں دیکھا جاتا ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ الگ الگ راستے، الگ الگ طریقے  اور  الگ الگ خیالات  اور بھی ہوسکتے ہیں، لیکن ہمارا  ہدف ایک ہے۔ آخر میں تمام پنتھ’بھاگوت پنتھ‘ ہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہندوستان کی روحانی علم  کی علامت ہے ، جو ہمارے اعتقاد کو قید نہیں کرتا ہے، بلکہ اسے آزاد کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھگوان وٹھل کا دربار سب کے لیے یکساں طورپر کھلا ہے اور جب میں سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کہتا ہوں تو اس کے پیچھے بھی  یہی جذبہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ ہمیں ملک کی ترقی کےلئے  تحریک دیتا ہے، سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور سب کی ترقی کےلئے متحرک کرتا ہے۔

ہندوستان کی روحانی اثاثے پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے  وزیر اعظم نے کہا کہ پنڈھر پور کی خدمت کرنا اُن کے لئے سری نارائن ہری کی خدمت کرنا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ وہی سرزمین ہے، جہاں بھکتوں کے لئے بھگوان آج بھی نِواس کرتے ہیں۔ یہ وہی سرزمین ہے، جس کے بارے میں سنت نام دیو مہاراج نے کہا کہ پنڈھر پور تب سے ہے، جب دنیا کی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی خصوصیت یہ ہے کہ وقت وقت پر مختلف خطوں میں ایسی عظیم ہستیاں  پیدا ہوتی رہیں اور ملک کو راہ دکھاتی رہیں۔ جنوب میں مدھوآچاریہ، نمبارکاچاریہ، ولبھ آچاریہ، راما نج آچاریہ اورمغرب میں نرسی مہتا، میرا بائی، دھیرو بھگت، بھوجا بھگت،  پریتم کا جنم ہوا۔ شمال میں  رامانند، کبیر داس، گوسوامی تلسی داس، سورداس، گورو نانک دیو، سنت رائےداس تھے۔مشرق میں چیتنیہ مہاپربھو اور شنکر دیو جیسے سنتوں کے  خیالات سے ملک کو مالا مال کیا۔

وارکری تحریک کی سماجی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے روایت کی اہم خصوصیت کی شکل میں مردوں کی طرح جوش و خروش کے ساتھ یاترا میں خواتین کی شراکت داری کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ  یہ ملک میں خواتین  کی طاقت کا مظاہرہ ہے۔’پنڈھری کی واری’ موقع کی یکسانیت کی علامت ہے۔ وارکری تحریک امتیاز کو غلط مانتی ہے اور  یہ اس کا عظیم آئیڈیل نعرہ ہے۔

وزیر اعظم نے وارکری بھائیوں اور بہنوں سے تین آشیرواد کی خواہش کی۔ انہوں نے اُن کے تئیں اُن کی اٹوٹ محبت کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے عقیدت مندوں سے پالکھی مارگ پر شجر کاری کرنے کی درخواست کی، ساتھ ہی راستے کے کنارے پینے کے پانی کا انتظام کرنے کی بھی گزارش کی۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ اِن راستوں پر پانی پینے کے برتن بھی مہیا کرائے جانے چاہئیں۔انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں پنڈھر پور کو ہندوستان کے سب سے زیادہ صاف مذہبی مقامات میں سے ایک دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام بھی عوامی شراکت داری سے ہوگا، جب مقامی لوگ صفائی کی تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لیں گے  تبھی ہم اس خواب کو تعبیر آشنا کرسکیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ زیادہ تر وارکری کسان برادری سے آتے ہیں اور کہا کہ مٹی کے اِن سپوتوں ’دھرتی پتروں‘نے ہندوستانی روایت اور ثقافت کو زندہ رکھا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایک سچا انّ داتا سماج کو جوڑتا ہے اور سماج کے لئے جیتا ہے۔ آپ سبب ہیں اور اس کے ساتھ ہی سماج کی ترقی کا عکس بھی۔

دِوے گھاٹ سے موہول تک سنت گیانیشور مہاراج پالکھی مارگ کا تقریباً 221کلومیٹر اور پاتس سے ٹونڈیل-بونڈلے تک سنت تکارام مہارا پالکھی مارگ کا تقریباً 130کلو میٹر چار لین کا ہوگا، جس میں دونوں طرف ’پالکھی‘ کےلئے وقف پیدل کے راستے ہوں گے، جن کی تعمیر پر بالترتیب 6690کروڑ اور تقریباً 4400کروڑ روپے بالترتیب لاگت آئے گی۔

تقریب کے دوران وزیر اعظم نے 223کلومیٹر سے زیادہ کی مکمل اور جدید ترین سڑک پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا۔جن کی تعمیر پر 1180کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ یہ تعمیری کام پنڈھر پور سے ربط بڑھانے کے لئے مختلف قومی شاہراہوں پر کئے گئے ہیں۔ ان پروجیکٹوں میں مہسواد-پیلیو-پنڈھرپور(این ایچ548ای)، کوردوواڑی-پنڈھر پور(این ایچ 965سی)، پنڈھر پور-سنگولا(این ایچ 965سی)،این ایچ 561 اے کا تیمبھرنی-پنڈھرپور سیکشن  اور این ایچ 561 اے کا پنڈھر پور –منگل ویدھا-اُمادی سیکشن شامل ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26

Media Coverage

Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM’s address in post-budget webinar on “Technology, Reforms and Finance for Viksit Bharat”
February 27, 2026
This year’s Union Budget lays the roadmap for Viksit Bharat, driven by technology, reforms and finance: PM
We have simplified processes, improved the Ease of Doing Business, expanded technology-led governance, and strengthened institutions; and even today, the country is riding the 'Reform Express': PM
In the past decade, we have had a very strong focus on infrastructure: PM
In the past decade, we have continued to maintain a very strong focus on infrastructure: PM
We have made a conscious decision that India's development will only be achieved by creating solid assets such as Highways, Railways, Ports, Digital Networks, and Power Systems: PM
These assets will continue to generate productivity for many decades to come. For this reason, Public Capital Expenditure is being continuously increased: PM
When Government, Industry, and Knowledge Partners move forward together, then Reforms change into Results, only then do announcements become achievements, on the ground: PM

 

नमस्कार !

इस साल के पहले Budget Webinar में, मैं आप सभी का अभिनंदन करता हूं। बीते कुछ वर्षों में बजट वेबिनार, इसकी एक मजबूत परंपरा बन गई है। अक्सर बजट का आंकलन अलग-अलग पैरामीटर्स पर किया जाता है, कभी Stock Market की चाल पर बात होती है, कभी Income Tax प्रस्तावों पर चर्चा केंद्रित हो जाती है। सच्चाई ये है कि राष्ट्रीय बजट कोई short-term trading document नहीं होता, वह एक policy roadmap होता है। इसलिए बजट की प्रभावशीलता का आंकलन भी ठोस पैरामीटर्स पर किया जाना चाहिए। ऐसी नीतियां जो infrastructure का विस्तार करें, जो credit के प्रवाह को आसान बनाएं, जो Ease of Doing Business बढ़ाएं, जो governance में ट्रांसपेरेंसी बढ़ाएं, जो जनता का जीवन आसान बनाएं, उनके लिए नए-नए अवसर बनाएं। बजट में इससे जुड़े निर्णय ही अर्थव्यवस्था को स्थायी मजबूती देते हैं, और सबसे महत्वपूर्ण बात ये है कि किसी भी Budget को अलग-थलग, stand alone करके नहीं देखा जाना चाहिए। Nation Building, राष्ट्र निर्माण, यही एक निरंतर प्रक्रिया होती है। हर Budget एक बड़े लक्ष्य की ओर बढ़ने का एक चरण होता है, और हमारे सामने वो बड़ा लक्ष्य है साल 2047, 2047 तक विकसित भारत का निर्माण। हर Reform, हर आवंटन, हर बदलाव को इस लंबी यात्रा के हिस्से के रूप में ही देखा जाना चाहिए। और इसलिए, हर साल बजट के बाद होने वाले ये वेबिनार बहुत महत्वपूर्ण होते हैं। मेरी अपेक्षा है कि ये वेबिनार केवल Ideas के आदान-प्रदान तक सीमित न रहें, बल्कि एक प्रभावी brainstorming exercise बनें। आपके अनुभव और व्यावहारिक चुनौतियों पर आधारित सुझाव, आर्थिक रणनीतियों को और बेहतर बनाने और समाधान खोजने में अवश्य मदद करेंगे। जब Industry, Academia, Analysts और Policymakers मिल करके सोचते हैं, तो योजनाओं का implementation और बेहतर होता है, result और सटीक मिलते हैं। इन वेबिनार्स की सीरीज के पीछे यही एक भावना है।

साथियों,

21वीं सदी का एक चौथाई हिस्सा बीत चुका है। अगर आप स्वयं के विषय में सोचे, तो आपके जीवन का बहुत अच्छा, महत्वपूर्ण कालखंड बीत चुका है। अब हम देश की विकास यात्रा के एक महत्वपूर्ण समय में हैं। ये वो समय है, जब हमारी अर्थव्यवस्था तेज गति से आगे बढ़ रही है, और साथ ही भारत पिछले एक दशक में, भारत ने असाधारण Resilience दिखाई है, और ये संयोग से नहीं आई है, हमारी Resilience, Conviction-Driven Reforms की देन है। हमने Processes को सरल किया है, Ease of Doing Business को बेहतर बनाया है, Technology-Led Governance का विस्तार किया है, Institutions को मजबूत किया है, और आज भी ये देश Reform Express पर सवार है। इस Momentum को बनाए रखने के लिए हमें ना केवल पालिसी इंटेंट पर ध्यान देना है, बल्कि डिलीवरी एक्सीलेंस पर भी फोकस करना है। Reforms का मूल्यांकन घोषणा से नहीं, बल्कि जमीनी स्तर पर उनके प्रभाव से होना चाहिए। हमें AI, Blockchain और डेटा Analytics का व्यापक उपयोग कर Transparency, Speed और Accountability बढ़ानी ही होगी, और साथ ही Grievance Redressal Systems से Impact की निरंतर Monitoring भी करनी होगी।

साथियों,

पिछले एक दशक में इंफ्रास्ट्रक्चर पर हमारा बहुत फोकस रहा है। हमने सोच-समझकर ये फैसला किया कि भारत का विकास हाईवेज, Railways, Ports, डिजिटल नेटवर्क, Power Systems, ऐसे अनेक, ऐसे अनेक, अब जैसे ठोस Assets को तैयार करके ही होगा। ये आने वाले कई दशकों तक Productivity पैदा करते रहेंगे। इससे, और इसी वजह से Public Capital Expenditure लगातार बढ़ाया जा रहा है। 11 साल पहले Public Capex के लिए बजट में लगभग 2 लाख करोड़ रुपए का प्रावधान था, मौजूदा बजट में ये बढ़कर लगभग 12 लाख करोड़ रुपए के पार हो गया है। इतने बड़े पैमाने पर सरकारी निवेश होना Private Sector के लिए भी एक स्पष्ट संदेश है।

साथियों,

अब समय है कि Industry और Financial Institutions भी नई ऊर्जा के साथ आगे आएं। हमें Infrastructure में ज्यादा भागीदारी चाहिए, Financing Models में ज्यादा Innovation चाहिए, और Emerging Sectors में ज्यादा मजबूत Collaboration चाहिए। इस दिशा में मेरा एक और सुझाव है, हमें Project Sanction Methodology और Appraisal Quality को और मजबूत करना होगा। हमें Cost-Benefit Analysis और Lifecycle Costing को सर्वोपरि रखते हुए Waste और Delays रोकने ही होंगे।

साथियों,

हम Foreign Investment Framework को और सरल कर रहे हैं। हमारा प्रयास सिस्टम को ज्यादा Predictable और Investor-Friendly बनाने का है। हम Long-Term Finance को बेहतर बनाने के लिए, Bond Markets को और ज्यादा सक्रिय बनाने की दिशा में भी कदम उठा रहे हैं। बॉन्ड की खरीद और बिक्री की प्रक्रिया को आसान बनाया जा रहा है।

साथियों,

हमें Bond Market Reforms को Long-Term Growth के Enablers के रूप में देखना होगा, हमें Predictability सुनिश्चित करनी होगी, Liquidity को गहरा करना होगा, नए Instruments लाने होंगे, और Risks का प्रभावी प्रबंधन करना होगा। तभी हम Sustained Foreign Capital आकर्षित कर पाएंगे। मुझे अपेक्षा है कि आप Global Best Practices से सीख लेकर, Foreign Investment Framework और Bond Markets को मजबूत करने के लिए स्पष्ट और ठोस सुझाव देंगे।

साथियों,

कोई भी Policy Framework तैयार कर सकती है, लेकिन उसकी सफलता आप सब पर निर्भर करती है। उद्योग जगत को Fresh Investment और Innovation के साथ आगे आना होगा। Financial Institutions और Analysts को Practical Solutions, Practical Solutions तैयार करने में मदद करनी होगी, और Market Confidence को मजबूत करना होगा। जब Government, Industry और Knowledge Partners एक साथ आगे बढ़ते हैं, तब Reforms Results में बदलते हैं। तभी Announcements जमीन पर Achievements बन जाते हैं। मेरा सुझाव है कि हम एक स्पष्ट Reform Partnership Charter विकसित करें। यह Government, Industry, Financial Institutions और Academia का साझा संकल्प हो। ये चार्टर, विकसित भारत की यात्रा का बहुत अहम दस्तावेज बनेगा।

साथियों,

मैं सभी Stakeholders, Financial Institutions, Markets, Industry, Professionals और Innovators से कहूंगा, इस बजट ने जो नए अवसर दिए हैं, उनका फायदा उठाएं, बजट द्वारा खोले गए नए अवसरों के साथ गहराई से जुड़ें। आपकी भागीदारी से योजनाओं का Implementation और बेहतर होगा, आपके फीडबैक और सहयोग से बेहतर नतीजे आएंगे। आइए, हम सब मिलकर Reform करें, Grow करें और ऐसा Future बनाएं, जो विकसित भारत का सपना जल्द से जल्द साकार हो।

मुझे पूरा विश्वास है, आज आप सब गहरा मंथन करेंगे, प्रक्रियाओं को सरल करने पर आपका ध्यान केंद्रित होगा और हम ये गलती ना करें, बजट के पहले भी हम आप सबसे कंसल्टेशन करते हैं, उसका मकसद अलग है, उसका मकसद होता है बजट और अच्छा बने। लेकिन अब बजट बन चुका है, अब बजट की चर्चा के लिए कार्यक्रम नहीं है, अब बजट में जो है उसको जमीन पर जल्दी से जल्दी उतारना, सरल से सरल मार्ग से उतारना और सबका, सभी स्टेकहोल्डर का लाभ हो, उनकी भागीदारी हो, इस बात को ध्यान में रख करके आप चर्चा करेंगे, मंथन करेंगे, तो ये वेबिनार सचमुच में वाइब्रेंट इकोनॉमी का दरवाजा खोल देंगे।

बहुत-बहुत धन्यवाद !

नमस्कार !