Share
 
Comments

نئی دہلی،  18 /فروری 2021 ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج آسام کے ’مہاباہو- برہم پتر‘ کا افتتاح کیا اور دو پلوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر، قانون و انصاف، مواصلات، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر، بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کے وزیر مملکت اور آسام و میگھالیہ کے وزرائے اعلیٰ موجود تھے۔

’مہاباہو- پرہم پتر‘ کے افتتاح کے موقع پر انھوں نے نیماٹی- مجولی جزیرہ، شمالی گوہاٹی- جنوبی گوہاٹی اور ڈھبری- ہاٹ سنگیماری کے درمیان رو-پیکس ویسیل خدمات کا افتتاح کیا۔ انھوں نے جوگی گھوپا میں اِنلینڈ واٹر ٹرانسپورٹ (آئی ڈبلیو ٹی) ٹرمینل اور برہم پتر ندی پر مختلف سیاحتی جیٹیوں کا سنگ بنیاد رکھا اور کاروبار کو آسان بنانے کے لئے ڈیجیٹل حل کی بھی شروعات کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے زراعت سے وابستہ اَلی-آئے- لیگانگ تہوار کے لئے مائیسنگ برادری کو مبارکباد دی، یہ تہوار کل منایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ برسوں سے یہ مقدس ندی  سماج کاری اور کنیکٹیوٹی کا ہم معنی تھی۔ انھوں نے کہا کہ برہم پتر پر کنیکٹیوٹی سے متعلق اتنا کام پہلے نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سبب سے آسام کے اندر اور شمال مشرق کے دیگر علاقوں میں کنیکٹیوٹی ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پورے علاقے کی جغرافیائی اور ثقافتی دوریوں کو کم کرنے کے لئے اب پروجیکٹوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آسام سمیت پورے شمال مشرق کی طبعی (فزیکل) اور ثقافتی سالمیت حالیہ برسوں میں مضبوط ہوئی ہے۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ متعدد پل جیسے ڈاکٹر بھوپین ہزاریکا سیتو، بوگیبیل پل، سرائے گھاٹ پل جیسے متعدد پل آج آسام میں زندگی کو آسان بنارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ملک کی سکیورٹی مضبوط ہوتی ہے اور ہمارے فوجیوں کو بڑی سہولت ملتی ہے۔ آسام اور شمال مشرق کو جوڑنے کی مہم کو آج آگے بڑھایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے آسام کے وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت کے کام کی ستائش کی۔  مجولی کو آسام کا پہلا ہیلی پیڈ ملا ہے اور تیز و محفوظ سڑک کا متبادل مل رہا ہے، کیونکہ کالی باری کو جورہاٹ سے جوڑنے والے 8 کلومیٹر طویل پل کے بھومی پوجن کے ساتھ طویل عرصہ سے چلی آرہی مانگ پوری ہورہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سہولتوں اور امکانات کا ایک پل بننے جارہا ہے۔

اسی طرح میگھالیہ کے ڈھبری سے پھول باڑی تک 19 کلومیٹر طویل پل سے براک وادی میں کنیکٹیوٹی کی صورت حال بہتر ہوگی اور اس سے میگھالیہ، منی پور، میزورم اور آسام  کے درمیان کی دوری کم ہوجائے گی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ آج میگھالیہ اور آسام کے درمیان کی دوری سڑک کے راستے تقریباً 250 کلومیٹر ہے، اب یہ کم ہوکر 19-20 کلومیٹر رہ جائے گی۔

’مہاباہو- برہم پتر‘ پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ اس سے بندرگاہ سے متعلق ترقی کے توسط سے برہم پتر کے پانی کی کنیکٹیوٹی مضبوط ہوگی۔  آج تین رو-پیکس خدمات کا آغاز ہونے سے آسام اس پیمانے پر رو-پیکس خدمات سے جڑنے والی صف اوّل کی ریاست بن گیا ہے۔ یہ چار سیاحتی جٹیوں کے ساتھ شمال مشرق کے ساتھ آسام کی کنیکٹیوٹی میں قابل ذکر بہتری لائیں گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ برسوں سے کنیکٹیوٹی کی محرومی نے ریاست کو اس کی خوش حالی سے محروم کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ خراب ہوگیا اور آبی گزرگاہیں تقریباً ختم ہوگئیں، جو بدامنی کا باعث ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ سدھار کی شروعات سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی مدت کار میں ہوئی۔ حالیہ برسوں میں آسام میں ملٹی ماڈل کنیکٹیوٹی کو پھر سے قائم کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے۔ آسام اور شمال مشرق کو دیگر مشرقی ایشیائی ملکوں کے ساتھ ہمارے ثقافتی اور تجارتی تعلقات کا مرکز بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اِنلینڈ واٹرویز پر کام کا یہاں بڑا اثر پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ حال ہی میں بنگلہ دیش کے ساتھ آبی روابط میں بہتری کے لئے ایک معاہدہ کیا گیا ہے۔ برہم پتر اور براک ندی کو جوڑنے کے لئے ہبلی ندی کے پار بھارت – بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ پر کام چل رہا ہے۔ شمال مشرق کو بھارت کے دیگر حصوں سے جوڑنے، علاقہ کے تنگ رابطے والے حصے پر انحصار کم ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ جوگی گھوپا آئی ڈبلیو ٹی ٹرمینل ایک آبی گزرگاہ کے توسط سے آسام کو ہلدیا بندرگاہ اور کولکاتہ سے جوڑنے کے لئے ایک متبادل روٹ کو مضبوط کرے گا۔ اس ٹرمینل پر بھوٹان اور بنگلہ دیش کے کارگو اور جوگی گھوپا ملٹی ماڈل لاجسٹک پارک میں کارگو کو برہم پتر ندی پر مختلف مقامات پر آمد و رفت کی سہولت ملے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نئے روٹ عام آدمی کی سہولت اور خطہ کی ترقی کے لئے بنے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجولی اور نیماٹی کے درمیان رو-پیکس سروس ایک ایسا روٹ ہے جو تقریباً 425 کلومیٹر کی دوری کو کم کرکے محض 12 کلومیٹر کردے گا۔ اس راستے پر دو جہاز چلتے ہیں جو ایک بار میں تقریباً 1600 مسافروں اور درجنوں گاڑیوں کو لاتے لے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گوہاٹی میں شروع کی گئی اسی طرح کی سہولت شمالی اور جنوبی گوہاٹی کے درمیان کی دوری کو 40 کلومیٹر سے کم کرکے 3 کلومیٹر کردے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ استعمال کنندگان کو درست جانکاری ملے اس کے لئے آج ای-پورٹل لانچ کئے جارہے ہیں۔ کار-ڈی پورٹل قومی آبی گزرگاہوں کے سبھی کارگو اور کروز ٹریفک ڈیٹا پر ریئل ٹائم جانکاری کا ملان کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ گزرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کے متعلق جانکاری بھی فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ جی آئی ایس پر مبنی انڈیا میپ پورٹل، ان لوگوں کی مدد کرے گا جو تجارت کے لئے یہاں آنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی، آبی گزرگاہ، ریلوے، آسام اور شمال مشرق کی ہائی وے کنیکٹیوٹی کے ساتھ یکساں طور پر اہم ہے اور اس پر مسلسل کام کیا جارہا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ سیکڑوں کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے گوہاٹی میں شمال مشرق کا پہلا ڈیٹا سینٹر بننے جارہا ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹر 8 ریاستوں اور آئی ٹی خدمات پر مبنی صنعت، بی پی او ایکو سسٹم اور آسام سمیت شمال مشرق میں اسٹارٹ اَپ کے لئے ڈیٹا سینٹر کے طور پر کام کرے گا اور ای-گورنینس کے توسط سے مضبوط بنے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت شمال مشرق سمیت ملک میں سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے تصور کے ساتھ کام کررہی ہے۔ انھوں نے مجولی خطہ کی ثقافتی گہرائی و خوش حالی، آسامی ثقافت اور مقامی حیاتیاتی تنوع کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کلچرل یونیورسٹی کے قیام، مجولی کو حیاتیاتی تنوع کے وراثتی مقام کا درجہ، تیج پور- مجولی- سیوساگر میں ہیریٹیج سرکٹ، نمامی برہم پتر، نمامی براک کے قیام جیسے اقدامات کو شمار کرایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اقدامات آسام کی شناخت کو اور زیادہ خوش حال بنارہے ہیں۔ انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ آج کے کنیکٹیوٹی سے متعلق آغاز سے سیاحت کی نئی راہیں کھلیں گی اور آسام کروز سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں آسام، شمال مشرق کو آتم نربھر بھارت کا ایک مضبوط ستون بنانے کے لئے اجتماعی شکل میں کام کرنا ہوگا۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
What Narendra Modi’s 20 uninterrupted years in office mean (By Prakash Javadekar)

Media Coverage

What Narendra Modi’s 20 uninterrupted years in office mean (By Prakash Javadekar)
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's message for SCO-CSTO Outreach Summit on Afghanistan
September 17, 2021
Share
 
Comments

The 21st meeting of the SCO Council of Heads of State was held on 17 September 2021 in Dushanbe in hybrid format.

The meeting was chaired by H.E. Emomali Rahmon, the President of Tajikistan.

Prime Minister Shri Narendra Modi addressed the Summit via video-link. At Dushanbe, India was represented by External Affairs Minister, Dr. S. Jaishankar.

In his address, Prime Minister highlighted the problems caused by growing radicalisation and extremism in the broader SCO region, which runs counter to the history of the region as a bastion of moderate and progressive cultures and values.

He noted that recent developments in Afghanistan could further exacerbate this trend towards extremism.

He suggested that SCO could work on an agenda to promote moderation and scientific and rational thought, which would be especially relevant for the youth of the region.

He also spoke about India's experience of using digital technologies in its development programmes, and offered to share these open-source solutions with other SCO members.

While speaking about the importance of building connectivity in the region, Prime Minister stressed that connectivity projects should be transparent, participatory and consultative, in order to promote mutual trust.

The SCO Summit was followed by an Outreach session on Afghanistan between SCO and the Collective Security Treaty Organisation (CSTO). Prime Minister participated in the outreach session through a video-message.

In the video message, Prime Minister suggested that SCO could develop a code of conduct on 'zero tolerance' towards terrorism in the region, and highlighted the risks of drugs, arms and human traficking from Afghanistan. Noting the humaniatrian crisis in Afghanistan, he reiterated India's solidarity with the Afghan people.