وزیراعظم نے جل جیون مشن ایپ اور راشٹریہ جل جیون کوش کا آغاز کیا۔
’’جل جیون مشن بھی غیر مرکوزیت کی ایک بڑی تحریک ہے۔ یہ ایک گاؤں سے چلنے والی خواتین پر مبنی تحریک ہے۔ اس کی اصل بنیاد ایک عوامی تحریک اور عوامی شرکت ہے‘‘
’’گجرات جیسی ریاست سے آتے ہوئے، میں نے خشک سالی جیسے حالات دیکھے ہیں اور پانی کے ہر قطرے کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ گجرات، پانی تک رسائی اور پانی کا تحفظ میری اہم ترجیحات میں شامل تھا“
’’آج ، ملک کے تقریبا 80 اضلاع کے تقریبا 1.25 لاکھ گاوؤں میں ہر گھر تک پانی پہنچ رہا ہے‘‘
’’خواہش مند اضلاع میں نل کنکشن کی تعداد 31 لاکھ سے بڑھ کر 1.16 کروڑ ہوگئی ہے‘‘
’’ہر گھر اور اسکول میں بیت الخلاء ، سستے سینیٹری پیڈ ، حمل کے دوران غذائیت کی مدد اور حفاظتی ٹیکوں جیسے اقدامات نے ’متر شکتی‘ کو تقویت بخشی ہے‘‘

نئی دہلی،2 اکتوبر2021:   وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے  جل جیون مشن پر  گرام پنچایتوں اور پانی سمیتیوں نیز گرام  جل اور سوچھتاسمیتیوں (وی ڈبلیو ایس سی) کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ انھوں نے شراکتداروں کے مابین آگاہی کو  بہتر بنانے کے لیے  جل جیون مشن ایپ  کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد مشن کے تحت  اسکیموں کی وسیع تر شفافیت اور  احتساب کو بہتر بنانا ہے۔ انھوں نے راشٹریہ جل جیون کوش کا بھی آغاز کیا، جس میں کوئی بھی فرد، ادارہ، کارپوریشن یا فلنتھروپسٹ، چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا بیرون ملک، وہ  ہر ایک  دیہی گھرانے، اسکول، آگن واڑی سینٹر، آشرم شالہ اور دیگر  سرکاری اداروں میں نل کے پانی کے کنکشن فراہم کرنے میں مدد کرنے کے لیےحصہ رسدی کرسکتا ہے۔ گرام پنچایتوں اور پانی سمیتیوں کے ارکان کے ساتھ ساتھ مرکزی وزراء جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، جناب پرہلاد سنگھ پٹیل، جناب بشویسور تودو، ریاستوں کے وزرائے اعلی اور وزیر بھی موجود تھے۔

سمیتیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اترپردیش کے ضلع باندہ میں اماری گاؤں کے جناب گرجاکانت تیواری سے اُن کے گاؤں میں جل جیون مشن کے اثر کے بارے میں معلوم کیا۔ جناب تیواری نے بتایا کہ اب محفوظ اور صاف پانی دستیاب ہے اور اسے گاؤں کی خواتین کی زندگیوں میں بہتری آئی ہے۔ وزیر اعظم نے جناب تیواری سے پوچھا کہ آیا ان کے گاؤں والوں کو یقین تھا کہ  وہ پانی کی پائپ لائن کا کنکشن حاصل کرلیں گے اور اب انھیں کیسا محسوس ہو رہا ہے۔ جناب تیواری نے اس مشن کے لیے گاؤں میں اجتماعی کوششوں کے بارے میں بات کی۔ جناب تیواری نے بتایا کہ گاؤں میں ہر ایک گھر میں بیت الخلاء ہے اور ہر ایک انھیں استعمال کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نے  بندیل کھنڈ کے گاؤں والوں کو اُن کے عہد کے لیے ستائش کی اور کہا کہ خواتین کو بااختیار بنایا جارہا ہے اور وہ پی ایم آواس، اجولا اور جل جیون مشن جیسی اسکیموں کے ذریعے باوقار ہو رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے گجرات میں پپلی گاؤں کے جناب رمیش بھائی پٹیل کے ان کے گاؤں میں پانی کی دستیابی کے بارے میں معلوم کیا۔ انھوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ آیا پانی کے معیار کو باقاعدہ چیک کیا جاتا ہے یا نہیں۔ جناب رمیش بھائی نے مطلع کیا کہ معیار اچھا ہے اور خواتین کو معیار چیک کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے معلوم کیا کیا لوگ پینے کے پانی کے لیے ادائیگی کرتے ہیں، جناب رمیش بھائی نے مطلع کیاکہ پانی کی  قدرگاؤوں میں بہت واضح ہے اور وہ اس کے لیے ادائیگی کرنے کے خواہشمند ہیں۔ وزیر اعظم نے پانی کی بچت کے لیے اسپرنکلرس اور ڈرپ سینچائی کے طریقوں کے استعمال کے بارے میں پوچھا۔ وزیر اعظم کو مطلع کیا گیا کہ گاؤں میں سینچائی کی اختراعی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہیں۔ وزیر اعظم نے سوچھ بھارت مشن 2.0 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام ا لناس نے صفائی ستھرائی کے لیے اِس مشن کو وسیع پیمانے پر حمایت فراہم کی ہے۔ انھوں نے جل جیون مشن کے لیے بھی اسی طرح کی کامیابی کی توقع کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے اتراکھنڈ کی محترمہ کوشلیا راوت سے ، جل جیون مشن سے پہلے اور بعد میں دستیابی کے بارے میں معلوم کیا۔محترمہ راوت نے مطلع کیا کہ ان کے گاوؤں میں سیاح آنے والے ہیں اور جل جیون مشن کے ذریعے پانی کی دستیابی کے بعد وہ گھروں میں قیام کرنے لگے ہیں۔ محترمہ راوت نے بتایا کہ  ان کے گاؤں میں سب کو ٹیکہ لگ گیا ہے۔ وزیر اعظم نے انھیں اور گاوؤں کو شجرکاری، سیاحت کو فروغ دینے اور گھر میں قیام کرنے جیسےپائیدار عوامل اپنانے کے لیے اُن لوگوں کی ستائش کی۔

وزیر اعظم نے تمل ناڈو کے ویلری کی محترمہ سدھا سے جل جیون مشن کے اثر کے بارےمیں معلوم کیا۔ محترمہ سدھا نے بتایا کہ مشن کے بعد تمام گھروں کو نل کا پینے کے پانی کا کنکشن مل گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ان سے عالمی شہرت یافتہ  آرنی سلک ساری کی ان کے گاؤں میں پیداوار کے بارے میں معلوم کیا۔ وزیر اعظم نے یہ بھی پوچھا کہ آیا  نل کے پینے کے پانی کے کنکشن میں  انھیں گھر کی دیگر سرگرمیوں کے لیے مزید وقت فراہم کیا ہے یا نہیں۔ محترمہ سدھا نے بتایا کہ پانی کی دستیابی نے ان کی زندگی کو بہتر بنایا ہے اور ان کے پاس اب دیگر پیداواری سرگرمیوں کے لیے وقت ہے۔ انھوں نے  بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے  پانی روکنے کے لیے ڈیم ، تالابوں وغیرہ کی تعمیر کے بارے میں بھی بتایا۔ وزیر اعظم نے عوام کے ذریعے پانی کے مشن کو اپنانے کو خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم قرار دیا۔

منی پور کی محترمہ لیتھن تھیم سروجنی دیوی جی سے بات چیت کرتے ہوئے جناب مودی کو یہ بتایا گیا کہ اس سے قبل پانی طویل دوری پر اور لمبی قطاروں میں بھی دستیاب ہوتا تھا۔ اب صورت حال بہتر ہوگئی ہے کیونکہ تمام گھرانوں کے پاس نل کے پانی کا کنکشن ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ او ڈی ایف بننے اور پوری طور پر احاطے کیے گئے گاؤں بننے کے باعث گاؤں میں بہتر صحت کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی مطلع کیا کہ ان کے گاؤں میں پانی کی باقاعدہ ٹیسٹنگ ایک معمول بن گئی ہے اور اس کے لیے پانچ خواتین کو تربیت دی گئی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت عوام الناس کی زندگی گزارنے میں آسانی لانے کے لیے  پائیدار کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انھوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ شمال مشرق میں حقیقی تبدیلی ہو رہی ہے۔

لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گاؤں باپو اور بہادر شاستری جی کے دلوں کے ٹکڑے تھے۔ انھوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ آج کے دن ملک بھر میں گاوؤں کے لاکھوں افراد ’گرام سبھا‘ کی شکل میں ’جل جیون سمواد‘ منعقد کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جل جیون مشن کا وژن عوام الناس کو پانی تک رسائی حاصل کرانا ہی نہیں ہے بلکہ یہ غیر مرکوزیت کی ایک بڑی تحریک بھی ہے۔ انھوں نے کہا’’یہ ایک گاؤں سے چلنے والی خواتین پر مبنی تحریک ہےیہ گاؤں کی  خواتین کی قیادت والی اسکیم ہے اس کی اصل بنیاد ایک عوامی تحریک اور وسیع عوامی شرکت ہے‘‘ وزیر اعظم نے یاددہانی کرائی کہ گاندھی جی یہ کہا کرتے تھے کہ گرام سوراج کے اصل معنی مکمل طور پر خود اعتمادی حاصل کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ’’یہی وجہ ہے کہ میری ہرممکن کوشش رہی ہے کہ گرام سوراج کی یہ سوچ آگے بڑھے اور اسے حاصل کیا جائے‘‘۔ جناب مودی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر  اپنی مدت کے دوران گرام سوراج کے لیے کئے گئے اقدامات کی یاددہانی کرائی جن میں او ڈی ایف گاؤوں کے لیے نرمل گاؤں، گاؤوں میں پرانی باولیوں اور کنوؤں کے احیاء کے لیے جل مندر ابھیان، گاؤں میں 24 گھنٹے بجلی کے لیے جیوتی گرام، گاؤوں میں تیرتھ گرام اور گاؤوں میں  براڈ بینڈ کے لیے ای-گرام شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے طور پر بھی انھوں نے اسکیموں کی منصوبہ بندی اور انتظام میں مقامی برادریوں کو شامل کرنے پر کام کیا ہے۔ انھوں نے مطلع کیا کہ اس کے لیے ، خاص طورپر ، پانی اور صفائی کے لیے ، گرام پنچایتوں کو براہ راست 2.5 لاکھ کروڑ روپئے فراہم کرائے گئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اختیارات کے ساتھ ساتھ پنچایتوں کے کام کاج کی شفافیت کی بھی قریب سے نگرانی کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گرام سماج کے تئیں مرکزی سرکار کے عزم کی ایک کلیدی مثال جل جیون مشن اور پانی سمیتیاں ہیں۔

پانی کے مسائل کے عام تصورات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے فلموں، کہانیوں اور نغموں کا ذکر کیا جن میں تفصیل کے ساتھ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کس طرح گاؤں کی خواتین اور بچے پانی حاصل کرنے کے لیے میلوں کا سفر کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں گاؤں کا نام آتے ہی اس صورتحال کا خاکہ ابھر آتا تھا۔ وزیر اعظم نے پوچھا کہ کیوں معدود چند افراد ہی اس سوال کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کیوں ان لوگوں کو ہر دن پانی کے لیے کسی دریا یا کسی تالاب پر جانا پڑتا ہے۔ آخر پانی کیوں ان افراد تک نہیں پہنچتا؟  وزیر اعظم نے کہا ’’کہ طویل عرصے سے جو لوگ پالیسی سازی کے ذمے دار ہیں انھیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہیے‘‘۔ وزیر اعظم نے کہا کہ شاید اس سے قبل کے پالیسی سازوں کو پانی کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا کیونکہ وہ وافر پانی والے علاقوں سے آئے تھے۔ جناب مودی نے کہا کہ  گجرات جیسی ریاست سے آتے ہوئے انھوں نے خشک سالی کی صورتحال دیکھی ہے اور پانی کی ہر بوند کی اہمیت سے وہ اچھی طرح واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گجرات کا وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے عوام الناس کو پانی فراہم کرنا اور پانی کا تحفظ کرنا ان کی ترجیحات تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ  آزادی سے لے کر 2019 تک ہمارے ملک میں صرف 3 کروڑ گھرانوں کو پانی تک رسائی حاصل تھی۔ 2019 میں جل جیون مشن کے آغاز سے 5 کروڑ گھرانوں کو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ آج، ملک کے تقریباً 80 اضلاع میں تقریباً 1.25 لاکھ گاؤوں میں ہر ایک گھرانے تک پانی پہنچ رہا ہے۔ خواہشمند اضلاع میں نل کے پانی کے کنکشن کی تعداد میں 31 لاکھ سے اضافہ ہوکر یہ 1.16 کروڑ ہوگئی ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ صرف دو برس میں ہی اتنا کام کیا گیا ہے کہ جتنا کہ گذشتہ سات دہائیوں میں نہیں ہوا۔ انھوں نے ملک کے ہر اس شہری سے اپیل کی جو وافر پانی کے علاقے میں رہتاہے کہ وہ پانی کو بچانے کے لیے مزید کوشش کریں۔ انھوں نے ان پر یہ بھی زور دیا کہ وہ اپنی عادتیں بھی بدلیں۔

وزیر اعظم نے ملک کی بیٹیوں کی صحت اور تحفظ کو بہتر بنانے کے اقدامات کا بھی بیان کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہر گھر اور اسکول میں بیت الخلاء، کم قیمت والے  سنیٹری پیڈ،  حمل کے دوران تغذیائی امداد اور ٹیکہ کاری جیسے اقدامات نے ’مترا شکتی‘ کو استحکام بخشا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گاؤوں میں تعمیر کردہ 2.5 کروڑ مکانات میں سے اکثر خواتین کے نام پر ہیں۔ اجولا نے خواتین کو دھوئیں سے پر زندگی سے نجات دلائی ہے۔ خواتین ذاتی مدد کے گروپوں کے  ذریعے آتم نربھر مشن کے ساتھ مربوط ہو رہی ہیں اور گذشتہ سات برسوں میں ان کی تعداد تین گنا ہوگئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ قومی نان نفقہ مشن کے تحت خواتین کو دی جانے والی امداد میں گذشتہ سات برسوں میں 13 گنا اضافہ ہواہے جو کہ سن 2014 سے پہلے برسوں میں صرف پانچ تھا۔

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.