5940 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے 247 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا
’’دہلی ممبئی ایکسپریس وے دنیا کے جدید ترین ایکسپریس وے میں سے ایک ہے جو ترقی پذیر ہندوستان کی شاندار تصویر پیش کرتا ہے‘‘
’’گزشتہ 9 سالوں سے، مرکزی حکومت بنیادی ڈھانچے میں مسلسل بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے‘‘
’’اس بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ 2014 میں مختص کردہ رقم سے 5 گنا زیادہ ہے‘‘
’’گزشتہ چند سالوں میں، راجستھان کو ہائی ویز کے لیے 50 ہزار کروڑ روپے ملے ہیں‘‘
’’دہلی-ممبئی ایکسپریس وے اور ویسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور راجستھان اور ملک کی ترقی کے دو مضبوط ستون بننے جا رہے ہیں‘‘
’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس راجستھان اور ملک کی ترقی کے لیے ہمارا منتر ہے‘‘
اس منتر پر عمل کرتے ہوئے ہم ایک قابل، اہل اور خوشحال ہندوستان بنا رہے ہیں

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج دہلی ممبئی ایکسپریس وے کے 246 کلومیٹر طویل  دہلی – دوسہ – لالسوٹ سیکشن کو قوم کے نام وقف کیا۔ انہوں نے 5940 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیے جانے والے 247 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ کے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ نئے ہندوستان میں  ترقی اور کنکٹیوٹی کے انجن کے طور پر بہترین سڑک   بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر وزیر اعظم کے زور کو پورے ملک میں جاری متعدد عالمی معیار کے ایکسپریس ویز کی تعمیر  کے ذریوے  پورا کیا جا رہا ہے۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دہلی-ممبئی ایکسپریس وے کے پہلے مرحلے کو قوم کے نام وقف کرنے پر فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دنیا کے سب سے جدید ایکسپریس وے میں سے ایک ہے جو ترقی پذیر ہندوستان کی شاندار تصویر پیش کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب اس طرح کی جدید سڑکیں، ریلوےا سٹیشن، ریلوے ٹریک، میٹرو اور ہوائی اڈے بنتے ہیں تو ملکی ترقی کو رفتار ملتی ہے۔ انہوں نے انفرااسٹرکچر پر سرمایہ کاری کے   اثر کو بھی اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا  ’’گزشتہ 9 سالوں سے، مرکزی حکومت بھی بنیادی ڈھانچے میں مسلسل بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہے‘‘۔انہوں نے راجستھان میں ہائی ویز کی تعمیر کے لیے 50,000 کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا ذکر  کیا۔  وزیر اعظم نے بتایا  کہ اس سال کے بجٹ میں  بنیادی ڈھانچے کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے  کی رقم مختص کی گئی ہے جو کہ 2014 میں مختص کی گئی رقم سے 5 گنا زیادہ ہے۔ وزیر اعظم نے معیشت پر انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے فوائد پر زور دیا اور کہا کہ اس سے روزگار اور  کنکٹیوٹی   کی راہیں کھلتی ہیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب شاہراہوں، ریلوے، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، آپٹیکل فائبر، ڈیجیٹل کنکٹیوٹی، پکے گھروں اور کالجوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے تو معاشرے کا ہر طبقہ بااختیار بنتا ہے۔

بنیادی ڈھانچے کے ایک اور فائدے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی-دوسہ-لالسوٹ ہائی وے کی تعمیر سے دہلی اور جے پور کے درمیان سفر کا وقت کم ہو جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایکسپریس وے کے ساتھ ساتھ گرامین ہاٹ قائم کئے جارہے ہیں جو مقامی کسانوں اور کاریگروں کی مدد کریں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی ممبئی ایکسپریس وے سے دہلی، ہریانہ، گجرات اور مہاراشٹر کے کئی علاقوں کے ساتھ راجستھان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔  انہوں نے کہا ’’سیاحتی مقامات جیسے سرسکا، کیولادیو نیشنل پارک، رنتھمبور اور جے پور کو ہائی وے سے بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوگا‘‘۔

تین دیگر پروجیکٹوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان میں سے ایک جے پور کو ایکسپریس وے سے براہ راست رابطہ فراہم کرے گا۔ دوسرا پروجیکٹ ایکسپریس وے کو الور کے قریب امبالا کوٹ پٹلی کوریڈور سے جوڑے گا۔ اس سے ہریانہ، پنجاب، ہماچل اور جموں کشمیر سے آنے والی گاڑیوں کو پنجاب، گجرات، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر جانے میں مدد ملے گی۔ لالسوٹ کرولی سڑک بھی اس خطے کو ایکسپریس وے سے جوڑے گی۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے اور ویسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور راجستھان اور ملک کی ترقی کے دو مضبوط ستون بننے جا رہے ہیں اور آنے والے وقت میں راجستھان سمیت اس پورے خطے کو بدل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پروجیکٹ ممبئی دہلی اقتصادی راہداری کو مضبوط کریں گے اور سڑک اور مال بردار راہداری راجستھان، ہریانہ اور مغربی ہندوستان کے کئی علاقوں کو بندرگاہوں سے جوڑ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے لاجسٹکس، اسٹوریج، ٹرانسپورٹ اور دیگر صنعتوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ دہلی ممبئی ایکسپریس وے پی ایم گتی شکتی ماسٹر پلان سے  تحریک یافتہ ہے، وزیر اعظم نے بتایا کہ آپٹیکل فائبر، بجلی کی لائنیں اور گیس پائپ لائنیں بچھانے کے انتظامات کیے گئے ہیں، اور بچ جانے والی زمین کو شمسی توانائی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ گودام بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ان کوششوں سے مستقبل میں قوم کا بہت پیسہ بچ جائے گا‘‘۔

خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے راجستھان اور ملک کے لیے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے منتر پر روشنی ڈالی، اور کہا، ’’حکومت کا عزم ایک قابل، اہل اور خوشحال ہندوستان بنانا ہے۔‘‘

سڑکنقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری، جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب کیلاش چودھری، راجستھان حکومت کے پی ڈبلیو ڈی وزیر جناب بھجن لال جاٹاو اور اراکین پارلیمنٹ  اس موقع پر موجود تھے۔

پس منظر

دہلی ممبئی ایکسپریس وے کے 246 کلومیٹر طویل  دہلی – دوسہ – لالسوٹ سیکشن کو 12,150 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ اس سیکشن کے فعال ہونے سے دہلی سے جے پور کا سفر کا وقت 5 گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً 3.5 گھنٹے ہو جائے گا اور پورے خطے کی اقتصادی ترقی کو بڑا فروغ ملے گا۔

دہلی ممبئی ایکسپریس وے ہندوستان کا سب سے طویل ایکسپریس وے ہوگا جس کی لمبائی 1,386 کلومیٹر ہے۔ اس سے دہلی اور ممبئی کے درمیان سفر کا فاصلہ 1,424 کلومیٹر سے 1,242 کلومیٹر تک 12فیصد کم ہو جائے گا اور سفر کا وقت 24 گھنٹے سے 12 گھنٹے تک 50 فیصد کم ہو جائے گا۔ یہ چھ ریاستوں دہلی، ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات اور مہاراشٹر سے گزرے گا اور کوٹا، اندور، جے پور، بھوپال، وڈودرا اور سورت جیسے بڑے شہروں کو جوڑے گا۔ ایکسپریس وے 93 پی ایم گتی شکتی اکنامک نوڈس، 13 پورٹس، 8 بڑے ہوائی اڈوں اور 8 ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارکس (ایم ایم ایل پی) کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے گرین فیلڈ ہوائی اڈوں جیسے جیور ہوائی اڈے، نوی ممبئی ہوائی اڈے اور جے این پی ٹی بندرگاہ کو بھی  رابطہ فراہم کرے گا۔ ایکسپریس وے تمام ملحقہ علاقوں کی ترقی کی رفتار پر اثر ڈالے گا، اس طرح یہ ملک کی اقتصادی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

پروگرام کے دوران، وزیر اعظم نے 5940 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیے جانے والے 247 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس میں 2000 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے بنڈیکوئی سے جے پور تک 67 کلومیٹر طویل چار لین والی اسپر روڈ ، 3775 کروڑ روپے کی لاگت تیار ہونے والا کوٹ پتلی  سے باراؤدانیو  تک چھ لین والی اسپر روڈ  اور تقریباً 150 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا دو لین  والا پاؤڈ شولزر لالسوٹ - کرولی سیکشن شامل ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India trained 85,000 engineers in 4 years under Semicon 2.0: Vaishnaw

Media Coverage

India trained 85,000 engineers in 4 years under Semicon 2.0: Vaishnaw
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM's address during post-budget webinar on “Sustaining and Strengthening Economic Growth”
March 03, 2026
This year’s Union Budget reinforces our commitment to sustaining and strengthening economic growth: PM
Our direction is clear, our resolve is clear,Build more, produce more, connect more, export more: PM
The world is looking for reliable and resilient manufacturing partners, and today India has the opportunity to firmly fulfill this role: PM
India has signed Free Trade Agreements with many countries, a very large door of opportunities has opened for us, and in such a situation, it is our responsibility to never compromise on quality: PM
The Carbon Capture, Utilisation and Storage Mission is an important initiative, integrating sustainability in core business strategy will be essential: PM
The industries that invest in clean technology in time will be able to build better access to new markets in the coming years: PM
A major transformation is happening in the world economy today, as markets now look not only at cost but also at sustainability: PM

नमस्कार !

गत् सप्ताह, बजट वेबिनार सीरीज के पहले वेबिनार का आयोजन हुआ, और मुझे ऐसा बताया गया कि वो बहुत सफल रहा, और बजट प्रावधानों के Implementation को लेकर हर किसी ने काफी उत्तम सुझाव दिए, सबकी सक्रिय भागीदारी का मैं स्वागत करता हूं और आज इस सीरीज के दूसरे वेबिनार का आयोजन हो रहा है। और मुझे बताया गया कि आज हजारों की तादाद में, ढेर सारे विषयों पर अनगिनत लोग अपने सुझाव देने वाले हैं। विषय के जो एक्सपर्ट्स हैं, वे भी हमसे जुड़ने वाले हैं। इतनी बड़ी तादाद में बजट पर चर्चा, ये अपने आप में एक बहुत सफल प्रयोग है। आप सब समय निकाल करके इस वेबिनार में जुड़े। मैं आप सभी का अभिनंदन करता हूं, आपका स्वागत करता हूं। इस वेबिनार की थीम देश की Economic Growth को निरंतर मजबूती देने से जुड़ी हुई है। आज जब भारत अपनी मजबूत economy से पूरे विश्व की उम्मीद बना हुआ है, आज जब ग्लोबल सप्लाई चैन re-shape हो रही है, तब अर्थव्यवस्था की तेज प्रगति विकसित भारत का भी बहुत बड़ा आधार है। हमारी दिशा स्पष्ट है, हमारा संकल्प स्पष्ट है, Build more, produce more, connect more और अब जरूरत है Export more, और निश्चित तौर पर इसमें आज आपके बीच जो मंथन होगा, इस मंथन से जो सुझाव निकलेंगे, उनकी बड़ी भूमिका होगी।

साथियों,

आप सब जानते हैं, मैन्युफैक्चरिंग, लॉजिस्टिक्स, हमारे MSME's, लघु उद्योग, कुटीर उद्योग, इतना ही नहीं, हमारे छोटे-बड़े शहर, ये अर्थव्यवस्था के पिलर्स के तौर पर दिखने में तो अलग-अलग लगते हैं, लेकिन वे सभी interconnected हैं। जैसे, मजबूत मैन्युफैक्चरिंग नए अवसर तैयार करती है, और इससे निर्यात में बढ़ोतरी होती है। Competitive MSMEs से flexibility और इनोवेशन को बढ़ावा मिलता है। बेहतर लॉजिस्टिक्स से लागत कम होती है। Well-planned शहर investment और talent दोनों को अपनी ओर खींचते हैं। इन सभी पिलर्स को इस साल के बजट ने बहुत मजबूती दी है।

लेकिन साथियों,

कोई भी दिशा अपने आप परिणाम नहीं बन जाती, जमीन पर बदलाव तब आता है, जब industry, financial institutions, राज्य सरकारें, मिलकर उसे वास्तविकता बनाते हैं। मेरी अपेक्षा है, इस वेबिनार में आप सभी अपने मंथन में कुछ विषयों को जरूर प्राथमिकता दें, जैसे मैन्युफैक्चरिंग और प्रॉडक्शन, ये कैसे बढ़े, Cost structure को कैसे कंपटीटिव बनाया जा सकता है, निवेश का प्रवाह कैसे तेज हो, और विकास कैसे देश के कोने-कोने तक पहुंचे। इस दिशा में आपके सुझाव बहुत अहम साबित होंगे।

साथियों,

मैन्युफैक्चरिंग के क्षेत्र में आज देश कोर इंडस्ट्रियल क्षमताओं को मजबूत कर रहा है। और इस मार्ग में जो चुनौतियां हैं, उन्हें भी दूर किया जा रहा है। Dedicated Rare Earth Corridors, कंटेनर मैन्युफैक्चरिंग, ऐसे सेक्टर्स पर फोकस करके हम अपने ट्रेड इकोसिस्टम को मजबूत करने का प्रयास कर रहे हैं। बजट में बायोफार्मा शक्ति मिशन की घोषणा भी की गई है। इस मिशन का उद्देश्य है, भारत को biologics और next-generation थेरेपीज के क्षेत्र में ग्लोबल हब बनाना। हम Advanced Biopharma Research और मैन्युफैक्चरिंग में लीडरशिप की ओर बढ़ना चाहते हैं।

साथियों,

आज दुनिया विश्वसनीय और resilient manufacturing partners की तलाश में है। भारत के पास यह अवसर है कि वह इस भूमिका को मजबूती से निभाए। इसके लिए आप सभी स्टेकहोल्डर्स को बहुत आत्मविश्वास के साथ निवेश करना होगा, नई टेक्नोलॉजी अपनानी होगी और रिसर्च में जो कंजूसी करते हैं ना, वो जमाना चला गया, अब हमें रिसर्च में बड़ा इनवेस्टमेंट करना होगा, और ग्लोबल स्टैंडर्ड के अनुरूप क्वालिटी भी सुनिश्चित करनी होगी, और मैं बार-बार कहता हूं कि अब हमें आगे बढ़ने के जब अवसर आए हैं, तो हमारा एक ही मंत्र होना चाहिए, क्वालिटी-क्वालिटी-क्वालिटी।

साथियों,

भारत ने बहुत सारे देशों के साथ फ्री ट्रेड एग्रीमेंट किए हैं। हमारे लिए अवसरों का, यानि अवसरों का बहुत बड़ा द्वार खुला है। ऐसे में हमारी ज़िम्मेदारी है कि हम क्वालिटी पर कभी भी समझौता ना करें, अगर किसी एक चीज पर सबसे ज्यादा ताकत, बुद्धि, शक्ति, समझ लगानी है, तो हमें क्वालिटी पर बहुत ज्यादा जोर देना चाहिए। हमारे प्रोडक्ट्स की क्वालिटी ग्लोबल स्टैंडर्ड, इतना ही नहीं, उससे भी बेहतर हो। और इसके लिए हमें दूसरे देशों की जरूरतों को, वहां के लोगों की अपेक्षाओं को भी, उसका अध्ययन करना पड़ेगा, रिसर्च करनी पड़ेगी, उसे समझना होगा। हमें दूसरे देशों के लोगों की पसंद और उनके कंफर्ट को स्टडी करना, ये सबसे बड़ी आवश्यकता है, और रिसर्च करनी चाहिए। मान लीजिए कोई छोटा पुर्जा मांगता है, और वो बहुत बड़ा जहाज बना रहा है, लेकिन हम पुर्जे में चलो भेज दो, क्या है? तो कौन लेगा आपका पुर्जा? भले आपके लिए वह छोटा पुर्जा है, लेकिन उसकी एक बहुत बड़ी जो मैन्युफैक्चरिंग की यूनिट है, उसमें बहुत बड़ा महत्व रखता है। और इसलिए आज दुनिया में हमारे लिए क्वालिटी ही इस कंपिटिटिव वर्ल्ड के अंदर सुनहरा अवसर बना देती है। हमें उनके हिसाब से यूजर फ्रेंडली प्रोडक्ट बनाने होंगे। तभी हम उन अवसरों का लाभ उठा पाएंगे, और जो फ्री ट्रेड एग्रीमेंट तैयार हो चुका है, अब ये विकास का महामार्ग आपके लिए तैयार है। मैं उम्मीद करता हूं कि इस वेबिनार में इस विषय पर फोकस करते हुए भी आप सब जरूर चर्चा करेंगे।

 

साथियों,

हमने MSME classification में जो Reforms किए, उसका व्यापक प्रभाव दिख रहा है। इससे enterprises का ये डर खत्म हुआ है कि वो अपना विस्तार करेंगे, तो उन्हें सरकार की ओर से मिलने वाले फायदे बंद हो जाएंगे। क्रेडिट तक MSME's की आसान पहुंच बनाने, टेक्नोलॉजी अपग्रेडेशन को बढ़ावा देने और कपैसिटी बिल्डिंग की दिशा में लगातार प्रयास हुए हैं।

लेकिन साथियों,

इन प्रयासों का असर तभी दिखाई देगा, जब MSMEs ज्यादा से ज्यादा कंपटीशन में उतरेंगे, और विजयी होने का लक्ष्य लेकर उतरेंगे। अब समय है कि MSMEs अपनी प्रोडक्टिविटी और बढ़ाएं, क्वालिटी स्टैंडर्ड्स को ऊंचा करें, डिजिटल प्रोसेस और मजबूत वैल्यू चैन से जुड़ें। इस दिशा में, इस वेबिनार में आपके सुझाव बहुत अहम होंगे।

साथियों,

इंफ्रास्ट्रक्चर और लॉजिस्टिक्स हमारी growth strategy के कोर पिलर्स हैं। इस वर्ष के बजट में रिकॉर्ड कैपिटल एक्सपेंडिचर का प्रस्ताव है। High-capacity transport systems का निर्माण, रेलवे, हाइवे, पोर्ट, एयरपोर्ट, वाटरवे के बीच बेहतर तालमेल, अलग-अलग फ्रेट कॉरिडोर और मल्टी-मोडल कनेक्टिविटी का विस्तार, ये सभी कदम खर्च कम करने और efficiency improve करने के लिए आवश्यक है। इसलिए, नए वाटरवेज, शिप रिपेयर फैसिलिटी और Regional Centres of Excellence हमारे लॉजिस्टिक इकोसिस्टम को मजबूत करेंगे। सात नए हाई-स्पीड रेल कॉरिडोर विकास के ग्रोथ कनेक्टर बनने वाले हैं। लेकिन आप भी जानते हैं, इस इंफ्रास्ट्रक्चर का वास्तविक लाभ तभी मिलेगा, जब उद्योग और निवेशक अपनी रणनीतियों को इस विजन के अनुरूप में ढालेंगे। ये रणनीतियां क्या होगी, इस पर भी आपको विस्तार से चर्चा करनी चाहिए, और मुझे पूरा विश्वास है कि आप जरूर इन बातों पर ध्यान देंगे।

 

साथियों,

भारत की विकास यात्रा में अर्बनाइजेशन, शहरीकरण का भी बहुत अहम रोल है। भारत की future growth इस बात पर निर्भर करेगी कि हम अपने शहरों को कितना effectively plan और manage करते हैं। हमारे Tier-II और Tier-III शहर, नए growth anchors कैसे बनें, इसके लिए भी इस बजट वेबिनार में आपके सुझाव बहुत अहम होंगे।

साथियों,

आज दुनिया की अर्थव्यवस्था में एक बड़ा परिवर्तन चल रहा है। बाजार अब केवल लागत नहीं देखते हैं, वे sustainability भी देखते हैं। इस दिशा में Carbon Capture, Utilisation and Storage Mission एक महत्वपूर्ण पहल है। अब sustainability उसको आपको core business strategy का हिस्सा बनाना ही होगा। जो उद्योग समय रहते क्लीन टेक्नोलॉजी में निवेश करेंगे, वे आने वाले वर्षों में नए-नए बाजारों तक बेहतर पहुंच बना पाएंगे। इस साल बजट ने नई दिशा दी है। मेरा आग्रह है कि उद्योग, निवेशक और विभिन्न संस्थान मिलकर इस पर आगे बढ़ें।

साथियों,

विकसित भारत का लक्ष्य collective ownership से ही हासिल किया जा सकता है। ये बजट वेबिनार भी सिर्फ discussion का प्लेटफॉर्म ना बने, सिर्फ अपने ज्ञान को हम बटोरते रहे, ऐसा नहीं होना चाहिए, बल्कि इसमें collective ownership दिखे, ये बहुत जरूरी है। बजट ने framework दिया है, अब आपको मिलकर momentum पैदा करना है। आपको हमारे प्रयासों में सहभागी बनना है। आपका हर सुझाव, हर अनुभव जमीन पर बेहतरीन नतीजें लाने की क्षमता रखता है। आपके सुझाव देश की प्रगति में माइलस्टोन बनें, इसी विश्वास के साथ आपका बहुत-बहुत धन्यवाद।

नमस्कार !