5940 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے 247 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا
’’دہلی ممبئی ایکسپریس وے دنیا کے جدید ترین ایکسپریس وے میں سے ایک ہے جو ترقی پذیر ہندوستان کی شاندار تصویر پیش کرتا ہے‘‘
’’گزشتہ 9 سالوں سے، مرکزی حکومت بنیادی ڈھانچے میں مسلسل بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے‘‘
’’اس بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ 2014 میں مختص کردہ رقم سے 5 گنا زیادہ ہے‘‘
’’گزشتہ چند سالوں میں، راجستھان کو ہائی ویز کے لیے 50 ہزار کروڑ روپے ملے ہیں‘‘
’’دہلی-ممبئی ایکسپریس وے اور ویسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور راجستھان اور ملک کی ترقی کے دو مضبوط ستون بننے جا رہے ہیں‘‘
’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس راجستھان اور ملک کی ترقی کے لیے ہمارا منتر ہے‘‘
اس منتر پر عمل کرتے ہوئے ہم ایک قابل، اہل اور خوشحال ہندوستان بنا رہے ہیں

راجستھان کے گورنر جناب کلراج جی، راجستھان کے وزیر اعلیٰ جناب اشوک گہلوت جی، ہریانہ کے وزیر اعلیٰ جناب منوہر لال جی، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی نتن گڈکری جی، گجندر سنگھ شیخاوت جی ،وی کے سنگھ جی،دیگر تمام وزراء، ممبران پارلیمنٹ ، دیگر معززین ، خواتین و حضرات،

آج دہلی –ممبئی ایکسپریس وے کے پہلے مرحلے کو قوم کو وقف کرتے ہوئے مجھے انتہائی فخر ہورہا ہے۔یہ ملک کے سب سے بڑے اور سب سے جدید ایکسپریس وے میں سے ایک ہے۔یہ ترقی یافتہ ہندوستان کی ایک اور شاندار تصویر ہے۔میں دوسہ کے لوگوں کو، ملک کے تمام شہریوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

بھائیوں اور بہنوں،

جب ایسی جدید سڑکیں بنتی ہیں، جدید ریلوے اسٹیشن ، ریلوے ٹریک، میٹرو، ایئرپورٹ بنتے ہیں، تو ملک کی ترقی کو رفتار ملتی ہے۔ دنیا میں ایسے متعدد مطالعہ جات ہیں، جو بتاتے ہیں کہ بنیادی ڈھانچے پر صرف کی گئی رقم زمین پر کئی گنا زیادہ اثر دکھاتی ہے۔بنیادی ڈھانچے پر ہونے والی سرمایہ کاری اس سے بھی زیادہ سرمایہ کاری کو متوجہ کرتی ہے۔ پچھلے 9برسوں سے مرکزی سرکار بھی مسلسل بنیادی ڈھانچے پر بہت  بڑی سرمایہ کاری کررہی ہے۔راجستھان میں بھی ہائی وے کے لئے گزشتہ برسو ں میں 50ہزار کروڑ روپے سے زیادہ دیئے گئے ہیں۔اس سال کے بجٹ میں تو ہم نے بنیادی ڈھانچے کے لئے 10لاکھ کروڑ روپے کا نظم کیا ہے۔ یہ 2014 کے مقابلے میں 5گنا زیادہ ہے۔ اس سرمایہ کاری کا بہت بڑا فائدہ راجستھان کو ہونے والا ہے، یہاں کے گاؤں ،غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو ہونے والا ہے۔

ساتھیوں،

جب سرکار ، ہائی وے-ریلوے، پورٹ-ایئرپورٹ، پر سرمایہ کاری کرتی ہے ، جب سرکار آپٹیکل فائبر بچھاتی ہے، ڈیجیٹل کنکٹی وٹی بڑھتی ہے، جب سرکار غریبوں کے کروڑوں گھر بناتی ہے، میڈیکل کالج بنواتی ہے، عام لوگوں سے لے کر تجارت-کاروبار کرنے والوں تک، چھوٹی دوکان لگانے والوں سے لے کر بڑی صنعت تک، سب کو طاقت ملتی ہے۔سیمنٹ ، سریا، ریت،    بجری، ایسے ہر سامان کی تجارت سے لےکر ٹرانسپورٹ تک، ہر کوئی اس سے مستفید ہوتا ہے۔ان صنعتوں میں متعدد نئے روزگار پیدا ہوتے ہیں۔جب دوکان کا کاروبار ذرا پھلا پھولتا ہے، تو اس میں کام کرنے والے بھی بڑھتے ہیں۔ یعنی جتنا زیادہ انفرااسٹرکچر پر سرمایہ کاری ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ روزگار پیدا ہوتا ہے۔ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران بھی متعدد لوگوں کو ایسا موقع ملا ہے۔

ساتھیوں،

جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ جب یہ بنیادی ڈھانچہ بن کر تیار ہوجاتا ہے،  تو کسان ہوں، کالج-دفتر آنے جانے والے لوگ ہوں، ٹرک –ٹیمپو چلانے والے لوگ ہوں،  کاروباری ہوں، سب کو مختلف طرح کی سہولتیں ملتی ہیں، ان کی اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اب جیسے دہلی-دوسہ –لال سوٹ کے درمیان، یہ ایکسپریس وے بن گیا ہے۔ اب جے پور سے دہلی کے سفر میں پہلے جو 6-5گھنٹے لگتے تھے، وہ اب اس کے نصف وقت میں ہو جائے گا۔ آپ سوچئے، اس سے کس قدر وقت کی بچت ہوگی۔ اس پورے خطے کے جو ساتھی دہلی میں نوکری کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، جن کا دیگر کام کے لئے آنا جانا ہوتا ہے، وہ اب آسانی سے شام کو اپنے گھر پہنچ سکتے ہیں۔ٹرک-ٹیمپو والے ساتھی جو سامان لے کر دہلی آتے جاتے ہیں، انہیں اپنا پورا دن سڑک پر بتانا نہیں پڑے گا۔ جو چھوٹے کسان ہیں، جو مویشی پرور ہیں، وہ اب آسانی سے کم خرچ میں اپنی سبزی ، اپنا دودھ دہلی بھیج سکتے ہیں۔ اب تاخیر ہونے کی صورت میں ان کے سامان کے خراب ہونے کا خطرہ بھی کم ہوگیا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

اس ایکسپریس وے کے آس پاس       گرامین ہاٹ بنائے جارہے ہیں۔اس سے جو مقامی کسان ہیں، بُنکر ہیں، دستکار ہیں، وہ اپنی مصنوعات آسانی سے فروخت کرپائیں گے۔دہلی-ممبئی ایکسپریس وے سے راجستھان کے ساتھ ساتھ ہریانہ، مدھیہ پردیش،گجرات اور مہاراشٹر کے متعدد اضلاع کو بہت فائدہ ہوگا۔ ہریانہ کے میوات اور راجستھان کے دوسہ اضلاع میں کمائی کے نئے ذرائع تیار ہونے والے ہیں۔ اس جدید کنکٹی ویٹی کا فائدہ سرسکا ٹائیگر ریزرو، کیولادیو اور رنتھمبھور نیشنل پارک، جے پور، اجمیر جیسے متعدد سیاحتی مقامات کو بھی ہوگا۔ملک اور غیر ممالک کے سیاحوں کے لئے راجستھان پہلے ہی پرکشش رہا ہے، اب اس کی  کشش مزید بڑھ جائے گی۔

ساتھیوں،

اس کے علاوہ آج تین اور پروجیکٹوں کا افتتاح ہوا ہے۔ ان میں سے ایک پروجیکٹ جے پور کو اس ایکسپریس وے سے ڈائریکٹ کنکٹی ویٹی دے گا۔اس سے جے پور سے دہلی تک کا سفر صرف ڈھائی-تین گھنٹے کا رہ جائے گا۔دوسرا پروجیکٹ اس ایکسپریس وے کو الور کے پاس امبالہ-کوٹھ پتلی کاریڈور سے جوڑے گا۔ اس سے ہریانہ ، پنجاب، ہماچل پردیش اور جموں کشمیر سے آنے والی گاڑیاں پنجاب، گجرات،  مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کی طرف آسانی  سے جاسکیں گی۔ ایک اور پروجیکٹ لال سوٹ-کرولی سڑک کی ترقی کا ہے۔ یہ سڑک بھی اس علاقے کو نہ صرف ایکسپریس وے سے جوڑے گی، بلکہ علاقے کے لوگوں کی زندگی کو آسان بنائے گی۔

ساتھیوں،

دہلی-ممبئی ایکسپریس وے اور ویسٹرن ڈیڈیکٹیڈ فریٹ کاریڈور، یہ راجستھان کا،  ملک کی ترقی کا دو مضبوط ستون بننے والے ہیں۔ یہ پروجیکٹ آنے والے وقت میں راجستھان سمیت اس پورے خطے کی تصویر بدلنے والے ہیں۔ ان دونوں پروجیکٹ سے دہلی-ممبئی انڈسٹریل کاریڈور کو طاقت ملے گی۔ یہ روڈ اور فریٹ کاریڈور، ہریانہ اور راجستھان سمیت مغربی ہندوستان کی مختلف ریاستوں کو بندرگاہوں سے جوڑیں گے۔اس سے لاجسٹک سے جڑی، ٹرانسپورٹ سے جڑی، ذخیرہ کاری سے جڑی مختلف طرح کی صنعتوں کے لئے نئے نئے امکانات ابھی سے ہی پیدا ہونے شروع ہوجائیں گے۔

ساتھیوں،

مجھے خوشی ہے کہ اس ایکسپریس وے کو آج پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان سے  بھی طاقت مل رہی ہے۔ گتی شکتی ماسٹر پلان کے تحت اس  ایکسپریس وے میں 5جی نیٹ ورک کے لئے ضروری آپٹیکل فائبر بچھانے کے لئے کاریڈور رکھا گیا ہے۔ بجلی کے تاروں اور   گیس پائپ لائن کے لئے بھی جگہ چھوڑی گئی ہے۔ جو اضافی زمین ہے، اس کا استعمال سولر توانائی کی پیداوار اور ویئرہاؤسنگ کے لئے کیا جائے گا۔یہ تمام کوششیں مستقبل میں کروڑوں روپے  بچائیں گی، ملک کا وقت بچائیں گی۔

ساتھیوں،

سب کا ساتھ، سب کا وِکاس،    راجستھان اور ملک کی ترقی کے لئے ہمارا منتر ہے۔ اس منتر پر چلتے ہوئے ہم ایک اہل، باصلاحیت اور خوشحال ہندوستان بنا رہے ہیں۔ابھی میں یہاں زیادہ طویل وقت نہیں لیتا، لیکن  15 منٹ کے بعد مجھے قریب میں ہی ایک عوامی تقریب سے خطاب کرنان ہے۔بہت بڑی تعداد میں راجستھان کے لوگ وہاں انتظار کررہے ہیں، اس لئے میں باقی تمام موضوعات وہاں   عوام کے سامنے رکھوں گا۔ایک بار پھر آپ سب کو جدید ایکسپریس وے کی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.