Share
 
Comments
آزادی کا 75 واں تہوار منانے کے ساتھ ساتھ آزادی کا مہوتسو مستقبل کے بھارت کے لئے ایک واضح وژن اور روڈ میپ تیار کرنے کا ایک موقع ہے: وزیراعظم
فزیکل ، ٹیکنولوجیکل اور مالیاتی کنکٹی وٹی کی وجہ سے سکڑتی ہوئی دنیا میں ہماری برآمدات کی توسیع کے لئے دنیا بھر میں نئے امکانات تیار پیدا کئے جارہے ہیں: وزیراعظم
ہماری معیشت اور امکانات، ہماری مینوفیکچرنگ اور خدمات کی صنعت کی بنیاد کے سائز پر غور کرتے ہوئے برآمدات کے فروغ کے لئے بہت زیادہ امکانات ہیں: وزیراعظم
پروڈکشن سے جڑی تحریک کی اسکیم سے نہ صرف ہماری مینوفیکچرنگ کے پیمانے میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیار اور اہلیت کی سطح میں بھی اضافہ ہوگا: وزیراعظم
ریٹرو اسپیکٹیو ٹیکزیشن سے نجات پانے کے لئے ہندوستان کے ذریعہ لئے گئےفیصلے سے ہماری عہد بندی کا اظہار ہوتا ہے، پالیسیوں کی ہم آہنگی ظاہر ہوتی ہے اور تمام سرمایہ کاروں کو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ بھارت نہ صرف نئے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے بلکہ ایک فیصلے کرنے والی حکومت ہند اپنے وعدے پورے کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہے: وزیراعظم
مرکزی حکومت ضابطہ بندی کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے: وزیراعظم
ریاستوں کو برآمدات کے مراکز بنانے کے لئے ریاستوں کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ دیا جارہا ہے: وزیراعظم
ہمیں نئی منزلیں تلاش کرنی ہوں گی اور نئی مصنوعات لانی ہوں گی، کیا ہم نئے شعبوں کے لئے بہترین حکمت عملیاں تیار کرسکتے ہیں؟

نئی دہلی،  6  اگست 2021،   اپنے قسم کی پہلی پہل کرتے ہوئے وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بیرونی ممالک میں ہندوستانی مشنوں کے سربراہان اور تجارت و کامرس کے شعبے کے متعلقین   سے بات چیت کی۔ کامرس کے مرکزی اور اور امور خارجہ کے وزیر بھی بات چیت کے دوران موجود تھے۔ بات چیت میں   20 سے زیادہ محکموں کے سیکریٹریوں ، ریاستی حکومت  کے افسران،  ایکسپورٹ پروموشن کونسل اور چیمبرس آف کامرس کے ارکان نے بھی شرکت کی۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ  یہ آزادی کا امرت مہوتسو   کا وقت ہے۔  یہ آزادی کا 75 واں تہوار منانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے بھارت کے لئے ایک واضح  وژن  اور روڈ میپ تیار کرنے کا  موقع ہے۔ اس سلسلے میں  برآمد ات سے متعلق ہمارے عزائم اور  تمام متعلقین  ایک اہم رول ادا کریں گے۔ انہوں نے  کہا کہ  آج فزیکل ، ٹیکنولوجیکل اور مالیاتی کنکٹی وٹی  کی وجہ سے  ہر دن  دنیا  سکڑ رہی ہے ایسے ماحول میں ہماری برآمدات کی توسیع کے لئے  دنیا بھر میں نئے امکانات تیار پیدا کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے  اس پہل کے لئے متعلقین کی ستائش کی اور  برآمدات سے متعلق ہمارے  شاندار مقاصد  کو پور اکرنے کے لئے  ان سبھی کے ذریعہ  ظاہر کئے گئے جوش و خروش ، امید  پروری اور  عہد بندی کی تعریف کی۔انہوں نے بتایا کہ  عالمی معیشت میں  ماضی میں  بھارت کی سب سے زیادہ حصے داری  کی اہم وجوہات میں سے ایک  اس کی مستحکم تجارت اور برآمدات تھی۔ انہوں نے عالمی معیشت میں بھارت  کی پرانی حصے داری کو پھر سے حاصل کرنے کے لئے  برآمدات کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے متعلقین سے اپیل کی کہ  وہ کووڈ  کے بعد کی دنیا میں  عالمی سپلائی چین میں  ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے  پیدا ہوانے والے نئے مواقع کا  فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی پوری  کریں۔ ہماری معیشت اور  امکانات، ہماری مینوفیکچرنگ اور  خدمات کی صنعت  کی بنیاد  کے سائز پر غور کرتے ہوئے  برآمدات کے فروغ کے لئے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب  ملک آتم نربھر بھارت مشن کی جانب بڑھ رہا ہے تو  اس کا ایک مقصد  بھارت کی برآمدات کے حصے میں کئی گنا اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ  عالمی سپلائی چین تک ہماری رسائی ہو تاکہ  ہمارا کاروبار پھل پھول سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری صنعت بھی  بہترین ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اختراع  اور  آر اینڈ ڈی میں اپنی حصے داری میں اضافے  پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ عالمی ویلیو چین میں ہماری حصے داری  میں اس راستے پر چل ہی ہی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ  مسابقت اور  مہارت  کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہمیں  ہر ایک شعبے میں  گلوبل چمپئن تیار کرنے ہوں گے۔

وزیراعظم نے ایسے چار عوامل کا ذکر کیا جو  برآمدات میں اضافے کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ملک میں  مینوفیکچرنگ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے معیار کو  بھی مسابقتی سطح پر لانا  ہوگا۔ دوسرے ٹرانسپورٹ ، لاجسٹکس کے مسائل ہیں، جنہیں  دور کرنے کے لئے مرکز ، ریاستوں اور نجی متعلقین کو  مسلسل کام کرنا ہوگا۔ تیسرے حکومت کو  برآمد کاروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر چلنا چاہیے۔ اور آخر میں  ہندوستانی مصنوعات کے لئے بین الاقوامی  بازار کو  وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان چار عوامل پر کام ہوگا،  بھارت  بہتر طریقے سے  دنیا کے لئے میک ان انڈیا کے مقصد کو  حاصل کرسکے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک میں اور ریاستوں میں حکومت  آگے بڑھ رہی ہے اور وہ کاروباروباری  دنیا کی ضرورتوں کو سمجھتی ہے۔  انہوں نے ایم ایس ایم ای کو فروغ دینے کے  حکومت کے اقدامات کے بارے میں بتایا مثلاً  آتم نربھر بھارت ابھیان کےتحت  مطابقت  رکھنے والی  کئی رعایتیں دی گئیں۔ تین لاکھ کروڑ روپے کی ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم  لایا جانا۔ انہوں نے کہا کہ  پروڈکشن سے جڑی تحریک  کی اسکیم  سے نہ صرف  ہماری مینوفیکچرنگ کے پیمانے  میں اضافہ ہوگا بلکہ  عالمی معیار اور اہلیت کی سطح میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس سے  آتم نربھر بھارت کا ایک نیا ایکو سسٹم تیار ہوگا۔ مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں ملک کو  نئے گلوبل چمپئن حاصل ہوں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ پروڈکشن سے جڑی تحریک نے کس طرح  موبائل فون مینوفیکچرنگ  سیکٹر کو مضبوط کرنے  میں  مدد کی ہے۔  موبائل فون سیکٹر میں  کام کا اثر آج ہم محسوس کررہے ہیں۔ سات سال قبل  ہمیں  تقریباً بلین  ڈالر  مالیت کے موبائل فون درآمد کرنے پڑتے تھے۔ اب  یہ گھٹ کر 2 بلین ڈالر رہ گئے ہیں۔ سات سال قبل بھارت  محض 0.3 بلین ڈالر کے موبائل فون درآمد کرتا تھا اب  یہ بڑھ کر 3 بلین ڈالر سےبھی زیادہ ہوگیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مرکز  اور ریاست دونوں کی حکومتیں  ملک میں  لاجسٹکس  کے معاملے میں لگنے والے وقت اور لاگت کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ اس کے لئے  ایک ملٹی ماڈل کنکٹی وٹی تیار کرنے کے لئے ہر سطح پر تیز رفتار سے کام جاری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی وبا کے اثر کو کم کرنے  کے لئے حکومت کی کوششیں جاری ہیں۔ وائرس انفیکشن کو  قابو میں رکھنے کے  لئے  ہم  تمام کوششیں کررہے ہیں۔  آج ملک میں  ٹیکہ کاری کا کام تیز رفتار سے جاری ہے۔ اہل وطن اور صنعت  کے تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے  ہر ممکن قدم اٹھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری صنعت اور کاروبار  میں بھی  اس مدت میں اختراع کی گئی ہے اور انہوں نے  اپنے آپ کو نئے چیلنجوں  کے مطابق ڈھالا ہے۔ صنعت نے  میڈیکل ایمرجنسی  کا سامنا کرنے میں بھی ملک کی مدد کی ہے اور  ترقی کو  بحال کرنے میں بھی  ایک رول ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج  ادویات اور فارما سیوٹیکل کے ساتھ ساتھ  زراعت جیسے شعبوں میں  ہماری برآمدات  نئی سطح پر پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج  ہم نہ صرف  معیشت کی بحالی بلکہ  اونچی  شرح ترقی  کی بھی مثبت علامتیں دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے  برآمدات کے لئے  اونچے نشانے طے کرنے اور انہیں حاصل کرنے کا یہ اچھا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت  اس کو حاصل کرنے کے لئے ہر سطح پر ضروری اقدامات  کررہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ حال ہی میں  حکومت نے  بیمے کے کور کی شکل میں  تقریباً 88 ہزار کروڑ روپے  کا فروغ حاصل  کرنے  کے لئے  برآمد کاروں کے معاملے میں ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح  اپنی برآمدات  کے محرکوں کو معقول بناتے ہوئے  ہمارے برآمد کار ڈبلیو ٹی او  کے اصولوں پر  عمل کریں گے اور  اس سے بھی  برآمدات کو فروغ ملے گا۔

وزیراعظم نے  کاروبار کرنے میں استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ   ریٹرو اسپیکٹیو ٹیکزیشن  سے نجات پانے  کے لئے ہندوستان کے ذریعہ لئے گئےفیصلے سے  ہماری عہد بندی کا اظہار ہوتا ہے، پالیسیوں کی ہم آہنگی ظاہر ہوتی ہے اور تمام سرمایہ کاروں کو یہ واضح پیغام  ملتا ہے کہ  بھارت نہ صرف نئے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے بلکہ  ایک فیصلے کرنے والی حکومت ہند اپنے وعدے پورے کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہے۔

وزیراعظم نے  برآمدات کے نشانے پورے کرنے  اور اصلاحات کو نافذ کرنے ، سرمایہ کاری کو راغب کرنے ، کاروبار کرنے میں آسانی فراہم کرانے اور  لاسٹ مائل انفرا اسٹرکچر تیار کرنے میں   ریاستوں کے رول پر زور دیا۔  انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت ضابطہ بندی کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے  ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے تاکہ  برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو برآمدات کے مراکز بنانے کے لئے ریاستوں کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ہر ایک ضلع میں ایک پروڈکٹ پر فوکس کرنے کے لئے  ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات سے متعلق ہمارے  شاندار نشانے  صرف  ایک جامع اور مفصل ایکشن پلان کے ذریعہ ہی  حاصل کئے جاسکتے ہیں۔  انہوں نے متعلقین سے اپیل کی کہ وہ  بھارت کی موجودہ برآمدات  کو  تحریک دیں اور  نئے پروڈکٹ کے لئے  بازار، نئے مقامات  پیدا کرنے کے لئے بھی کام کریں۔ اس وقت  ہماری برآمدات کا تقریبا آدھے حصے کے لئے صرف 4 اہم مقامات ہیں۔ اسی طرح  ہماری برآمدات کے تقریباً 60 فیصد کا تعلق  انجینئرنگ کے سامان، جینس اور جویلری  ، پٹرولیم اور کیمیکل مصنوعات اور فارما سیوٹیکلز  سے ہوتا ہے۔ انہوں نے متعلقین سے اپیل کی کہ وہ  نئی منزلیں تلاش کریں اور  نئی مصنوعات بھی دنیا تک پہنچائیں۔ انہون نے کہا کہ کانکنی، کوئلہ، دفاع، ریلوے جیسے شعبوں کو کھولنے سے  ہمارے صنعت کاروں کو برآمدات میں  اضافے کے نئے مواقع حاصل ہورہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ  سفیر، امور خارجہ کی وزارت کے افسران  جس ملک میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہیں، اس ملک کی ضرورتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے  ان سے کہا کہ وہ  اس ملک میں  کامرس و صنعت کے لئے  ایک پل کی طرح کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ  مختلف ممالک میں موجود انڈیا ہاؤسز  بھارت کی مینوفیکچرنگ پاور کے نمائندے بھی ہونے چاہئیں۔ کامرس کی وزارت سے انہوں نے درخواست کی کہ وہ  برآمدکاروں اور ہمارے مشنوں کے درمیان  مسلسل مواصلات کے لئے ایک نظام تیار کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ  برآمدات سے اپنی معیشت کے زیادہ سے زیادہ فائدے کے لئے  ہمیں  ملک کے اندر بھی  ایک بلا روک ٹوک  اور اعلی معیار والی  سپلائی چین تیار کرنی ہوگی۔ اس کے لئے  ہمیں  نئے  تعلق اور نئی شراکت داری تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام برآمد کاروں سے اپیل کی کہ وہ  ملک کی ایم ایس ایم ایز، کسانوں اور  ملک کے ماہی گیروں  کے ساتھ  شراکت داری کو مستحکم کریں اور   اسٹارٹ اپ کو فروغ دیں اور ان کی مدد کریں۔

وزیراعظم نے  معیار اور بھروسے مندی  کی  ایک نئی شناخت قائم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا  کہ دنیا کے ہر ایک کونے میں  بھارت کی ہائی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لئے فطری مانگ پیدا کرنے کی  ہماری کوشش ہے۔ انہوں نے صنعت ، تمام برآمد کاروں کو یقین دلایا کہ  حکومت ا ن کی ہر طرح سے مدد کرے گی۔  انہوں نے صنعت سے اپیل کی کہ وہ  آتم نربھر بھارت اور  خوشحال بھارت کے عزم کو پورا کرے۔

امور خارجہ کے مرکزی وزیر جناب ایس جے شنکر نے  تقریب کی منفرد حیثیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ  اس تقریب کا موضوع اگرچے  لوکل گوز گلوبل   ہے لیکن   بھارت کے انڈین مشنوں  کو بھی مخصوص ممالک نے  مانگ کے ساتھ ہمارے پروڈیوسروں کو جوڑنے میں  مدد کرنے کے لئے  گلوبلی لوکل ہونے کی ضرورت ہے ۔ کامرس کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا کہ  عالمی ماحول موافق ہے اور ہمیں  اپنی برآمدات میں اضافے کے لئے دیگر ممالک کے معاملے میں   تقابلی اور مسابقتی  فائدہ حاصل کرنے  کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہندوستانی مشنوں کے سربراہان  نے بھی  بھارت کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لئے  اپنے مادخل اور تجاویز پیش کیں۔انہوں نے شعبوں اور  خطوں کے لئے مخصوص تجارتی نشانے  قائم کرنے ، ویلیو ایڈیشن، مصنوعات کے معیار ، سپلائی چین کی گونا گونیت، سپلائی میں بھروسہ مندی کو یقینی بنانے اور کنکٹی وٹی کو بہتر بنانے پر فوکس  کئے جانے کی ضرورت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے بازاروں اور  خطے کے لئے مخصوص مصنوعات پر فوکس کئے جانے کی ضرورت ہے ساتھ ہی  اس وقت ہم  جن خطوں اور مصنوعات  کے معاملے میں کام کررہے ہیں، ان میں  مسابقت کو برقرار رکھنے کی  ضرورت ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
How India is building ties with nations that share Buddhist heritage

Media Coverage

How India is building ties with nations that share Buddhist heritage
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM interacts with CEOs and Experts of Global Oil and Gas Sector
October 20, 2021
Share
 
Comments
Our goal is to make India Aatmanirbhar in the oil & gas sector: PM
PM invites CEOs to partner with India in exploration and development of the oil & gas sector in India
Industry leaders praise steps taken by the government towards improving energy access, energy affordability and energy security

Prime Minister Shri Narendra Modi interacted with the CEOs and Experts of the global oil and gas sector earlier today, via video conferencing.

Prime Minister discussed in detail the reforms undertaken in the oil and gas sector in the last seven years, including the ones in exploration and licensing policy, gas marketing, policies on coal bed methane, coal gasification, and the recent reform in Indian Gas Exchange, adding that such reforms will continue with the goal to make India ‘Aatmanirbhar in the oil & gas sector’.

Talking about the oil sector, he said that the focus has shifted from ‘revenue’ to ‘production’ maximization. He also spoke about the need to enhance  storage facilities for crude oil.  He further talked about the rapidly growing natural gas demand in the country. He talked about the current and potential gas infrastructure development including pipelines, city gas distribution and LNG regasification terminals.

Prime Minister recounted that since 2016, the suggestions provided in these meetings have been immensely useful in understanding the challenges faced by the oil and gas sector. He said that India is a land of openness, optimism and opportunities and is brimming with new ideas, perspectives and innovation. He invited the CEOs and experts to partner with India in exploration and development of the oil and gas sector in India. 

The interaction was attended by industry leaders from across the world, including Dr. Igor Sechin, Chairman & CEO, Rosneft; Mr. Amin Nasser, President & CEO, Saudi Aramco; Mr. Bernard Looney, CEO, British Petroleum; Dr. Daniel Yergin, Vice Chairman, IHS Markit; Mr. Olivier Le Peuch, CEO, Schlumberger Limited; Mr. Mukesh Ambani, Chairman & Managing Director, Reliance Industries Limited; Mr Anil Agarwal, Chairman, Vedanta Limited, among others.

They praised several recent achievements of the government towards improving energy access, energy affordability and energy security. They appreciated the leadership of the Prime Minister towards the transition to cleaner energy in India, through visionary and ambitious goals. They said that India is adapting fast to newer forms of clean energy technology, and can play a significant role in shaping global energy supply chains. They talked about ensuring sustainable and equitable energy transition, and also gave their inputs and suggestions about further promotion of clean growth and sustainability.