’’1.25 کروڑ سے زیادہ لوگ بہت قلیل مدت میں ’مودی کی گارنٹی‘ گاڑی سے جڑے ہیں‘‘
’’وکست بھارت سنکلپ یاترا سرکاری فوائد کی تکمیل پر مرکوز ہے، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ فوائد پورے بھارت کے شہریوں تک پہنچیں‘‘
’’لوگوں کو بھروسہ ہے کہ ’مودی کی گارنٹی‘کا مطلب تکمیل کی گارنٹی ہے‘‘
’’وکست بھارت سنکلپ یاترا ان لوگوں تک پہنچنے کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی ہے جو اب تک سرکاری اسکیموں سے جڑ نہیں پائے ہیں‘‘
’’ہماری حکومت مائی باپ کی حکومت نہیں ، بلکہ یہ باپ اور ماؤں کی خدمت کرنے والی حکومت ہے‘‘
’’ہر غریب، عورت، نوجوان اور کسان میرے لیے وی آئی پی کی حیثیت رکھتا ہے‘‘
’’چاہے ناری شکتی ہو، یووا شکتی ہو، کسان ہوں یا غریب، وکست بھارت سنکلپ یاترا کے لیے ان کی حمایت غیرمعمولی ہے‘‘

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے وکست بھارت سنکلپ یاترا (وی بی ایس وائی) کے مستفیدین سے گفت و شنید کی۔ حکومت کی فلیگ شپ اسکیموں کو پورا کرنے کے لیے ملک بھر میں وکست بھارت سنکلپ یاترا کی جارہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان اسکیموں کے فوائد مقررہ وقت میں تمام مستحقین تک پہنچیں۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہر گاؤں میں ’مودی کی گارنٹی‘ گاڑی کے لیے دیکھے جانے والے غیر معمولی جوش و خروش کا ذکر کیا۔ تھوڑی دیر پہلے مستفیدین کے ساتھ اپنی گفت و شنید کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ اس سفر کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مستفیدین نے اپنے تجربات درج کیے ہیں۔ انھوں نے مستقل گھر کے فوائد، نل کے پانی ، بیت الخلا، مفت علاج، مفت راشن، گیس کنکشن، بجلی کنکشن، بینک اکاؤنٹ ، پی ایم کسان سمان ندھی، پی ایم فصل بیمہ یوجنا، پی ایم سواندھی یوجنا اور پی ایم سوامیتو پراپرٹی کارڈ کے فوائد کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ملک بھر کے گاؤوں کے کروڑوں کنبوں کو بار بار کسی سرکاری دفتر کا دورہ کیے بغیر حکومت کی کسی نہ کسی اسکیم کا فائدہ ملا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے مستفیدین کی نشاندہی کی اور پھر انھیں فائدہ پہنچانے کے لیے اقدامات کیے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ مودی کی گارنٹی کا مطلب تکمیل کی گارنٹی ہے۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ وکست بھارت سنکلپ یاترا ان لوگوں تک پہنچنے کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی ہے جو اب تک سرکاری اسکیموں سے جڑ نہیں سکے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ وی بی ایس وائی کا سفر ایک ماہ سے بھی کم وقت میں 40 ہزار سے زیادہ گاؤں پنچایتوں اور کئی شہروں تک پہنچ چکا ہے جہاں 1.25 کروڑ سے زیادہ لوگ ’مودی کی گارنٹی‘ گاڑی سے جڑے ہیں۔ انھوں نے ’مودی کی گارنٹی‘ گاڑی کا خیر مقدم کرنے کے لیے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم مودی نے پروگرام کے آغاز سے پہلے ہونے والی متعدد سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا اور صفائی مہم چلانے ، بیداری پیدا کرنے کے لیے پربھات پھیری نکالی جارہی ہے ، اسکولوں میں دعائیہ میٹنگوں کے دوران بچوں کو ترقی یافتہ بھارت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ، رنگولی بنائی جارہی ہے اور ہر گھر کے دروازے پر چراغ جلائے جارہے ہیں۔ جناب مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ پنچایتوں نے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں اور وی بی ایس وائی کا خیرمقدم کرنے کا اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے اسکولی بچوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی شرکت کی بھی ستائش کی اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ وی بی ایس وائی ملک کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اوڈیشہ میں مختلف مقامات پر روایتی آدیواسی رقص کے ساتھ یاترا کا استقبال کیا جارہا ہے اور انھوں نے مغربی کھاسی ہل کے رام بری میں پروگرام کا ذکر کیا جہاں مقامی لوگوں نے ایک ثقافتی پروگرام اور رقص کا اہتمام کیا۔ انھوں نے انڈمان اور نکوبار جزائر، لکشدیپ اور کارگل میں منعقد ہونے والے ثقافتی پروگراموں کا بھی ذکر کیا جہاں وی بی ایس وائی کے استقبال کے لیے 4 سے زیادہ لوگ موجود تھے۔ وزیر اعظم نے ایک مینوئل تیار کرنے کی تجویز دی جہاں کاموں کو درج کیا جاسکے اور وی بی ایس وائی کی آمد سے پہلے اور بعد میں پیش رفت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ انھوں نے مزید کہا، ’’اس سے ان علاقوں کے لوگوں کو بھی مدد ملے گی جہاں یہ گاڑی ابھی تک نہیں پہنچی ہے۔‘‘

 

وزیر اعظم نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں پر زور دیا کہ گاؤں کے ہر فرد کو ’مودی کی گارنٹی‘ گاڑی کے آنے پر اس تک پہنچنا چاہیے تاکہ سرکاری اسکیموں کی تکمیل کی جاسکے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ حکومت کی کوششوں کا اثر ہر گاؤں میں دیکھا جاسکتا ہے ، جناب مودی نے بتایا کہ اجولا اسکیم کے تحت تقریباً ایک لاکھ نئے مستفیدین نے مفت گیس کنکشن کے لیے درخواست دی ہے ، 1 لاکھ سے زیادہ آیوشمان کارڈ بھی موقع پر دیئے گئے ہیں ، لاکھوں لوگوں کی صحت کی جانچ کی جارہی ہے ۔ اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اب آیوشمان آروگیہ مندروں اور مختلف ٹیسٹوں کے لیے جارہی ہے۔

جناب مودی نے کہا کہ ہم نے مرکزی حکومت اور ملک کے عوام کے درمیان براہ راست اور جذباتی رشتہ قائم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت مائی باپ کی  سرکار نہیں ہے بلکہ یہ باپ اور ماؤں کی خدمت کرنے والی حکومت ہے، مودی کے وی آئی پی وہ ہیں جو غریب ہیں، محروم ہیں اور جن کے لیے سرکاری دفاتر کے دروازے بھی بند تھے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کا ہر غریب شخص اس کے لیے وی آئی پی سمجھا جاتا ہے۔ ملک کی ہر ماں، بہن اور بیٹی میرے لیے وی آئی پی ہیں۔ ملک کا ہر کسان میرے لیے وی آئی پی ہے۔ ملک کا ہر نوجوان میرے لیے وی آئی پی ہے۔

حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انتخابی نتائج نے مودی کی گارنٹی کے جواز کا واضح اشارہ دیا ہے۔ انھوں نے ان تمام رائے دہندگان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مودی کی گارنٹی پر بھروسہ کیا۔

 

حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے تئیں شہریوں کے عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جھوٹے دعوے کرنے کے ان کے رجحان کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ عوام تک پہنچ کر جیتنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انتخابات جیتنے سے پہلے عوام کے دل جیتنا ضروری ہے، عوام کے ضمیر کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے سیاسی مفاد کے بجائے خدمت کے جذبے کو ترجیح دی ہوتی تو ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت میں نہ رہتا اور مودی کی آج کی گارنٹی50 سال پہلے پوری ہو چکی ہوتی۔

خواتین کی قیادت والی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بڑی تعداد میں ناری شکتی وکست بھارت کی سنکلپ یاترا میں حصہ لے رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم آواس اسکیم کے تحت بنائے گئے 70 کروڑ گھروں میں سے 4 فیصد خواتین مستفید ہیں۔ مدرا سے مستفید ہونے والے 7 میں سے 10 خواتین ہیں اور تقریباً 10 کروڑ خواتین سیلف ہیلپ گروپس کا حصہ ہیں۔ اسکل ڈیولپمنٹ کے ذریعے 2 کروڑ خواتین کو لکھپتی دیدی میں تبدیل کیا جارہا ہے اور 15 ہزار سیلف ہیلپ گروپس کو نمو ڈرون دیدی ابھیان کے تحت ڈرون مل رہے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے وکست بھارت سنکلپ یاترا کے لیے خواتین کی طاقت ، نوجوانوں کی طاقت ، کسانوں اور غریبوں کی حمایت کی ستائش کی۔ انھوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس سفر کے دوران ایک لاکھ سے زائد ایتھلیٹس کو انعامات سے نوازا گیا ہے جس سے نوجوان کھلاڑیوں کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی۔ وزیر اعظم نے’مائی بھارت والنٹیئر‘ کے طور پر خود کو رجسٹر کرانے والے نوجوانوں کے زبردست جوش و خروش کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے ترقی یافتہ بھارت کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تمام رضاکار اب فٹ انڈیا کے منتر کو لے کر آگے بڑھیں گے اور انھوں نے ان پر زور دیا کہ وہ چار چیزوں یعنی پانی، غذائیت، ورزش یا فٹنس اور آخر میں مناسب نیند کو ترجیح دیں۔ "یہ چاروں صحت مند جسم کے لیے بہت ضروری ہیں. اگر ہم ان چاروں پر توجہ دیں تو ہمارے نوجوان صحت مند ہوں گے اور جب ہمارے نوجوان صحت مند ہوں گے تو ملک صحت مند ہوگا۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس وکست بھارت سنکلپ یاترا کے دوران لیے گئے حلف زندگی کے منتر بننے چاہئیں۔ جناب مودی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا ’’چاہے سرکاری ملازمین ہوں، عوامی نمائندے ہوں یا شہری، سبھی کو پوری لگن کے ساتھ متحد ہونا ہوگا۔ بھارت سب کی کوششوں کے ساتھ ہی ترقی کرے گا۔‘‘

پس منظر

ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں وکست بھارت سنکلپ یاترا سے مستفید ہونے والے افراد عملی طور پر اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ اس پروگرام کے دوران ملک بھر سے 2 سے زیادہ وی بی ایس وائی وین، ہزاروں کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) اور کامن سروس سینٹروں  (سی ایس سی) کو بھی جوڑا گیا۔ اس پروگرام میں بڑی تعداد میں مرکزی وزرا، ممبران پارلیمنٹ ، ایم ایل اے اور مقامی سطح کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
From 'chalta hai' to 'badal sakta hai': Decoding PM Modi's Punctuality narrative

Media Coverage

From 'chalta hai' to 'badal sakta hai': Decoding PM Modi's Punctuality narrative
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
The world must now be looking for Indian startups: PM Modi during the interaction with Space Startup CEOs
August 23, 2026
Prime Minister highlights policy consistency, global opportunities and India’s growing strengths in the space sector
We should create an aura that makes people across the world look to India to build their future: PM
We can establish ourselves very fast as we are highly competitive in terms of cost; our talent and the risk-taking capacity of our people is also very high: PM

Prime Minister – You have shown courage in a new field. The most important thing is that you trusted the government’s word. My view has always been that whatever decisions we take, we must remain consistent in them, we must not keep changing them again and again, so that anyone who wants to take a risk can have confidence that, fine, if something goes wrong it will be because of my mistake, but no one will abandon me. And this was our effort - to create that trust.

CEO – We are India’s first Space Tech Unicorn. On July 18 we successfully launched India’s first private rocket, ejecting satellites. And this is just the beginning. Generally, we say this is just a warm‑up for Skyroot, it is only the start. By mid next year we will be doing one launch per month. And also, thanks to you sir for opening up the sector. Three factories have already been built. We already have the capacity for one rocket per month. And this is just the beginning. Our future dream is to do one launch per week and several launches per day.

CEO – We have made an engine that comes among the most modern engines in the world. Sir, we have prepared it, and its testing is ongoing.

Prime Minister – Do they have confidence, the investors?

CEO – Sir, after Skyroot’s first launch, their confidence has increased.

Prime Minister – Good. That route is helping you?

CEO – It is helping a lot.

Prime Minister – Now the world must be searching for India’s startups, wondering who is behind this. Because when there is a breakthrough, immediately people’s attention goes there.

CEO – I think, after the space industry opened up, we have seen a very good trend. Our citizens who are in the US and Europe want to come back and work with us.

Prime Minister – We have to connect many people, and as Mehta said, now people who had gone abroad are coming back. I believe we must create such an aura that people all over the world feel that if they want to build their life, they should come to Hindustan. Join some Indian startup. Join some Indian space agency. I firmly believe that the entire talent pool, like a magnet, because of you we can attract, and that can become a very great strength for us.

CEO – Our vision is that in the next 18 months we want to set up a global ground station network.

CEO – We make the engines that satellites use to move from one place to another in space, for 5 years or 15 years. Globally we have received very good traction. And sir, your effort has been very important in this too, because now Indian companies have government support for exporting.

Prime Minister – In cost we are very competitive, in talent there is no question at all, and the risk‑taking capacity of our people is anyway greater. And because of that we can very quickly make our place.

CEO – This robotic spacecraft will go to space, physically capture the dead satellite and remove it from orbit.

CEO – We are the first Indian company working on docking and refueling technologies, with the vision of establishing a fuel station in space.

CEO – My name is Antariksh, my co‑founder Monika is also here. Sir, we are India’s first space pharma startup. We are making satellites that can go to space, manufacture pharmaceuticals there, and bring them back from space.

Prime Minister – Your name is Antariksh - was your family already in this field?

CEO – No sir, my mother gave me this name.

CEO – After one launch, in the last one month we have received eight launch contracts.

Prime Minister – Good, good.

CEO – And mostly they are international.

CEO – Sir, right now we are planned to launch this innovation with 1 million farmers.

CEO – Sir, this is for you, so that a memory will remain.

Prime Minister – Wonderful.

CEO – This opening, which you did for the private sector, through that the private satellites are now showing the beauty of India.