میں یہاں وزیر اعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ خاندان کے ایک فرد کے طور پر ہوں جس کا اس خاندان سے چار نسلوں سے وابستگی ہے’’
‘‘داؤدی بوہرہ برادری بدلتے وقت اور ترقی کے مطابق ڈھلنے کے پیمانے پر کھری اتری ہے الجامعۃ السیفیہ جیسا ادارہ اس کی زندہ مثال ہے’’
‘‘ملک امرت کال کی قراردادوں کو نئی قومی تعلیمی پالیسی جیسی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے’’
‘‘ہندوستانی اخلاقیات کے ساتھ جدید تعلیمی نظام ملک کی ترجیح ہے’’
‘‘تعلیم کی بنیادی ساختیات کا پیمانہ اور اس کی رفتار اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ہندوستان دنیا کو تشکیل دینے والے نوجوان ذہانت کی آماجگاہ بننے جا رہا ہے’’
‘‘ہمارے نوجوان حقیقی دنیا کے مسائل سے نمٹنے کو تیار ہیں اور سر گرم طور پر حل تلاش کر رہے ہیں’’
‘‘آج ملک روزگار فراہم کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اعتماد کا نظام قائم کیا جا رہا ہے’’
‘‘ہندوستان جیسے ملک کے لئے ترقی اور ورثہ یکساں طور پر اہم ہیں’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے مارول واقع ممبئی میں الجامعۃ السیفیہ  (دی سیفی اکیڈمی) کے نئے کیمپس کا افتتاح کیا۔ الجامعۃ السیفیہ داؤدی بوہرہ کمیونٹی کا بنیادی تعلیمی ادارہ ہے۔ تقدس مآب سیدنا مفضل سیف الدین کی رہنمائی میں یہ ادارہ برادری کی علمی روایات اور ادبی ثقافت کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ یہاں وزیر اعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ  خاندان کے فرد کے طور پر آئے ہیں جس کی چار نسلوں سے اس خاندان سے وابستگی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہر برادری، جمعیت یا تنظیم بدلتے وقت کے ساتھ اپنی مطابقت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت سے پہچانی جاتی ہے۔ بدلتے وقت اور ترقی کے مطابق ڈھلنے کے پیمانے پر داؤدی بوہرہ برادری نے خود کو ثابت کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ الجامعۃ السیفیہ جیسا ادارہ اس کی زندہ مثال ہے۔

وزیر اعظم نے داؤدی بوہرہ برادری کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں اس برادری کی محبت ان پر برستی رہتی ہے۔انہوں نے 99 سال کی عمر میں ڈاکٹر سیدنا کی تدریس کا واقعہ یاد کیا اور گجرات میں برادری کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کے بارے میں بات کی۔ سورت میں ڈاکٹر سیدینا کی صد سالہ تقریب کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گجرات میں پانی کی صورتحال کے بارے میں روحانی پیشوا کے عزم کو یاد کیا اور پانی کے کاز کے لیے ان کے مسلسل عہد پر اظہار تشکر کیا۔ جناب مودی نے غذائی قلت اور پانی کی کمی سے نمٹنے کے اسباب کے تعلق سے اسے سماج اور حکومت سے اشتراک کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں درونِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی کہیں جاتا ہوں تو میرے بوہرہ بھائی اور بہنیں مجھ سے ملنے ضرور آتے ہیں۔ انہوں نے بوہرہ برادری کی ہندوستان کے لیے محبت اور تشویش کو اجاگر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ صحیح نیت کے ساتھ  دیکھے جانے والے خواب ہمیشہ پورے ہوتے ہیں  اور ممبئی میں الجامعتہ السیفیہ کا خواب آزادی سے پہلے دیکھا گیا تھا۔

جناب مودی نے یہ بھی یاد کیا کہ ڈانڈی مارچ سے پہلے مہاتما گاندھی داؤدی بوہرہ برادری کے رہنما کے گھر ٹھہرے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی درخواست پر یہ گھر حکومت کو میوزیم کے طور پر یادگار بنانے کے لیے دیا گیا تھا۔ وزیراعظم نے سب کو اس گھر کی زیارت کی تلقین کی۔

وزیراعظم نے خواتین اور لڑکیوں کی جدید تعلیم کے لیے دستیاب نئے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک نئی قومی تعلیمی پالیسی جیسی اصلاحات کے ساتھ امرت کال کی قراردادوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الجامعۃ السیفیہ بھی اس کوشش میں آگے بڑھ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک کی ترجیح ایک ایسا جدید تعلیمی نظام ہے جسے ہندوستانی اخلاقیات میں ڈھالا گیا ہو۔ انہوں نے اُس زمانے کو یاد کیا جب ہندوستان نالندہ اور ٹکشیلا جیسے اداروں کے ساتھ تعلیم کا مرکز ہوا کرتا تھا جس نے دنیا بھر کے طلباء کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم ہندوستان کی شان کو بحال کرنا چاہتے ہیں تو تعلیم کے ان شاندار برسوں کا احیا کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 8 برسوں میں ریکارڈ تعداد میں یونیورسٹیاں قائم کی گئیں اور ہر ضلع میں میڈیکل کالجز قائم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2014-2004 کے درمیان 145 کالج قائم ہوئے جبکہ 2022-2014 کے درمیان 260 سے زائد میڈیکل کالج وجود میں آئے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ 8 برسوں میں ہر ہفتے ایکیونیورسٹی اور دو کالج کھولے گئے۔  یہ رفتار اور پیمانہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ ہندوستان دنیا کو تشکیل دینے والی نوجوان ذہانت کی آماجگاہ بننے جا رہا ہے۔

ہندوستان میں تعلیمی نظام میں نمایاں تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تعلیمی نظام میں علاقائی زبانوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انجینئرنگ اور میڈیکل کی تعلیم اب علاقائی زبانوں میں حاصل کی جاسکتی ہے۔ وزیر اعظم نے پیٹنٹ کے عمل کو آسان بنانے کے بارے میں بھی بتایا جس سے پیٹنٹ کے نظام کو کافی مدد ملی ہے۔ وزیر اعظم نے تعلیمی نظام میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو نوٹ کیا اور کہا کہ آج کے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور اختراعات سے نمٹنے کے لیے ہنر سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے نوجوان حقیقی دنیا کے مسائل کے لیے پرعزم ہیں اور سر گرم  طور پر حل تلاش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ایک مضبوط تعلیمی نظام اور ایک مضبوط صنعتی ماحولیاتی نظام دونوں ہی کسی بھی ملک کے لیےیکساں طور پر اہم ہیں، کہا کہ یہ دونوں نوجوانوں کے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ 8-9 برسوں میں 'ایز آف ڈوئنگ بزنس' میں تاریخی بہتری کی نشاندہی کی۔ اور بتایا کہ ملک نے 40 ہزار تعمیلات کو ختم کر دیا اور سیکڑوں دفعات کو جرائم کے دائرے سے باہر نکال دیا۔ انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح کاروباری لوگوں کو ان قوانین کا استعمال کرتے ہوئے ہراساں کیا جاتا تھا جس سے ان کے کاروبار متاثر ہوتے تھے۔ آج ملک روزگار پیدا کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیر اعظم نے  یہ بات جن وشواس بل پتر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی جو 42 مرکزی ایکٹ میں اصلاحات کے لیے پیش کیا گیا تھا اور کاروباری مالکان میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے ویواد سے وشواس اسکیم سامنے لائی گئی تھی۔ انہوں نےیہ بھی بتایا کہ اس سال کے بجٹ میں ٹیکس کی شرح میں اصلاحات کی گئی ہیں جس سے ملازمین اور کاروباری لوگوں کے ہاتھوں میں مزید رقم آئے گی۔

ہندوستان جیسے ملک کے لئے ترقی اور ورثہ یکساں طور پر اہم ہیں۔ وزیر اعظم نےملک میں ہر برادری اور نظریے کی انفرادیت کو اجاگر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔جناب مودی نے اس انفرادیت کا کریڈٹ ہندوستان میں وراثت اور جدیدیت کے فروغ کے خوشحال راستے کو دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک فزیکل انفراسٹرکچر اور سوشل انفراسٹرکچر دونوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قدیم روایتی تہوار منانے کے ساتھ ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اس سال کے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ قدیم ریکارڈوں کو نئی تکنیکوں کی مدد سے ڈیجیٹائز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے تمام معاشروں اور فرقوں کے اراکین پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور اپنے سے وابستہ کسی بھی قدیم تحریر کو ڈیجیٹائز کریں۔ انہوں نے اس مہم کے ساتھ نوجوانوں کو جوڑ کر بوہرہ برادری کے تعاون پر روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم نے ماحولیات کے تحفظ، باجرے کے فروغ  اور ہندوستان کی جی20 صدارت جیسے پروگراموں کی مثالیں بھی دیں۔ جہاں بوہرہ برادری عوامی شرکت کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہا کہ بیرون ممالک میں بوہرہ برادری کے لوگ دمکتے ہندوستان کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ داؤدی بوہرہ برادری ترقییافتہ ہندوستان کے مقصد کے حصول  میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔

اس موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس، عزت مآب سیدنا مفضل سیف الدین اور حکومت مہاراشٹر کے وزراء بھی موجود تھے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.