Several projects in Delhi which were incomplete for many years were taken up by our government and finished before the scheduled time: PM
All MPs have taken care of both the products and the process in the productivity of Parliament and have attained a new height in this direction: PM
Parliament proceedings continued even during the pandemic: PM Modi

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنس کے توسط سے  اراکین پارلیمنٹ کے لیے کثیر منزلہ فلیٹوں کا افتتاح کیا۔ یہ فلیٹ نئی دلی میں ڈاکٹر بی ڈی مارگ پر  واقع ہیں۔ 8 قدیم بنگلے، جو 80 برس سے بھی زائد پرانے تھے، انہیں ازسر نو 76 فلیٹوں کی شکل میں ڈیولپ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے لیے تعمیر شدہ ان کثیر منزلہ فلیٹوں میں گرین بلڈنگ کے تمام اصول وضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ نیے فلیٹ تمام باشندگان اور اراکین پارلیمنٹ کو محفوظ اور خوش وخرم رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے لیے رہائش گاہیں ایک دیرینہ مسئلہ تھیں، جسے اب حل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں پرانے مسائل ان سے صرف نظر کرنے سے حل نہیں ہوتے، بلکہ ان کا حل تلاش کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے دہلی میں ایسے متعدد پروجیکٹوں کی فہرست گنوائی، جو متعدد برسوں سے نامکمل تھے، جنہیں ان کی حکومت نے اپنے ہاتھ میں لیا اور انہیں مقررہ تاریخ سے پہلے مکمل کرکے دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کے عہد کے دوران امبیڈکر قومی میموریل پر گفت وشنید شروع ہوئی تھی، جسے ان کی حکومت نے 23 برسوں کے طویل انتظار کے بعد تعمیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اطلاعاتی کمیشن کی نئی عمارت، انڈیا گیٹ کے نزدیک  وار میموریل اور نیشنل پولیس میموریل انہیں کی حکومت کے ذریعے تعمیر کیے گئے ہیں، جو عرصہ دراز سے التوا میں پڑے ہوئے تھے۔

وزیراعظم نے خیال ظاہر کیا کہ تمام تر اراکین پارلیمنٹ حضرات نے پارلیمنٹ کی پیداواریت کے معاملے میں پروڈکٹ اور مخصوص عمل  دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھا ہے اور اس سلسلے میں نئی بلندیاں طے کی ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر کی ایوان کو بارآور اور ضابطے کے لحاظ سے بھرپور انداز میں قیادت فراہم کرنے کے لیے ان کی ستائش کی۔ انہوں نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی وبائی مرض کے دوران بھی جاری رہی اور اس کے لیے نئے قواعد و ضوابط اور متعدد حفظ ماتقدم پر مبنی اقدامات عمل میں لائے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ایوانوں نے مانسون اجلاس کے دوران حسب معمول کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ہفتہ کے آخر کے دنوں میں بھی کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ  نوجوانوں کے لیے 16 سے 18 برس کی عمر بہت اہم ہوتی ہے اور ہم نے 2019 کے انتخابات کے ساتھ 16ویں لوک سبھا کی مدت کار مکمل کی ہے اور یہ مدت ملک کی  پیش رفت اور ترقی  کے معاملے میں تاریخی لحاظ سے خواطر خواہ طور پر اہم رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 17ویں لوک سبھا کی مدت کار 2019 میں شروع ہوگئی تھی اور اس مدت کے دوران لوک سبھا میں پہلے سے  لیے گئے فیصلے ، ایسے تھے، جس کے معاملے میں لوک سبھا نے کچھ تاریخی فیصلے لیے۔  انہوں نے اعتماد جتایا کہ آئندہ (18ویں) لوک سبھا بھی  ملک کو نئی دہائی میں آگے لے جانے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرے گی۔

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s data centre boom: Mumbai cracks global top 15, Hyderabad pipeline set to surge 15x

Media Coverage

India’s data centre boom: Mumbai cracks global top 15, Hyderabad pipeline set to surge 15x
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیرِ اعظم 27 اگست کو کھیلو انڈیا مکالمے میں نوجوانوں سے خطاب کریں گے
August 26, 2026
کھیلو انڈیا مکالمہ: کھیل، نوجوانوں کی قیادت، شہری ذمہ داری، رضاکارانہ خدمت، جسمانی تندرستی اور قوم کی تعمیر کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا
کھیلو انڈیا مکالمے کے تحت یوا سموا د پانچ اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کرے گا: کھیل، اولمپکس میں کامیابی کی امنگیں، نوجوانوں کی قیادت، ترقی یافتہ بھارت اور منشیات سے پاک نوجوان

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی 27 اگست کو صبح 11 بجے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کھیلو انڈیا مکالمے سے خطاب کریں گے۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو بھارت کے کھیلوں کے سفر سے وابستہ ہونے، اپنی امنگوں کا اظہار کرنے اور نوجوانوں کی قیادت میں ایک مضبوط ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

میرا یوا بھارت (ایم وائی بھارت) کی جانب سے قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ہر ضلع کے دو کالجوں میں نوجوانوں کی شرکت کے ساتھ ملک بھر میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ پروگرام وزیرِ اعظم کے اس تصور کے مطابق منعقد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ایک صحت مند، نظم و ضبط کا پابند اور کھیلوں سے وابستہ ملک کی تعمیر کرنا ہے، جبکہ قومی ترقی کے ایجنڈے کے مرکز میں نوجوانوں کی امنگوں کو جگہ دینا ہے۔

ملک گیر کھیلو انڈیا مکالمہ کھیل، نوجوانوں کی قیادت، شہری ذمہ داری، رضاکارانہ خدمت، جسمانی تندرستی اور قوم کی تعمیر کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا۔ یہ نوجوانوں کو ملک کے کھیلوں سے متعلق عزائم کے ساتھ براہِ راست جڑنے کا موقع فراہم کرے گا، جبکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ان کی تجاویز اور نقطۂ نظر بھارت کے نوجوانوں اور کھیلوں کے نظام سے متعلق جاری گفتگو کا حصہ بنیں۔

قومی پروگرام کے بعد مقامی سطح پر ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے جن میں نوجوان شرکاء، میرا یوا بھارت کے رضاکار، مقامی کھلاڑی اور عوامی نمائندے حصہ لیں گے۔ اس پہل کی ایک اہم خصوصیت کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں اور بھارت کے سرکردہ کھلاڑیوں اور تمغہ جیتنے والوں کے درمیان براہِ راست تبادلۂ خیال ہوگا۔ پروگرام کا ایک مرکزی حصہ یوا سمواد ہوگا، جس میں نوجوان شرکاء کو اپنے خیالات، نقطۂ نظر اور امنگوں کا اظہار کرنے کی دعوت دی جائے گی۔ یہ مکالمہ پانچ موضوعات کے گرد ترتیب دیا جائے گا:

بہتر سہولیات، کوچنگ، کھیلوں کی سائنس اور سب کی شمولیت کے ذریعے بھارت کے کھیلوں کے نظام کو بہتر بنانا؛
سائنسی بنیادوں پر صلاحیتوں کی شناخت، شفاف انتخاب اور کھلاڑیوں کی طویل مدتی ترقی کے ذریعے 2036 کے اولمپکس کے لیے صلاحیتوں کو پروان چڑھانا؛
حکمرانی کے پلیٹ فارموں اور میرا یوا بھارت کی قیادت میں رضاکارانہ خدمات کے ذریعے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنا؛
شہری شعور، مستقبل کے لیے درکار مہارتوں اور منظم رضاکارانہ خدمات کو فروغ دے کر نوجوانوں کو ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے بااختیار بنانا؛
کھیلوں اور ہم عمر افراد کے باہمی رابطوں کے ذریعے منشیات کے استعمال کے خلاف جدوجہد کے لیے منشیات سے پاک نوجوان تحریک کو فروغ دینا، جسے وزیرِ اعظم کی جانب سے 2 اگست 2026 کو شروع کی گئی ملک گیر 100 ہفتوں کی مہم کے تحت ہر ہفتے کی جن بھاگیداری سرگرمیوں کے ذریعے مزید تقویت دی جائے گی۔