’’بھارت ٹیکس 2024 ٹیکسٹائل کی صنعت میں ہندوستان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے‘‘
’’بھارت ٹیکس کا دھاگہ ہندوستانی روایت کی شاندار تاریخ کو آج کے ہنر سے جوڑتا ہے۔ روایات کے ساتھ ٹیکنالوجی؛ اور اسٹائل، پائیداری، اسکیل اور ہنرمندی کو ایک ساتھ لانے کا ایک دھاگہ ہے‘‘
’’ہم روایت، ٹیکنالوجی، ہنر اور تربیت پر توجہ دے رہے ہیں‘‘
"ہم ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے بہت وسیع دائرہ کار میں کام کر رہے ہیں"
’’ٹیکسٹائل اور کھادی نے ہندوستان کی خواتین کو بااختیار بنایا ہے‘‘
’’آج ٹیکنالوجی اور جدت، انوکھے پن اورکھرے پن کے ساتھ ساتھ رہ سکتی ہیں‘‘
’’کستوری کاٹن ہندوستان کی اپنی شناخت قائم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ثابت ہونے والا ہے‘‘
’’پی ایم-مترا پارکوں میں، حکومت پورے ویلیو چین ایکو سسٹم کو ایک ہی جگہ پر قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے جہاں پلگ اور پلے کی سہولیات کے ساتھ جدید انفراسٹرکچر دستیاب ہو‘‘
آج ملک میں ’ووکل فار لوکل اور لوکل ٹو گلوبل‘ کے لیے ایک عوامی تحریک جاری ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بھارت ٹیکس 2024 کا افتتاح کیا، جو کہ ملک میں منعقد ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے عالمی ٹیکسٹائل پروگرام میں سے ایک ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر لگائی گئی نمائش کو بھی دیکھا۔

 

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بھارت ٹیکس 2024 میں سب کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ آج کا موقع خاص ہے کیونکہ یہ تقریب ہندوستان کے دو سب سے بڑے نمائشی مراکز یعنی بھارت منڈپم اور یشو بھومی میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے تقریباً 100 ممالک کے 3000 سے زیادہ نمائش کنندگان اور تاجروں اور تقریباً 40,000 وزیٹرس   کی شرکت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے  واضح کیا کہ بھارت ٹیکس ان سب کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی تقریب کئی جہتوں پر محیط ہے کیونکہ ‘بھارت ٹیکس کا دھاگہ ہندوستانی روایت کی شاندار تاریخ کو آج کے ہنر سے جوڑتا ہے۔ روایات کے ساتھ ٹیکنالوجی اور اسٹائل/پائیداری/ اسکیل/مہارت کو یکجا کرنے کے لیے ایک دھاگہ ہے۔ انہوں نے اس تقریب کو ایک بھارت شریشٹھ بھارت کی ایک عظیم مثال قرار دیا، جس میں پورے ہندوستان سے لاتعداد ٹیکسٹائل روایات شامل ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کی ٹیکسٹائل روایت کی گہرائی، لمبی عمر اور صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے اس  مقام پر نمائش کی بھی تعریف کی۔

ٹیکسٹائل ویلیو چین میں مختلف فریقوں کی موجودگی کو واضح کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ہندوستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ چیلنجوں اور خواہشات سے آگاہ ہونے کے بارے میں ان کی دانشمندی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بنکروں کی موجودگی اور زمینی سطح پر نسلوں سے حاصل ہونےوالے تجربے کو بھی واضح کیا جو ویلیو چین کے لیے اہم ہیں۔ان سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے وکست  بھارت اور اس کے چار اہم ستونوں کے عزم پر زور دیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر غریبوں، نوجوانوں، کسانوں اور خواتین سے ہر ایک سے جڑا ہوا ہے۔ لہذا، وزیر اعظم نے کہا، بھارت ٹیکس 2024 جیسے ایونٹ کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

وزیر اعظم نے اس دائرہ کار کی وضاحت کی جس میں حکومت وکست بھارت کے سفر میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے کردار کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا "ہم روایت، ٹیکنالوجی، ہنر اور تربیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے نشاندہی کی کہ عصری دنیا کے تقاضوں کے مطابق روایتی ڈیزائن کو اپ ڈیٹ کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے 5 ایف کے تصور کا اعادہ کیا - فارم سے فائبر، فائبر سے فیکٹری، فیکٹری سے فیشن، فیشن سے بیرون ملک  ،جو ویلیو چین کے تمام عناصر کو ایک ہی دھاگے میں   باندھ رہا ہے۔ ایم ایس ایم ای سیکٹر کی مدد کی غرض سے، وزیر اعظم نے ایم ایس ایم ای کی تشریح میں تبدیلی کا ذکر کیا تاکہ حجم میں اضافے کے بعد بھی مسلسل فوائد کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے براہ راست فروخت، نمائشوں اور آن لائن پورٹلز کے بارے میں بھی بات کی جنہوں نے کاریگروں اور مارکیٹ کے درمیان فاصلے کو کم کیا ہے۔

 

وزیر اعظم نے مختلف ریاستوں میں سات پی ایم مترپارکس بنانے کے حکومت کے وسیع منصوبوں پر روشنی ڈالی اور پورے ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔ وزیر اعظم نےکہا "حکومت پورے ویلیو چین ایکو سسٹم کو ایک ہی جگہ پر قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے جہاں پلگ اور پلے کی سہولیات کے ساتھ جدید انفراسٹرکچر دستیاب ہوں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف اسکیل اور آپریشن میں بہتری آئے گی بلکہ لاجسٹک اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

روزگار کے مواقع  کے امکانات اور دیہی آبادی اور خواتین کی ٹیکسٹائل کے شعبوں میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ملبوسات بنانے والی 10 میں سے 7 خواتین ہیں اور ہینڈلوم میں یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پچھلے 10 برسوں میں اٹھائے گئے اقدامات نے کھادی کو ترقی اور روزگار کا ایک مضبوط ذریعہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح گزشتہ دہائی کی فلاحی اسکیموں اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ نے ٹیکسٹائل کے شعبے کو بھی فائدہ پہنچایا ہے۔

 

کپاس، جوٹ اورسلک پیدا کرنے والے کے طور پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے رتبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، پی ایم مودی نے کہا کہ حکومت کپاس کے کسانوں کی مدد کر رہی ہے اور ان سے کپاس خرید رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ شروع کی گئی کستوری کاٹن عالمی سطح پر ہندوستان کی برانڈ ویلیو بنانے میں ایک بڑا قدم ہوگا۔ وزیر اعظم نے جوٹ اورسلک کے شعبے کے لیے بھی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے ٹیکنیکل ٹیکسٹائل جیسے نئے شعبوں کے بارے میں بھی بات کی اور نیشنل ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مشن اور اس علاقے میں اسٹارٹ اپس کی گنجائش کے بارے میں بھی بتایا۔

وزیر اعظم نے ایک طرف ٹیکنالوجی اور میکانائزیشن کی ضرورت اور دوسری طرف انفرادیت اور صداقت پر روشنی ڈالتے ہوئے  کہا کہ ہندوستان کے  ایک ایسا مقام ہے جہاں یہ دونوں مطالبات ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ہندوستان کے کاریگروں کے ذریعہ تیار کردہ  ہمیشہ سے انفرادی  رہی مصنوعات کی خصوصیت کاذکرکرتئے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ منفرد فیشن کی مانگ کے ساتھ اس طرح کے ہنر کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہذا، وزیر اعظم نے کہا، حکومت  ہنر کے ساتھ ساتھ اس کے پیمانے پر بھی توجہ دے رہی ہے جس کے ساتھ ملک میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (این آئی ایف ٹی) کے اداروں کی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہاکہ نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں خصوصی تربیتی پروگراموں کی تنظیم کے ساتھ نفٹ کو بھی منسلک کیاجارہاہے۔ وزیر اعظم نے سمرتھ اسکیم کا بھی ذکر کیا جس کے تحت اب تک 2.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے صلاحیت سازی اور ہنر مندی کی تربیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کی بڑی تعداد نے اس اسکیم میں حصہ لیا ہے  اوراس میں  تقریباً 1.75 لاکھ لوگوں نے پہلے ہی  صنعت   میں نوکری حاصل کرلی ہے ۔

 

وزیراعظم نے ووکل فار لوکل کے طول و عرض پر بھی توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں ‘وکل فار لوکل اور لوکل ٹو گلوبل’ کے لیے عوامی تحریک چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چھوٹے دستکاروں کے لیے نمائش اور مالز جیسے نظام  تشکیل دے رہی ہے۔

حکومت کی مثبت، مستحکم اور دور اندیشی والی پالیسیوں کے اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے  وزیراعظم  مودی نے کہا کہ ہندوستانی ٹیکسٹائل مارکیٹ کی قیمت جو 2014 میں 7 لاکھ کروڑ  تھی اب 12 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ دھاگے ،  کپڑے اور ملبوسات کی پیداوار میں 25فیصد کا اضافہ ہواہے ، بی آئی ایس کے 380 نئے معیار، سیکٹر میں کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایاکہ اس کی وجہ سے پچھلے 10 برسوں میں اس شعبے میں ایف ڈی آئی دوگنا ہو گئی ہے۔

 

ہندوستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر سے اعلیٰ توقعات کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے پی پی ای کٹس اور فیس ماسک کی تیاری کے لیے کووِڈ وبا کے دوران صنعت کی کوششوں کو یاد کیا۔ انہوں نے اس بات  کو اجاگرکیا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر کے ساتھ مل کر سپلائی چین کو ہموار کیا ہے اور پوری دنیا کو کافی تعداد میں پی پی ای کٹس اور فیس ماسک فراہم کیے ہیں۔ ان کامیابیوں پر نظر ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے مستقبل قریب میں ہندوستان کے عالمی سطح کے  برآمدی مرکز بننے پر اعتماد ظاہر کیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ فریقوں کو یقین دلایاکہ ‘‘حکومت آپ کی ہر ضرورت کے لیے آپ کے ساتھ کھڑی رہے گی’’ ۔ انہوں نے ٹیکسٹائل سیکٹر کے اندر مختلف متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی بھی سفارش کی تاکہ صنعت کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع حل حاصل کیا جا سکے۔ دنیا بھر کے شہریوں کی خوراک، صحت کی دیکھ بھال اور مجموعی طرز زندگی سمیت زندگی کے ہر پہلو میں ‘بنیادی باتوں پر واپس جانے’ کے رجحان کا مشاہدہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکسٹائل میں بھی ایسا ہی ہے اور انھوں نے کیمیکل کی مانگ   کپڑے کی پیداوار کے لیے مفت رنگین دھاگےکی طرف توجہ مبذول کروائی۔ وزیر اعظم نے ٹیکسٹائل صنعت پر زور دیا کہ وہ نہ صرف ہندوستانی مارکیٹ کو پورا کرنے کی ذہنیت کے ساتھ بلکہ اس سے الگ ہو کر برآمدات کی سمت دیکھے۔ انہوں نے افریقی منڈی کی مخصوص ضروریات یا خانہ بدوش برادریوں کی ضروریات کی مثال دی جس میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کیمیکل حصوں کو ویلیو چین میں شامل کرنے اور قدرتی کیمیکل فراہم کرنے والوں کو  تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کھادی کو اس کی روایتی شبیہ سے الگ کرنے اور نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرنے والے فیشن  میں اسے  تبدیل کرنے کی اپنی کوشش کے بارے میں بھی بات کی۔ جناب مودی نے ٹیکسٹائل کے جدید شعبوں میں مزید تحقیق کرنے اور خصوصی ٹیکسٹائل کی شہرت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بھی کہا۔ ہندوستان کی ہیروں کی صنعت کی مثال دیتے ہوئے جو اب صنعت سے متعلق تمام آلات مقامی طور پر تیار کرتی ہے، وزیر اعظم نے ٹیکسٹائل سیکٹر پر زور دیا کہ وہ ٹیکسٹائل آلات کی تیاری کے شعبے میں تحقیق کرے اور نئے آئیڈیاز اور نتائج کے حامل افراد کی حوصلہ افزائی کرے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں سے بھی کہا کہ وہ میڈیکل کے شعبے میں استعمال ہونے والے ٹیکسٹائل جیسے نئے شعبے تلاش کریں۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ قیادت کریں اور عالمی فیشن کے رجحان کی پیروی نہ کریں۔

 

اپنے خطاب کے آخرمیں، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ایک حوصلہ افزائی  کے طور پر کام کرنے اور لوگوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کام کرنے کے لیے آسانی سے دستیاب ہے، کیونکہ انہوں نے صنعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک نئے وژن کے ساتھ آگے آئیں جو دنیا کی  منڈیوں کی ضروریات اور ان کی مختلف ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

اس موقع پرکامرس اور صنعت اور ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل اور ٹیکسٹائل کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ درشنا جاردوش  بھی دیگرافراد کے ساتھ موجود تھیں۔

پس منظر

بھارت ٹیکس 2024 کا انعقاد 26 سے 29 فروری 2024 تک کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے 5ایف ویژن سے تحریک حاصل  کرتے  ہوئےپروگرام میں ،  فائبر، فیبرک اور فیشن پرتوجہ مرکوز کرتے ہوئے یہ پروگرام غیر ملکیوں کے لیے ایک متحد فارم ہے، جس میں ٹیکسٹائل کی پوری ویلیو چین کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہندوستان کی قابلیت کو ظاہر کرے گا اور عالمی ٹیکسٹائل پاور ہاؤس کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کااعادہ  کرے گا۔

11 ٹیکسٹائل ایکسپورٹ پروموشن کونسلوں کے ایک کنسورشیم کے ذریعہ منظم اور حکومت کے تعاون سے، بھارت ٹیکس 2024 کو تجارت اور سرمایہ کاری کے جڑواں ستونوں پر بنایا گیا ہے، جس میں پائیداری پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہے۔اس  چار روزہ اپروگرام میں 65 سے زیادہ معلومات کے اجلاس شامل ہیں جن میں پینل میں شامل 100 سے زائد عالمی افراد سیکٹر کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ اس میں پائیداری اور سرکلرٹی پر پویلین، ایک 'انڈی ہاٹ'، مختلف موضوعات پر فیشن پریزنٹیشنز جیسے انڈین ٹیکسٹائل ہیریٹیج، پائیداری، اور عالمی ڈیزائن، نیز انٹرایکٹو فیبرک ٹیسٹنگ زونز اور مصنوعات کے مظاہرے بھی شامل ہیں۔

 توقع ہے کہ ساڑھے تین ہزار سے زیادہ نمائش کار، 100 سے زائد ممالک کے 3,000 خریدار، اور 40,000 سے زیادہ کاروباری زائرین، ٹیکسٹائل کے طلباء، بُنکر، کاریگر اور ٹیکسٹائل ورکرز کے علاوہ پالیسی ساز اور عالمی سی ای اوز کے ساتھ  ساتھ دیگرافراد بھارت ٹیکس 2024 میں حصہ لیں گے۔ تقریب کے دوران 50 سے زائد اعلانات اور مفاہمت ناموں پر دستخط کیے جانے کی  بھی توقع ہے، ٹیکسٹائل کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تجارت کو مزید فروغ دینے اور برآمدات کو بڑھانے میں مدد فراہم کرنے کا تصور کیا گیا ہے۔ یہ وزیر اعظم کے آتم نر بھر بھارت اور وکست بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے میں ایک اور اہم قدم ہے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Industry Upbeat On Modi 3.0: CII, FICCI, Assocham Expects Reforms To Continue

Media Coverage

Industry Upbeat On Modi 3.0: CII, FICCI, Assocham Expects Reforms To Continue
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM reviews fire tragedy in Kuwait
June 12, 2024
PM extends condolences to the families of deceased and wishes for speedy recovery of the injured
PM directs government to extend all possible assistance
MoS External Affairs to travel to Kuwait to oversee the relief measures and facilitate expeditious repatriation of the mortal remains
PM announces ex-gratia relief of Rs 2 lakh to the families of deceased Indian nationals from Prime Minister Relief Fund

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a review meeting on the fire tragedy in Kuwait in which a number of Indian nationals died and many were injured, at his residence at 7 Lok Kalyan Marg, New Delhi earlier today.

Prime Minister expressed his deep sorrow at the unfortunate incident and extended condolences to the families of the deceased. He wished speedy recovery of those injured.

Prime Minister directed that Government of India should extend all possible assistance. MOS External Affairs should immediately travel to Kuwait to oversee the relief measures and facilitate expeditious repatriation of the mortal remains.

Prime Minister announced ex- gratia relief of Rupees 2 lakh to the families of the deceased India nationals from Prime Minister Relief Fund.

The Minister of External Affairs Dr S Jaishankar, the Minister of State for External Affairs Shri Kirtivardhan Singh, Principal Secretary to PM Shri Pramod Kumar Mishra, National Security Advisor Shri Ajit Doval, Foreign Secretary Shri Vinay Kwatra and other senior officials were also present in the meeting.