2450 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا
تقریباً 1950 کروڑ روپے کے پی ایم اے وائی (دیہی اور شہری) پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا
تقریباً 19,000 گھروں کے گرہ پرویش میں حصہ لیا اور مستحقین کو گھر کی چابیاں سونپیں
’’پی ایم آواس یوجنا نے ہاؤسنگ سیکٹر کو بدل دیا ہے، اس سے خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کو فائدہ ہوا ہے‘‘
’’گجرات کی ڈبل انجن حکومت دوگنی رفتار سے کام کر رہی ہے‘‘
’’ہمارے لیے ملک کی ترقی ایک یقین اور عزم ہے‘‘
’’سیکولرازم کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ کوئی امتیاز نہ ہو‘‘
’’ہم نے گھر کو غربت کے خلاف جنگ کا ایک مضبوط اڈہ بنایا ہے، غریبوں کو بااختیار بنانے اور انھیں وقار بخشنے کا ذریعہ بنایا ہے‘‘
’’پی ایم اے وائی گھر بہت سی اسکیموں کا پیکیج ہیں‘‘
’’آج ہم شہری منصوبہ بندی میں زندگی کی آسانی اور معیار زندگی پر یکساں زور دے رہے ہیں‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج گجرات کے گاندھی نگر میں تقریباً 4400 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا۔ ان پروجیکٹوں میں 2450 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنا اور افتتاح کرنا شامل ہے، جن میں محکمہ شہری ترقیات، پانی کی فراہمی کا محکمہ، محکمہ سڑک اور نقل و حمل اور کانوں اور معدنیات کے محکمہ کے پروجیکٹ شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے تقریباً 1950 کروڑ روپے کے پی ایم اے وائی (دیہی اور شہری) پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا اور پروگرام کے دوران اسکیم کے استفادہ کنندگان کو چابیاں دے کر اسکیم کے تحت بنائے گئے تقریباً 19,000 مکانات کے گرہ پرویش میں حصہ لیا۔ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے مستحقین سے بات چیت بھی کی۔

 

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے مستحقین کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے قوم کی تعمیر ایک جاری ’مہا یگیہ‘ ہے۔ انہوں نے حالیہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کے تحت گجرات میں ترقی کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے حال ہی میں 3 لاکھ کروڑ کے غریب دوست گجرات بجٹ کا ذکر کیا۔ انہوں نے ’محروموں کو ترجیح‘ کے جذبے کی قیادت کرنے پر ریاست کی تعریف کی۔

وزیر اعظم نے ریاست میں کچھ حالیہ اقدامات جیسے 25 لاکھ آیوشمان کارڈ، پی ایم ماترو وندنا اسکیم سے 2 لاکھ ماؤں کی مدد، 4 نئے میڈیکل کالج اور جدید انفرا اسٹرکچر کے لیے ہزاروں کروڑ کے کاموں کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گجرات کی ڈبل انجن حکومت دوگنی رفتار سے کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام گزشتہ 9 سالوں میں بے مثال ترقی کا احساس کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس وقت کو یاد کیا جب شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات بھی نایاب تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس مایوسی سے نکل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ایک تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسکیموں کے فوائد کو 100 فیصد تک عوام تک پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وزیر اعظم نے تمام سرکاری اسکیموں کو مکمل کرنے کے لئے حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’’ہمارے لئے، ملک کی ترقی ایک یقین اور عزم ہے‘‘۔  وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کے اس انداز نے بدعنوانی اور امتیازی سلوک کو ختم کر دیا ہے۔ ’’ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’سیکولرازم کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ جب کوئی امتیاز نہ ہو‘‘۔ انھوں نے کہا کہ سماجی انصاف اس وقت ہوتا ہے جب حکومت معاشرے میں ہر کسی کے فائدے کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ پچھلے سالوں میں تقریباً 32,000 مکانات مکمل کر کے مستفیدین کے حوالے کیے جا چکے ہیں، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ غریبوں کی خود اعتمادی میں اس وقت زبردست اضافہ ہوتا ہے جب وہ زندگی کی بنیادی ضروریات کے بارے میں کم سے کم فکرمند ہوتے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں کے ورک کلچر کے درمیان فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک ناکام پالیسیوں کے راستے پر گامزن ہوکر اپنی تقدیر نہیں بدل سکتا اور ترقی یافتہ قوم نہیں بن سکتا‘‘۔ گزشتہ دہائی کے اعدادوشمار پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے نشان دہی کی کہ دیہی علاقوں میں تقریباً 75 فیصد گھروں میں بیت الخلاء کی سہولت نہیں تھی، حالانکہ پالیسیاں پہلے سے موجود تھیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ 2014 کے بعد، حکومت نے خود کو صرف غریبوں کے لیے چھت فراہم کرنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ گھروں کو غربت سے نمٹنے کی بنیاد اور ان کے وقار کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنایا۔ وزیر اعظم نے ایسے گھروں کی جیو ٹیگنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مکانات کی تعمیر میں پی ایم اے وائی کے تحت، مستفیدین کی رائے کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، جب کہ حکومت مالی امداد بھی براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کرتی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ پی ایم اے وائی کے تحت جو گھر بنائے جا رہے ہیں وہ کئی اسکیموں کا پیکیج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس گھر میں سوچھ بھارت ابھیان کے تحت بیت الخلاء، سوبھاگیہ اسکیم کے تحت بجلی کا کنکشن، اجولا اسکیم کے تحت مفت ایل پی جی کنکشن، جے جے ایم کے تحت پائپ کے ذریعہ پانی کی سپلائی شامل ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ان چیزوں کے علاوہ مفت طبی علاج اور مفت راشن بھی غریبوں کے لیے حفاظتی ڈھال کا کام کر رہے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے پی ایم اے وائی کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کی بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 9 سالوں میں تقریباً 4 کروڑ گھر غریب خاندانوں کے حوالے کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 70 فیصد خواتین کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پی ایم اے وائی  کے تحت مکانات کی تعمیر کی لاگت کئی لاکھ ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ کروڑوں خواتین استفادہ کنندگان اب لکھ پتی بن چکی ہیں۔ یہ کروڑوں خواتین پہلی بار کسی جائیداد کی مالک ہوئی ہیں۔ انہوں نے ’لکھ پتی دیدیوں‘ کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت مستقبل کے چیلنجوں اور ملک میں بڑھتی ہوئی شہری کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راجکوٹ میں ایک ہزار سے زیادہ مکانات جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیے گئے ہیں جن میں کم وقت اور پیسہ خرچ ہوتا ہے، اور یہ اتنی ہی محفوظ بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لائٹ ہاؤس پروجیکٹ کے تحت یہ تجربہ ملک کے 6 شہروں میں کیا گیا ہے جہاں ٹیکنالوجی نے سستے اور جدید گھر بنانے میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ آنے والے وقت میں ایسے گھر غریبوں کو دستیاب ہونے والے ہیں۔

وزیر اعظم نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں خراب طور طریقوں اور دھوکہ دہی کو دور کرنے کے اقدامات کی بھی وضاحت کی، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آر ای آر اے (ریرا) ایکٹ نے متوسط طبقے کے خاندانوں کو گھر کی خریداری کے وقت وعدہ کردہ سہولیات حاصل کرنے کے لیے قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے ہاؤسنگ لون کے لیے دی جانے والی بے مثال بجٹ سبسڈی کے بارے میں بھی بتایا۔ گجرات میں 5 لاکھ خاندانوں کو 11 ہزار کروڑ کی امداد ملی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امرت کال کے 25 سالوں میں خاص طور پر ٹائر-2 اور ٹائر-3 معیشت کو رفتار دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گجرات کے کئی شہروں میں سسٹمز کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امرت مشن کے تحت 500 شہروں میں بنیادی سہولیات کو بڑھایا جا رہا ہے اور 100 شہروں کو اسمارٹ سہولیات مل رہی ہیں۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’آج ہم شہری منصوبہ بندی میں زندگی کی آسانی اور معیار زندگی پر یکساں زور دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں میٹرو نیٹ ورک کو اس خیال کے ساتھ بڑھایا جا رہا ہے کہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے میں زیادہ وقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ملک کے 20 شہروں میں میٹرو چل رہی ہے، وزیر اعظم نے بتایا کہ ملک میں میٹرو نیٹ ورک 2014 سے پہلے 250 کلومیٹر سے پچھلے 9 سالوں میں 600 کلومیٹر بڑھ گیا ہے۔ آج وندے بھارت ایکسپریس جیسی ٹرینیں احمدآباد – گاندھی نگر جیسے جڑواں شہروں کو جوڑ رہی ہیں اور گجرات کے کئی شہروں میں الیکٹرک بسوں کا بیڑا بھی بڑھ رہا ہے۔

ملک میں پیدا ہونے والے ٹنوں میونسپل کچرے کے تئیں سنجیدگی کے فقدان کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ ملک میں کچرے کی پروسیسنگ 2014 میں 14-15 فیصد سے بڑھ کر آج 75 فیصد ہوگئی ہے۔ ’’ جناب مودی نے کہا کہ اگر ایسا پہلے ہوتا تو آج ہمارے شہروں میں کچرے کے پہاڑ نہ کھڑے ہوتے۔‘‘ انھوں نے نشان دہی کی کہ حکومت ہمارے شہروں میں کچرے کے ڈھیروں کو ختم کرنے کے لیے مشن موڈ پر کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہمارے شہروں میں معیاری زندگی اسی وقت ممکن ہے جب ہمیں صاف ماحول اور صاف ہوا ملے‘‘۔

 

وزیر اعظم نے گجرات کے واٹر مینجمنٹ اور واٹر سپلائی ماڈل کی تعریف کی۔ انہوں نے 3 ہزار کلومیٹر لمبی پانی کی مین لائنوں اور 1.25 لاکھ کلومیٹر کی ڈسٹری بیوشن لائنوں کا ذکر کیا جو 15 ہزار دیہاتوں اور 250 شہری علاقوں تک پانی پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے گجرات میں امرت سروور کے تئیں جوش و خروش کی تعریف کی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے ہر ایک پر زور دیا کہ وہ ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھیں۔ جناب مودی نے اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ’’امرت کال کے عزائم سب کا پریاس  سے پورے ہوں گے۔‘‘

اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل، ممبر پارلیمنٹ جناب سی آر پاٹل اور حکومت گجرات کے دیگر وزراء موجود تھے۔

پس منظر

جن پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے ان میں ضلع بناس کانٹھا میں ملٹی ولیج ڈرنکنگ واٹر پلائی اسکیموں کو بڑھانا، احمد آباد میں ایک ندی پر پل، نرودا جی آئی ڈی سی میں پانی کی نکاسی کا ایک نیٹ ورک، مہسانہ اور احمد آباد میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، اور دہیگام میں ایک آڈیٹوریم شامل ہیں۔ جن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ان میں جوناگڑھ ضلع میں بلک پائپ لائن پروجیکٹ، گاندھی نگر ضلع میں واٹر سپلائی اسکیموں کو بڑھانا، فلائی اوور پلوں کی تعمیر، پانی کی تقسیم کے نئے اسٹیشن اور مختلف ٹاؤن پلاننگ سڑکیں شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے پی ایم اے وائی (دیہی اور شہری) پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا، اور اسکیم کے تحت بنائے گئے تقریباً 19,000 مکانات کے گرہ پرویش میں حصہ لیا۔ انہوں نے پروگرام کے دوران اسکیم کے استفادہ کنندگان کو چابیاں بھی حوالے کیں۔ ان پروجیکٹوں کی کل لاگت تقریباً 1950 کروڑ روپے ہے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende

Media Coverage

India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, who gave new energy to the weak & divided India: PM Modi
February 23, 2024
Unveils new statue of Sant Ravidas
Inaugurates and lays foundation stones for development works around Sant Ravidas Janam Sthali
Lays the foundation stone for the Sant Ravidas Museum and beautification of the park
“India has a history, whenever the country is in need, some saint, sage or great personality is born in India.”
“Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, which gave new energy to the weak and divided India”
“Sant Ravidas ji told the society the importance of freedom and also worked to bridge the social divide”
“Ravidas ji belongs to everyone and everyone belongs to Ravidas ji.”
“Government is taking forward the teachings and ideals of Sant Ravidas ji while following the mantra of ‘Sabka Saath SabkaVikas’”
“We have to avoid the negative mentality of casteism and follow the positive teachings of Sant Ravidas ji”

जय गुरु रविदास।

उत्तर प्रदेश के मुख्यमंत्री योगी आदित्यनाथ जी, पूरे भारत से यहां पधारे सम्मानित संत जन, भक्त गण और मेरे भाइयों एवं बहनों,

आप सभी का मैं गुरु रविदास जी जन्म जयंती के पावन अवसर पर उनकी जन्मभूमि में स्वागत करता हूँ। आप सब रविदास जी की जयंती के पर्व पर इतनी-इतनी दूर से यहां आते हैं। खासकर, मेरे पंजाब से इतने भाई-बहन आते हैं कि बनारस खुद भी ‘मिनी पंजाब’ जैसा लगने लगता है। ये सब संत रविदास जी की कृपा से ही संभव होता है। मुझे भी रविदास जी बार बार अपनी जन्मभूमि पर बुलाते हैं। मुझे उनके संकल्पों को आगे बढ़ाने का मौका मिलता है, उनके लाखों अनुयायियों की सेवा का अवसर मिलता है। गुरु के जन्मतीर्थ पर उनके सब अनुयायियों की सेवा करना मेरे लिए किसी सौभाग्य से कम नहीं।

और भाइयों और बहनों,

यहां का सांसद होने के नाते, काशी का जन-प्रतिनिधि होने के नाते मेरी विशेष ज़िम्मेदारी भी बनती है। मैं बनारस में आप सबका स्वागत भी करूं, और आप सबकी सुविधाओं का खास ख्याल भी रखूं, ये मेरा दायित्व है। मुझे खुशी है कि आज इस पावन दिन मुझे अपने इन दायित्वों को पूरा करने का अवसर मिला है। आज बनारस के विकास के लिए सैकड़ों करोड़ रुपए की विकास परियोजनाओं का लोकार्पण और शिलान्यास होने जा रहा है। इससे यहां आने वाले श्रद्धालुओं की यात्रा और सुखद और सरल होगी। साथ ही, संत रविदास जी की जन्मस्थली के विकास के लिए भी कई करोड़ रुपए की योजनाओं का लोकार्पण हुआ है। मंदिर और मंदिर क्षेत्र का विकास, मंदिर तक आने वाली सड़कों का निर्माण, इंटरलॉकिंग और ड्रेनेज का काम, भक्तों के लिए सत्संग और साधना करने के लिए, प्रसाद ग्रहण करने के लिए अलग-अलग व्यवस्थाओं का निर्माण, इन सबसे आप सब लाखों भक्तों को सुविधा होगी। माघी पूर्णिमा की यात्रा में श्रद्धालुओं को आध्यात्मिक सुख तो मिलेगा ही, उन्हें कई परेशानियों से भी छुटकारा मिलेगा। आज मुझे संत रविदास जी की नई प्रतिमा के लोकार्पण का सौभाग्य भी मिला है। संत रविदास म्यूज़ियम की आधारशिला भी आज रखी गई है। मैं आप सभी को इन विकास कार्यों की अनेक-अनेक शुभकामनाएँ देता हूं। मैं देश और दुनिया भर के सभी श्रद्धालुओं को संत रविदास जी की जन्मजयंती और माघी पूर्णिमा की हार्दिक बधाई देता हूं।

साथियों,

आज महान संत और समाज सुधारक गाडगे बाबा की जयंती भी है। गाडगे बाबा ने संत रविदास की ही तरह समाज को रूढ़ियों से निकालने के लिए, दलितों वंचितों के कल्याण के लिए बहुत काम किया था। खुद बाबा साहब अंबेडकर उनके बहुत बड़े प्रशंसक थे। गाडगे बाबा भी बाबा साहब से बहुत प्रभावित रहते थे। आज इस अवसर पर मैं गाडगे बाबा के चरणों में भी श्रद्धापूवर्क नमन करता हूं।

साथियों,

अभी मंच पर आने से पहले मैं संत रविदास जी की मूर्ति पर पुष्प अर्पित करने, उन्हें प्रणाम करने भी गया था। इस दौरान मेरा मन जितनी श्रद्धा से भरा था, उतनी ही कृतज्ञता भी भीतर महसूस कर रहा था। वर्षों पहले भी, जब मैं न राजनीति में था, न किसी पद पर था, तब भी संत रविदास जी की शिक्षाओं से मुझे मार्गदर्शन मिलता था। मेरे मन में ये भावना होती थी कि मुझे रविदास जी की सेवा का अवसर मिले। और आज काशी ही नहीं, देश की दूसरी जगहों पर भी संत रविदास जी से जुड़े संकल्पों को पूरा किया जा रहा है। रविदास जी की शिक्षाओं को प्रचारित-प्रसारित करने के लिए नए केन्द्रों की स्थापना भी हो रही है। अभी कुछ महीने पहले ही मुझे मध्यप्रदेश के सतना में भी संत रविदास स्मारक एवं कला संग्रहालय के शिलान्यास का सौभाग्य भी मिला था। काशी में तो विकास की पूरी गंगा ही बह रही है।

साथियों,

भारत का इतिहास रहा है, जब भी देश को जरूरत हुई है, कोई न कोई संत, ऋषि, महान विभूति भारत में जन्म लेते हैं। रविदास जी तो उस भक्ति आंदोलन के महान संत थे, जिसने कमजोर और विभाजित हो चुके भारत को नई ऊर्जा दी थी। रविदास जी ने समाज को आज़ादी का महत्व भी बताया था, और सामाजिक विभाजन को भी पाटने का काम किया था। ऊंच-नीच, छुआछूत, भेदभाव, इस सबके खिलाफ उन्होंने उस दौर में आवाज़ उठाई थी। संत रविदास एक ऐसे संत हैं, जिन्हें मत मजहब, पंथ, विचारधारा की सीमाओं में नहीं बांधा जा सकता। रविदास जी सबके हैं, और सब रविदास जी के हैं। जगद्गुरु रामानन्द के शिष्य के रूप में उन्हें वैष्णव समाज भी अपना गुरु मानता है। सिख भाई-बहन उन्हें बहुत आदर की दृष्टि से देखते हैं। काशी में रहते हुए उन्होंने ‘मन चंगा तो कठौती में गंगा’ की शिक्षा दी थी। इसलिए, काशी को मानने वाले लोग, मां गंगा में आस्था रखने वाले लोग भी रविदास जी से प्रेरणा लेते हैं। मुझे खुशी है कि आज हमारी सरकार रविदास जी के विचारों को ही आगे बढ़ा रही है। भाजपा सरकार सबकी है। भाजपा सरकार की योजनाएं सबके लिए हैं। ‘सबका साथ, सबका विकास, सबका विश्वास और सबका प्रयास’, ये मंत्र आज 140 करोड़ देशवासियों से जुड़ने का मंत्र बन गया है।

साथियों,

रविदास जी ने समता और समरसता की शिक्षा भी दी, और हमेशा दलितों, वंचितों की विशेष रूप से चिंता भी की। समानता वंचित समाज को प्राथमिकता देने से ही आती है। इसीलिए, जो लोग, जो वर्ग विकास की मुख्यधारा से जितना ज्यादा दूर रह गए, पिछले दस वर्षों में उन्हें ही केंद्र में रखकर काम हुआ है। पहले जिस गरीब को सबसे आखिरी समझा जाता था, सबसे छोटा कहा जाता था, आज सबसे बड़ी योजनाएं उसी के लिए बनी हैं। इन योजनाओं को आज दुनिया में सबसे बड़ी सरकारी योजनाएं कहा जा रहा है। आप देखिए, कोरोना की इतनी बड़ी मुश्किल आई। हमने 80 करोड़ गरीबों को मुफ्त राशन की योजना चलाई। कोरोना के बाद भी हमने मुफ्त राशन देना बंद नहीं किया। क्योंकि, हम चाहते हैं कि जो गरीब अपने पैरों पर खड़ा हुआ है वो लंबी दूरी तय करे। उस पर अतिरिक्त बोझ न आए। ऐसी योजना इतने बड़े पैमाने पर दुनिया के किसी भी देश में नहीं है। हमने स्वच्छ भारत अभियान चलाया। देश के हर गांव में हर परिवार के लिए मुफ्त शौचालय बनाया। इसका लाभ सबसे ज्यादा दलित पिछड़े परिवारों को, खासकर हमारी SC, ST, OBC माताओं बहनों को ही हुआ। इन्हें ही सबसे ज्यादा खुले में शौच के लिए जाना पड़ता था, परेशानियां उठानी पड़ती थीं। आज देश के गांव- गांव तक साफ पानी पहुंचाने के लिए जल जीवन मिशन चल रहा है। 5 वर्षों से भी कम समय में 11 करोड़ से ज्यादा घरों तक पाइप से पानी पहुंचाया गया है। करोड़ों गरीबों को मुफ्त इलाज के लिए आयुष्मान कार्ड मिला है। उन्हें पहली बार ये हौसला मिला है कि अगर बीमारी आ भी गई, तो इलाज के अभाव में जिंदगी खत्म नहीं होगी। इसी तरह, जनधन खातों से गरीब को बैंक जाने का अधिकार मिला है। इन्हीं बैंक खातों में सरकार सीधे पैसा भेजती है। इन्हीं खातों में किसानों को किसान सम्मान निधि जाती है, जिनमें से करीब डेढ़ करोड़ लाभार्थी हमारे दलित किसान ही हैं। फसल बीमा योजना का लाभ उठाने वाले किसानों में बड़ी संख्या दलित और पिछड़े किसानों की ही है। युवाओं के लिए भी, 2014 से पहली जितनी स्कॉलर्शिप मिलती थी, आज हम उससे दोगुनी स्कॉलर्शिप दलित युवाओं को दे रहे हैं। इसी तरह, 2022-23 में पीएम आवास योजना के तहत हजारों करोड़ रुपए दलित परिवारों के खातों में भेजे गए, ताकि उनका भी अपना पक्‍का घर हो।

और भाइयों बहनों,

भारत इतने बड़े-बड़े काम इसलिए कर पा रहा है क्योंकि आज दलित, वंचित, पिछड़ा और गरीब के लिए सरकार की नीयत साफ है। भारत ये काम इसलिए कर पा रहा है, क्योंकि आपका साथ और आपका विश्वास हमारे साथ है। संतों की वाणी हर युग में हमें रास्ता भी दिखाती हैं, और हमें सावधान भी करती हैं।

रविदास जी कहते थे-

जात पात के फेर महि, उरझि रहई सब लोग।

मानुष्ता कुं खात हई, रैदास जात कर रोग॥

अर्थात्, ज़्यादातर लोग जात-पांत के भेद में उलझे रहते हैं, उलझाते रहते हैं। जात-पात का यही रोग मानवता का नुकसान करता है। यानी, जात-पात के नाम पर जब कोई किसी के साथ भेदभाव करता है, तो वो मानवता का नुकसान करता है। अगर कोई जात-पात के नाम पर किसी को भड़काता है तो वो भी मानवता का नुकसान करता है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

साथियों,

रविदास जी कहते थे-

सौ बरस लौं जगत मंहि जीवत रहि करू काम।

रैदास करम ही धरम है करम करहु निहकाम॥

अर्थात्, सौ वर्ष का जीवन हो, तो भी पूरे जीवन हमें काम करना चाहिए। क्योंकि, कर्म ही धर्म है। हमें निष्काम भाव से काम करना चाहिए। संत रविदास जी की ये शिक्षा आज पूरे देश के लिए है। देश इस समय आज़ादी के अमृतकाल में प्रवेश कर चुका है। पिछले वर्षों में अमृतकाल में विकसित भारत के निर्माण की मजबूत नींव रखी जा चुकी है। अब अगले 5 साल हमें इस नींव पर विकास की इमारत को और ऊंचाई देनी है। गरीब वंचित की सेवा के लिए जो अभियान 10 वर्षों में चले हैं, अगले 5 वर्षों में उन्हें और भी अधिक विस्तार मिलना है। ये सब 140 करोड़ देशवासियों की भागीदारी से ही होगा। इसलिए, ये जरूरी है कि देश का हर नागरिक अपने कर्तव्यों का पालन करे। हमें देश के बारे में सोचना है। हमें तोड़ने वाले, बांटने वाले विचारों से दूर रहकर देश की एकता को मजबूत करना है। मुझे विश्वास है कि, संत रविदास जी की कृपा से देशवासियों के सपने जरूर साकार होंगे। आप सभी को एक बार फिर संत रविदास जयंती की मैं बहुत बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

बहुत-बहुत धन्यवाद !