2450 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا
تقریباً 1950 کروڑ روپے کے پی ایم اے وائی (دیہی اور شہری) پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا
تقریباً 19,000 گھروں کے گرہ پرویش میں حصہ لیا اور مستحقین کو گھر کی چابیاں سونپیں
’’پی ایم آواس یوجنا نے ہاؤسنگ سیکٹر کو بدل دیا ہے، اس سے خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کو فائدہ ہوا ہے‘‘
’’گجرات کی ڈبل انجن حکومت دوگنی رفتار سے کام کر رہی ہے‘‘
’’ہمارے لیے ملک کی ترقی ایک یقین اور عزم ہے‘‘
’’سیکولرازم کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ کوئی امتیاز نہ ہو‘‘
’’ہم نے گھر کو غربت کے خلاف جنگ کا ایک مضبوط اڈہ بنایا ہے، غریبوں کو بااختیار بنانے اور انھیں وقار بخشنے کا ذریعہ بنایا ہے‘‘
’’پی ایم اے وائی گھر بہت سی اسکیموں کا پیکیج ہیں‘‘
’’آج ہم شہری منصوبہ بندی میں زندگی کی آسانی اور معیار زندگی پر یکساں زور دے رہے ہیں‘‘

گجرات کے وزیراعلی  جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، سی آر پاٹل، حکومت گجرات کے وزراء، پی ایم آواس یوجنا کے تمام مستفید خاندان، دیگر تمام معززین اور گجرات کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔

آج گجرات کے میرے جن  ہزاروں بھائیوں اور بہنوں  نے  گھر میں  داخلہ لیا ہے ، ان کے ساتھ  ہی ، میں بھوپیندر بھائی اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ ابھی مجھے گاؤں اور شہروں سے متعلق ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس میں غریبوں کے لیے گھر، پانی کے منصوبے، شہری ترقی کے لیے ضروری منصوبے اور صنعتی ترقی سے متعلق کچھ منصوبے ہیں۔ میں ایک بار پھر تمام مستفید ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، خاص طور پر ان بہنوں کو جنہیں آج اپنا پکا گھر ملا ہے۔

بی جے پی کے لیے ملک کی ترقی ایک کنویکشن اور عزم ہے۔ ہمارے لیے قوم کی تعمیر ایک مسلسل  چلنے والا مہایگیہ ہے۔ ابھی  گجرات میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت بنے چند ماہ ہی ہوئے ہیں، لیکن جس رفتار سے ترقی ہوئی ہے، مجھے بہت  ہی مزہ آرہا ہے اورمیں خوشی محسوس کر رہا ہوں۔

حال ہی میں گجرات کے لئے وقف  غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے 3 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔ ایک طرح سے، گجرات نے بہت سے فیصلوں میں محروم افراد کو ترجیح دیتے ہوئے سبقت حاصل کی ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں، گجرات کے تقریباً 25 لاکھ مستفیدین کو آیوشمان کارڈ دیئے گئے  ہیں۔ گجرات کی تقریباً 2 لاکھ حاملہ خواتین کو پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا سے مدد ملی ہے۔

اس دوران گجرات میں 4 نئے میڈیکل کالج کھلے ہیں۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد گجرات میں جدید انفراسٹرکچر کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کے کام شروع ہو ئے ہیں۔ ان سے گجرات کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے والے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گجرات کی ڈبل انجن حکومت دوگنی رفتار سے کام کر رہی ہے۔

ساتھیوں،

پچھلے 9 برسوں میں پورے ملک میں جو بے مثال تبدیلی آئی ہے، اس کا تجربہ آج ہر شہری کو ہو رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب ملک کے لوگ زندگی کی بنیادی سہولتوں کے لیے بھی ترستے تھے۔ برسوں  برس کے انتظار کے بعد لوگوں نے اس غیر موجودگی کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لیا تھا۔ ہر کوئی مانتا تھا کہ اب نصیب میں ہے، زندگی پوری کرو، اب بچے بڑے ہو کر کرنا ہوگا تو کریں گے، ایسی مایوسی، اکثر لوگوں نے مان لیا تھا کہ جو جھگی جھونپڑی میں پیدا ہوگا، اس کی آنے والی نسلیں بھی  جھگی جھونپڑیوں میں  ہی اپنی زندگی بسر کریں گی۔ ملک اب اس مایوسی سے نکل رہا ہے۔

آج ہماری حکومت ہر کمی کو دور کر کے ہر غریب تک پہنچنے کا کام کر رہی ہے۔ ہم اسکیموں کی 100 فیصد سیچوریشن کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی حکومت خود اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں تک جا رہی ہے۔ حکومت کے اس طرز عمل سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا خاتمہ ہوا ہے اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوا ہے۔ ہماری حکومت مستفدین تک پہنچنے کے لیے نہ تو مذہب دیکھتی ہے اور نہ ذات پات۔ اور جب ایک گاؤں میں 50 لوگوں کا ملنا طے ہو اور 50 لوگ مل جائیں، چاہے وہ کسی بھی مسلک کا ہو، کسی بھی ذات کا ہو، اس کی پہچان نہ ہو، چاہے کوئی بھی ہو، لیکن سب کو ایک بار مل جاتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جہاں کوئی تفریق نہیں ہے، وہی حقیقی سیکولرازم بھی ہے۔ سماجی انصاف کی بات کرنے والے، جب آپ سب کی خوشی کے لیے، سب کی سہولت کے لیے کام کرتے ہیں، جب سب کو ان کے حقوق دلانے کے لیے 100فیصد کام کرتے ہیں، تو میرے خیال میں اس سے بڑا کوئی سماجی انصاف نہیں ہوتا ہے ۔ اس سے بڑھ کر کے کوئی سوشل جسٹس نہیں ہوتا  ہے ، جس راستے پر ہم چل رہے ہیں۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ جب غریب اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے کم فکر مند ہوتے ہیں تو ان  کی خوداعتماد ی بڑھ جاتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل تقریباً 40 ہزار،  38 ہزار ویسے غریب خاندانوں کو اپنا پکا گھر ملا ہے۔ ان میں سے تقریباً 32 ہزار مکانات گزشتہ 125 دنوں میں  بن  کر تیار ہوئے  ہیں۔ مجھے ابھی ان میں سے بہت سے فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور ان کی باتیں سن کر آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ ان گھروں کی وجہ سے ان میں کتنی خود اعتمادی تھی اور جب ہر خاندان میں اتنی خود اعتمادی پیدا ہو جائے تو وہ معاشرے کی کتنی بڑی طاقت بن جاتا ہے۔ غریب کے ذہن میں جو اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ ہاں یہ اس کا حق ہے اور یہ معاشرہ اس کے ساتھ ہے، وہ بڑی طاقت بن جاتا ہے۔

ساتھیوں،

پرانی پالیسیوں پر چلتے ہوئے ناکام پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے   نہ ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے اور نہ ہی ملک کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اس سے پہلے کی حکومتیں کس نقطہ نظر  کے ساتھ کام کر رہی تھیں ،  آج ہم کس سوچ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ سمجھا بہت ضروری ہے۔  ہمارے ملک میں غریبوں کو مکان فراہم کرنے کی اسکیمیں ایک عرصے سے چل رہی تھیں۔ لیکن 10-12 سال پہلے کے اعداد و شمار بتاتے تھے کہ ہمارے گائوں میں تقریباً 75 فیصد خاندان ایسے تھے جن کے گھر میں پکے ٹوائلٹ نہیں تھے۔

غریبوں کے گھر کی اسکیموں میں بھی اس بات کو مدنظر نہیں رکھا گیا جو پہلے چل رہی تھیں۔ گھر صرف سر ڈھانپنے کی چھت نہیں، بھرنے کی جگہ نہیں۔ گھر ایک عقیدے کی جگہ ہے، جہاں خواب بنتے ہیں، ، جہاں  ایک خاندان کے حال اور مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے 2014 کے بعد ہم نے غریبوں کے گھر کو صرف ایک پکی چھت تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ، ہم نے گھر کو غربت کے خلاف لڑنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بنایا ہے، غریبوں کو بااختیار بنانے، ان کے وقار کے لیے ایک ذریعہ بنایا ہے۔

آج حکومت کے بجائے استفادہ کنندہ خود فیصلہ کرتا ہے کہ پی ایم آواس یوجنا کے تحت اس کا گھر کیسے بنے گا۔ اس کا فیصلہ دہلی سے نہیں ہوتا، گاندھی نگر سے نہیں ہوتا، خود ہی طے کرتا ہے۔ حکومت براہ راست اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کرتی ہے۔ مکان زیر تعمیر ہے، یہ ثابت کرنے کے لئے  ہم مختلف مراحل پر گھر کی جیو ٹیگنگ کرتے ہیں ۔آپ بھی جانتے ہیں کہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ گھر کا پیسہ مستحق تک پہنچنے سے پہلے ہی کرپشن کا شکار ہو جاتا تھا۔ جو گھر بنتے تھے، وہ رہنے کے قابل نہیں  ہوتے تھے۔

بھائیو اور بہنو،

آج پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت جو گھر بنائے جارہے ہیں وہ صرف ایک اسکیم تک محدود نہیں ہیں، یہ کئی اسکیموں کا پیکج ہے۔ اس میں سوچھ بھارت ابھیان کے تحت ایک بیت الخلا بنایا گیا ہے۔ اس میں سوبھاگیہ یوجنا کے تحت بجلی کا کنکشن دستیاب ہے۔ اس میں اجولا اسکیم کے تحت مفت ایل پی جی گیس کنکشن دستیاب ہے۔ اس میں جل جیون ابھیان کے تحت نل سے پانی دستیاب ہے۔

پہلے یہ تمام سہولیات حاصل کرنے کے لیے غریبوں کو سالہا سال سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ اور آج ان تمام سہولیات کے ساتھ ساتھ غریبوں کو مفت راشن اور مفت علاج کی سہولت بھی  مل رہی  ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ غریبوں کو کتنا بڑا حفاظتی ڈھال ملا ہے۔

ساتھیوں،

پی ایم آواس یوجنا غریبوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بااختیار بنانے میں بھی بڑی طاقت دے رہی ہے۔ پچھلے 9 سالوں میں تقریباً 4 کروڑ پکے گھر غریب خاندانوں کو فراہم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 70 فیصد مکانات بھی خواتین کے نام پر ہیں۔ یہ کروڑوں بہنیں وہ ہیں جن کے نام پر پہلی بار جائیداد کا اندراج ہوا ہے۔ ہمارے ملک گجرات میں یہ بھی مشہور ہے کہ گھر آدمی کے نام، گاڑی آدمی کے نام، کھیت آدمی کے نام، سکوٹر بھی آدمی کے نام، اور شوہر کا نام لیکن اگر شوہر نہ رہے تو بیٹے کے نام پر کیا جاتا ہے، ماں کے نام پر عورت کے نام پر کچھ نہیں ہوتا۔ مودی جی نے اس صورت حال کو بدل دیا ہے، اور اب ماں کا نام ماؤں بہنوں کے نام پر سرکاری اسکیموں کے فائدے میں شامل کرنا ہوگا، یا تو ماں کو  ہی حق دیا جا تا  ہے۔

 پی ایم آواس یوجنا کی مدد سے بنے ہر گھر کی قیمت  اب -5-50 ہزار میں گھر نہیں بنتے ، 1.5 لاکھ پونے دو لاکھ تک خرچ  ہوتا ہے۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پردھان منتری آواس یوجنا میں رہنے گئے ہیں ان کے پاس لاکھوں کے گھر ہیں اور وہ لاکھوں کے مکانات کے مالک بن گئے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کروڑوں عورتیں لکھ  پتی بن گئی ہیں، اور اس لیے میری  لکھ پتی دیدی  ہند ستان کے ہر کونے سے مجھے آشیرواد دیتی ہے، تاکہ میں ان کے لئے  زیادہ کام کرسکوں۔

ساتھیوں،

ملک میں بڑھتی ہوئی شہری کاری کے پیش نظر بی جے پی حکومت بھی مستقبل کے چیلنجوں کو ذہن میں  بھی رکھتے ہوئے کام کر رہی ہے۔ ہم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے راجکوٹ میں ایک ہزار سے زیادہ گھر بنائے ہیں۔ یہ گھر کم وقت میں، کم خرچ میں بنائے گئے ہیں اور اتنے ہی  زیادہ محفوظ ہیں۔ لائٹ ہاؤس پروجیکٹ کے تحت ہم نے یہ تجربہ ملک کے 6 شہروں میں کیا ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے آنے والے وقتوں میں غریبوں کو مزید سستے اور جدید گھر دستیاب ہونے جا رہے ہیں۔

ساتھیوں،

ہماری حکومت نے رہائش سے متعلق ایک اور چیلنج پر قابو پالیا ہے۔ پہلے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں من مانی ہوتی تھی، دھوکہ دہی کی شکایات آتی تھیں۔ متوسط ​​خاندانوں کو تحفظ دینے کے لیے کوئی قانون نہیں تھا۔ اور یہ جو  بڑے بڑے بلڈر منصوبے لے کر آتے تھے، ان کی اتنی خوبصورت تصویریں ہوتی تھیں، گھر میں  ہی طے ہوتا ہے کہ یہ گھر خریدیں گے۔ اور جب دیتے تھے تب دوسرا ہی دیتے تھے،  لکھا ہوا ایک ہوتا تھا ، دیتے تھے دوسرا۔

ہم نے(ریرا)  RERA قانون بنایا۔ اس سے متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو قانونی تحفظ مل گیا ہے۔ اور جو ڈیزائن پیسے دیتے وقت دکھایا گیا تھا، اب ویسا گھر بنانا بلڈرز کی مجبوری ہے، ورنہ جیل میں انتظام رہتا ہے۔  یہی نہیں بلکہ آزادی کے بعد پہلی بار ہم متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو گھر بنانے کے لیے سود کے ساتھ بینک قرضوں سے متوسط ​​طبقے کی مدد کا انتظام کیا گیا ہے۔

گجرات نے بھی اس میدان میں بہت اچھا کام کیا ہے۔ گجرات میں ایسے 5 لاکھ متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو 11,000 کروڑ روپے امداد کے طور پر دے کر حکومت نے ان کی زندگی کا خواب پورا کیا ہے۔

ساتھیوں،

آج ہم سب مل کر آزادی کےامرت کال میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لئے  کوشش کر رہے ہیں۔ ان 25 سالوں میں ہمارے شہر خاص طور پر ٹائر-2، ٹائر-3 شہر معیشت کو تیز کریں گے۔ گجرات میں بھی ایسے بہت سے شہر ہیں۔ ان شہروں کا نظام بھی مستقبل کے چیلنجز کے مطابق تیار کیا جارہا ہے۔ امرت مشن کے تحت ملک کے 500 شہروں میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ملک کے 100 شہروں میں جو ا سمارٹ سہولیات ترقی کررہی ہیں ، وہ بھی انہیں جدید بنا رہی ہیں۔

ساتھیوں،

آج ہم شہری منصوبہ بندی میں زندگی کی آسانی اور معیار زندگی دونوں پر یکساں زور دے رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ کے سفر میں زیادہ وقت نہ گزارنا پڑے۔ آج اسی سوچ کے ساتھ ملک میں میٹرو نیٹ ورک کو بڑھایا جا رہا ہے۔ سال 2014 تک ملک میں 250 کلومیٹر سے بھی کم میٹرو نیٹ ورک تھا۔ یعنی 40 سالوں میں 250 کلومیٹر میٹرو روٹ بھی نہیں بن سکا تھا۔ جبکہ گزشتہ 9 سالوں میں 600 کلومیٹر کے نئے میٹرو روٹس بنائے گئے ہیں، ان پر میٹرو چلنی شروع ہو گئی ہے۔

آج ملک کے 20 شہروں میں میٹرو چل رہی ہے۔ آج آپ دیکھتے ہیں کہ میٹرو کی آمد سے احمد آباد جیسے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کتنا آسان ہوگیا ہے۔ جب شہروں کے آس پاس کے علاقے جدید اور تیز رفتار رابطے سے منسلک ہوں گے تو اس سے اہم شہر پر دباؤ کم ہو گا۔ جڑواں شہروں جیسے احمد آباد-گاندھی نگر کو بھی آج وندے بھارت ایکسپریس جیسی ٹرینوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اسی طرح گجرات کے کئی شہروں میں الیکٹرک بسوں میں بھی تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ساتھیوں،

غریب ہو یا متوسط ​​طبقہ، ہمارے شہروں میں معیار زندگی اسی وقت ممکن ہے جب ہمیں صاف ستھرا  ماحول اور  خالص ہوا ملے۔ اس کے لیے ملک میں مشن موڈ پر کام جاری ہے۔ ہمارے ملک میں روزانہ ہزاروں ٹن میونسپل فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ پہلے ملک میں اس بارے میں کوئی سنجیدگی نہیں تھی۔ گزشتہ  سالوں میں، ہم نے فضلہ کے انتظام پر بہت زور دیا ہے۔ 2014 میں جہاں ملک میں صرف 14 سے 15 فیصد کچرے کی پروسیسنگ ہوتی تھی، آج 75 فیصد کچرے پر کارروائی ہو رہی ہے۔ اگر ایسا پہلے ہو جاتا تو آج ہمارے شہروں میں کچرے کے پہاڑ کھڑے نہ ہوتے۔ اب مرکزی حکومت بھی ایسے کچرے کے پہاڑوں کو ختم کرنے کے لیے مشن موڈ پر کام کر رہی ہے۔

ساتھیوں،

گجرات نے ملک کو واٹر مینجمنٹ اور واٹر سپلائی گرڈ کا بہترین ماڈل دیا ہے۔ جب کوئی 3000 کلومیٹر مین پائپ لائن اور 1.25 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کی ڈسٹری بیوشن لائنوں کے بارے میں سنتا ہے تو  اسے جلدی یقین نہیں آتا کہ اتنا بڑا کام ۔ لیکن یہ بھگیرتھ کام گجرات کے لوگوں نے کرکے دیکھا یا  ہے۔ اس سے تقریباً 15000 دیہاتوں اور 250 شہری علاقوں میں پینے کا صاف پانی پہنچ گیا ہے۔ اس طرح کی سہولیات سے بھی  گجرات میں ہر کسی کی زندگی، خواہ وہ غریب ہو یا متوسط، آسان ہو رہی ہے۔ گجرات کے لوگوں نے جس طرح امرت سرووروں کی تعمیر میں اپنی شرکت کو یقینی بنایا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے۔

ساتھیوں،

ہمیں ترقی کی اسی رفتار کو مسلسل برقرار رکھنا ہے۔ سب کی کوششوں سے امرت کال  کے ہمارے عزم کی تکمیل ہوگی۔  آخر میں ایک بار پھر میں آپ سب کو ترقیاتی کاموں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ جن خاندانوں کا خواب پورا ہو چکا ہے، انہیں گھر مل گیا ہے، اب وہ ایک نیا عزم لے کر اس خاندان کو آگے بڑھانے کی طاقت جمع کریں۔ ترقی کے امکانات بے پناہ ہیں، آپ بھی اس کے حقدار ہیں اور یہ ہماری بھی کوشش ہے، آئیے مل کر ہندوستان کو تیز رفتار بنائیں۔ گجرات کو مزید خوشحالی کی طرف لے جائیں۔ اس جذبے کے ساتھ  آپ سب کا بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
G20 hosts Kashi blossoms with flowers from  6 states

Media Coverage

G20 hosts Kashi blossoms with flowers from 6 states
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi to visit Kerala,Tamil Nadu and Maharashtra
February 26, 2024
PM to visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC), Thiruvananthapuram, and inaugurate three important space infrastructure projects worth about Rs 1800 crore
Projects include ‘PSLV Integration Facility’ at Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC
PM to also review progress of Ganganyaan
PM to inaugurate, dedicate to nation and lay the foundation stone of multiple infrastructure projects worth more than Rs 17,300 crore in Tamil Nadu
In a step to establish a transshipment hub for the east coast of the country, PM to lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port
PM to launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel
PM to address thousands of MSME entrepreneurs working in Automotive sector in Madurai
PM to inaugurate and dedicate to nation multiple infrastructure projects related to rail, road and irrigation worth more than Rs 4900 crore in Maharashtra
PM to release 16th instalment amount of about Rs 21,000 crore under PM-KISAN; and 2nd and 3rd instalments of about Rs 3800 crore under ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’
PM to disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women SHGs across Maharashtra
PM to initiate the distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra
PM to launch the Modi Awaas Gharkul Yojana

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Kerala, Tamil Nadu and Maharashtra on 27-28 February, 2024.

On 27th February, at around 10:45 AM, Prime Minister will visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC) at Thiruvananthapuram, Kerala. At around 5:15 PM, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’ in Madurai, Tamil Nadu.

On 28th February, at around 9:45 AM, Prime Minister will inaugurate, and lay the foundation stone of multiple development projects worth about Rs 17,300 crore at Thoothukudi, Tamil Nadu. At around 4:30 PM, Prime Minister will participate in a public programme in Yavatmal, Maharashtra, and inaugurate and dedicate to nation multiple development projects worth more than Rs 4900 crore at Yavatmal, Maharashtra. He will also release benefits under PM KISAN and other schemes during the programme.

PM in Kerala

Prime Minister’s vision to reform the country’s space sector to realise its full potential, and his commitment to enhance technical and R&D capability in the sector will get a boost as three important space infrastructure projects will be inaugurated during his visit to Vikram Sarabhai Space Centre, Thiruvananthapuram. The projects include the PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC, Thiruvananthapuram. These three projects providing world-class technical facilities for the space sector have been developed at a cumulative cost of about Rs. 1800 crore.

The PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota will help in boosting the frequency of PSLV launches from 6 to 15 per year. This state-of-the-art facility can also cater to the launches of SSLV and other small launch vehicles designed by private space companies.

The new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at IPRC Mahendragiri will enable development of semi cryogenic engines and stages which will increase the payload capability of the present launch vehicles. The facility is equipped with liquid Oxygen and kerosene supply systems to test engines up to 200 tons of thrust.

Wind tunnels are essential for aerodynamic testing for characterisation of rockets and aircraft during flight in the atmospheric regime. The “Trisonic Wind Tunnel” at VSSC being inaugurated is a complex technological system which will serve our future technology development needs.

During his visit, Prime Minister will also review the progress of Gaganyaan Mission and bestow ‘astronaut wings’ to the astronaut-designates. The Gaganyaan Mission is India’s first human space flight program for which extensive preparations are underway at various ISRO centres.

PM in Tamil Nadu

In Madurai, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’, and address thousands of Micro, Small and Medium enterprises (MSMEs) entrepreneurs working in the automotive sector. Prime Minister will also launch two major initiatives designed to support and uplift MSMEs in the Indian automotive industry. The initiatives include the TVS Open Mobility Platform and the TVS Mobility-CII Centre of Excellence. These initiatives will be a step towards realising the Prime Minister’s vision of supporting the growth of MSMEs in the country and helping them to formalise operations, integrate with global value chains and become self-reliant.

In the public programme at Thoothukudi, Prime Minister will lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port. This Container Terminal is a step towards transforming V.O.Chidambaranar Port into a transshipment hub for the east coast. The project aims to leverage India's long coastline and favourable geographic location, and strengthen India's competitiveness in the global trade arena. The major infrastructure project will also lead to creation of employment generation and economic growth in the region.

Prime Minister will inaugurate various other projects aimed at making the V.O.Chidambaranar Port as the first Green Hydrogen Hub Port of the country. These projects include desalination plant, hydrogen production and bunkering facility etc.

Prime Minister will also launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel under Harit Nauka initiative. The vessel is manufactured by Cochin Shipyard and underscores a pioneering step for embracing clean energy solutions and aligning with the nation's net-zero commitments. Also, Prime Minister will also dedicate tourist facilities in 75 lighthouses across ten States/UTs during the programme.

During the programme, Prime Minister will dedicate to nation rail projects for doubling of Vanchi Maniyachchi - Nagercoil rail line including the Vanchi Maniyachchi - Tirunelveli section and Melappalayam - Aralvaymoli section. Developed at the cost of about Rs 1,477 crore, the doubling project will help in reducing travel time for the trains heading towards Chennai from Kanyakumari, Nagercoil & Tirunelveli.

Prime Minister will also dedicate four road projects in Tamil Nadu, developed at a total cost of about Rs 4,586 Crore. These projects include the four-laning of the Jittandahalli-Dharmapuri section of NH-844, two-laning with paved shoulders of the Meensurutti-Chidambaram section of NH-81, four-laning of the Oddanchatram-Madathukulam section of NH-83, and two-laning with paved shoulders of the Nagapattinam-Thanjavur section of NH-83. These projects aim to improve connectivity, reduce travel time, enhance socio-economic growth and facilitate pilgrimage visits in the region.

PM in Maharashtra

In a step that will showcase yet another example of commitment of the Prime Minister towards welfare of farmers, the 16th instalment amount of more than Rs 21,000 crores under the Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi (PM-KISAN), will be released at the public programme in Yavatmal, through direct benefits transfer to beneficiaries. With this release, an amount of more than 3 lakh crore, has been transferred to more than 11 crore farmers’ families.

Prime Minister will also disburse 2nd and 3rd instalments of ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’, worth about Rs 3800 crore and benefiting about 88 lakh beneficiary farmers across Maharashtra. The scheme provides an additional amount of Rs 6000 per year to the beneficiaries of Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi Yojana in Maharashtra.

Prime Minister will disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women Self Help Groups (SHGs) across Maharashtra. This amount is additional to the Revolving fund provided by the Government of India under National rural livelihood Mission (NRLM). Revolving Fund (RF) is given to SHGs to promote lending of money within SHGs by rotational basis and increase annual income of poor households by promoting women led micro enterprises at village level.

Prime Minister will initiate distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra. This is yet another step to reach out to beneficiaries of welfare schemes so as to realise the Prime Minister’s vision of 100 percent saturation of all government schemes.

Prime Minister will launch the Modi Awaas Gharkul Yojana for OBC category beneficiaries in Maharashtra. The scheme envisages the construction of a total 10 lakh houses from FY 2023-24 to FY 2025-26. Prime Minister will transfer the first instalment of Rs 375 Crore to 2.5 lakh beneficiaries of the Yojana.

Prime Minister will dedicate to nation multiple irrigation projects benefiting Marathwada and Vidarbha region of Maharashtra. These projects are developed at a cumulative cost of more than Rs 2750 crore under Pradhan Mantri Krishi Sinchai Yojna (PMKSY) and Baliraja Jal Sanjeevani Yojana (BJSY).

Prime Minister will also inaugurate multiple rail projects worth more than Rs. 1300 crore in Maharashtra. The projects include Wardha-Kalamb broad gauge line (part of Wardha-Yavatmal-Nanded new broad gauge line project) and New Ashti - Amalner broad gauge line (part of Ahmednagar-Beed-Parli new broad gauge line project). The new broad gauge lines will improve connectivity of the Vidarbha and Marathwada regions and boost socio-economic development. Prime Minister will also virtually flag off two train service during the programme. This includes train services connecting Kalamb and Wardha; and train service connecting Amalner and New Ashti. This new train service will help improve rail connectivity and benefit students, traders and daily commuters of the region.

Prime Minister will dedicate to nation several projects for strengthening the road sector in Maharashtra. The projects include four laning of the Warora-Wani section of NH-930; road upgradation projects for important roads connecting Sakoli-Bhandara and Salaikhurd-Tirora. These projects will improve connectivity, reduce travel time and boost socio-economic development in the region. Prime Minister will also inaugurate the statue of Pandit Deendayal Upadhyay in Yavatmal city.