2450 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا
تقریباً 1950 کروڑ روپے کے پی ایم اے وائی (دیہی اور شہری) پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا
تقریباً 19,000 گھروں کے گرہ پرویش میں حصہ لیا اور مستحقین کو گھر کی چابیاں سونپیں
’’پی ایم آواس یوجنا نے ہاؤسنگ سیکٹر کو بدل دیا ہے، اس سے خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کو فائدہ ہوا ہے‘‘
’’گجرات کی ڈبل انجن حکومت دوگنی رفتار سے کام کر رہی ہے‘‘
’’ہمارے لیے ملک کی ترقی ایک یقین اور عزم ہے‘‘
’’سیکولرازم کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ کوئی امتیاز نہ ہو‘‘
’’ہم نے گھر کو غربت کے خلاف جنگ کا ایک مضبوط اڈہ بنایا ہے، غریبوں کو بااختیار بنانے اور انھیں وقار بخشنے کا ذریعہ بنایا ہے‘‘
’’پی ایم اے وائی گھر بہت سی اسکیموں کا پیکیج ہیں‘‘
’’آج ہم شہری منصوبہ بندی میں زندگی کی آسانی اور معیار زندگی پر یکساں زور دے رہے ہیں‘‘

گجرات کے وزیراعلی  جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، سی آر پاٹل، حکومت گجرات کے وزراء، پی ایم آواس یوجنا کے تمام مستفید خاندان، دیگر تمام معززین اور گجرات کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔

آج گجرات کے میرے جن  ہزاروں بھائیوں اور بہنوں  نے  گھر میں  داخلہ لیا ہے ، ان کے ساتھ  ہی ، میں بھوپیندر بھائی اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ ابھی مجھے گاؤں اور شہروں سے متعلق ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس میں غریبوں کے لیے گھر، پانی کے منصوبے، شہری ترقی کے لیے ضروری منصوبے اور صنعتی ترقی سے متعلق کچھ منصوبے ہیں۔ میں ایک بار پھر تمام مستفید ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، خاص طور پر ان بہنوں کو جنہیں آج اپنا پکا گھر ملا ہے۔

بی جے پی کے لیے ملک کی ترقی ایک کنویکشن اور عزم ہے۔ ہمارے لیے قوم کی تعمیر ایک مسلسل  چلنے والا مہایگیہ ہے۔ ابھی  گجرات میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت بنے چند ماہ ہی ہوئے ہیں، لیکن جس رفتار سے ترقی ہوئی ہے، مجھے بہت  ہی مزہ آرہا ہے اورمیں خوشی محسوس کر رہا ہوں۔

حال ہی میں گجرات کے لئے وقف  غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے 3 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔ ایک طرح سے، گجرات نے بہت سے فیصلوں میں محروم افراد کو ترجیح دیتے ہوئے سبقت حاصل کی ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں، گجرات کے تقریباً 25 لاکھ مستفیدین کو آیوشمان کارڈ دیئے گئے  ہیں۔ گجرات کی تقریباً 2 لاکھ حاملہ خواتین کو پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا سے مدد ملی ہے۔

اس دوران گجرات میں 4 نئے میڈیکل کالج کھلے ہیں۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد گجرات میں جدید انفراسٹرکچر کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کے کام شروع ہو ئے ہیں۔ ان سے گجرات کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے والے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گجرات کی ڈبل انجن حکومت دوگنی رفتار سے کام کر رہی ہے۔

ساتھیوں،

پچھلے 9 برسوں میں پورے ملک میں جو بے مثال تبدیلی آئی ہے، اس کا تجربہ آج ہر شہری کو ہو رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب ملک کے لوگ زندگی کی بنیادی سہولتوں کے لیے بھی ترستے تھے۔ برسوں  برس کے انتظار کے بعد لوگوں نے اس غیر موجودگی کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لیا تھا۔ ہر کوئی مانتا تھا کہ اب نصیب میں ہے، زندگی پوری کرو، اب بچے بڑے ہو کر کرنا ہوگا تو کریں گے، ایسی مایوسی، اکثر لوگوں نے مان لیا تھا کہ جو جھگی جھونپڑی میں پیدا ہوگا، اس کی آنے والی نسلیں بھی  جھگی جھونپڑیوں میں  ہی اپنی زندگی بسر کریں گی۔ ملک اب اس مایوسی سے نکل رہا ہے۔

آج ہماری حکومت ہر کمی کو دور کر کے ہر غریب تک پہنچنے کا کام کر رہی ہے۔ ہم اسکیموں کی 100 فیصد سیچوریشن کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی حکومت خود اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں تک جا رہی ہے۔ حکومت کے اس طرز عمل سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا خاتمہ ہوا ہے اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوا ہے۔ ہماری حکومت مستفدین تک پہنچنے کے لیے نہ تو مذہب دیکھتی ہے اور نہ ذات پات۔ اور جب ایک گاؤں میں 50 لوگوں کا ملنا طے ہو اور 50 لوگ مل جائیں، چاہے وہ کسی بھی مسلک کا ہو، کسی بھی ذات کا ہو، اس کی پہچان نہ ہو، چاہے کوئی بھی ہو، لیکن سب کو ایک بار مل جاتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جہاں کوئی تفریق نہیں ہے، وہی حقیقی سیکولرازم بھی ہے۔ سماجی انصاف کی بات کرنے والے، جب آپ سب کی خوشی کے لیے، سب کی سہولت کے لیے کام کرتے ہیں، جب سب کو ان کے حقوق دلانے کے لیے 100فیصد کام کرتے ہیں، تو میرے خیال میں اس سے بڑا کوئی سماجی انصاف نہیں ہوتا ہے ۔ اس سے بڑھ کر کے کوئی سوشل جسٹس نہیں ہوتا  ہے ، جس راستے پر ہم چل رہے ہیں۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ جب غریب اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے کم فکر مند ہوتے ہیں تو ان  کی خوداعتماد ی بڑھ جاتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل تقریباً 40 ہزار،  38 ہزار ویسے غریب خاندانوں کو اپنا پکا گھر ملا ہے۔ ان میں سے تقریباً 32 ہزار مکانات گزشتہ 125 دنوں میں  بن  کر تیار ہوئے  ہیں۔ مجھے ابھی ان میں سے بہت سے فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور ان کی باتیں سن کر آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ ان گھروں کی وجہ سے ان میں کتنی خود اعتمادی تھی اور جب ہر خاندان میں اتنی خود اعتمادی پیدا ہو جائے تو وہ معاشرے کی کتنی بڑی طاقت بن جاتا ہے۔ غریب کے ذہن میں جو اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ ہاں یہ اس کا حق ہے اور یہ معاشرہ اس کے ساتھ ہے، وہ بڑی طاقت بن جاتا ہے۔

ساتھیوں،

پرانی پالیسیوں پر چلتے ہوئے ناکام پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے   نہ ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے اور نہ ہی ملک کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اس سے پہلے کی حکومتیں کس نقطہ نظر  کے ساتھ کام کر رہی تھیں ،  آج ہم کس سوچ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ سمجھا بہت ضروری ہے۔  ہمارے ملک میں غریبوں کو مکان فراہم کرنے کی اسکیمیں ایک عرصے سے چل رہی تھیں۔ لیکن 10-12 سال پہلے کے اعداد و شمار بتاتے تھے کہ ہمارے گائوں میں تقریباً 75 فیصد خاندان ایسے تھے جن کے گھر میں پکے ٹوائلٹ نہیں تھے۔

غریبوں کے گھر کی اسکیموں میں بھی اس بات کو مدنظر نہیں رکھا گیا جو پہلے چل رہی تھیں۔ گھر صرف سر ڈھانپنے کی چھت نہیں، بھرنے کی جگہ نہیں۔ گھر ایک عقیدے کی جگہ ہے، جہاں خواب بنتے ہیں، ، جہاں  ایک خاندان کے حال اور مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے 2014 کے بعد ہم نے غریبوں کے گھر کو صرف ایک پکی چھت تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ، ہم نے گھر کو غربت کے خلاف لڑنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بنایا ہے، غریبوں کو بااختیار بنانے، ان کے وقار کے لیے ایک ذریعہ بنایا ہے۔

آج حکومت کے بجائے استفادہ کنندہ خود فیصلہ کرتا ہے کہ پی ایم آواس یوجنا کے تحت اس کا گھر کیسے بنے گا۔ اس کا فیصلہ دہلی سے نہیں ہوتا، گاندھی نگر سے نہیں ہوتا، خود ہی طے کرتا ہے۔ حکومت براہ راست اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کرتی ہے۔ مکان زیر تعمیر ہے، یہ ثابت کرنے کے لئے  ہم مختلف مراحل پر گھر کی جیو ٹیگنگ کرتے ہیں ۔آپ بھی جانتے ہیں کہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ گھر کا پیسہ مستحق تک پہنچنے سے پہلے ہی کرپشن کا شکار ہو جاتا تھا۔ جو گھر بنتے تھے، وہ رہنے کے قابل نہیں  ہوتے تھے۔

بھائیو اور بہنو،

آج پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت جو گھر بنائے جارہے ہیں وہ صرف ایک اسکیم تک محدود نہیں ہیں، یہ کئی اسکیموں کا پیکج ہے۔ اس میں سوچھ بھارت ابھیان کے تحت ایک بیت الخلا بنایا گیا ہے۔ اس میں سوبھاگیہ یوجنا کے تحت بجلی کا کنکشن دستیاب ہے۔ اس میں اجولا اسکیم کے تحت مفت ایل پی جی گیس کنکشن دستیاب ہے۔ اس میں جل جیون ابھیان کے تحت نل سے پانی دستیاب ہے۔

پہلے یہ تمام سہولیات حاصل کرنے کے لیے غریبوں کو سالہا سال سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ اور آج ان تمام سہولیات کے ساتھ ساتھ غریبوں کو مفت راشن اور مفت علاج کی سہولت بھی  مل رہی  ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ غریبوں کو کتنا بڑا حفاظتی ڈھال ملا ہے۔

ساتھیوں،

پی ایم آواس یوجنا غریبوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بااختیار بنانے میں بھی بڑی طاقت دے رہی ہے۔ پچھلے 9 سالوں میں تقریباً 4 کروڑ پکے گھر غریب خاندانوں کو فراہم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 70 فیصد مکانات بھی خواتین کے نام پر ہیں۔ یہ کروڑوں بہنیں وہ ہیں جن کے نام پر پہلی بار جائیداد کا اندراج ہوا ہے۔ ہمارے ملک گجرات میں یہ بھی مشہور ہے کہ گھر آدمی کے نام، گاڑی آدمی کے نام، کھیت آدمی کے نام، سکوٹر بھی آدمی کے نام، اور شوہر کا نام لیکن اگر شوہر نہ رہے تو بیٹے کے نام پر کیا جاتا ہے، ماں کے نام پر عورت کے نام پر کچھ نہیں ہوتا۔ مودی جی نے اس صورت حال کو بدل دیا ہے، اور اب ماں کا نام ماؤں بہنوں کے نام پر سرکاری اسکیموں کے فائدے میں شامل کرنا ہوگا، یا تو ماں کو  ہی حق دیا جا تا  ہے۔

 پی ایم آواس یوجنا کی مدد سے بنے ہر گھر کی قیمت  اب -5-50 ہزار میں گھر نہیں بنتے ، 1.5 لاکھ پونے دو لاکھ تک خرچ  ہوتا ہے۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پردھان منتری آواس یوجنا میں رہنے گئے ہیں ان کے پاس لاکھوں کے گھر ہیں اور وہ لاکھوں کے مکانات کے مالک بن گئے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کروڑوں عورتیں لکھ  پتی بن گئی ہیں، اور اس لیے میری  لکھ پتی دیدی  ہند ستان کے ہر کونے سے مجھے آشیرواد دیتی ہے، تاکہ میں ان کے لئے  زیادہ کام کرسکوں۔

ساتھیوں،

ملک میں بڑھتی ہوئی شہری کاری کے پیش نظر بی جے پی حکومت بھی مستقبل کے چیلنجوں کو ذہن میں  بھی رکھتے ہوئے کام کر رہی ہے۔ ہم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے راجکوٹ میں ایک ہزار سے زیادہ گھر بنائے ہیں۔ یہ گھر کم وقت میں، کم خرچ میں بنائے گئے ہیں اور اتنے ہی  زیادہ محفوظ ہیں۔ لائٹ ہاؤس پروجیکٹ کے تحت ہم نے یہ تجربہ ملک کے 6 شہروں میں کیا ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے آنے والے وقتوں میں غریبوں کو مزید سستے اور جدید گھر دستیاب ہونے جا رہے ہیں۔

ساتھیوں،

ہماری حکومت نے رہائش سے متعلق ایک اور چیلنج پر قابو پالیا ہے۔ پہلے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں من مانی ہوتی تھی، دھوکہ دہی کی شکایات آتی تھیں۔ متوسط ​​خاندانوں کو تحفظ دینے کے لیے کوئی قانون نہیں تھا۔ اور یہ جو  بڑے بڑے بلڈر منصوبے لے کر آتے تھے، ان کی اتنی خوبصورت تصویریں ہوتی تھیں، گھر میں  ہی طے ہوتا ہے کہ یہ گھر خریدیں گے۔ اور جب دیتے تھے تب دوسرا ہی دیتے تھے،  لکھا ہوا ایک ہوتا تھا ، دیتے تھے دوسرا۔

ہم نے(ریرا)  RERA قانون بنایا۔ اس سے متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو قانونی تحفظ مل گیا ہے۔ اور جو ڈیزائن پیسے دیتے وقت دکھایا گیا تھا، اب ویسا گھر بنانا بلڈرز کی مجبوری ہے، ورنہ جیل میں انتظام رہتا ہے۔  یہی نہیں بلکہ آزادی کے بعد پہلی بار ہم متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو گھر بنانے کے لیے سود کے ساتھ بینک قرضوں سے متوسط ​​طبقے کی مدد کا انتظام کیا گیا ہے۔

گجرات نے بھی اس میدان میں بہت اچھا کام کیا ہے۔ گجرات میں ایسے 5 لاکھ متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو 11,000 کروڑ روپے امداد کے طور پر دے کر حکومت نے ان کی زندگی کا خواب پورا کیا ہے۔

ساتھیوں،

آج ہم سب مل کر آزادی کےامرت کال میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لئے  کوشش کر رہے ہیں۔ ان 25 سالوں میں ہمارے شہر خاص طور پر ٹائر-2، ٹائر-3 شہر معیشت کو تیز کریں گے۔ گجرات میں بھی ایسے بہت سے شہر ہیں۔ ان شہروں کا نظام بھی مستقبل کے چیلنجز کے مطابق تیار کیا جارہا ہے۔ امرت مشن کے تحت ملک کے 500 شہروں میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ملک کے 100 شہروں میں جو ا سمارٹ سہولیات ترقی کررہی ہیں ، وہ بھی انہیں جدید بنا رہی ہیں۔

ساتھیوں،

آج ہم شہری منصوبہ بندی میں زندگی کی آسانی اور معیار زندگی دونوں پر یکساں زور دے رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ کے سفر میں زیادہ وقت نہ گزارنا پڑے۔ آج اسی سوچ کے ساتھ ملک میں میٹرو نیٹ ورک کو بڑھایا جا رہا ہے۔ سال 2014 تک ملک میں 250 کلومیٹر سے بھی کم میٹرو نیٹ ورک تھا۔ یعنی 40 سالوں میں 250 کلومیٹر میٹرو روٹ بھی نہیں بن سکا تھا۔ جبکہ گزشتہ 9 سالوں میں 600 کلومیٹر کے نئے میٹرو روٹس بنائے گئے ہیں، ان پر میٹرو چلنی شروع ہو گئی ہے۔

آج ملک کے 20 شہروں میں میٹرو چل رہی ہے۔ آج آپ دیکھتے ہیں کہ میٹرو کی آمد سے احمد آباد جیسے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کتنا آسان ہوگیا ہے۔ جب شہروں کے آس پاس کے علاقے جدید اور تیز رفتار رابطے سے منسلک ہوں گے تو اس سے اہم شہر پر دباؤ کم ہو گا۔ جڑواں شہروں جیسے احمد آباد-گاندھی نگر کو بھی آج وندے بھارت ایکسپریس جیسی ٹرینوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اسی طرح گجرات کے کئی شہروں میں الیکٹرک بسوں میں بھی تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ساتھیوں،

غریب ہو یا متوسط ​​طبقہ، ہمارے شہروں میں معیار زندگی اسی وقت ممکن ہے جب ہمیں صاف ستھرا  ماحول اور  خالص ہوا ملے۔ اس کے لیے ملک میں مشن موڈ پر کام جاری ہے۔ ہمارے ملک میں روزانہ ہزاروں ٹن میونسپل فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ پہلے ملک میں اس بارے میں کوئی سنجیدگی نہیں تھی۔ گزشتہ  سالوں میں، ہم نے فضلہ کے انتظام پر بہت زور دیا ہے۔ 2014 میں جہاں ملک میں صرف 14 سے 15 فیصد کچرے کی پروسیسنگ ہوتی تھی، آج 75 فیصد کچرے پر کارروائی ہو رہی ہے۔ اگر ایسا پہلے ہو جاتا تو آج ہمارے شہروں میں کچرے کے پہاڑ کھڑے نہ ہوتے۔ اب مرکزی حکومت بھی ایسے کچرے کے پہاڑوں کو ختم کرنے کے لیے مشن موڈ پر کام کر رہی ہے۔

ساتھیوں،

گجرات نے ملک کو واٹر مینجمنٹ اور واٹر سپلائی گرڈ کا بہترین ماڈل دیا ہے۔ جب کوئی 3000 کلومیٹر مین پائپ لائن اور 1.25 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کی ڈسٹری بیوشن لائنوں کے بارے میں سنتا ہے تو  اسے جلدی یقین نہیں آتا کہ اتنا بڑا کام ۔ لیکن یہ بھگیرتھ کام گجرات کے لوگوں نے کرکے دیکھا یا  ہے۔ اس سے تقریباً 15000 دیہاتوں اور 250 شہری علاقوں میں پینے کا صاف پانی پہنچ گیا ہے۔ اس طرح کی سہولیات سے بھی  گجرات میں ہر کسی کی زندگی، خواہ وہ غریب ہو یا متوسط، آسان ہو رہی ہے۔ گجرات کے لوگوں نے جس طرح امرت سرووروں کی تعمیر میں اپنی شرکت کو یقینی بنایا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے۔

ساتھیوں،

ہمیں ترقی کی اسی رفتار کو مسلسل برقرار رکھنا ہے۔ سب کی کوششوں سے امرت کال  کے ہمارے عزم کی تکمیل ہوگی۔  آخر میں ایک بار پھر میں آپ سب کو ترقیاتی کاموں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ جن خاندانوں کا خواب پورا ہو چکا ہے، انہیں گھر مل گیا ہے، اب وہ ایک نیا عزم لے کر اس خاندان کو آگے بڑھانے کی طاقت جمع کریں۔ ترقی کے امکانات بے پناہ ہیں، آپ بھی اس کے حقدار ہیں اور یہ ہماری بھی کوشش ہے، آئیے مل کر ہندوستان کو تیز رفتار بنائیں۔ گجرات کو مزید خوشحالی کی طرف لے جائیں۔ اس جذبے کے ساتھ  آپ سب کا بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
 PLI schemes attract over Rs 2.16 lakh crore investment, generate 14.39 lakh jobs

Media Coverage

PLI schemes attract over Rs 2.16 lakh crore investment, generate 14.39 lakh jobs
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi inaugurates Phase I of Noida International Airport, developed with an investment of around ₹11,200 crore
March 28, 2026
The inauguration of Phase-I of Noida International Airport marks a major step in Uttar Pradesh’s growth story and India’s aviation future: PM
UP has now emerged as one of the states with the highest number of international airports in India: PM
Airports are not just basic facilities in any country, they give wings to progress: PM
Our government is making unprecedented investments in modern infrastructure to build a Viksit Bharat: PM

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today inaugurated the Noida International Airport at Jewar in Uttar Pradesh. Expressing his pride and joy on the occasion, the Prime Minister said that today marks a new chapter in the Viksit UP, Viksit Bharat Abhiyan. He noted that India's largest state has now become one of the states with the highest number of international airports. PM Modi shared that he felt doubly proud , first, for having laid the foundation stone of this airport and now inaugurating it, and second, because the name of this grand airport is linked to Uttar Pradesh. "This is the state that chose me as its representative and made me a Member of Parliament, and its identity is now associated with this magnificent airport," remarked Shri Modi.

Highlighting the far-reaching impact of the new airport, the Prime Minister said that the Noida airport will benefit a vast region encompassing Agra, Mathura, Aligarh, Ghaziabad, Meerut, Etawah, Bulandshahr, and Faridabad. He emphasised that the airport will bring numerous new opportunities for the farmers, small and medium enterprises, and the youth of western Uttar Pradesh. "Aircraft will fly from here to the world, and this airport will also become a symbol of a developed Uttar Pradesh taking flight," said Shri Modi, extending his heartfelt congratulations to the people of the state, especially western UP.

Speaking about the current global situation, the Prime Minister observed that the entire world is deeply concerned today, with a war raging in West Asia for over a month, creating crises of essential commodities including food, petrol, diesel, gas, and fertilizers in many countries. He noted that India imports a very large quantity of crude oil and gas from the conflict-affected region. "The Government is taking every possible step to ensure that the burden of this crisis does not fall on ordinary families and farmers," affirmed Shri Modi.

Underscoring India's continued momentum of rapid development even during times of global crisis, the Prime Minister noted that in Western Uttar Pradesh alone, this is the fourth major project to be either inaugurated or have its foundation stone laid in recent weeks. "During this period, the foundation stone of a major semiconductor factory in Noida was laid, the country's first Delhi-Meerut Namo Bharat train gained speed, the Meerut Metro was expanded, and today the Noida International Airport is being inaugurated," highlighted PM Modi.

The Prime Minister credited the current Government for these remarkable achievements in UP's development. He noted that the semiconductor factory is making India self-reliant in technology, the Meerut Metro and Namo Bharat Rail are providing fast and smart connectivity, and the Jewar Airport is connecting entire North India to the world. " Today under the current government, the same Noida is becoming a powerful engine of UP's development," asserted Shri Modi.

Elaborating on the history of the airport project, The Prime Minister recalled that the Jewar Airport was approved by Atal ji as early as 2003. And as soon as the current government was formed here, the foundation was laid, construction happened, and now it has started operations," said Shri Modi.

Drawing attention to the region's emerging role as a logistics hub, the Prime Minister pointed out that this area is becoming the hub of two major freight corridors , special railway tracks laid for goods trains, which have enhanced North India's connectivity with the seas of Bengal and Gujarat. He noted that Dadri is the strategic point where both these corridors converge, meaning whatever farmers grow and industries produce here can now reach every corner of the world swiftly, by land and by air. "This kind of multi-modal connectivity is making UP a major attraction for investors worldwide," explained PM Modi.

Addressing the transformation of the region's image, the Prime Minister said. "Today, Noida is ready to welcome the entire world. This whole area is strengthening the resolve of Aatmanirbhar Bharat”.

The Prime Minister expressed his gratitude to the farmers who gave up their lands to make this project a reality, noting that agriculture and farming hold great importance in the region's economy. Shri Modi noted that the expansion of modern connectivity will further boost food processing prospects in Western UP, adding, "The agricultural produce from here will now reach global markets more efficiently."

Acknowledging the contribution of sugarcane farmers to reducing India's dependence on crude oil, the Prime Minister highlighted the significant role of ethanol produced from sugarcane. PM Modi highlighted that without the increase in ethanol production and its blending with petrol, India would have had to import an additional four and a half crore barrels,approximately 700 crore litres of crude oil annually, adding, "The hard work of our farmers has given the country this enormous relief during the time of crisis."

The Prime Minister further elaborated that ethanol has not only benefited the nation but has also greatly benefited farmers, with approximately Rs 1.5 lakh crore worth of foreign exchange being saved. He recalled the earlier days when sugarcane farmers had to wait for years for their dues. "Today, thanks to the efforts of the current Government, the condition of sugarcane farmers has improved significantly," affirmed Shri Modi.

Emphasizing that airports are not merely amenities but catalysts for progress, the Prime Minister pointed out the remarkable expansion of India's aviation infrastructure. Highlighting that today, there are more than 160 airports, PM Modi remarked that the Air connectivity is now reaching not just metropolitan cities but also smaller towns. “ The current government has made air travel accessible for the common Indian," asserted Shri Modi, adding that the number of airports in Uttar Pradesh has been increased to seventeen.

Highlighting the impact of the UDAN scheme, the Prime Minister said that the government has consistently strived to ensure that while airports are built, airfares remain within the reach of ordinary families. Noting that more than one crore sixty lakh citizens have travelled by air at affordable rates by booking tickets under the UDAN scheme, Shri Modi remarked, “ Recently, the Central Government has further expanded the UDAN scheme with an approval of approximately Rs 29,000 crore, under which 100 new airports and 200 new helipads will be built in smaller cities in the coming years. UP will also benefit immensely from this."

Speaking about India's rapidly growing aviation sector, the Prime Minister noted that as new airports are being built, the demand for new aircraft is also rising, with various airlines placing orders for hundreds of new planes. Shri Modi observed that this creates tremendous opportunities for the youth, including pilots, cabin crew, and maintenance professionals, adding that "our government is also expanding training facilities in the aviation sector" to meet this growing demand.

Addressing a critical gap in India's aviation ecosystem, the Prime Minister drew attention to the Maintenance, Repair, and Overhaul (MRO) sector, noting that 85 per cent of Indian aircraft still have to go abroad for MRO services. PM Modi noted that the government has resolved to make India self-reliant in the MRO sector as well and highlighted that today, the foundation stone of an MRO facility has been laid here at Jewar. “When ready, it will serve aircraft from India and abroad , generating revenue for the country, keeping our money within India, and creating numerous jobs for the youth," announced Shri Modi.

Underlining the government's priority of ensuring citizen convenience and saving their time and money, the Prime Minister spoke about the expansion of modern rail services such as Metro and Vande Bharat. "The Delhi-Meerut Namo Bharat Rail has already been used by over two and a half crore passengers. The journey between Delhi and Meerut that used to take hours is now completed in minutes," said PM Modi.

Underscoring the unprecedented investment in modern infrastructure for a Viksit Bharat, the Prime Minister shared that over the past eleven years, the infrastructure budget has been increased more than six-fold, with Rs 17 lakh crore spent on highways and expressways and over one lakh kilometres of highways constructed. He noted that railway electrification has expanded from 20,000 kilometres before 2014 to over 40,000 kilometres since then, with nearly 100 per cent of the broad-gauge network now electrified. The Prime Minister highlighted that for the first time, the Kashmir Valley and the capitals of the North-East are being connected to the rail network, while port capacity has more than doubled in the past decade and the number of inland waterways continues to grow. "India is working at a rapid pace in every sector necessary for building a Viksit Bharat," stated Shri Modi.

Calling for collective effort and national unity in the face of global challenges, the Prime Minister said he had spoken at length in Parliament and held detailed discussions with Chief Ministers about tackling the crisis arising from the ongoing conflict. He appealed to the people to face this crisis with a calm mind and patience, calling it the greatest strength of Indians. PM Modi reiterated that what is in the interest of Indians and in the interest of India, that alone is the policy and strategy of the Government of India." I am fully confident that all political parties will lend strength to the country's united efforts”, concluded Shri Modi.