’’جس شمال مشرق کو نیتا جی نے ہندوستان کی آزادی کا گیٹ وےقرار دیا تھا، وہ اب نئے ہندوستان کے خواب کی تکمیل کا گیٹ وے بن رہا ہے‘‘
’’ہم شمال مشرق میں امکانات کو محسوس کرنے کے لئے کام کررہے ہیں‘‘
’’آج ملک کے نوجوان منی پور کے کھلاڑیوں سے تحریک حاصل کررہے ہیں‘‘
’’ایک ’بلاکیڈ اسٹیٹ‘سے منی پور بین الاقوامی تجارت کو بڑھاوا دینے والی ریاست بن گئی ہے‘‘
’’ہمیں منی پور میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے اور اسے ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جانا ہے؛ صرف ڈبل انجن کی حکومت ہی یہ کام کرسکتی ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ا ٓج منی پور کے امپھال میں 1850 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیرشدہ 13پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اورتقریباً2950 کروڑ روپے کے 9پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا ۔ یہ تمام پروجیکٹ مختلف شعبوں سے متعلق ہے، جیسے روڈ بنیادی ڈھانچہ، پینے کےپانی کی سپلائی، صحت، شہری ترقیات، ہاؤسنگ ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، صلاحیت سازی، آرٹ اور ثقافت وغیرہ۔

وزیر اعظم نے 1700کرو ڑ سے زیادہ کی لاگت سے بننے والے 5نیشنل ہائی وے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا ۔ انہوں نے 75کروڑ سے زیادہ کی لاگت سے این ایچ-37پر بارک ندی پر بننے والے اِسٹیل برج کا افتتاح کیا ، اس  سے سلچر اور امپھال کے درمیان بھاری ٹریفک سے بڑی حد تک نجات ملے گی۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے تقریباً 1100کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر 2387موبائل ٹاور منی پور کے عوام کو وقف کیا۔

وزیر اعظم نے تھاؤبل کثیر المقاصد پروجیکٹ کے واٹر ٹرانسمیشن سسٹم کا بھی افتتاح کیا، جس پر 280کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔اس کے ذریعے امپھال شہر میں پینے کے پانی کی فراہمی کی جائے گی۔تمنگ لونگ ضلع کے 10رہائشی علاقوں کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرانے کےلئے 65کروڑ روپے کی لاگت سے ایک واٹر سپلائی اسکیم پروجیکٹ کی تعمیر ہوئی ہے اور ’آگمنٹیشن  آف سیناپتی ہیڈ کوارٹر واٹر سپلائی اسکیم‘کی تعمیر 51کروڑ روپے کی لاگت سے ہوئی ہے۔ اس کے ذریعے علاقے کے شہریوں کو روزانہ پینے کا پانی مہیا کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے امپھال میں ’اسٹیٹ آف دی آرٹ کینسر ہاسپٹل‘کا سنگ بنیا درکھا ۔ پی پی پی بنیاد پر اس کی تعمیر پر 160کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔انہوں نے ’کیام گئی میں200 بیڈ والے کووڈاسپتال‘ کا افتتاح کیا، جس کو ڈی آر ڈی او کے اشتراک سے 37کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔’امپھال اسمارٹ سٹی مشن‘کے ذریعے 170کروڑ سے زیادہ کی لاگت سے تیار شدہ تین پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔اس کے ساتھ ہی انٹیگریڈیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (آئی سی سی سی)‘ ڈیولپمنٹ  آف ویسٹرن ریور فرنٹ آن امپھال ریور(فیز I)اور تھنگل بازار میں مال روڈ کی ترقیات(فیزI-)کا بھی افتتاح کیا۔

وزیر اعظم نے ’سینٹر فار انونشن ، انوویشن،انکیو بیشن اینڈ ٹریننگ(سی آئی آئی آئی ٹی)، کا سنگ بنیاد بھی رکھا، جس کی تعمیر پر تقریباً 200کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔انہوں نے ہریانہ کے گرگاؤں میں 240کروڑ سے زیادہ کی لاگت سے بننے والے منی پور انسٹی ٹیوٹ آف پرفارمنگ آرٹس کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

اس موقع پر منعقد ایک عوامی اجتما ع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اب سے چند دن بعد 21جنوری آئے گی، جو منی پور کو ریاست کا درجہ ملنے کی 50ویں سالگرہ ہوگی۔یہ سچائی آزادی کے 75سال کے موقع پر امرت مہوتسو کے تناظر میں اپنے آپ میں ایک بڑی تحریک ہے۔

منی پور کے لوگوں کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے عوام کے درمیان آزادی کو لے کر اعتماد کا آغاز موئی رانگ کی سرزمین سے ہوا، جہاں نیتاجی سبھاش  کی فوج پہلی مرتبہ قومی جھنڈا لہرایا تھا۔شمال مشرق ، جسے نیتا جی نے ہندوستان کی آزادی کا گیٹ وے قرار دیا تھا، وہ نئے ہندوستان کے خواب کی تکمیل کا گیٹ وے بن رہا ہے۔انہوں نے اس بات کو دوہرایا کہ مشرق اور ہندوستان کے شمال مشرقی حصے ہندوستان کی ترقی کا ذریعہ بنیں گے اور اسے آج خطے کی ترقی میں دیکھا جاسکتا ہے۔

وزیر اعظم نے آج جن پروجیکٹوں کا افتتاح ہوا یا جن کا سنگ بنیاد رکھا گیا  ، اس کو لے کر منی پور کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کےلئے منی پور کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا، جو پوری اکثریت اور مکمل اثرات کے ساتھ کام کررہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسی استحکام اور  منی پور کے عوام کے انتخاب کے سبب 6لاکھ کسان خاندان  کسان سمان ندھی کے تحت ہزاروں کروڑ روپے حاصل کررہے ہیں۔ پی ایم غریب کلیان اسکیم کے تحت 6لاکھ غریب خاندانوں کو فائدہ مل رہا ہے۔پی ایم اے وائی کے تحت 80ہزار گھر بنے ہیں، آیوشمان یوجنا کے تحت 4.25لاکھ مریضوں کو مفت طبی علاج فراہم ہورہا ہے؛ 1.5لاکھ مفت گیس کنکشن دیئے گئے ہیں؛ 1.3لاکھ مفت بجلی کنکشن ؛30ہزار بیت الخلاء؛30لاکھ سے زیادہ مفت ٹیکے کی خوراکیں۔ ریاست کے ہر ضلع میں آکسیجن پلانٹ کی تعمیر حقیقت بن سکی۔

وزیر اعظم نے یاد کیا کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے بھی وہ کئی بار منی پور آچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ان کے درد کو سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ ’’یہی وجہ ہے کہ 2014ء کے بعد میں دہلی کی حکومت کو آپ کے دروازے پر لے آیا۔‘‘ہر افسر اور وزیر سے کہا گیا کہ وہ اس خطے کا دورہ کرے اور خطے کے عوام کی مقامی ضروریات کے مطابق خدمت کرے۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وزراء کی کونسل میں اِس خطے کے پانچ اہم چہرے اہم وزارتیں سنبھال رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ حکومت نے سات سال تک جس طرح محنت  سے کام کیا ہے، اس کے اثرات کو پورے شمال مشرق اور خاص طورپر منی پور میں دیکھا جاسکتاہے۔آج منی پور تبدیلی کی نیو ورک کلچر  کی علامت بن رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں منی پور کی ثقافت کے لئے اور ان کی دیکھ بھال کے لئےہیں۔کنکٹی وٹی کو بھی اس تبدیلی میں اولیت حاصل ہے اور تعمیریت بھی یکساں طورپر اہم ہے۔وزیر اعظم نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بہتر موبائل نیٹ ورک سمیت روڈ اور بنیادی ڈھانچے کے یہ پروجیکٹ کنکٹی وٹی کو مضبوطی فراہم کریں گے۔سی آئی آئی ٹی سے مقامی نوجوانوں میں تعمیری جذبہ اور جدت طرازی کی روح پیدا ہوگی۔جہاں تک صحت کی دیکھ بھال کا تعلق ہے ، جدید کینسر اسپتال سے اس میں بڑی مدد ملے گی اور منی پور انسٹی ٹیوٹ آف پرفامنگ آرٹ اور گووند جی مندر کی تزئین نو سے یہاں کی ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے شمال مشرق کے لئے ’ایکٹ ایسٹ‘کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان نے اس خطے کو قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے اور یہاں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ سیاحت اور ترقی کے لئے بھی بے پناہ امکانات یہاں ہیں۔انہوں نے آگے کہا کہ  اب شمال مشرق کی انہی امکانات کو محسوس کرنے کا کام ہورہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شمال مشرق ہندوستان کی ترقی کا گیٹ وے بن رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ منی پور نے ملک کو ایک سے ایک انمول رتن دیئے ہیں۔نوجوان اور خاص طورپر منی پور کی لڑکیوں نے پوری دنیا میں ملک کا سر فخر سے اونچا کیا ہے۔خاص طور سے آج ملک کے تمام  نوجوان منی پور کے کھلاڑیوں سےتحریک حاصل کررہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈبل انجن کی حکومت کی مسلسل کوششوں سے آج اِس خطے میں انتہا پسندی اور عدم تحفظ کی کوئی آگ نہیں ہے، بلکہ ہر طرف امن اور ترقی کی روشنی ہے۔شمال مشرق کے ہزاروں نوجوان ہتھیار چھوڑ چکے ہیں اور ترقی کے قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ معاہدے جو دہائیوں سے التوا میں تھے، موجودہ حکومت نے ان تاریخی معاہدوں کو اختتام تک پہنچایاہے۔ایک ’ بلاکیڈ اسٹیٹ‘ سے منی پوربین الاقوامی تجارت  کے لئے راستے دینے والی ریاست بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منی پور کے لئے 21ویں صدی کی یہ دہائی بہت اہم ہے۔ماضی میں جو وقت برباد ہوا ، اس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک منٹ بھی ضائع کرنے کے لئے نہیں ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا ’’ہمیں منی پور میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے اور منی پور کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانا بھی ہے اور صرف ڈبل انجن کی حکومت ہی اس کام کو کرسکتی ہے۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Unstoppable bull run! Sensex, Nifty hit fresh lifetime highs on strong global market cues

Media Coverage

Unstoppable bull run! Sensex, Nifty hit fresh lifetime highs on strong global market cues
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi ignites massive Barasat rally, West Bengal
May 28, 2024
TMC's narrative against the CAA has been fuelled by appeasement politics: PM Modi in Barasat
The Calcutta High Court's verdict has unmasked TMC's deception towards the OBCs in Bengal: PM Modi
Bengal was first looted by Congress and then Left. Now, TMC is looting it with both hands: PM Modi in Barasat

Prime Minister Narendra Modi, in a grand Barasat rally, vowed to combat corruption in Bengal and propel its culture and economy to new heights. Addressing the huge gathering, PM Modi said, “Today, India is on the path to becoming developed. The strongest pillar of this development is eastern India. In the last 10 years, the expenses made by the BJP Government in eastern India was never made in 60-70 years."

Initiating his spirited address, PM Modi said that he closely monitored the cyclone's progress, commending the NDRF and other teams for their exemplary efforts. He also assured that “The Central Government is committed to providing all necessary support to the State Government.”

Delving deep into his speech, PM Modi underscored the pivotal role of Eastern India in India's developmental trajectory and remarked, “In the journey of India's progress, Eastern India stands as a significant force. Over the past decade, the BJP government has allocated more funds to Eastern India than in the preceding six to seven decades. Our efforts have been dedicated to enhancing connectivity across the region, spanning railways, expressways, waterways, and airports.”

The PM also shed light on Bengal’s rich history and its current economic challenges, “Before independence, Bengal was a thriving hub of employment for countless Indians. Today, however, many factories in Bengal lie dormant, forcing its youth to seek opportunities elsewhere. The blame for this decline falls squarely on the shoulders of Congress, followed by the Left, and now TMC. Each party has contributed to Bengal's woes, with every vote for CPM ultimately benefiting TMC.”

Reflecting on his past promises, PM Modi reiterated his commitment to combating corruption in India, “Ten years ago, I pledged to eradicate corruption, and I've upheld that promise. Now, I assure the nation that ‘Naa Khaunga, Naa Khane Dunga’! Recent recoveries of illicit funds from TMC leaders will be thoroughly investigated, and legal measures are being implemented to ensure justice.”

Amidst discussions on scrutinizing the finances of the common citizens by the INDI Alliance, PM Modi shifted the focus to those engaged in corruption and explicitly commented, “Modi vows to examine the ill-gotten gains of corrupt individuals. An X-ray so powerful that it will deter future generations from indulging in corruption.”

“The Calcutta High Court's verdict has unmasked TMC's deception towards the OBCs in Bengal. By designating 77 Muslim castes as OBCs, TMC unlawfully deprived lakhs of OBC youths of their rights. Yet, observe the response of the TMC CM following this judicial decision, here questions are being raised on the intentions of the judges...” the PM reprimanded strongly.

PM Modi shared that a troubling incident unfolded when a TMC MLA made derogatory remarks about Hindus and Bengal's saints rightfully demanded an apology, “However, instead of rectifying the error, TMC resorted to insulting the saint community itself. Notably, saints associated with ISKCON, Ramakrishna Mission, and Bharat Sevashram Sangh faced disparagement. All this just to appease their vote bank. Furthermore, when sisters from Sandeshkhali sought justice, TMC chose to target them instead.”

“Despite its claims of advocating for the welfare of the people and the land, TMC's actions have sowed fear among mothers and insulted the sanctity of the soil. Even TMC's women MLAs who dare to speak out against its hooliganism face retaliation. Recently, a distressing video surfaced featuring mothers and sisters from Keshpur, West Medinipur, pleading for protection from TMC's goons. It's imperative to hold such acts accountable through the power of your vote,” the PM expressed deep grief.

PM Modi mentioned that “TMC's narrative against the Citizenship Amendment Act (CAA) has been fuelled by appeasement politics. However, the reality is evident as hundreds of refugees have successfully obtained citizenship, visible to the entire nation.” “Forget TMC, no power in the world can impede the implementation of CAA,” PM Modi reassured strongly.

“With the country's resolute decision to elect the Modi government in Delhi”, PM Modi urged the audience, “Come June 1, let the lotus blossom across every seat, including Barasat.” The PM also asked the crowd to venture door to door, village to village, and seek blessings at every temple and place of worship.

“Together, let's usher in a Viksit Bengal and a Viksit Bharat,” the PM concluded.