وزیر اعظم نے آج کولمبو میں واقع  صدارتی سیکرٹریٹ میں سری لنکا کے صدرعزت مآب انورا کمارا ڈسانائیکا کے ساتھ ایک نتیجہ خیز ملاقات کی۔  مذاکرات سے قبل انڈیپینڈنس اسکوائر پر وزیراعظم کا رسمی استقبال کیا گیا۔ ستمبر 2024 میں صدر ڈسنائیکا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم سری لنکا کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما ہیں۔

 

2. دونوں رہنماؤں نے مشترکہ تاریخ  سے وابستہ اور مضبوط عوامی روابط پر مبنی خصوصی اور قریبی دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر محدود اور وفود کی سطح پر تفصیلی بات چیت کی ۔ انہوں نے باہمی روابط، ترقیاتی تعاون، اقتصادی تعلقات، دفاعی تعلقات، مفاہمت اور ماہی گیروں کے مسائل کے شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کی پڑوس کی پہلی پالیسی اور وژن مہاساگر میں سری لنکا کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سری لنکا کی اقتصادی بحالی اور استحکام میں مدد کے لیے ہندوستان کے مسلسل عزم سے آگاہ کیا۔

3. بات چیت کے بعد، دونوں رہنماؤں نے ورچوئل انداز میں کئی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان میں  پورے سری لنکا میں مذہبی مقامات پر نصب 5000 سولر روف ٹاپ اکائیوں اور دمبولا میں درجہ حرارت پر قابو پانے والے گودام کی سہولت شامل ہے۔ انہوں نے  ورچوئل انداز میں 120 میگاواٹ سمپور سولر پاور پروجیکٹ کے آغاز کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔

 

4. دونوں رہنماؤں نے مشرقی صوبے میں توانائی، ڈیجیٹل کاری ، دفاع، صحت اور کثیر شعبہ جاتی امداد کے شعبوں میں سات مفاہمت کی یادداشتوں کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔ وزیر اعظم نے ترنکومالی میں تھیروکونیشورم مندر، انورادھا پورہ میں سیکرڈ سٹی پروجیکٹ اور نوارا ایلیا میں سیتا ایلیا مندر کمپلیکس کی ترقی کے لیے حمایت کا اعلان کیا۔ صلاحیت سازی اور اقتصادی مدد کے شعبوں میں، سالانہ 700 اضافی سری لنکائی شہریوں کو تربیت دینے کے لیے ایک جامع پیکج، اور قرض کی تنظیم نو پر دو طرفہ ترمیمی معاہدوں کے اختتام کا بھی اعلان کیا گیا۔ دونوں ممالک کے مشترکہ بدھ وراثت کو مدنظر رکھتے ہوئے، وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ گجرات سے بھگوان بدھ کے مقدس آثار ویساک کے عالمی دن کی تقریبات کے لیے سری لنکا جائیں گے۔ مفاہمتی عرضداشتوں  اور اعلانات کی فہرست یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”