اندور میں رام نومی حادثے میں ہوئے جانی نقصان پر اظہار افسوس
’’ہندوستانی ریلوے کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال جب ایک وزیر اعظم نے ایک ہی ریلوے اسٹیشن کا دو بار بہت کم عرصے میں دورہ کیا ہے‘‘
’’بھارت اب نئی سوچ اور نقطہ نظر کے ساتھ کام کر رہا ہے‘‘
’’وندے بھارت ہندوستان کے جوش اور جذبہ کی علامت ہے، یہ ہماری ہنرمندی، اعتماد اور صلاحیتوں کی نمائندگی کرتا ہے‘‘
’’وہ ووٹ بینک کی نازبرداری (تشٹی کرن) میں مصروف تھے، ہم شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے (سنتشٹی کرن) کے لیے پرعزم ہیں ‘‘
’’ایک اسٹیشن ایک پروڈکٹ‘‘ کے تحت 600 آؤٹ لیٹس کام کر رہے ہیں اور ایک لاکھ خریداری مختصر وقت میں کی گئی ہے
’’ہندوستانی ریلوے ملک کے عام خاندانوں کے لیے سہولت کا مترادف بنتا جا رہا ہے‘‘
’’آج مدھیہ پردیش مسلسل ترقی کی نئی داستان رقم کررہا ہے‘‘
’’مدھیہ پردیش کی کارکردگی ترقی کے بیشتر پیرامیٹرز پر قابل ستائش ہے، جبکہ کبھی اس ریاست کو ’بیمارو‘ کہا جاتا تھا‘‘
ہندوستان کا غریب، ہندوستان کا متوسط طبقہ، ہندوستان کے قبائلی، ہندوستان کا دلت پسماندہ، ہر ہندوستانی میری حفاظتی ڈھال بن گیا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج مدھیہ پردیش کے بھوپال میں رانی کملا پتی ریلوے اسٹیشن سے بھوپال اور نئی دہلی کے درمیان وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی۔ جائے تقریب پر پہنچ کر وزیر اعظم نے رانی کملا پتی - نئی دہلی وندے بھارت ایکسپریس کا معائنہ کیا اور ٹرین کے بچوں اور عملے سے بھی بات چیت کی۔

 
.

وزیر اعظم نے اندور کے ایک مندر میں رام نومی کے دوران پیش آنے والے سانحہ کے بارے میں غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خطاب کا آغاز کیا اور ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس حادثے کے دوران زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی خواہش بھی ظاہر کی۔

وزیر اعظم نے مدھیہ پردیش کے لوگوں کو پہلی وندے بھارت ٹرین ملنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرین دہلی اور بھوپال کے درمیان سفر کے وقت کو کم کرے گی اور پیشہ ور افراد اور نوجوانوں کو بہت سی سہولیات اور راحتیں فراہم کرے گی۔

وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ آج کے ادارے، رانی کملا پتی اسٹیشن کا افتتاح بھی انھوں نے ہی کیا تھا۔ انہوں نے دہلی کے لیے ہندوستان کی جدید ترین وندے بھارت ایکسپریس کو جھنڈی دکھانے کا موقع ملنے پر بھی اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ آج ہندوستانی ریلویز کی تاریخ کا ایک نادر موقع ہے جب کسی وزیر اعظم نے ایک ہی ریلوے اسٹیشن کا بہت ہی مختصر عرصے میں دو مرتبہ دورہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج کا موقع جدید ہندوستان میں ایک نئی ترتیب اور نئی روایات کی تشکیل کی بہترین مثال ہے۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر اسکول کے بچوں کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کیا اور بچوں میں ٹرین کے تئیں تجسس اور جوش کے جذبے کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایک طرح سے، وندے بھارت ہندوستان کے جوش اور جذبے کی علامت ہے۔ یہ ہماری ہنرمندیوں، اعتماد اور صلاحیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے اس علاقے میں سیاحت کے حوالے سے ٹرین کے فوائد پر بھی روشنی ڈالی، کیونکہ اس کے سبب سانچی، بھیم بیٹکا، بھوجپور اور ادے گیری کے غاروں میں لوگوں کی آمد و رفت بڑھ جائے گی اور اس سے روزگار، آمدنی اور خود روزگار کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔

اکیسویں صدی کے ہندوستان کی نئی سوچ اور نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی قیمت پر سابقہ حکومت کی نازبرداری کی پالیسی کو یاد کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’وہ ووٹ بینک کی نازبردار (تشٹی کرن) میں مصروف تھے، ہم شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے (سنتشٹی کرن)  کے تئیں پرعزم ہیں۔‘‘ ہندوستانی ریلوے کو مشترکہ خاندانی ٹرانسپورٹ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے پوچھا کہ اسے پہلے کیوں اپ گریڈ اور جدید نہیں بنایا گیا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ماضی کی حکومتیں پہلے سے موجود ریل نیٹ ورک کو آسانی سے اپ گریڈ کر سکتی تھیں جسے ہندوستان نے آزادی کے بعد حاصل کیا تھا لیکن ذاتی سیاسی مفادات کی وجہ سے ریلوے کی ترقی کو قربان کر دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کی کئی دہائیوں کے بعد بھی،  شمال مشرقی ریاستیں ریل نیٹ ورک سے منسلک نہیں ہوسکیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ہندوستانی ریلوے کو دنیا کا بہترین ریل نیٹ ورک بنانے کی کوشش کی ہے۔ 2014 سے پہلے ہندوستانی ریلوے کو ملنے والی منفی تشہیر پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس وسیع ریل نیٹ ورک میں ہزاروں بغیر چوکیدار والے پھاٹکوں کے مسئلے پر توجہ دی جس کی وجہ سے جان لیوا حادثات ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج براڈ گیج نیٹ ورک بغیر چوکیدار والے پھاٹکوں سے پاک ہے۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پہلے ٹرین حادثات سے متعلق خبریں عام تھیں، جن میں جان و مال کا نقصان ہوتا تھا، لیکن آج ہندوستانی ریلوے بہت زیادہ محفوظ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے میڈ ان انڈیا ’کَوَچ‘ کے دائرۂ کار کو بڑھایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حفاظت کا نقطہ نظر صرف حادثات تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ یہ بھی کہ سفر کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جاسکے، جو خواتین کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ صفائی، وقت کی پابندی اور ٹکٹوں کی کالا بازاری جیسے مسائل کو ٹیکنالوجی اور مسافروں کے تئیں فکرمندی کے ذریعے حل کیا گیا ہے۔

جناب مودی نے کہا کہ ’ایک اسٹیشن ایک پروڈکٹ‘ پہل کے ذریعے، ریلوے مقامی کاریگروں کی مصنوعات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے ایک طاقتور ٹول کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت، مسافر اسٹیشن پر ہی ضلع کی مقامی مصنوعات جیسے دستکاری، آرٹ، برتن، کپڑا، پینٹنگ وغیرہ خرید سکتے ہیں۔ ملک میں تقریباً 600 آؤٹ لیٹس پہلے ہی کام کر رہے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ خریداری کی جا چکی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’آج ہندوستانی ریلوے ملک کے عام خاندانوں کے لیے سہولت کا مترادف بنتا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے اس سلسلے میں ریلوے اسٹیشن کو جدید بنانے، 6000 اسٹیشنوں پر وائی فائی کی سہولیات اور 900 اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی جیسی سہولیات کا ذکر کا۔ انہوں نے نوجوانوں میں وندے بھارت کی مقبولیت اور ملک کے کونے کونے سے وندے بھارت کی بڑھتی ہوئی مانگ پر روشنی ڈالی۔

وزیر اعظم نے اس سال کے بجٹ میں ریلوے کے لیے ریکارڈ رقم مختص کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ارادہ ہو، ارادے صاف ہوں اور عزم پختہ ہو تو نئی راہیں نکلتی ہیں۔ جناب مودی نے بتایا کہ پچھلے 9 سالوں میں ریل بجٹ میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور مدھیہ پردیش کو ریل سے متعلق بجٹ میں 13,000 کروڑ روپے دیے گئے جو کہ 2014 سے پہلے کے سالوں میں اوسطاً 600 کروڑ روپے ہوا کرتے تھے۔

ریلوے کی جدید کاری کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہر دوسرے دن ملک کے کسی نہ کسی حصے میں ریلوے نیٹ ورک کی 100 فیصد برق کاری کا کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش بھی ان 11 ریاستوں میں شامل ہے جہاں 100 فیصد برق کاری کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ 2014 کے بعد ہر سال ریلوے روٹس کی اوسط برق کاری 600 کلومیٹر سے 6000 کلومیٹر تک یعنی دس گنا بڑھ گئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’آج، مدھیہ پردیش مسلسل ترقی کی ایک نئی داستان لکھ رہا ہے۔ زراعت ہو یا صنعت، آج ایم پی کی طاقت ہندوستان کی طاقت کو بڑھا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مدھیہ پردیش کی کارکردگی ترقی کے زیادہ تر پیرامیٹرز میں قابل ستائش ہے، یہ وہ ریاست ہے جسے کبھی’’بیمارو‘‘ کہا جاتا تھا۔ وزیر اعظم نے مثال دی کہ مدھیہ پردیش غریبوں کے لیے گھر بنانے میں سرفہرست ریاستوں میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست ہر گھر کو پانی فراہم کرنے میں بھی بہترین کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ریاست کے کسانوں پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ گیہوں سمیت کئی فصلوں کی پیداوار میں نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے ریاست کی صنعتوں کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ یہ مسلسل نئے معیارات کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے لامتناہی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے ملک کے اندر اور باہر سے ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی ٹھوس کوششوں کے بارے میں لوگوں کو خبردار کیا اور کہا کہ ’’ہندوستان کا غریب، ہندوستان کا متوسط طبقہ، ہندوستان کے قبائلی، ہندوستان کا دلت پسماندہ، ہر ہندوستانی میری حفاظتی ڈھال بن گیا ہے۔‘‘ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ملک کی ترقی پر توجہ مرکوز رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ترقی یافتہ ہندوستان میں مدھیہ پردیش کے کردار کو مزید بڑھانا ہے۔ یہ نئی وندے بھارت ایکسپریس اس عزم کا ایک حصہ ہے۔

اس موقع پر مدھیہ پردیش کے گورنر جناب منگو بھائی پٹیل، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ریلوے کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو موجود تھے۔

پس منظر

وندے بھارت ایکسپریس نے ملک میں مسافروں کے سفر کے تجربے کو نئی شکل دی ہے۔ رانی کملا پتی ریلوے اسٹیشن، بھوپال اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے درمیان متعارف کرائی جانے والی نئی ٹرین ملک کی 11ویں وندے بھارت سروس اور 12ویں وندے بھارت ٹرین ہوگی۔ مقامی طور پر تیار کردہ وندے بھارت ایکسپریس ٹرین سیٹ جدید ترین مسافر سہولیات سے لیس ہے۔ یہ ریل استعمال کرنے والوں کے لیے تیز تر، زیادہ آرام دہ اور زیادہ آسان سفر کا تجربہ فراہم کرنے والی ہے، یہ سیاحت کو فروغ دے گی اور خطے میں اقتصادی ترقی کو فروغ حاصل ہوگا۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Getting excellent feedback, clear people across India voting for NDA, says PM Modi

Media Coverage

Getting excellent feedback, clear people across India voting for NDA, says PM Modi
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Overwhelming support for the NDA at PM Modi's rally in Nanded, Maharashtra
April 20, 2024
For decades, Congress stalled the development of Vidarbha & Marathwada: PM Modi
The land of Nanded reflects the purity of India's Sikh Gurus: PM Modi
The I.N.D.I alliance only believe in vote-bank politics: PM Modi

Ahead of the Lok Sabha elections, PM Modi addressed a public meeting in Nanded, Maharashtra amid overwhelming support by the people of BJP-NDA. He bowed down to prominent personalities including Guru Gobind Singh Ji, Nanaji Deshmukh, and Babasaheb Ambedkar.

Speaking on the initial phase of voting for the Lok Sabha elections, PM Modi said, “We have the popular support of the First-time voters with us.” He added, “I.N.D.I alliance have come together to save and protect their corruption and the people have thoroughly rejected them in the 1st phase of polling.” He added that the Congress Shehzada now has no choice but to contest from Wayanad, but like he left Amethi he may also leave Wayanad. He said that the country is voting for BJP-NDA for a ‘Viksit Bharat’.

Lamenting the Congress for stalling the development of the people, PM Modi said, “Congress is the wall between the development of Dalits, Poor & deprived.” He added that Congress even today opposes any developmental work that our government intends to carry out. He said that one can never expect them to resolve any issues and people cannot expect robust developmental prospects from them.

Highlighting the dire state and fragile conditions of Marathwada and Vidarbha, PM Modi said, “For decades, Congress stalled the development of Vidarbha & Marathwada.” He “It is the policies of the Congress that both Marathwada and Vidarbha are water-deficient, its farmers are poor and there are no prospects for industrial growth.” He said that our government has enabled 'Nal se Jal' to 80% of households in Nanded. He said that our constant endeavor has been to facilitate the empowerment of our farmers through record rise in MSPs, income support through PM-KISAN, and the promotion of ‘Sree Anna’.

Highlighting the infra impetus in Nanded in the last decade, PM Modi said, “To treat every wound given by Congress is Modi's guarantee.” He added “The ‘Shaktipeeth highway’ and ‘Latur Rail Coach Factory’ is our commitment to a robust infra.” He said that we aim to foster the development of the Marathwada region in the next 5 years.

Elaborating on the relationship between the Sikh Gurus and Nanded, PM Modi said, “The land of Nanded reflects the purity of India's Sikh Gurus.” He added that we are guided by the principles of Guru Gobind Singh Ji. “Over the years we have celebrated the 550th birth anniversary of Guru Nanak Dev Ji, the 400th birth anniversary of Guru Teg Bahadur Ji, and the 350th birth anniversary of Guru Gobind Singh Ji,” said PM Modi. He said that the Congress has always opposed the Sikh community and is taking revenge for 1984. He said that it is due to this that they oppose the CAA that aims to bring the Sikh brothers and sisters to India, granting them citizenship. He said that it was our government that brought back the Guru Granth Sahib from Afghanistan and facilitated the Kartarpur corridor. He said that various other decisions like the abrogation of Article 370 and the abolition of Triple Talaq have greatly benefitted our Muslim sisters and brothers.

Taking a dig at the I.N.D.I alliance, PM Modi said “The I.N.D.I alliance only believe in vote-bank politics.” He added that for this they have left no stone unturned to criticize and disrespect ‘Sanatana’. He said that it is the same I.N.D.I alliance that boycotted the Pran-Pratishtha of Shri Ram.

In conclusion, PM Modi said that we all must strive to ensure that India becomes a ‘Viksit Bharat’, and for that, it is the need of the hour to vote for the BJP-NDA. He thanked the people of Nanded for their overwhelming support and expressed confidence in a Modi 3.0.