ملک میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی موجودہ رفتار اور پیمانہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کی خواہشات کے عین مطابق ہے
وہ دن دور نہیں جب وندے بھارت ملک کے ہر حصے کو آپس میں جوڑ دے گی
جی-20 کی کامیابی نے ہندوستان کی جمہوریت، آبادی اور تنوع کی طاقت کو ظاہر کیا ہے
ہندوستان بیک وقت اپنے حال اور مستقبل کی ضروریات پر کام کر رہا ہے
امرت بھارت اسٹیشن آنے والے دنوں میں نئے بھارت کی پہچان بنیں گے
اب ریلوے اسٹیشنوں پر سالگرہ منانے کی روایت کو مزید وسعت دی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوں گے
ریلوے کے ہر ملازم کو سفر میں آسانی اور مسافروں کو اچھا تجربہ فراہم کرنے کے لیے مسلسل حساس رہنا ہوگا
مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی ریلوے اور معاشرے میں ہر سطح پر ہونے والی تبدیلیاں ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوں گی

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نو وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ یہ نئی وندے بھارت ٹرینیں ملک بھر میں رابطہ کو بہتر بنانے اور ریل مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے وزیر اعظم کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی طرف ایک قدم ہے۔ جن نئی ٹرینوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا وہ درج ذیل ہیں:

اودے پور - جے پور وندے بھارت ایکسپریس

  1. ترونلویلی-مدورائی-چنئی وندے بھارت ایکسپریس
  2. حیدرآباد - بنگلورو وندے بھارت ایکسپریس
  3. وجے واڑہ - چنئی (رینی گنٹا کے ذریعے) وندے بھارت ایکسپریس
  4. پٹنہ - ہاوڑہ وندے بھارت ایکسپریس
  5. کاسرگوڈ - تھرواننت پورم وندے بھارت ایکسپریس
  6. رورکیلا - بھونیشور - پوری وندے بھارت ایکسپریس
  7. رانچی - ہاوڑہ وندے بھارت ایکسپریس
  8. جام نگر-احمد آباد وندے بھارت ایکسپریس

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نو وندے بھارت ٹرینوں کے جھنڈی دکھانے کو ملک میں جدید رابطے کا ایک بے مثال موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی یہ رفتار اور پیمانہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کی خواہشوں کے عین مطابق ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج شروع ہونے والی ٹرینیں زیادہ جدید اور آرام دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وندے بھارت ٹرینیں نئے ہندوستان کے نئے جوش و جذبے کی علامت ہیں۔ انہوں نے وندے بھارت کے بڑھتے ہوئے جنون پر مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انہوں نے بتایا کہ وندے بھارت ٹرینوں میں ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے زیادہ مسافروں نے سفر کیا ہے۔

 

وزیر اعظم نے بتایا کہ 25 وندے بھارت ٹرینیں مختلف ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں میں لوگوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ آج اس میں 9 مزید وندے بھارت ٹرینیں شامل کی جا رہی ہیں اور انہوں نے کہا کہ ”وہ دن دور نہیں جب وندے بھارت ملک کے ہر حصے کو جوڑے گ“۔ انہوں نے ان لوگوں کے لیے وندے بھارت کی افادیت کو بھی بیان کیا جو وقت بچانا چاہتے ہیں اور ایک ہی دن کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وندے بھارت سے جڑے مقامات پر بڑھتی ہوئی سیاحت پر بھی روشنی ڈالی جس کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے ملک میں امید اور اعتماد کے ماحول کو اجاگر کیا کیونکہ ہر شہری ملک کی کامیابیوں پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے چندریان 3 اور آدتیہ ایل 1 کی تاریخی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح جی20 کی کامیابی نے ہندوستان کی جمہوریت، آبادی اور تنوع کی طاقت کو ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے خواتین کی قیادت میں ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فیصلہ کن لمحے کے طور پر ناری شکتی وندن ایکٹ کا بھی ذکر کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ بہت سے ریلوے اسٹیشن خواتین کارکنان چلا رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایک پر اعتماد ہندوستان بیک وقت اپنے حال اور مستقبل کی ضروریات پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ہموار تال میل اور نقل و حمل اور برآمدات سے متعلق قیمتوں میں کمی کے لیے نئی لاجسٹک پالیسی کے لیے پی ایم گتی شکتی ماسٹر پلان کو بھی بیان کیا۔ انہوں نے ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی کے بارے میں بھی بات کی کیونکہ ٹرانسپورٹ کے ایک موڈ کو دوسرے موڈ کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب عام شہریوں کے لیے سفر کی آسانی کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔

عام شہریوں کی زندگیوں میں ریلوے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پہلے وقتوں میں اس اہم شعبے کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ہندوستانی ریلوے کی تبدیلی کے لیے موجودہ حکومت کی کوششوں کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بجٹ میں اضافے کے بارے میں بتایا کیونکہ اس سال ریلوے کا بجٹ 2014 کے ریل بجٹ سے 8 گنا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ”ترقی کی راہ پر گامزن ہندوستان کو اب اپنے ریلوے اسٹیشنوں کو بھی جدید بنانا ہوگا“۔ اسی سوچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے پہلی بار ہندوستان میں ریلوے اسٹیشنوں کی ترقی اور جدید کاری کی مہم شروع کی گئی ہے۔ آج ملک میں ریلوے مسافروں کی سہولت کے لیے ریکارڈ تعداد میں فٹ اوور پل، لفٹ اور ایسکلیٹر بنائے جا رہے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی ملک کے 500 سے زائد بڑے اسٹیشنوں کی تعمیر نو کا کام شروع کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امرت کال کے دوران بنائے گئے ان نئے اسٹیشنوں کو امرت بھارت اسٹیشن کہا جائے گا۔ ”یہ اسٹیشن آنے والے دنوں میں نئے بھارت کی شناخت بن جائیں گے“، انہوں نے مزید کہا۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ریلوے نے ریلوے اسٹیشن کے قیام کے دن کو ’استھاپنا دیوس‘ کے طور پر منانا شروع کر دیا ہے اور کوئمبٹور، چھترپتی شیواجی ٹرمینس اور ممبئی میں ہونے والی تقریبات کا ذکر کیا۔ کوئمبٹور ریلوے اسٹیشن نے 150 سال مکمل کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ریلوے سٹیشنوں کی سالگرہ منانے کی اس روایت کو مزید وسعت دی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوں گے۔

محنتی ریلوے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ان سے کہا کہ وہ مسافروں کے لیے ہر سفر کو یادگار بنائیں۔ وزیر اعظم نے درخواست کی کہ ”ریلوے کے ہر ملازم کو سفر میں آسانی اور مسافروں کو اچھا تجربہ فراہم کرنے کے لیے مسلسل حساس رہنا چاہیے۔“

وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کے صفائی کے نئے معیار کو ہر شہری نے محسوس کیا ہے۔ انہوں نے سبھی سے کہا کہ وہ مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یکم اکتوبر کو صبح 10 بجے مجوزہ سوچھتا ابھیان میں شامل ہوں۔ انہوں نے سب سے یہ بھی کہا کہ وہ خود کو کھادی اور سودیشی مصنوعات کی خریداری کے لیے وقف کریں اور 2 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک سردار پٹیل کی جینتی کے دوران مزید ووکل فار لوکل بنیں۔

 

”مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی ریلوے اور معاشرے میں ہر سطح پر ہونے والی تبدیلیاں ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوں گی“، وزیر اعظم نے اپنے تبصرے کے اختتام پر کہا۔

اس موقع پر گورنر، وزرائے اعلیٰ، وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو موجود تھے۔

 

پس منظر

یہ نو ٹرینیں گیارہ ریاستوں یعنی راجستھان، تمل ناڈو، تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، بہار، مغربی بنگال، کیرالہ، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور گجرات میں رابطے کو فروغ دیں گی۔

یہ وندے بھارت ٹرینیں اپنے آپریشن کے راستوں پر تیز ترین ٹرینیں ہوں گی اور مسافروں کا کافی وقت بچانے میں مدد کریں گی۔ ان راستوں پر موجودہ تیز ترین ٹرینوں کے مقابلے میں، رورکیلا- بھونیشور- پوری وندے بھارت ایکسپریس اور کاسرگوڈ- تھرواننت پورم وندے بھارت ایکسپریس تقریباً 3 گھنٹے تیز ہو جائے گی۔ حیدرآباد – بنگلورو وندے بھارت ایکسپریس 2.5 گھنٹے مزید تیز ہو جائے گی۔ مدورائی- چنئی وندے بھارت ایکسپریس 2 گھنٹے؛ رانچی – ہاوڑہ وندے بھارت ایکسپریس، پٹنہ – ہاوڑہ وندے بھارت ایکسپریس اور جام نگر-احمد آباد وندے بھارت ایکسپریس تقریباً 1 گھنٹہ اور ادے پور - جے پور وندے بھارت ایکسپریس تقریباً آدھا گھنٹہ تیز ہو جائیں گی۔

ملک بھر میں اہم مذہبی مقامات کے رابطے کو بہتر بنانے کے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق، رورکیلا- بھونیشور- پوری وندے بھارت ایکسپریس اور ترونیل ویلی- مدورائی- چنئی وندے بھارت ایکسپریس پوری اور مدورائی کے اہم مذہبی شہروں کو جوڑے گی۔ اس کے علاوہ، وجے واڑہ – چنئی وندے بھارت ایکسپریس رینی گنٹا کے راستے سے چلے گی اور تروپتی مسافر مرکز سے رابطہ فراہم کرے گی۔

ان وندے بھارت ٹرینوں کے متعارف ہونے سے ملک میں ریل سروس کے ایک نئے معیار کا آغاز ہو گا۔ عالمی معیار کی سہولیات اور کوچ ٹیکنالوجی سمیت جدید حفاظتی خصوصیات سے آراستہ یہ ٹرینیں عام لوگوں، پیشہ ور افراد، تاجروں، طلبہ برادری اور سیاحوں کو جدید، تیز رفتار اور آرام دہ سفر کے ذرائع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گی۔

 

 

 

Click here to read full text speech

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India's pharma exports rise 10% to USD 27.9 bn in FY24

Media Coverage

India's pharma exports rise 10% to USD 27.9 bn in FY24
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Our government is dedicated to tribal welfare in Chhattisgarh: PM Modi in Surguja
April 24, 2024
Our government is dedicated to tribal welfare in Chhattisgarh: PM Modi
Congress, in its greed for power, has destroyed India through consistent misgovernance and negligence: PM Modi
Congress' anti-Constitutional tendencies aim to provide religious reservations for vote-bank politics: PM Modi
Congress simply aims to loot the 'hard-earned money' of the 'common people' to fill their coffers: PM Modi
Congress will set a dangerous precedent by implementing an 'Inheritance Tax': PM Modi

मां महामाया माई की जय!

मां महामाया माई की जय!

हमर बहिनी, भाई, दद्दा अउ जम्मो संगवारी मन ला, मोर जय जोहार। 

भाजपा ने जब मुझे पीएम पद का उम्मीदवार बनाया था, तब अंबिकापुर में ही आपने लाल किला बनाया था। और जो कांग्रेस का इकोसिस्टम है आए दिन मोदी पर हमला करने के लिए जगह ढ़ूंढते रहते हैं। उस पूरी टोली ने उस समय मुझपर बहुत हमला बोल दिया था। ये लाल किला कैसे बनाया जा सकता है, अभी तो प्रधानमंत्री का चुनाव बाकि है, अभी ये लाल किले का दृश्य बना के वहां से सभा कर रहे हैं, कैसे कर रहे हैं। यानि तूफान मचा दिया था और बात का बवंडर बना दिया था। लेकिन आप की सोच थी वही  मोदी लाल किले में पहुंचा और राष्ट्र के नाम संदेश दिया। आज अंबिकापुर, ये क्षेत्र फिर वही आशीर्वाद दे रहा है- फिर एक बार...मोदी सरकार ! फिर एक बार...मोदी सरकार ! फिर एक बार...मोदी सरकार !

साथियों, 

कुछ महीने पहले मैंने आपसे छत्तीसगढ़ से कांग्रेस का भ्रष्टाचारी पंजा हटाने के लिए आशीर्वाद मांगा था। आपने मेरी बात का मान रखा। और इस भ्रष्टाचारी पंजे को साफ कर दिया। आज देखिए, आप सबके आशीर्वाद से सरगुजा की संतान, आदिवासी समाज की संतान, आज छत्तीसगढ़ के मुख्यमंत्री के रूप में छत्तीसगढ़ के सपनों को साकार कर रहा है। और मेरा अनन्य साथी भाई विष्णु जी, विकास के लिए बहुत तेजी से काम कर रहे हैं। आप देखिए, अभी समय ही कितना हुआ है। लेकिन इन्होंने इतने कम समय में रॉकेट की गति से सरकार चलाई है। इन्होंने धान किसानों को दी गारंटी पूरी कर दी। अब तेंदु पत्ता संग्राहकों को भी ज्यादा पैसा मिल रहा है, तेंदू पत्ता की खरीद भी तेज़ी से हो रही है। यहां की माताओं-बहनों को महतारी वंदन योजना से भी लाभ हुआ है। छत्तीसगढ़ में जिस तरह कांग्रेस के घोटालेबाज़ों पर एक्शन हो रहा है, वो पूरा देश देख रहा है।

साथियों, 

मैं आज आपसे विकसित भारत-विकसित छत्तीसगढ़ के लिए आशीर्वाद मांगने के लिए आया हूं। जब मैं विकसित भारत कहता हूं, तो कांग्रेस वालों का और दुनिया में बैठी कुछ ताकतों का माथा गरम हो जाता है। अगर भारत शक्तिशाली हो गया, तो कुछ ताकतों का खेल बिगड़ जाएगा। आज अगर भारत आत्मनिर्भर बन गया, तो कुछ ताकतों की दुकान बंद हो जाएगी। इसलिए वो भारत में कांग्रेस और इंडी-गठबंधन की कमज़ोर सरकार चाहते हैं। ऐसी कांग्रेस सरकार जो आपस में लड़ती रहे, जो घोटाले करती रहे। 

साथियों,

कांग्रेस का इतिहास सत्ता के लालच में देश को तबाह करने का रहा है। देश में आतंकवाद फैला किसके कारण फैला? किसके कारण फैला? किसके कारण फैला? कांग्रेस की नीतियों के कारण फैला। देश में नक्सलवाद कैसे बढ़ा? किसके कारण बढ़ा? किसके कारण बढ़ा? कांग्रेस का कुशासन और लापरवाही यही कारण है कि देश बर्बाद होता गया। आज भाजपा सरकार, आतंकवाद और नक्सलवाद के विरुद्ध कड़ी कार्रवाई कर रही है। लेकिन कांग्रेस क्या कर रही है? कांग्रेस, हिंसा फैलाने वालों का समर्थन कर रही है, जो निर्दोषों को मारते हैं, जीना हराम कर देते हैं, पुलिस पर हमला करते हैं, सुरक्षा बलों पर हमला करते हैं। अगर वे मारे जाएं, तो कांग्रेस वाले उन्हें शहीद कहते हैं। अगर आप उन्हें शहीद कहते हो तो शहीदों का अपमान करते हो। इसी कांग्रेस की सबसे बड़ी नेता, आतंकवादियों के मारे जाने पर आंसू बहाती हैं। ऐसी ही करतूतों के कारण कांग्रेस देश का भरोसा खो चुकी है।

भाइयों और बहनों, 

आज जब मैं सरगुजा आया हूं, तो कांग्रेस की मुस्लिम लीगी सोच को देश के सामने रखना चाहता हूं। जब उनका मेनिफेस्टो आया उसी दिन मैंने कह दिया था। उसी दिन मैंने कहा था कि कांग्रेस के मोनिफेस्टो पर मुस्लिम लीग की छाप है। 

साथियों, 

जब संविधान बन रहा था, काफी चर्चा विचार के बाद, देश के बुद्धिमान लोगों के चिंतन मनन के बाद, बाबासाहेब अम्बेडकर के नेतृत्व में तय किया गया था कि भारत में धर्म के आधार पर आरक्षण नहीं होगा। आरक्षण होगा तो मेरे दलित और आदिवासी भाई-बहनों के नाम पर होगा। लेकिन धर्म के नाम पर आरक्षण नहीं होगा। लेकिन वोट बैंक की भूखी कांग्रेस ने कभी इन महापुरुषों की परवाह नहीं की। संविधान की पवित्रता की परवाह नहीं की, बाबासाहेब अम्बेडकर के शब्दों की परवाह नहीं की। कांग्रेस ने बरसों पहले आंध्र प्रदेश में धर्म के आधार पर आरक्षण देने का प्रयास किया था। फिर कांग्रेस ने इसको पूरे देश में लागू करने की योजना बनाई। इन लोग ने धर्म के आधार पर 15 प्रतिशत आरक्षण की बात कही। ये भी कहा कि SC/ST/OBC का जो कोटा है उसी में से कम करके, उसी में से चोरी करके, धर्म के आधार पर कुछ लोगों को आरक्षण दिया जाए। 2009 के अपने घोषणापत्र में कांग्रेस ने यही इरादा जताया। 2014 के घोषणापत्र में भी इन्होंने साफ-साफ कहा था कि वो इस मामले को कभी भी छोड़ेंगे नहीं। मतलब धर्म के आधार पर आरक्षण देंगे, दलितों का, आदिवासियों का आरक्षण कट करना पड़े तो करेंगे। कई साल पहले कांग्रेस ने कर्नाटका में धर्म के आधार पर आरक्षण लागू भी कर दिया था। जब वहां बीजेपी सरकार आई तो हमने संविधान के विरुद्ध, बाबासाहेब अम्बेडर की भावना के विरुद्ध कांग्रेस ने जो निर्णय किया था, उसको उखाड़ करके फेंक दिया और दलितों, आदिवासियों और पिछड़ों को उनका अधिकार वापस दिया। लेकिन कर्नाटक की कांग्रेस सरकार उसने एक और पाप किया मुस्लिम समुदाय की सभी जातियों को ओबीसी कोटा में शामिल कर दिया है। और ओबीसी बना दिया। यानि हमारे ओबीसी समाज को जो लाभ मिलता था, उसका बड़ा हिस्सा कट गया और वो भी वहां चला गया, यानि कांग्रेस ने समाजिक न्याय का अपमान किया, समाजिक न्याय की हत्या की। कांग्रेस ने भारत के सेक्युलरिज्म की हत्या की। कर्नाटक अपना यही मॉडल पूरे देश में लागू करना चाहती है। कांग्रेस संविधान बदलकर, SC/ST/OBC का हक अपने वोट बैंक को देना चाहती है।

भाइयों और बहनों,

ये सिर्फ आपके आरक्षण को ही लूटना नहीं चाहते, उनके तो और बहुत कारनामे हैं इसलिए हमारे दलित, आदिवासी और ओबीसी भाई-बहनों  को कहना चाहता हूं कि कांग्रेस के इरादे नेक नहीं है, संविधान और सामाजिक न्याय के अनुरूप नहीं है , भारत की बिन सांप्रदायिकता के अनुरूप नहीं है। अगर आपके आरक्षण की कोई रक्षा कर सकता है, तो सिर्फ और सिर्फ भारतीय जनता पार्टी कर सकती है। इसलिए आप भारतीय जनता पार्टी को भारी समर्थन दीजिए। ताकि कांग्रेस की एक न चले, किसी राज्य में भी वह कोई हरकत ना कर सके। इतनी ताकत आप मुझे दीजिए। ताकि मैं आपकी रक्षा कर सकूं। 

साथियों!

कांग्रेस की नजर! सिर्फ आपके आरक्षण पर ही है ऐसा नहीं है। बल्कि कांग्रेस की नज़र आपकी कमाई पर, आपके मकान-दुकान, खेत-खलिहान पर भी है। कांग्रेस के शहज़ादे का कहना है कि ये देश के हर घर, हर अलमारी, हर परिवार की संपत्ति का एक्स-रे करेंगे। हमारी माताओं-बहनों के पास जो थोड़े बहुत गहने-ज़ेवर होते हैं, कांग्रेस उनकी भी जांच कराएगी। यहां सरगुजा में तो हमारी आदिवासी बहनें, चंदवा पहनती हैं, हंसुली पहनती हैं, हमारी बहनें मंगलसूत्र पहनती हैं। कांग्रेस ये सब आपसे छीनकर, वे कहते हैं कि बराबर-बराबर डिस्ट्रिब्यूट कर देंगे। वो आपको मालूम हैं ना कि वे किसको देंगे। आपसे लूटकर के किसको देंगे मालूम है ना, मुझे कहने की जरूरत है क्या। क्या ये पाप करने देंगे आप और कहती है कांग्रेस सत्ता में आने के बाद वे ऐसे क्रांतिकारी कदम उठाएगी। अरे ये सपने मन देखो देश की जनता आपको ये मौका नहीं देगी। 

साथियों, 

कांग्रेस पार्टी के खतरनाक इरादे एक के बाद एक खुलकर सामने आ रहे हैं। शाही परिवार के शहजादे के सलाहकार, शाही परिवार के शहजादे के पिताजी के भी सलाहकार, उन्होंने  ने कुछ समय पहले कहा था और ये परिवार उन्हीं की बात मानता है कि उन्होंने कहा था कि हमारे देश का मिडिल क्लास यानि मध्यम वर्गीय लोग जो हैं, जो मेहनत करके कमाते हैं। उन्होंने कहा कि उनपर ज्यादा टैक्स लगाना चाहिए। इन्होंने पब्लिकली कहा है। अब ये लोग इससे भी एक कदम और आगे बढ़ गए हैं। अब कांग्रेस का कहना है कि वो Inheritance Tax लगाएगी, माता-पिता से मिलने वाली विरासत पर भी टैक्स लगाएगी। आप जो अपनी मेहनत से संपत्ति जुटाते हैं, वो आपके बच्चों को नहीं मिलेगी, बल्कि कांग्रेस सरकार का पंजा उसे भी आपसे छीन लेगा। यानि कांग्रेस का मंत्र है- कांग्रेस की लूट जिंदगी के साथ भी और जिंदगी के बाद भी। जब तक आप जीवित रहेंगे, कांग्रेस आपको ज्यादा टैक्स से मारेगी। और जब आप जीवित नहीं रहेंगे, तो वो आप पर Inheritance Tax का बोझ लाद देगी। जिन लोगों ने पूरी कांग्रेस पार्टी को पैतृक संपत्ति मानकर अपने बच्चों को दे दी, वो लोग नहीं चाहते कि एक सामान्य भारतीय अपने बच्चों को अपनी संपत्ति दे। 

भाईयों-बहनों, 

हमारा देश संस्कारों से संस्कृति से उपभोक्तावादी देश नहीं है। हम संचय करने में विश्वास करते हैं। संवर्धन करने में विश्वास करते हैं। संरक्षित करने में विश्वास करते हैं। आज अगर हमारी प्रकृति बची है, पर्यावरण बचा है। तो हमारे इन संस्कारों के कारण बचा है। हमारे घर में बूढ़े मां बाप होंगे, दादा-दादी होंगे। उनके पास से छोटा सा भी गहना होगा ना? अच्छी एक चीज होगी। तो संभाल करके रखेगी खुद भी पहनेगी नहीं, वो सोचती है कि जब मेरी पोती की शादी होगी तो मैं उसको यह दूंगी। मेरी नाती की शादी होगी, तो मैं उसको दूंगी। यानि तीन पीढ़ी का सोच करके वह खुद अपना हक भी नहीं भोगती,  बचा के रखती है, ताकि अपने नाती, नातिन को भी दे सके। यह मेरे देश का स्वभाव है। मेरे देश के लोग कर्ज कर करके जिंदगी जीने के शौकीन लोग नहीं हैं। मेहनत करके जरूरत के हिसाब से खर्च करते हैं। और बचाने के स्वभाव के हैं। भारत के मूलभूत चिंतन पर, भारत के मूलभूत संस्कार पर कांग्रेस पार्टी कड़ा प्रहार करने जा रही है। और उन्होंने कल यह बयान क्यों दिया है उसका एक कारण है। यह उनकी सोच बहुत पुरानी है। और जब आप पुरानी चीज खोजोगे ना? और ये जो फैक्ट चेक करने वाले हैं ना मोदी की बाल की खाल उधेड़ने में लगे रहते हैं, कांग्रेस की हर चीज देखिए। आपको हर चीज में ये बू आएगी। मोदी की बाल की खाल उधेड़ने में टाइम मत खराब करो। लेकिन मैं कहना चाहता हूं। यह कल तूफान उनके यहां क्यों मच गया,  जब मैंने कहा कि अर्बन नक्सल शहरी माओवादियों ने कांग्रेस पर कब्जा कर लिया तो उनको लगा कि कुछ अमेरिका को भी खुश करने के लिए करना चाहिए कि मोदी ने इतना बड़ा आरोप लगाया, तो बैलेंस करने के लिए वह उधर की तरफ बढ़ने का नाटक कर रहे हैं। लेकिन वह आपकी संपत्ति को लूटना चाहते हैं। आपके संतानों का हक आज ही लूट लेना चाहते हैं। क्या आपको यह मंजूर है कि आपको मंजूर है जरा पूरी ताकत से बताइए उनके कान में भी सुनाई दे। यह मंजूर है। देश ये चलने देगा। आपको लूटने देगा। आपके बच्चों की संपत्ति लूटने देगा।

साथियों,

जितने साल देश में कांग्रेस की सरकार रही, आपके हक का पैसा लूटा जाता रहा। लेकिन भाजपा सरकार आने के बाद अब आपके हक का पैसा आप लोगों पर खर्च हो रहा है। इस पैसे से छत्तीसगढ़ के करीब 13 लाख परिवारों को पक्के घर मिले। इसी पैसे से, यहां लाखों परिवारों को मुफ्त राशन मिल रहा है। इसी पैसे से 5 लाख रुपए तक का मुफ्त इलाज मिल रहा है। मोदी ने ये भी गारंटी दी है कि 4 जून के बाद छत्तीसगढ़ के हर परिवार में जो बुजुर्ग माता-पिता हैं, जिनकी आयु 70 साल हो गई है। आज आप बीमार होते हैं तो आपकी बेटे और बेटी को खर्च करना पड़ता है। अगर 70 साल की उम्र हो गई है और आप किसी पर बोझ नहीं बनना चाहते तो ये मोदी आपका बेटा है। आपका इलाज मोदी करेगा। आपके इलाज का खर्च मोदी करेगा। सरगुजा के ही करीब 1 लाख किसानों के बैंक खाते में किसान निधि के सवा 2 सौ करोड़ रुपए जमा हो चुके हैं और ये आगे भी होते रहेंगे।

साथियों, 

सरगुजा में करीब 400 बसाहटें ऐसी हैं जहां पहाड़ी कोरवा परिवार रहते हैं। पण्डो, माझी-मझवार जैसी अनेक अति पिछड़ी जनजातियां यहां रहती हैं, छत्तीसगढ़ और दूसरे राज्यों में रहती हैं। हमने पहली बार ऐसी सभी जनजातियों के लिए, 24 हज़ार करोड़ रुपए की पीएम-जनमन योजना भी बनाई है। इस योजना के तहत पक्के घर, बिजली, पानी, शिक्षा, स्वास्थ्य, कौशल विकास, ऐसी सभी सुविधाएं पिछड़ी जनजातियों के गांव पहुंचेंगी। 

साथियों, 

10 वर्षों में भांति-भांति की चुनौतियों के बावजूद, यहां रेल, सड़क, अस्तपताल, मोबाइल टावर, ऐसे अनेक काम हुए हैं। यहां एयरपोर्ट की बरसों पुरानी मांग पूरी की गई है। आपने देखा है, अंबिकापुर से दिल्ली के ट्रेन चली तो कितनी सुविधा हुई है।

साथियों,

10 साल में हमने गरीब कल्याण, आदिवासी कल्याण के लिए इतना कुछ किया। लेकिन ये तो सिर्फ ट्रेलर है। आने वाले 5 साल में बहुत कुछ करना है। सरगुजा तो ही स्वर्गजा यानि स्वर्ग की बेटी है। यहां प्राकृतिक सौंदर्य भी है, कला-संस्कृति भी है, बड़े मंदिर भी हैं। हमें इस क्षेत्र को बहुत आगे लेकर जाना है। इसलिए, आपको हर बूथ पर कमल खिलाना है। 24 के इस चुनाव में आप का ये सेवक नरेन्द्र मोदी को आपका आशीर्वाद चाहिए, मैं आपसे आशीर्वाद मांगने आया हूं। आपको केवल एक सांसद ही नहीं चुनना, बल्कि देश का उज्ज्वल भविष्य भी चुनना है। अपनी आने वाली पीढ़ियों का भविष्य चुनना है। इसलिए राष्ट्र निर्माण का मौका बिल्कुल ना गंवाएं। सर्दी हो शादी ब्याह का मौसम हो, खेत में कोई काम निकला हो। रिश्तेदार के यहां जाने की जरूरत पड़ गई हो, इन सबके बावजूद भी कुछ समय आपके सेवक मोदी के लिए निकालिए। भारत के लोकतंत्र और उज्ज्वल भविष्य के लिए निकालिए। आपके बच्चों की गारंटी के लिए निकालिए और मतदान अवश्य करें। अपने बूथ में सारे रिकॉर्ड तोड़नेवाला मतदान हो। इसके लिए मैं आपसे प्रार्थना करता हूं। और आग्राह है पहले जलपान फिर मतदान। हर बूथ में मतदान का उत्सव होना चाहिए, लोकतंत्र का उत्सव होना चाहिए। गाजे-बाजे के साथ लोकतंत्र जिंदाबाद, लोकतंत्र जिंदाबाद करते करते मतदान करना चाहिए। और मैं आप को वादा करता हूं। 

भाइयों-बहनों  

मेरे लिए आपका एक-एक वोट, वोट नहीं है, ईश्वर रूपी जनता जनार्दन का आर्शीवाद है। ये आशीर्वाद परमात्मा से कम नहीं है। ये आशीर्वाद ईश्वर से कम नहीं है। इसलिए भारतीय जनता पार्टी को दिया गया एक-एक वोट, कमल के फूल को दिया गया एक-एक वोट, विकसित भारत बनाएगा ये मोदी की गारंटी है। कमल के निशान पर आप बटन दबाएंगे, कमल के फूल पर आप वोट देंगे तो वो सीधा मोदी के खाते में जाएगा। वो सीधा मोदी को मिलेगा।      

भाइयों और बहनों, 

7 मई को चिंतामणि महाराज जी को भारी मतों से जिताना है। मेरा एक और आग्रह है। आप घर-घर जाइएगा और कहिएगा मोदी जी ने जोहार कहा है, कहेंगे। मेरे साथ बोलिए...  भारत माता की जय! 

भारत माता की जय! 

भारत माता की जय!