روزگار میلہ میں 51 ہزار نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری نامہ دینا بڑی خوشی کی بات ہے، ان تمام نوجوانوں کے لیے نیک خواہشات جو قوم کی تعمیر کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں: وزیر اعظم
ہمارا عزم ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار ملے: وزیراعظم
آج ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف گامزن: وزیر اعظم
ہم نے ہر نئی ٹیکنالوجی میں میک ان انڈیا کو فروغ دیا، ہم نے خود انحصار ہندوستان پر کام کیا: وزیر اعظم
پرائم منسٹر انٹرن شپ اسکیم کے تحت ہندوستان کی ٹاپ 500 کمپنیوں میں بامعاوضہ انٹرن شپ کا انتظام کیا گیا ہے: وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے روزگار میلہ سے خطاب کیا اور آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سرکاری محکموں اور تنظیموں میں نئے تقرر ہونے والے نوجوانوں کو 51,000 سے زیادہ تقرر نامے تقسیم کئے۔ روزگار میلہ روزگار پیدا کرنے کو ترجیح دینے کے وزیر اعظم کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ نوجوانوں کو قوم کی تعمیر میں رول ادا کرنے  کے بہتر مواقع فراہم کرکے انہیں بااختیار بنائے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دھن تیرس کے مبارک موقع کو یاد کیا اور اس موقع پر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس سال کی دیوالی ایک خاص ہوگی، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پہلی دیوالی ہے، جب سے بھگوان شری رام 500 سال بعد ایودھیا میں اپنے شاندار مندر میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی نسلوں نے اس دیوالی کا انتظار کیا ہے، جب کہ کئی نے اس کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ نسل اس طرح کی تقریبات کا مشاہدہ کرنے اور ان کا حصہ بننا انتہائی خوش قسمتی کی بات ہے۔ تہوار کے تناظر میں وزیر اعظم نے کہاکہ  51,000 نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے بھرتی کے خطوط دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نئے بھرتی ہونے والوں کو مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ لاکھوں نوجوانوں کو مستقل سرکاری ملازمتوں کی پیشکش ایک میراث ہے، جو مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور این ڈی اے کے اتحادیوں کی حکومت والی ریاستوں میں بھی لاکھوں نوجوانوں کو تقرر نامہ دیا گیا ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ ہریانہ میں تہوار کا ماحول ہے ،جس میں نئی ​​تشکیل شدہ حکومت کے ذریعہ 26,000 نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی۔ جناب مودی نے کہا کہ ان کی حکومت ہریانہ میں بغیر کسی خرچ یا سفارش کے نوکریاں دینے کی ایک خاص شناخت رکھتی ہے۔ انہوں نے ہریانہ کے 26,000 نوجوانوں کو مبارکباد پیش کی ،جنہیں آج کے روزگار میلے میں 51,000 نوکریوں کے علاوہ آج ان کے تقرر نامے سونپے جائیں گے۔

وزیراعظم نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار ملنا چاہیے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کا روزگار کے مواقع پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔وزیر اعظم نے ایکسپریس ویز، ہائی ویز، سڑکوں، ریل، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں کی ترقی، فائبر کیبل بچھانے، موبائل ٹاورز کی تنصیب اور توسیع پر روشنی ڈالی۔ ملک کے تمام حصوں میں پانی اور گیس کی پائپ لائنیں بچھانے، نئے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے قیام اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ کرکے لاجسٹک لاگت کو کم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ اس سے نہ صرف شہریوں کو فائدہ ہو رہا ہے، بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

کل گجرات میں وڈودرا کے اپنے دورہ کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے دفاعی شعبے کے لیے ایک طیارہ سازی کی سہولت کا افتتاح کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں شہریوں کو براہ راست روزگار ملے گا جبکہ ایم ایس ایم ای صنعتوں کو اسپیئر پارٹس اور دیگر آلات کی تیاری سے بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا، جس سے سپلائی چین کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک تیار ہو گا۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ایک ہوائی جہاز میں 15,000 سے 25,000 حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ہزاروں چھوٹی فیکٹریاں ایک میگا فیکٹری کے مطالبات کو پورا کرنے میں فعال کردار ادا کریں گی، اس طرح ہندوستان کے ایم ایس ایم ایز کو فائدہ ہوگا۔

 

وزیر اعظم نے  کہا کہ جب بھی کوئی اسکیم شروع کی جاتی ہے تو صرف شہریوں کو حاصل ہونے والے فوائد پر ہی توجہ مرکوز نہیں کی جاتی ہے، بلکہ وسیع تر دائرہ کار میں سوچ کر اسے ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے روزگار پیدا کرنے کے پورے ایکو سسٹم کو بھی تیار کیا جاتا ہے۔ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے 6 مہینوں میں تقریباً 2 کروڑ صارفین نے اسکیم کے لیے رجسٹریشن کرایاہے، 9000 سے زیادہ دکاندار اسکیم سے منسلک ہیں، 5 لاکھ سے زیادہ گھروں میں سولر پینل پہلے ہی نصب کیے جاچکے ہیں۔ مستقبل قریب میں اس اسکیم کے تحت 800 سولر ویلجز کو ماڈل کے طور پر بنانے کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چھت پر شمسی توانائی کی تنصیب کے لیے 30,000 افراد نے تربیت بھی حاصل کی ہے۔ لہذا، انہوں نے مزید کہاکہ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کی اس ایک اسکیم نے ملک بھر میں مینوفیکچررز، وینڈرز، اسمبلرز اور مرمت کرنے والوں کے لیے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا کیے ہیں۔

یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ہندوستان کی کھادی صنعت میں پچھلے 10 سالوں میں حکومت کی پالیسیوں سے تبدیلی آئی ہے اور اس نے گاؤں کے لوگوں کو متاثر کیا ہے، وزیر اعظم نے بتایا کہ کھادی گرام صنعت کا کاروبار آج 1.5 لاکھ کروڑ سے تجاوز کر گیا ہے۔ 10 سال پہلے کے  کاموں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کھادی کی فروخت میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے دستکاروں، بنکروں اور کاروباروں کو فائدہ پہنچا ہے اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ جناب مودی نے لکھپتی دیدی اسکیم پر بھی بات کی، جہاں دیہی خواتین کو روزگار اور خود روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں 10 کروڑ سے زیادہ خواتین خود مدد گروپوں میں شامل ہوئی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اب 10 کروڑ خواتین معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ہر قدم پر حکومت کی طرف سے فراہم کردہ تعاون کا سہرا دیا اور 3 کروڑ لکھ پتی دیدی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اب تک 1.25 کروڑ سے زیادہ خواتین لکھپتی دیدیاں بن چکی ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملک کی ترقی کی عکاسی کرتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کے نوجوانوں کے استفسار کو نوٹ کیا جو اکثر پوچھتے ہیں کہ ملک نے یہ رفتار پہلے کیوں حاصل نہیں کی۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اس کا جواب پچھلی حکومتوں میں واضح پالیسیوں اور ارادے کی کمی میں مضمر ہے، وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ ہندوستان کئی شعبوں بالخصوص ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستان دنیا بھر سے نئی ٹکنالوجیوں کا انتظار کرتا تھا اور ملک میں وہ جب پہنچتی تھیں، اس وقت  وہ مغرب میں پرانی ہوچکی ہوتی تھیں ۔ انہوں نے طویل عرصے سے  پیوست اس یقین کی نشاندہی کی کہ ہندوستان میں جدید ٹکنالوجی تیار نہیں کی جاسکتی ہے نہ صرف ہندوستان کو ترقی کے لحاظ سے پیچھے چھوٹ  گیا ہے، بلکہ ملک کو ملازمت کے اہم مواقع سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔

 

اس پرانی سوچ سے ملک کو آزاد کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میک ان انڈیا کو فروغ دے کر اس پرانی ذہنیت سے خلاء، سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانکس اور الیکٹرک گاڑیوں جیسے شعبوں میں اس سے آزاد ہونے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ وزیر اعظم نے تکنیکی ترقی اور سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے مزید کہا کہ پی ایل آئی اسکیم ہندوستان میں نئی ​​ٹیکنالوجی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے شروع کی گئی تھی، جس نے میک ان انڈیا پہل کے ساتھ مل کر روزگار کے مواقع کو تیز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر شعبے کو فروغ مل رہا ہے جو مختلف شعبوں میں نوجوانوں کو مواقع فراہم کر رہا ہے۔ آج، ہندوستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے، اور ریکارڈ مواقع پیدا ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پچھلے آٹھ سالوں میں، 1.5 لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپ شروع کیے گئے ہیں، جس سے ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شعبے ہمارے نوجوانوں کو ترقی اور روزگار حاصل کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت ہندستان کے نوجوانوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے آج ہنر مندی کی ترقی پر بہت توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ لہذا، انہوں نے مزید کہاکہ  حکومت نے اسکل انڈیا جیسے مشن شروع کیے اور نوجوانوں کو ہنر مندی کے فروغ کے کئی مراکز میں تربیت دی جا رہی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں کہ ہندوستان کے نوجوانوں کو تجربے اور مواقع کے لیے بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پردھان منتری انٹرن شپ یوجنا کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان کی سرفہرست 500 کمپنیوں میں ادا شدہ انٹرن شپ کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں ہر انٹرن کو ایک سال کے لیے 5,000 روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا ہدف اگلے 5 سالوں میں ایک کروڑ نوجوانوں کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں حقیقی زندگی کے کاروباری ماحول سے جڑنے کا موقع ملے گا اور ان کے کیریئر میں ایک فائدہ مند تجربہ شامل ہو گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی حکومت ہندوستانی نوجوانوں کے لئے بیرون ملک ملازمتوں کے حصول کو آسان بنانے کے لئے نئے مواقع پیدا کررہی ہے۔ بھارت کے لیے حال ہی میں جاری جرمنی کی ہنر مند مزدوری کی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے جناب مودی نے بتایا کہ جرمنی نے ہر سال ہنر مند ہندوستانی نوجوانوں کو دیے جانے والے ویزوں کی تعداد 20 ہزار سے بڑھا کر 90 ہزار کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے نوجوانوں کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ جناب مودی نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان نے حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک کے علاوہ جاپان، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی، ماریشس، اسرائیل، برطانیہ اور اٹلی جیسے ممالک سمیت 21 ممالک کے ساتھ مائیگریشن اور روزگار سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 3 ہزار ہندوستانی برطانیہ میں کام کرنے اور پڑھنے کے لیے 2 سالہ ویزا حاصل کر سکتے ہیں ،جبکہ 3 ہزار ہندوستانی طلباء کو آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ہندوستان کا ہنر نہ صرف ہندوستان کی ترقی بلکہ دنیا کی ترقی کو بھی سمت دے گا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

 

جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ آج حکومت کا کردار ایک ایسا جدید نظام بنانا تھا ،جہاں ہر نوجوان کو موقع ملے اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کر سکے۔ اس لیے انھوں نے مختلف عہدوں پر نئے تقرر پانے والے نوجوانوں پر زور دیا کہ ان کا ہدف ہندوستان کے نوجوانوں اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے سرکاری ملازمتوں کے حصول میں ٹیکس دہندگان اور شہریوں کے اہم کردار پر زور دیا اور کہا کہ حکومت شہریوں کی وجہ سے موجود ہے اور ان کی خدمت کے لیے مامور ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اولین فرض قوم کی خدمت کرنا ہے، خواہ وہ پوسٹ مین ہو یا پروفیسر۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ نئے بھرتی کرنے والے ایسے وقت میں حکومت میں شامل ہوئے ہیں، جب ملک ترقی یافتہ بننے کا عزم کر چکا ہے۔ لہذا، وزیر اعظم نے کہاکہ  اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، ہمیں ہر شعبے میں سبقت لے جانا چاہیے اور بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے نئے بھرتی ہونے والوں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں بلکہ بہترین کارکردگی کے لیے کوشش کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ہمارے ملک کے سرکاری ملازمین کو دنیا بھر میں پہچانی جانے والی مثال قائم کرنی چاہیے‘‘۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کو ان سے بہت زیادہ توقعات ہیں اور کہا کہ وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ان توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے نئے  تقرر پانے والے  افراد کے نئے سفر پر بات کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ عاجزی سے رہیں اور اپنے اس نئے  سفر کے دوران سیکھنے کی عادت کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے ’آئی گوٹ کرم یوگی‘ پلیٹ فارم پر سرکاری ملازمین کے لیے مختلف کورسوں کی دستیابی پر روشنی ڈالی اور انہیں اس ڈیجیٹل ٹریننگ ماڈیول کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرنے کی ترغیب دی۔ اختتام کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’’ ایک بار پھر، میں ان امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،جنہیں آج ان کے تقرری  کےخطوط مل رہے ہیں‘‘۔

پس منظر

ملک بھر میں 40 مقامات پر روزگار میلہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں مرکزی حکومت کے مختلف وزارتوں اور محکموں جیسے کہ محکمہ محصولات، محکمہ اعلیٰ تعلیم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع، وزارت صحت اور خاندانی بہبود میں نئی تقرریاں کی جارہی  ہیں۔

نئے تقرر ہونے والوں کو آئی جی او ٹی کرم یوگی پورٹل پر دستیاب ایک آن لائن ماڈیول ’کرم یوگی پرارمبھ‘ کے ذریعے بنیادی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ 1400 سے زیادہ ای لرننگ کورسز دستیاب ہیں، جو بھرتی کرنے والوں کو ضروری مہارتوں سے آراستہ کریں گے، تاکہ وہ اپنے کام کو مؤثر طریقے سے انجام دے سکیں اور وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کریں۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List

Media Coverage

Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Participants of Viksit Vibrant Village Programme share their experiences with PM Modi
July 26, 2026
Solo travel is a way of discovering the world while discovering oneself: PM
Every young person and every daughter of the country should move forward with confidence and self-belief: PM
Border villages may be geographically distant, but their residents are emotionally deeply connected with the nation: PM
Those who were last in priority earlier are now the first: PM
Journey of young participants reflects the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat: PM
Citizens should spend at least five per cent of their travel budget on purchasing local products: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi today interacted virtually with participants of the Viksit Vibrant Village Programme 2026, during which young MYBharat Volunteers shared their experiences from border villages in Himachal Pradesh, Uttarakhand and Ladakh. The interaction highlighted the transformation of these villages through improved infrastructure, connectivity and public services, along with women-led development, tourism, community participation and stronger national integration. More than 5,000 MYBharat Volunteers from 245 districts across the country joined the programme virtually.

Introducing the programme, MYBharat Volunteer Shri Divyansh Joshi from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu outlined initiatives including the Viksit Bharat Young Leaders Dialogue, Viksit Bharat Youth Parliament, Budget Twist, mentorship and volunteering programmes. He said more than 2.30 crore young people had benefitted from MYBharat initiatives, while 2.86 lakh youth participated in the nationwide quiz through which 403 volunteers were selected to visit border villages. Recounting his visit to Leo village in Kinnaur district of Himachal Pradesh, he highlighted interactions with residents, senior citizens and schoolchildren, career counselling for local youth, sports and cultural activities, the leadership of the woman Sarpanch and the functioning of the Ayushman Arogya Mandir. He said his homestay experience showed that belonging transcends language and State boundaries, adding that the volunteers paid homage to the country’s brave soldiers at the Kargil War Memorial and would compile their experiences for submission to the Prime Minister while remaining committed to the vision of Viksit Bharat.

MYBharat Volunteer Ms Nikita Pravin Solanki from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu said her selection through the MYBharat quiz enabled her first independent journey to Dhar Chango Nichla village in Kinnaur district. The affectionate welcome extended by the villagers strengthened her confidence and reflected changing societal attitudes towards women. Through her interactions with the woman Pradhan, Panchayat representatives, farmers, senior citizens and children, she witnessed the multiple responsibilities shouldered by rural women and found, contrary to her earlier perceptions, quality roads, regular electricity, drinking-water connections and digital connectivity, which residents attributed to the Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana, Jal Jeevan Mission and Ayushman Bharat. She also participated in cleanliness, sports and cultural activities, recalled the curiosity of village children about her home region and said she continued to remain in touch with her host family.

Recalling his Diwali visit to the Chango region in 2016, the Prime Minister said Ms Solanki’s journey reflected the growing confidence of India’s daughters and that MYBharat had transformed individual journeys into one national family. “Solo travelling is a way of discovering the world while discovering yourself,” observed Shri Modi.

MYBharat Volunteer Shri Sunil Kumar Kela from Jalore, Rajasthan, said that being from a border village himself enabled him to connect readily with the people of Dhar Chango Uprela village in Himachal Pradesh. Despite geographical and climatic differences, he found the people of both regions united by courage, patriotism and warmth. He remained connected with his family through video calls, showing them the Sutlej River, school, Jan Aushadhi Kendra, hospital and sports facilities, while his social-media posts encouraged friends to explore MYBharat. His initial apprehensions regarding roads, accommodation, electricity and mobile connectivity were dispelled by the high-quality roads reaching the homestay, solar-energy installations and improved infrastructure that had transformed daily life. He added that he remained in contact with his host family and had invited them to visit Rajasthan.

The Prime Minister observed that young people from border villages across Rajasthan, Kashmir, Himachal Pradesh and the North-East shared a common outlook and that border residents, though geographically distant, remained emotionally deeply connected with the nation. “Those who were last in priority earlier are now the first,” remarked Shri Modi.

MYBharat Volunteer Ms Bhavya Shri from Chittoor district of Andhra Pradesh said her desire to learn beyond academics led her to MYBharat and to Harsil Valley in Uttarkashi district of Uttarakhand. Her initial concerns about the unfamiliar climate, food, culture and lifestyle were dispelled by the hospitality of local residents and officials, while interactions with Indo-Tibetan Border Police personnel deepened her appreciation of their discipline, humility, dedication and commitment to the nation. She said participants from different States, languages and cultures arrived as strangers but returned as one family, reflecting the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat. Photographs of the Nelang and Jadung Valleys and apple orchards generated considerable interest among her friends, many of whom subsequently registered on MYBharat. She also recalled the equipment provided to help participants adapt to the cold climate, the resilience of a resident who chose to remain in his landslide-affected native village despite hardship, and the peaceful, meditative character of the Garhwali dance in contrast with the energetic folk dances of her home State.

Recalling his visit to Mukhwa village in Uttarakhand, the Prime Minister said the interaction reaffirmed his belief that India’s youth place the nation first. “The manner in which all of you have lived the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat will inspire many more young people,” observed Shri Modi.

Twenty-one-year-old MYBharat Volunteer Ms Sayantika Mistry from the Andaman and Nicobar Islands thanked the Prime Minister for envisioning MYBharat as a platform enabling crores of young people to contribute to nation-building. Recounting her journey from sea level to Maan village in Ladakh at an altitude of nearly 17,000 feet, she described suffering from acute mountain sickness and the care extended by the MYBharat team and ITBP personnel, including doctors who prioritised treating her as their guest before attending to their own personnel. She said the experience showed that ITBP personnel not only protected the borders but also cared deeply for citizens and made her appreciate the resilience required to live in high-altitude conditions. Contrary to her family’s expectation of poor connectivity, she found reliable internet, QR-code and UPI payment facilities and Wi-Fi in the border region. She also interacted with local children, one of whom expressed a desire to visit the Andaman and Nicobar Islands, and highlighted the community spirit through which residents collectively organised weddings and monastery events, restored a damaged mobile tower and constructed a storage facility for its batteries.

Encouraging Ms Mistry to document her experience through articles or a book so that others could better understand the country’s vastness, people and shared sense of belonging, Shri Modi remarked, “When you share joy, it multiplies.”

MYBharat Volunteer Shri Ashish Soni from Jaunpur district of Uttar Pradesh, who is preparing for the Civil Services Examination, thanked the Prime Minister for enabling young people to contribute suggestions during the Budget-making process. Sharing his experience of Kaza Khas in Himachal Pradesh’s Spiti region, he said his parents, who remembered a time when mobile connectivity in remote areas was difficult, were astonished when he video-called them from nearly 14,000 feet. Describing MYBharat as a bridge between a generation that had witnessed struggle and another witnessing transformation, he recounted writing letters from the world’s highest post office at Hikkim to the Prime Minister, his family, the Ministry of Youth Affairs, the Defence Minister and his District Magistrate. He said India was connected not only through metros and airports but also through institutions serving its remotest regions and highlighted QR-code payments at around 14,500 feet as evidence that Digital India had become a source of trust across the country. His interactions with women’s self-help groups introduced him to entrepreneurship through homestays, digital platforms and sea buckthorn-based products, while discussions on the PM MUDRA Yojana and Deendayal Antyodaya Yojana focused on expanding livelihood opportunities. He also highlighted the role of the Border Roads Organisation-built Chicham Bridge in improving connectivity, tourism and economic activity, besides noting the region’s potential for night tourism.

Observing that technology had reached every corner of the country and that purchasing local products would generate employment, support livelihoods and carry regional identities across India, Shri Modi urged, “Wherever you travel, spend at least five per cent of your travel budget on buying products from local people.”

Concluding the interaction, the Prime Minister extended his best wishes to the young participants. The programme highlighted MYBharat’s role in enabling young people to experience first-hand the transformation of India’s border villages, dispel outdated perceptions and deepen their understanding of the country’s cultural diversity, developmental progress, community participation and the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat.