وزیر اعظم نے بھارتیہ کوآپریٹو سیکٹر کو وسعت دینے کے لیے عالمی کوآپریٹو تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا
وزیر اعظم نے برآمدی منڈیوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ کوآپریٹو تنظیموں کے ذریعے نامیاتی مصنوعات کو فروغ دینے پر زور دیا
وزیر اعظم نے کوآپریٹو سیکٹر میں زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ایگری اسٹیک کے استعمال کی سفارش کی
وزیر اعظم نے یو پی آئی کو کے سی سی اور روپےکارڈز کے ساتھ ضم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ مالی لین دین کو آسان بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے سکولوں اور تعلیمی اداروں میں کوآپریٹو کورسز متعارف کرانے کی تجویز دی
اجلاس میں قومی کو آپریٹو پالیسی 2025 کے مسودے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ سہکار سے سمردھی کے وژن کوشرمندہ تعبیر کرتا ہے
قومی کو آپریٹو پالیسی خواتین اور نوجوانوں کو ترجیح دیتے ہوئے دیہی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے پر مرکوز ہے

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج  7 لوک کلیان مارگ میں کوآپریٹو سیکٹر کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ سیکٹر میں تکنیکی ترقی کے ذریعے تبدیلی لانے والے ’سہکار سے سمردھی‘ کو فروغ دینے، کوآپریٹیو میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے منصوبوں اور وزارت کو آپریٹو کے مختلف اقدامات پر بات چیت ہوئی۔

وزیر اعظم نے بھارتیہ کوآپریٹو سیکٹر کو وسعت دینے کے لیے عالمی کوآپریٹو تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا اور کوآپریٹو تنظیموں کے ذریعے نامیاتی مصنوعات کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے برآمدی منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے اور زرعی طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے کوآپریٹیو کے ذریعے مٹی کی جانچ کا ماڈل تیار کرنے کی تجویز بھی دی۔ وزیر اعظم نےیوپی آئی کو روپے کے سی سی کارڈ کے ساتھ ضم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ مالیاتی لین دین کو آسان بنایا جا سکے اور کوآپریٹو تنظیموں کے درمیان صحت مند مسابقت کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کوآپریٹو تنظیموں کے اثاثوں کی دستاویز کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کوآپریٹو فارمنگ کو مزید پائیدار زرعی ماڈل کے طور پر فروغ دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کوآپریٹو سیکٹر میں زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچرایگر اسٹیک کے استعمال کی سفارش کی، کسانوں کو خدمات تک بہتر رسائی فراہم کی۔ تعلیم کے تناظر میں، وزیر اعظم نے مستقبل کی نسلوں کو متاثر کرنے کے لیے اسکولوں، کالجوں اور آئی آئی ایم میں کوآپریٹو کورسز متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ کامیاب کوآپریٹو تنظیموں کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان گریجویٹس کو اپنا حصہ ڈالنے کی ترغیب دی جانی چاہیے، اور کوآپریٹو تنظیموں کی درجہ بندی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کی جانی چاہیے، تاکہ مسابقت اور ترقی کو بیک وقت فروغ دیا جا سکے۔

میٹنگ کے دوران وزیر اعظم کو قومی کو آپریٹو کی پالیسی اور وزارت تعاون کی گزشتہ ساڑھے تین سال کی اہم کامیابیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کو شرمندہ تعبیرکرتے ہوئے، وزارت نے ایک وسیع مشاورتی عمل کے ذریعے قومی تعاون پالیسی 2025 کا مسودہ تیار کیا ہے۔ نیشنل کوآپریشن پالیسی 2025 پالیسی کا مقصد خواتین اور نوجوانوں کو ترجیح دیتے ہوئے دیہی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کوآپریٹو سیکٹر کی منظم اور جامع ترقی کو آسان بنانا ہے۔ اس کا مقصد کوآپریٹو پر مبنی اقتصادی ماڈل کو فروغ دینا اور ایک مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنا ہے۔ مزید برآں، پالیسی کوآپریٹیو کے نچلی سطح پر اثرات کو گہرا کرنے اور ملک کی مجموعی ترقی میں کوآپریٹو سیکٹر کے تعاون کو نمایاں طور پر بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔

اپنے قیام کے بعد سے، وزارت نے کوآپریٹو تحریک کو فروغ دینے اور مضبوط کرنے کے لیے سات اہم شعبوں میں 60 اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس اور کمپیوٹرائزیشن پروجیکٹس کے ذریعے کوآپریٹو اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ساتھ پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز کی مضبوطی بھی شامل ہے۔ مزید برآں، وزارت نے کوآپریٹو شوگر ملوں کی کارکردگی اور پائیداری کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

حکومت ہند نے پیکس کی سطح پر 10 سے زیادہ وزارتوں کی 15 سے زیادہ اسکیموں کو مربوط کرتے ہوئے’پورے حکومتی نقطہ نظر‘ کے ذریعے کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کی ہیں۔ اس کے نتیجے میں، کوآپریٹو کاروبار میں تنوع پیدا ہوا ہے، اضافی آمدنی پیدا ہوئی ہے، کوآپریٹیو کے لیے مواقع میں اضافہ ہوا ہے، اور دیہی علاقوں میں سرکاری اسکیموں تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔ ان کوآپریٹیو کی تشکیل کے لیے سالانہ اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ کوآپریٹو تعلیم، تربیت اور تحقیق کو فروغ دینے اور ہنر مند پیشہ ور افراد کی فراہمی کے لیےآئی آر ایم اے آنند کو’تربھون کوآپریٹو یونیورسٹی‘ میں تبدیل کرنے اور اسے قومی اہمیت کا ادارہ بنانے کے لیے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کو کوآپریٹیو کی ترقی اور مختلف شعبوں میں ان کے اہم کردار کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔بھارت کی معیشت میں کوآپریٹو سیکٹر کی شراکت، خاص طور پر زراعت، دیہی ترقی اور اقتصادی شمولیت پر روشنی ڈالی گئی۔ میٹنگ کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ اس وقت ملک کی آبادی کا پانچواں حصہ کوآپریٹو سیکٹر سے وابستہ ہے، جس میں 30 سےزائد شعبوں میں پھیلے ہوئے 8.2 لاکھ سے زیادہ کوآپریٹو ادارے شامل ہیں، جن کی رکنیت 30 کروڑ سے زیادہ ہے۔ کوآپریٹو معیشت کے کئی شعبوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

میٹنگ میں داخلہ اورکو آپریٹو کے وزیر جناب امت شاہ نے شرکت کی۔ کو آپریٹوکی وزارت کے سیکریٹری، ڈاکٹر آشیش کمار بھوتانی، وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر پی کے مشرا، وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری 2 شری شکتی کانت داس، پی ایم کے مشیر جناب امیت کھرے اور دیگر سینئر افسران شامل ہوئے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.