NEET-PG Exam to be postpone for at least 4 months
Medical personnel completing 100 days of Covid duties will be given priority in forthcoming regular Government recruitments
Medical Interns to be deployed in Covid Management duties under the supervision of their faculty
Final Year MBBS students can be utilized for tele-consultation and monitoring of mild Covid cases under supervision of Faculty
B.Sc./GNM Qualified Nurses to be utilized in full-time Covid nursing duties under the supervision of Senior Doctors and Nurses.
Medical personnel completing 100 days of Covid duties will be given Prime Minister’s Distinguished Covid National Service Samman

 

 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ملک میں کووڈ-19 وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے وافر انسانی وسائل کی بڑھتی ضرورت کا جائزہ لیا۔ کئی اہم فیصلے لیے گئے، جس سے کووڈ ڈیوٹی میں طبی ملازمین کی دستیابی میں کافی حد تک اضافہ ہو جائے گا۔

نیٹ-پی جی امتحان کو کم از کم 4 ماہ کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا گیا اور یہ امتحان 31 اگست 2021 سے پہلے منعقد نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، امتحان کے اعلان کے بعد اس کے انعقاد سے پہلے طلباء کو کم از کم ایک مہینے کا وقت دیا جائے گا۔ اس سے بڑی تعداد میں اہل ڈاکٹر ڈیوٹی کرنے کے لیے دستیاب ہو جائیں گے۔

انٹرن شپ روٹیشن کے حصہ کے طور پر میڈیکل انٹرن کو اپنی فیکلٹی کی نگرانی میں کووڈ مینجمنٹ ڈیوٹی میں لگانے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ لیا گیا۔ ایم بی بی ایس کے آخری سال کے طلباء کی خدمات کا استعمال فیکلٹی کے ذریعہ ان کا مناسب اورئنٹیشن کرنے کے بعد اور ان کی دیکھ ریکھ میں کووڈ کی ہلکی علامتوں والے مریضوں کی ٹیلی فونی مشاورت اور نگرانی جیسی خدمات مہیا کرنے میں کیا جا سکتا ہے۔ اس سے کووڈ ڈیوٹی میں لگے موجودہ ڈاکٹروں پر کام کا بوجھ کم ہوگا اور اس کے ساتھ ہی ترجیح دینے کی کوششوں کو کافی حوصلہ ملے گا۔

ریزیڈنٹ کے طور پر آخری سال کے پی جی طلباء (وسیع کے ساتھ ساتھ سپر اسپیشلٹی) کی خدمات کا استعمال آگے بھی تب تک کیا جا سکتا ہے جب تک کہ پی جی طلباء کے نئے بیچ شامل نہیں ہو جائیں گے۔

بی ایس سی / جی این ایم سند یافتہ نرسوں کا استعمال سینئر ڈاکٹروں اور نرسوں کی نگرانی میں کل وقتی کووڈ نرسنگ ڈیوٹی میں کیا جا سکتا ہے۔

کووڈ مینجمنٹ میں خدمات فراہم کرنے والے ملازمین کو کووڈ ڈیوٹی کے کم از کم 100 دن پورا کر لینے پر آئندہ ریگولر سرکاری تقرریوں میں ترجیح دی جائے گی۔

کووڈ سے متعلق کام میں لگائے جانے والے میڈیکل طلباء / پیشہ وروں کو مناسب طریقے سے ٹیکہ لگایا جائے گا۔ اس طرح برسرکار ہونے والے تمام طبی پیشہ وروں کو ’کووڈ-19 سے لڑنے میں مصروف طبی ملازمین کے لیے سرکار کی بیمہ اسکیم‘ کے تحت کور کیا جائے گا۔

ایسے تمام پیشہ ور، جو کووڈ ڈیوٹی کے کم از کم 100 دنوں کے لیے حامی بھرتے ہیں اور اسے کامیابی کے ساتھ پورا کر لیتے ہیں، انہیں حکومت ہند کی جانب سے ’وزیر اعظم کا باوقار کووڈ نیشنل سروس سمّان‘ بھی دیا جائے گا۔

ڈاکٹر، نرس اور متعلقہ پیشہ ور ہی کووڈ مینجمنٹ کی ریڑھ ہیں اور اس کے ساتھ ہی صف اول کے کارکنان بھی ہیں۔ وافر تعداد میں ان کی موجودگی مریضوں کی ضروریات کو اچھی طرح سے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس دوران طبی برادری کے قابل ذکر تعاون اور پختہ عزم کو نشان زد کیا گیا۔

مرکزی حکومت نے کووڈ ڈیوٹی کے لیے ڈاکٹروں / نرسوں کی شراکت داری کو سہولت آمیز بنانے کے لیے 16 جون 2020 کو رہنما ہدایات جاری کی تھیں۔ مرکزی حکومت نے کووڈ مینجمنٹ کے لیے سہولیات اور انسانی وسائل کو بڑھانے کے لیے 15000 کروڑ روپے کی مخصوص صحت عامہ کے لیے ناگہانی امداد فراہم کی تھی۔ قومی صحت مشن کے توسط سے ملازمین کو شامل کرتے ہوئے اس عمل کے ذریعہ اضافی 2206 ماہرین، 4685 میڈیکل افسران اور 25593 اسٹاف نرسوں کی تقرری کی گئی۔

بنیادی فیصلوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

  1. رعایت / سہولت / وسعت:

نیٹ-پی جی امتحان کو کم از کم 4 مہینے کے لیے ملتوی کیا گیا: کووڈ-19 وبائی مرض کے اثرات دوبارہ بڑھنے کے مد نظر موجودہ صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے نیٹ (پی جی) امتحان-2021 کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ امتحان 31 اگست 2021 سے پہلے منعقد نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، امتحان کے اعلان کے بعد اس کے انعقاد سے پہلے طلباء کو کم از کم ایک مہینے کا وقت دیا جائے گا۔

ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتیں اس قسم کے تمام متوقع نیٹ امیدواروں سے رابطہ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی اور مصیبت کی اس گھڑی میں ان سے کووڈ-19 سے متعلق افرادی قوت میں شامل ہونے کی درخواست کریں گی۔ ان ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی خدمات کا استعمال کووڈ-19 کے انتظام میں کیا جا سکتا ہے۔ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتیں اب انٹرن شپ روٹیشن  کے حصہ کے طور پر میڈیکل انٹرن کو ان کی فیکلٹی کی نگرانی میں کووڈ مینجمنٹ  ڈیوٹی میں بھی لگا سکتی ہیں۔ ایم بی بی ایس کے آخری سال کے طلباء کی خدمات کا استعمال ان کا مناسب اورئنٹیشن کرنے کے بعد اور ان کی دیکھ ریکھ میں کووڈ کی ہلکی علامات والے مریضوں کی ٹیلی فونی مشاورت اور نگرانی جیسی خدمات مہیا کرنے میں کیا جا سکتا ہے۔

آخری سال کی پی جی کی خدمات کو جاری رکھنا: ریزیڈنٹ کے طور پر آخری سال کے پی جی طلباء (وسعت کے ساتھ ساتھ سپر اسپیشلٹی) کی خدمات کا استعمال آگے بھی تب تک کیا جا سکتا ہے جب تک کہ پی جی طلباء کے نئے بیچ شامل نہیں ہو جائیں گے۔ اسی طرح نئی تقرری ہونے تک سینئر ریزیڈنٹوں / رجسٹراروں کی خدمات کا استعمال جاری رکھا جا سکتا ہے۔

نرسنگ عملہ: بی ایس سی / جی این ایم سند یافتہ نرسوں کا استعمال سینئر ڈاکٹروں اور نرسوں کی دیکھ بھال میں آئی سی یو وغیرہ میں کل وقتی کووڈ نرسنگ ڈیوٹی میں کیا جا سکتا ہے۔ ایم ایس سی نرسنگ اسٹوڈنٹ، بیسک بی ایس سی (این) کے بعد اور بیسک ڈپلومہ کے بعد نرسنگ اسٹوڈنٹ دراصل رجسٹرڈ نرسنگ اہلکار ہوتے ہیں اور ان کی خدمات کا استعمال اسپتال کے پروٹوکول / پالیسیوں کے مطابق کووڈ-19 مریضوں کی دیکھ بھال کرنے میں کیا جا سکتا ہے۔ آخری سال کے جی این ایم یا بی ایس سی (نرسنگ) طلباء، جو آخری امتحان کا انتظار کر رہے ہیں، کو بھی سینئر فیکلٹی کی نگرانی میں مختلف سرکاری / پرائیویٹ مراکز میں کل وقتی کووڈ نرسنگ ڈیوٹی دی جا سکتی ہے۔

متعلقہ طبی پیشہ وروں کی خدمات کا استعمال ان کی ٹریننگ اور سندکاری کی بنیاد پر کووڈ مینجمنٹ میں تعاون فراہم کرنے میں کیا جا سکتا ہے۔

اس طرح سے انتظام کیے جانے پر اضافی انسانی وسائل کا استعمال صرف کووڈ مینجمنٹ مراکز میں ہی کیا جائے گا۔

  1. انسینٹو / خدمات کی شناخت

کووڈ مینجمنٹ میں خدمات فراہم کرنے والے عملہ کو کووڈ ڈیوٹی کے کم از کم 100 دن پورا کر لینے پر آئندہ ریگولر سرکاری تقرریوں میں ترجیح دی جائے گی۔

اضافی افرادی قوت کی خدمات لینے کے لیے مناسب مجوزہ پہل کے نفاذ کے لیے ریاستی / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ ٹھیکہ پر انسانی وسائل کی خدمات لینے کے لیے قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے معیار پر غور کیا جا سکتا ہے۔ این ایچ ایم کے معیاروں کے مطابق، محنتانہ طے کرنے کے لیے ریاستوں کو لچیلاپن دستیاب ہوگا۔ باوقار کووڈ سروس کے لیے ایک مناسب اعزازیہ پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

کووڈ سے متعلق کام میں لگائے جانے والے میڈیکل طلباء / پیشہ وروں کو مناسب طریقے سے ٹیکہ لگایا جائے گا۔ اس طرح برسرکار ہونے والے تمام طبی پیشہ وروں کو ’کووڈ-19 سے لڑنے میں مصروف طبی عملہ کے لیے سرکار کی بیمہ اسکیم‘ کے تحت کور کیا جائے گا۔

ایسے تمام پیشہ ور، جو کووڈ ڈیوٹی کے کم از کم 100 دنوں کے لیے حامی بھرتے ہیں اور اسے کامیابی کے ساتھ پورا کر لیتے ہیں، انہیں حکومت ہند کی جانب سے ’وزیر اعظم کا پروقار کووڈ نیشنل سروس سمّان‘ بھی دیا جائے گا۔

ریاستی حکومتیں اس عمل کے ذریعہ جوڑے جانے والے اضافی طبی پیشہ وروں کو پرائیویٹ کووڈ اسپتالوں کے ساتھ ساتھ کافی زیادہ کووڈ اثرات والے علاقوں میں بھی دستیاب کرا سکتی ہیں۔

ہیلتھ اور میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں ڈاکٹروں، نرسوں، متعلقہ پیشہ وروں اور دیگر طبی ملازمین کی خالی اسامیوں کو 45 دنوں کے اندر فوری طریق عمل کے ذریعہ این ایچ ایم کے معیاروں کی بنیاد پر ’ٹھیکہ پر تقرریوں‘ کے ذریعہ بھرا جائے۔

ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ افرادی قوت کی دستیابی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے درج بالا انسینٹو پر غور کریں۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”