منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، سکم، تریپورہ اور اروناچل پردیش میں 55,600 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، ملک کے نام وقف اور سنگ بنیاد رکھا
اروناچل پردیش میں دیبانگ کثیر مقاصد ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا
توانگ کو ہر موسم میں رابطہ فراہم کرنے کے لیے سیلا ٹنل کو ملک کے نام وقف کیا
تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی انتی اسکیم کا آغاز کیا
ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مسافروں اور کارگو کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے سبروم لینڈ پورٹ کا افتتاح کیا
کافی ٹیبل بک - وکست اروناچل کی تعمیر کا اجرا کیا
شمال مشرق ہندوستان کی ’اشٹلکشمی‘ ہے
ہماری حکومت شمال مشرق کی ترقی کے لیے پرعزم ہے
ترقیاتی کام سورج کی پہلی کرنوں کی طرح اروناچل اور شمال مشرق تک پہنچ رہے ہیں
ترقیاتی کام سورج کی پہلی کرنوں کی طرح اروناچل اور شمال مشرق تک پہنچ رہے ہیں شمال مشرق میں صنعتوں کی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے انّتی یوجنا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اروناچل پردیش کے ایٹا نگر میں وکست بھارت وکست نارتھ ایسٹ پروگرام سے خطاب کیا۔ جناب مودی نے منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، سکم، تریپورہ اور اروناچل پردیش میں تقریباً 55,600 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، ملک کے نام وقف کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے سیلا ٹنل کو بھی ملک کے نام وقف کیا اور تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی انتی اسکیم کا آغاز کیا۔ آج کے ترقیاتی منصوبوں میں ریل، سڑک، صحت، ہاؤسنگ، تعلیم، سرحدی انفراسٹرکچر، آئی ٹی، بجلی، تیل اور گیس جیسے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے وکست بھارت سے وکست راجیہ کے جاری قومی تہوار کا ذکر کیا۔ انہوں نے شمال مشرق کے لوگوں میں وکست شمال مشرق کے لیے نئے جوش و جذبے کو تسلیم کیا۔ انہوں نے اس اقدام کے لیے ناری شکتی کی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔

شمال مشرق کی ترقی کے لیے ’اشٹلکشمی‘ کے اپنے وژن کو دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے اس خطے کو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ سیاحت، کاروباری اور ثقافتی تعلقات کا ایک مضبوط لنک قرار دیا۔ آج کے 55,000 کروڑ روپے کے منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اروناچل پردیش کے 35,000 ہزار خاندانوں کو ان کے پکے مکانات، اروناچل اور تریپورہ کے ہزاروں خاندانوں کے لیے پائپ کے پانی کے کنکشن اور خطے کی کئی ریاستوں کے لیے کنیکٹیویٹی سے متعلق منصوبے ملے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعلیم، سڑک، ریلوے، بنیادی ڈھانچہ، ہسپتال، اور سیاحت کے منصوبے وکست شمال مشرق کی ضمانت کے ساتھ آئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 5 سالوں میں مختص فنڈ کی رقم پہلے کی نسبت چار گنا زیادہ ہے۔

وزیر اعظم نے شمال مشرق کو ذہن میں رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کی طرف سے چلائی گئی ایک خصوصی مہم مشن پام آئل پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس مشن کے تحت پہلی آئل مل کا آج افتتاح کیا جا رہا ہے۔ ”مشن پام آئل ہندوستان کو خوردنی تیل کے شعبے میں آتم نربھر بنائے گا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گا“، وزیر اعظم نے پام کی کاشت شروع کرنے کے لیے کسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ”پورا شمال مشرق مودی کی گارنٹی کے معنی کا مشاہدہ کر سکتا ہے کہ یہاں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔“ انہوں نے 2019 میں سیلا ٹنل اور ڈونی پولو ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد رکھنے کا ذکر کیا جس کا افتتاح ہو چکا ہے۔ ”وقت، مہینہ یا سال کچھ بھی ہو، مودی صرف ملک اور اس کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے“، انہوں نے اس موقع پر موجود لوگوں کی حمایت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا۔

شمال مشرق کی صنعتی ترقی کے لیے انتی (UNNATI) اسکیم کے لیے ایک نئی شکل اور وسیع دائرہ کار میں حالیہ کابینہ کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے حکومت کے کام کرنے کے انداز پر روشنی ڈالی کیونکہ اس اسکیم کو ایک دن میں مطلع کیا گیا تھا اور رہنما خطوط جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے گزشتہ 10 سالوں میں جدید انفراسٹرکچر، تقریباً ایک درجن امن معاہدوں پر عمل درآمد اور سرحدی تنازعات کے حل کی طرف اشارہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگلا قدم خطے میں صنعت کی توسیع ہے۔ ”10,000 کروڑ روپے کی انتی اسکیم سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے نئے امکانات لائے گی“، پی ایم مودی نے کہا۔

 

شمال مشرق میں خواتین کی زندگیوں کو آسان بنانے کی حکومت کی ترجیح پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کل خواتین کے عالمی دن کے موقع پر گیس سلنڈر کی قیمتوں میں 100 روپے کی کمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کی پوری ٹیم کو شہریوں کو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کرنے کے لیے کیے گئے قابل ذکر کام کے لیے بھی مبارک باد دی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اروناچل اور شمال مشرق کئی ترقیاتی معیارات میں آگے بڑھ رہے ہیں اور کہا، ”ترقیاتی کام سورج کی پہلی کرنوں کی طرح اروناچل اور شمال مشرق تک پہنچ رہے ہیں“۔ انہوں نے ریاست میں 45,000 گھرانوں کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبے کے افتتاح کا ذکر کیا۔ انہوں نے امرت سروور مہم کے تحت تعمیر کیے گئے متعدد سرووروں کا بھی ذکر کیا، جن میں سیلف ہیلپ گروپس کی مدد سے دیہاتوں میں لکھپتی دیدیاں بنائی گئیں۔ ”ہم ملک میں 3 کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور شمال مشرق کی خواتین بھی اس سے مستفید ہوں گی“، انہوں نے مزید کہا۔

وزیراعظم نے سرحدی دیہاتوں کی ترقی کو پہلے نظر انداز کرنے پر تنقید کی۔ سیلا ٹنل کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپنے طرز عمل کو ملک کی ضروریات کے مطابق کام کرنے کا اعادہ کیا نہ کہ انتخابی مفادات کے لیے۔ وزیر اعظم نے دفاعی اہلکاروں سے وعدہ کیا کہ وہ اپنی اگلی مدت میں انجینئرنگ کے اس کمال پر ان سے ملنے آئیں گے۔ یہ ٹنل ہر موسم میں رابطہ فراہم کرے گی اور توانگ کے لوگوں کے لیے سفر کی آسانی کو بہتر بنائے گی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ خطے میں کئی سرنگوں پر کام جاری ہے۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے کے نقطہ نظر کے برعکس، انہوں نے ہمیشہ سرحدی دیہات کو ’پہلا گاؤں‘ سمجھا ہے اور وائبرنٹ ولیج پروگرام اسی سوچ کا اعتراف ہے۔ آج تقریباً 125 دیہاتوں کے لیے سڑکوں کے منصوبے شروع ہوئے اور 150 گاؤں میں سیاحت سے متعلق منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

 

پی ایم-جن من اسکیم کے تحت سب سے زیادہ کمزور اور پسماندہ قبائل کے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔ آج منی پور میں ایسے قبائل کے لیے آنگن واڑی مراکز کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ کنیکٹیویٹی اور بجلی سے متعلق ترقیاتی کام زندگی میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔ آزادی کے بعد سے 2014 تک رابطے کو بڑھانے کے لیے کیے گئے کام کا 2014 کے بعد سے موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ پچھلے 10 سالوں میں 6,000 کلومیٹر شاہراہیں بنائی گئیں جو کہ سات دہائیوں میں 10,000 کلومیٹر تھی اور 2000 کلومیٹر ریل لائنیں بچھائی گئیں ہیں۔ بجلی کے شعبے میں، وزیر اعظم نے آج اروناچل پردیش میں دیبانگ کثیر مقصدی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور تریپورہ میں سولر پاور پروجیکٹ میں شروع ہونے والے کام کا ذکر کیا۔ ”دیبانگ ڈیم ہندوستان کا سب سے اونچا ڈیم ہوگا“، انہوں نے شمال مشرق میں بلند ترین پل اور بلند ترین ڈیم وقف کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔

وزیر اعظم نے اروناچل پردیش، آسام، مغربی بنگال اور اتر پردیش کے دوروں سمیت آج کے اپنے شیڈول کے بارے میں بصیرت فراہم کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہر ہندوستانی ان کا خاندان ہے۔ وزیر اعظم نے شہریوں کو یقین دلایا کہ وہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بنیادی ضروریات جیسے پکے گھر، مفت راشن، پینے کا صاف پانی، بجلی، بیت الخلا، گیس کنکشن، مفت علاج اور انٹرنیٹ کنکشن سمیت دیگر ضروریات پوری نہیں ہو جاتیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے کہا، ”آپ کے خواب میری قراردادیں ہیں“، اور آج کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے پورے شمال مشرقی خطے کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم کی درخواست پر، ہجوم نے ترقی کے تہوار کو منانے کے لیے اپنے موبائل فون کی فلیش لائٹیں آن کر دیں۔ آخر میں انہوں نے کہا، ”یہ نظارہ ملک کو طاقت دے گا“۔

اس موقع پر دیگر لوگوں کے علاوہ اروناچل پردیش کے گورنر (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل کیوالیا ترویکرم پرنائک اور اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو موجود تھے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades

Media Coverage

Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's interview to News X
May 21, 2024

In an interview to News X, Prime Minister Modi addressed the issue of toxic language in elections, explained why the Opposition frequently discussed him, and shared his views on job creation. He criticized the Congress' tax plans and appeasement politics.

Rishabh Gulati: A very warm welcome to the viewers of NewsX and India News. I’m Rishabh Gulati and with me is Aishwarya Sharma of The Sunday Guardian and Rana Yashwant. In today’s special episode, we proudly welcome a renowned ‘rashtra sevak’, and the Prime Minister of India in this Amrit Kaal, Hon’ble Shri Narendra Modi. Mr Prime Minister, you took the time to speak to us, we are very grateful.

Prime Minister: Namaskar, my warm greetings to all your viewers.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, the first question that comes to mind is about the Opposition, and it seems that the biggest item on their poll agenda is Narendra Modi. Why, in your opinion, do they talk so much about Narendra Modi?

Prime Minister: To understand why they discuss Narendra Modi, we must first understand the Opposition. To understand them, one can examine the administration between 2004 and 2014.

The Opposition has not been able to play a strong role. Even as the Opposition, the way they are falling apart, they did not play a constructive role of any kind. Despite deep discussions, they haven’t been able to bring serious issues to the public attention. They thought that by their antics, taking up space in the media, they would be able to keep their boat afloat. Even in this election, I have seen that they make fresh attempts every day to acquire media space, be it by making videos, nonsensical statements, or behaving in a way that people don’t normally behave. So they do this to acquire space in the media. Now abusing Modi is one such antic, where, if nothing else, they are guaranteed publicity. Even a small-time politician, if he bad-mouths me, will get about an hour of media attention. Perhaps they see Modi as a ladder to climb up in their political career.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, the I.N.D.I. alliance is talking about wealth redistribution. Do you think this is possible, and will the voters of the country be influenced by such a scheme?

Prime Minister: You can’t examine this in isolation. You must look at their overall thought process. When their (Congress) manifesto was released, I had said the manifesto had the imprint of the Muslim League. There was a statement made by Dr Manmohan Singh… I had attended the meeting in which he said that ‘Muslims have the first right to India’s resources.’ Now when I raised this in public, their media ecosystem raised a storm saying that ‘Modi is lying,’. So two days later, I brought Manmohan Singh’s press conference forward and put it in front of them. Then they stopped talking. So this was one example. Now in their Manifesto, they have said that they will give reservation (to Muslims) even when allotting government contracts.

So today, when a bridge is to be built somewhere, what is the criteria for awarding the contract? The company bidding is evaluated based on how resourceful they are, their experience, their capability, their ability to deliver on time, all these things. Now they say that they want to give reservations to the minorities, to the Muslims, in this process as well. It all adds up. Now when they say that they will impose inheritance tax, it means that taxes that go to the government, who will stand to benefit from it? It’s the same people that Manmohan Singh ji talked about. If you join the dots, this is the logic that comes from it. How will the country accept this? Secondly, has any developing country in the world indulged in such madness? Today, India needs to work hard to rise above its problems. We have made this attempt and pulled 25 crore people out of poverty. Where there used to be a few hundred start-ups, there are now over 1.25 lakh start-ups, and there are Unicorns. You must go among the people and work with energy, and that will bring the right result.

 

Rana Yashwant: Mr Prime Minister, the Ram Mandir has been built in Ayodhya, the consecration of Ram Lalla took place and there was joy among the people. In all this, there is Iqbal Ansari, who has fought the legal battle, and is an important person. He comes, holding a placard that says ‘Modi ka Parivaar’. Today, the minority community identifies with your policies and welfare schemes. Your opinion?

Prime Minister: Since you’ve brought up Ram Mandir and Iqbal Ansari, I will narrate an incident. Ram Mandir should have been built right after Independence. In all these years, it wasn’t built because they (Congress) felt it would affect their vote bank. Attempts were made in the Courts till the very end to stop it. It is a fact that Congress hindered the building of the Ram Mandir. Despite this, when the Supreme Court judgment came through, the Court constituted a trust, and the trust members, let go of all past differences and went to invite the Congress Party members to the consecration ceremony. They rejected the invitation. The same people went to invite Iqbal Ansari. The ironic thing is, that Iqbal Ansari, who fought the Babri Masjid case his entire life, respected the Supreme Court’s verdict and attended the ‘Shilanyas’ and the ‘Pran Prathistha’ ceremony as well. This is what I think, as far as Iqbal Ansari is concerned.

Now if you want to talk about secularism, it is my very serious allegation, that for over 75 years, through a very well-crafted conspiracy, a false narrative has been fed to the nation. It has been embedded in the nation from before our birth. Sardar Patel was targeted by this narrative, and maybe, today it may be my turn, tomorrow someone else… Why do they cry out ‘secularism’ over and over again? It’s because they want to divert the world’s attention from their communal activities.

They cry ‘thief’ over and over when they have defrauded the people, and they do this because they think crying ‘thief’ will divert the public’s attention. This is their ploy. I have called them out in front of everyone, that they are the ones who are communal. India’s constitution does not allow you to indulge in such sectarian acts, and I have brought out several such examples, like I mentioned earlier that they called the Muslims the rightful inheritors of India’s wealth. I am exposing them. They (Congress) hide behind their politics of appeasement and instead accuse me of being communal. I am talking about those communal parties that wear the ‘nikab’ of secularism and indulge in hardcore communalism. I find three things common among these people. They are hardcore sectarians, they are extremely casteist, and they are hardcore dynasts. They are so full of these three things that they can’t come out of it.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have spoken about lifting 25 crore people out of poverty. 80 crore poor people are receiving ration – it is necessary now and will be so in the future as well. What do you have to say about how crucial it will be in the future?

Prime Minister: When Manmohan Singh ji was the Prime Minister, news was rife with reports of food grains getting spoilt. So, the Supreme Court asked the government as to why the grains were not being distributed among the poor. Manmohan Singh ji, who was the Prime Minister then, stated on record that they could not distribute the grains and that it was impossible to do it. That is the consequence of his thinking. I faced the same issue, especially during COVID-19. My first goal was to ensure that a stove should be lit in every poor household. So, I started working on it. I have stated this for the next five years as well because in the lives of those who come out of poverty…

For example, one returns home from the hospital. The treatment has been done but precaution is necessary. A doctor advises you to take rest for a particular duration after returning home, tells you what to eat and what to refrain from consuming, and what to take care of. Why? The illness has already been addressed, but if anything is jeopardized then the condition of the person would return to what it was. That is why poor people who escape poverty need handholding. They should not return to that state in any condition. Once they escape poverty, they should be empowered to stand strong. In my understanding, in the next five years, those who have escaped poverty should be able to firmly stand on their feet. Any unfortunate incident in their family, should not push them to poverty again. And only then will the country eradicate poverty.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, our country is the youngest country. Under your tenure, 10 lakh government jobs have been filled. Now, the Opposition has vowed to fill 30 lakh government jobs. In your third term, how do you plan to boost employment opportunities for the youth?

Prime Minister: You must have read the SKOCH report that was released. I hope your TV channel studies the SKOCH report in detail and conducts a TV debate on this. They have analysed some 20 to 22 schemes of the government. They have published statistics about how many person-year-hours have been obtained. They have revealed how many hours it takes to build 4 crore houses and how many people it employs. They have published data for about 22 different parameters.

They have stated that 50 crore people have accrued benefits. Secondly, we brought the Mudra Yojana. We give bank loans without any guarantee. We have disbursed loans worth Rs 23 Lakh Crore. 80% of those who have received these loans are first-timers. Some have started their businesses and have employed a few people in this process. Start-ups used to be in the thousands and now they are in lakhs. People have been employed in this process, right? Consider that a 1000-kilometre road is being built and think about how many jobs are created. So, if a 2000-kilometre road is being built more people will be employed, right? Today, road and rail construction has doubled, electrification has doubled, and mobile towers are reaching every corner of India. All this is being created by people who have received jobs. That is why a lie is being peddled.

 What’s important is that we must move towards creating jobs for ourselves. The youth in this country are in the mood to do something and be productive and we must help them. We must encourage them. Our Mudra Yojana does exactly that. We also run the SVANidhi scheme. There are countless street hawkers, who are poor people. But today, they are taking money from the bank to run their businesses. Due to this, they can save money and expand their business. Earlier, a street hawker would sit on the footpath and now his goal is to buy a lorry. One who would owned a lorry earlier now wishes to provide home delivery services. Their aspirations are rising. This is why I believe that while people receive the benefits of government schemes, which will eventually result in development, we must also focus on several other areas.

 

Rana Yashwant: Prime Minister, your government works on the principle of ‘Sabka Saath, Sabka Vikas’. Beneficiaries avail welfare schemes without any discrimination – caste, religion, or community. Yet, the Opposition maintains that Muslims do not accrue the same benefits from these welfare schemes.

Prime Minister: You are the first person from whom I’ve heard this. The unique aspect of my government, in terms of delivering welfare schemes, has not raised any questions regarding discrimination.

 

Rana Yashwant: The Opposition has to say this.

Prime Minister: Even the Opposition does not say this. You are the first person from whom I’ve heard this. I have never heard this from anybody because everyone knows… and Muslims themselves say that they receive all benefits.

The primary reason is that I have two principles. First, 100% saturation. For example, if poor people must be given houses, complete delivery must take place. If 100% delivery is the goal, then where does the scope of discrimination even arise? Whether it is providing gas connections, building toilets, ensuring tap water connections, I believe in 100% delivery. Yes, some people will receive the benefits in January, some in April and some in November, but the scheme will apply to all and 100%. I believe that true secularism is when 100% delivery is done. Social justice is when 100% is done. So, if my mission is 100% saturation… and nobody has made this charge yet. They don’t have the courage to say it. I have lived in Gujarat as well, and on this topic, nobody can prop up any charges against me.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have taken out time to sit with us and relay your ‘Mann Ki Baat’. Thank you so much. Best of luck for the polls ahead.

Prime Minister: I thank you all. I have been campaigning day and night…

 

Rana Yashwant: You are constantly on the move. We see you morning until night on the run…

Rishabh Gulati: Today, you had a big rally at 8 in the morning.

Prime Minister: I started my day at 6 am and went to Jagannath Puri temple to offer my prayers. Since then I have been traveling and have at last got time to meet you.

 

Rana Yashwant: Where ever you go, Jagannath or Kashi, there is a sea of people that comes to greet you. You have experienced it yourself.

Prime Minister: I realise that my responsibilities are now increasing. I also see that the public has taken ownership of elections. Political parties are not fighting the elections. The public has taken ownership of this election. And the results will be as desired by the public.

Thank you!