منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، سکم، تریپورہ اور اروناچل پردیش میں 55,600 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، ملک کے نام وقف اور سنگ بنیاد رکھا
اروناچل پردیش میں دیبانگ کثیر مقاصد ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا
توانگ کو ہر موسم میں رابطہ فراہم کرنے کے لیے سیلا ٹنل کو ملک کے نام وقف کیا
تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی انتی اسکیم کا آغاز کیا
ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مسافروں اور کارگو کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے سبروم لینڈ پورٹ کا افتتاح کیا
کافی ٹیبل بک - وکست اروناچل کی تعمیر کا اجرا کیا
شمال مشرق ہندوستان کی ’اشٹلکشمی‘ ہے
ہماری حکومت شمال مشرق کی ترقی کے لیے پرعزم ہے
ترقیاتی کام سورج کی پہلی کرنوں کی طرح اروناچل اور شمال مشرق تک پہنچ رہے ہیں
ترقیاتی کام سورج کی پہلی کرنوں کی طرح اروناچل اور شمال مشرق تک پہنچ رہے ہیں شمال مشرق میں صنعتوں کی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے انّتی یوجنا

 جئے ہند!

جئے ہند!

جئے ہند!

اروناچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، سکم اور تریپورہ کے گورنر اور وزرائے اعلیٰ، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی، ریاستوں کے وزراء، ارکان پارلیمنٹ، تمام ایم ایل اے، دیگر تمام عوامی نمائندگان  اور ان تمام ریاستوں کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

ترقی یافتہ ریاستوں میں ’ وکست ریاست سے وکست بھارت‘ کا قومی تہوار پورے ملک میں تیزی سے جاری ہے۔ آج مجھے وکست شمال مشرق اور شمال مشرق کی تمام ریاستوں کے اس تہوار میں ایک شراکت دار بننے کا موقع ملا ہے۔ آپ سبھی اتنی بڑی تعداد میں یہاں آئے ہیں۔ منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، سکم اور تریپورہ کے ہزاروں لوگ بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے اس پروگرام میں ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ میں آپ سبھی کو وکست شمال مشرق کا فیصلہ کرنے کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں کئی بار اروناچل آ چکا ہوں لیکن آج میں کچھ مختلف دیکھ رہا ہوں۔ جہاں تک میری نظر پہنچ رہی ہے، لوگ ہی لوگ ہیں۔ اور آج ماؤں اور بہنوں کا ایک حیرت انگیز ، شاندار ماحول بھی ہے۔

 

ساتھیو،

شمال مشرق کی ترقی کے لیے اشٹالکشمی ہمارا وژن رہا ہے۔ جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا کے ساتھ بھارت کی تجارت، سیاحت اور دیگر تعلقات میں ایک مضبوط کڑی، یہ ہمارا شمال مشرق ہونے جا رہا ہے۔ آج بھی یہاں پچپن ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے یا ان کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ آج اروناچل پردیش کے 35,000 غریب کنبوں کو ان کے پکے گھر مل گئے ہیں۔ اروناچل پردیش اور تریپورہ میں ہزاروں گھروں کو نل کنکشن ملے ہیں۔ نارتھ ایسٹ کی مختلف ریاستوں میں کنیکٹیوٹی سے متعلق کئی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ بجلی، پانی، سڑکیں، ریلوے، اسکول، اسپتال، سیاحت، بے شمار ترقی کے اس بنیادی ڈھانچے نے شمال مشرق کی ہر ریاست کی ترقی کی ضمانت دی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہم نے شمال مشرق کی ترقی پر جتنی سرمایہ کاری کی ہے، یعنی پچھلی کانگریس یا پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں تقریبا چار گنا زیادہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کام ہم نے 5 سال میں کیا، 5 سال میں جتنا پیسہ خرچ کیا، وہی کام کرنے میں کانگریس کو 20 سال لگ جاتے۔ کیا آپ 20 سال انتظار کر تے؟ کیا آپ 20 سال انتظار کرتے؟ یہ جلد ہونا چاہیے کہ نہیں ہونا چاہیے؟ مودی کر رہا ہے کہ نہیں۔ آپ خوش ہیں۔

ساتھیو،

شمال مشرق کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہماری حکومت نے خاص طور پر مشن پام آئل شروع کیا تھا۔ آج اس مشن کے تحت پہلی آئل مل کا افتتاح کیا گیا ہے۔ یہ مشن نہ صرف بھارت کو خوردنی تیل میں خود کفیل بنائے گا بلکہ یہاں کے کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کرے گا۔ اور میں شمال مشرق کے کسانوں کا شکر گزار ہوں کہ پام مشن شروع کرنے کے بعد ہمارے کسان بھائی بہن بڑے پیمانے پر کھجور کی کاشت میں آگے آئے ہیں، جو مستقبل کا بہت روشن کام ہونے جا رہا ہے۔

ساتھیو،

آپ مودی کی گارنٹی، مودی کی گارنٹی تو سن ہی رہے ہیں، لیکن مودی کی گارنٹی کا کیا مطلب ہے، یہ ذرا اروناچل پردیش آئیں گے نا اتنی دور، آپ کو پورے شمال مشرق میں نظر آئے گا کہ مودی کی گارنٹی کس طرح کام کر رہی ہے۔ اب دیکھیے 2019 میں یہاں سے میں نے سیلا ٹنل کا سنگ بنیاد رکھنے کا کام کیا تھا، کیا آپ کو یاد ہے؟ 2019 میں۔ اور آج جو کچھ ہوا، چاہے وہ بن گیا کہ نہیں بن گیا، بن گیا کہ نہیں بن گیا ۔ بس اسے ہی گارنٹی کہا جاتا ہے یا نہیں، یہ گارنٹی پکی گارنٹی ہے کہ نہیں۔ دیکھیےمیں نے ڈونی پولو ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ آج یہ ہوائی اڈہ بہترین خدمات فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔ اب مجھے بتاؤ... اگر میں نے 2019 میں ایسا کیا تھا تو کچھ لوگوں نے سوچا تھا کہ مودی انتخابات کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ بتاؤ... میں نے یہ انتخابات کے لیے کیا، یا میں نے یہ آپ کے لیے کیا، میں نے اروناچل پردیش کے لیے کیا یا نہیں۔ وقت، سال، مہینہ جو بھی ہو، میرا کام صرف ہم وطنوں کے لیے ہے، لوگوں کے لیے ہے، آپ کے لیے ہے۔ اور جب مودی کی یہ ضمانت پوری ہوتی ہے تو شمال مشرق بھی ہر کونے سے کہہ رہا ہے، یہاں کی پہاڑیوں سے گونج سنائی دے رہی ہے، یہاں کے دریاؤں کی لہروں میں بھی الفاظ سننے کو مل رہے ہیں اور وہی آواز آ رہی ہے، اور جو کچھ پورے ملک میں سنا جا رہا ہے- ابکی  بار-400 پار!، اب کی بار -400 پار! این ڈی اے سرکار 400 پار۔ این ڈی اے سرکار 400 پار۔ این ڈی اے سرکار 400 پار۔ اب کی بار -400 بار! پوری طاقت کے ساتھ بولیں، پورے شمال مشرق کو سنائی دے– اب کی بار مودی سرکار! اب کی بار مودی سرکار!

 

ساتھیو،

دو دن پہلے مرکزی حکومت نے شمال مشرق کی صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک نئی شکل اور وسیع گنجائش کے ساتھ اُنتی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ آپ نے ابھی اس کے بارے میں ایک چھوٹی سی فلم دیکھی ہے۔ اور ہماری حکومت کے کام کرنے کے انداز کو دیکھیں... ایک ہی دن میں نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، گائیڈ لائنز بنائی گئیں۔ اور آج میں آپ کے سامنے آ رہا ہوں اور آپ سے انتی یوجنا کا فائدہ اٹھانے کی اپیل کر رہا ہوں، یہ سب 40-45 گھنٹوں میں ہو رہا ہے۔ 10 سالوں میں، ہم نے یہاں جدید بنیادی ڈھانچے کو بڑھایا۔ تقریبا ایک درجن امن معاہدوں پر عمل درآمد کیا۔ ہم نے بہت سے سرحدی تنازعات کو حل کیا۔ اب ترقی کا اگلا قدم شمال مشرق میں صنعت کو وسعت دینا ہے۔ 10,000 کروڑ روپئے کی انتی اسکیم شمال مشرق میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے امکانات لائے گی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت یہاں مینوفیکچرنگ کے لیے خدمات سے متعلق نئے شعبوں اور نئی صنعتوں کے قیام میں مدد کرے گی۔ میرا پورا زور اس بات پر رہا ہے کہ اس بار میں ان نوجوانوں کو مکمل تعاون کی ضمانت دیتا ہوں جو اسٹارٹ اپ، نئی ٹکنالوجی، ہوم اسٹیز، سیاحت اور اس طرح کے بہت سے شعبوں میں ہمارے پاس آنا چاہتے ہیں۔ میں اس اسکیم کے لیے نیک خواہشات اور مبارکباد پیش کرتا ہوں جو شمال مشرق کی تمام ریاستوں کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔

ساتھیو،

شمال مشرق میں خواتین کی زندگی کو آسان بنانا، انھیں نئے مواقع فراہم کرنا بی جے پی حکومت کی ترجیح ہے۔ شمال مشرق کی بہنوں کی مدد کے لیے کل خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہماری حکومت نے گیس سلنڈر کی قیمت میں مزید 100 روپے کی کمی کی۔ شمال مشرق کے ہر گھر میں نل کے پانی کی فراہمی کا کام بھی بہت کامیابی سے آگے بڑھا ہے اور اس لیے میں چیف منسٹر اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اور آپ دیکھیں کہ آج شمال مشرق میں ہمارا اروناچل پردیش کئی ترقیاتی کاموں میں ملک میں سرفہرست ہے۔ مجھے بتائیں۔ پہلےتو مان لیا تھا، یار، یہاں سب آخر میں ہوگا۔ آج جس طرح سورج کی شعاعیں یہاں سب سے پہلے آتی ہیں اسی طرح یہاں ترقی کا کام بھی سب سے پہلے ہونے لگا ہے۔

آج اروناچل پردیش میں 45 ہزار کنبوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔ امرت سروور ابھیان کے تحت یہاں کئی جھیلیں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ ہماری حکومت نے گاؤں کی بہنوں لکھپتی دیدی کو بنانے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر مہم بھی شروع کی ہے۔ اس کے تحت سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ نارتھ ایسٹ کی ہزاروں بہنیں کروڑ پتی دیدی بن چکی ہیں۔ اب ہمارا ہدف ملک میں 3 کروڑ بہنوں کو کروڑ پتی بنانا ہے۔ اس سے شمال مشرق کی خواتین، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔

ساتھیو،

بی جے پی حکومت کی ان کوششوں کے درمیان آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کانگریس اور انڈی الائنس کیا کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں۔ ماضی میں جب انھیں ہماری سرحدوں پر جدید انفراسٹرکچر بنانا چاہیے تھا تو کانگریس کی حکومتیں گھوٹالوں میں مصروف تھیں۔ کانگریس ہماری سرحد وں اور دیہاتوں کو غیر ترقی یافتہ رکھ کر ملک کی سلامتی سے کھیل رہی تھی۔ اپنی فوج کو کمزور رکھنا، اپنے ہی لوگوں کو سہولت اور خوشحالی سے محروم رکھنا کانگریس کا کام ہے۔ یہی ان کی پالیسی ہے، یہی ان کا عمل ہے۔

 

ساتھیو،

سیلا ٹنل پہلے بھی بن سکتی تھی، کیا یہ نہیں بن سکتی تھی؟ لیکن کانگریس کی سوچ اور ترجیح کچھ اور تھی۔ انھیں لگا کہ پارلیمنٹ میں 1-2 سیٹیں ہیں، انھیں اتنا کام کیوں کرنا چاہیے، اتنا پیسہ کیوں خرچ کرنا چاہیے۔ مودی پارلیمنٹ کے ارکان کی گنتی کرکے کام نہیں کرتے، وہ ملک کی ضروریات کو دھیان میں رکھ کر کام کرتے ہیں۔ مرکز میں ایک مضبوط حکومت اور جو قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہے، اس نے 13,000 فٹ کی اونچائی پر ایک سرنگ تعمیر کی ہے۔ ہم یہاں کیسے کام کر رہے ہیں۔ یہ شاندار سرنگ 13 ہزار فٹ کی بلندی پر تعمیر کی گئی ہے۔ اور میں سیلا کے بھائیوں اور بہنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں موسم کی وجہ سے آج وہاں نہیں پہنچ سکا۔ لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی تیسری میعاد میں میں وہاں ضرور آؤں گا، آپ لوگوں سے ملوں گا۔ یہ سرنگ توانگ میں ہمارے لوگوں کو ہر موسم میں رابطہ فراہم کر رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے نقل و حمل آسان ہو گئی۔ اس سے اروناچل پردیش میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔ آج اس پورے علاقے میں اس طرح کی کئی سرنگوں پر کام بہت تیزی سے چل رہا ہے۔

ساتھیو،

کانگریس نے تو سرحدی گاؤوں کو بھی نظر انداز کر دیا تھا اور انھیں ملک کا آخری گاؤں قرار دیا تھا اور انھیں ان کی قسمت پر چھوڑ دیا تھا۔ ہم نے اسے آخری گاؤں نہیں سمجھا، میرے لیے یہ ملک کا پہلا گاؤں ہے، پہلا دیہات ہے اور ہم نے وائبرینٹ ولیج پروگرام شروع کیا۔ آج یہاں تقریبا 125 سرحدی گاؤوں کے لیے سڑک پروجیکٹوں کا کام شروع ہوا ہے۔ اور 150 سے زیادہ گاؤوں میں روزگار سے متعلق اور سیاحت سے متعلق پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ پہلی بار ہم نے قبائل میں سب سے پسماندہ قبائل کی ترقی کے لیے پی ایم جنمن یوجنا تشکیل دی ہے۔ آج منی پور میں ایسے قبائل کی بستیوں میں آنگن واڑی مراکز کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ تریپورہ کی سبرام لینڈ پورٹ کے آغاز سے شمال مشرق کو ایک نیا ٹرانزٹ روٹ ملے گا، تجارت اور کاروبار آسان ہوجائے گا۔

ساتھیو،

کنیکٹیوٹی اور بجلی ایسی چیزیں ہیں جو زندگی کو آسان اور کاروبار کو آسان بناتی ہیں۔ یاد رہے کہ آزادی کے بعد سے لے کر 2014 تک یعنی 7 دہائیوں میں شمال مشرق میں 10 ہزار کلومیٹر طویل قومی شاہراہیں تعمیر کی گئیں۔ گذشتہ 10 سالوں میں 6000 کلومیٹر سے زیادہ قومی شاہراہوں کی تعمیر کی گئی ہے۔ 7 دہائیوں میں جتنا کام کیا گیا ہے وہ میں نے تقریبا ایک دہائی میں کیا ہے۔ 2014 کے بعد شمال مشرق میں تقریبا 2 ہزار کلومیٹر نئی ریل لائنیں تعمیر کی گئی ہیں۔ بجلی کے شعبے میں بھی بے مثال کام ہوا ہے۔ آج اروناچل پردیش میں دیبانگ ملٹی پرپز ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور تریپورہ میں سولر پروجیکٹ پر کام شروع ہوا ہے۔ دیبانگ ڈیم ملک کا سب سے اونچا ڈیم بننے جا رہا ہے۔ یعنی بھارت کے سب سے بڑے پل کی طرح سب سے بڑے ڈیم کی کامیابی بھی شمال مشرق کو ملنے والی ہے۔

 

ساتھیو،

ایک طرف مودی نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات کام کر رہا ہے اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے اینٹ سے اینٹ ملا رہا ہے۔ دوسری طرف جب میں دن رات کر رہا ہوں تو بہت لوگ کہتے ہیں کہ مودی جی اتنا کام مت کرو۔ آج میں ایک ہی دن میں چار ریاستوں اروناچل پردیش، آسام، بنگال اور اتر پردیش میں پروگرام کرنے جا رہا ہوں۔ دوسری طرف کانگریس کے انڈی اتحاد کے خاندانی رہنماؤں نے…جب میں یہ کام کر رہا ہوں، مودی پر اپنے حملے بڑھا دیے ہیں۔ اور آج کل لوگ پوچھ رہے ہیں کہ مودی کا خاندان کون ہے؟ مودی کا خاندان کون ہے؟ مودی کا خاندان کون ہے؟ مودی کا خاندان کون ہے؟ اپنے کان کھولیں اور گالیاں دینے والوں کی بات سنیں، اروناچل پردیش کی پہاڑیوں میں رہنے والا ہر خاندان کہہ رہا ہے کہ یہ مودی کا خاندان ہے۔ یہ خاندان صرف اپنے خاندان کا فائدہ دیکھتے ہیں۔ لہٰذا جہاں ووٹ نہیں ہوتا، وہاں وہ توجہ نہیں دیتے۔ کئی دہائیوں تک ملک میں موروثی حکومتیں رہیں، تب ہی تو شمال مشرق ترقی نہیں کر سکا۔ نارتھ ایسٹ پارلیمنٹ میں کم ارکان بھیجتا ہے، اس لیے کانگریس کے انڈی اتحاد نے آپ کی فکر نہیں کی، آپ کی پروا نہیں کی، آپ کے بچوں کے مستقبل کی فکر نہیں کی۔ وہ اپنے ہی بچوں کے بارے میں فکر مند تھے، وہ اپنے بچوں کی پرورش میں مصروف ہیں، انھیں اس بات کی پروا  نہیں ہے کہ آپ کے بچے پریشان ہوجائیں۔ انھوں نے کبھی بھی آپ کے بچوں کی حالت کی پرواہ نہیں کی اور نہ ہی کبھی کریں گے۔ لیکن مودی کے لیے، چاہے وہ دور رہتے ہوں، چاہے وہ جنگل میں رہتے ہوں، چاہے وہ پہاڑوں میں رہتے ہوں، چاہے وہ دور کسی چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہوں، ہر ایک شخص، ہر ایک فرد، ہر ایک کنبہ، یہ سب میرا خاندان ہے۔ مودی اس وقت تک آرام نہیں کر سکتاجب تک ہر شخص کو پکے گھر، مفت راشن، پینے کا صاف پانی، بجلی، بیت الخلا، گیس کنکشن، مفت علاج، انٹرنیٹ کنکشن تک رسائی حاصل نہ ہو۔ آج جب وہ مودی کے خاندان کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں، تو جیسا کہ میرے اروناچل بھائی اور بہنیں کہہ رہے ہیں، ملک کہہ رہا ہے، ان کا جواب دے رہا ہے، ہر خاندان کہہ رہا ہے کہ میں مودی کا خاندان ہوں! ہر خاندان کہہ رہا ہے کہ میں مودی کا خاندان ہوں! میں مودی کا خاندان ہوں!

میرے اہل خاندان،

آپ کا جو بھی خواب ہے، جو بھی آپ کا سپناہے، آپ کا خواب مودی کا عزم ہے۔ آپ اتنی بڑی تعداد میں ہمیں آشیرباد دینے آئے تھے۔ میں ایک بار پھر آپ سبھی کو، پورے نارتھ ایسٹ کو ترقیاتی کاموں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ اور اس وکاس اتسو کی خوشی میں میں یہاں میرے سامنے موجود سبھی لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا موبائل فون نکال لیں، ہر کوئی اپنا موبائل فون نکال لے۔ اور، اپنے موبائل فون کی فلیش لائٹ آن کریں، ہر کوئی، موبائل فون کی فلیش لائٹ آن کریں یہ سیلا ٹنل کے جشن کے لیے ہے، یہ ترقی کے جشن کے لیے ہے۔ ارد گرد دیکھو... واہ! کیسا نظارہ ہے... شاباش۔ یہ ملک کو بھی قوت دینے کا اشارہ ہے، ایک ایسا نظریہ جو ملک کو طاقت دیتا ہے۔ ہر کوئی اپنا موبائل فون نکال کر فلیش لائٹ آن کرلے، یہ ترقی کا جشن ہے، یہ ترقی کا جشن ہے۔ میں پورے شمال مشرق کے ان بھائیوں اور بہنوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ جہاں جہاں بیٹھے ہیں، اپنے موبائل فون نکالیں اور فلیش لائٹ آن کریں۔ میرے ساتھ ساتھ بولیں -

بھارت ماتا کی جئے۔

فلیش لائٹ آن رکھیں اور بولیں-

بھارت ماتا کی جئے۔

بھارت ماتا کی جئے۔

بھارت ماتا کی جئے۔

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades

Media Coverage

Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's interview to News X
May 21, 2024

In an interview to News X, Prime Minister Modi addressed the issue of toxic language in elections, explained why the Opposition frequently discussed him, and shared his views on job creation. He criticized the Congress' tax plans and appeasement politics.

Rishabh Gulati: A very warm welcome to the viewers of NewsX and India News. I’m Rishabh Gulati and with me is Aishwarya Sharma of The Sunday Guardian and Rana Yashwant. In today’s special episode, we proudly welcome a renowned ‘rashtra sevak’, and the Prime Minister of India in this Amrit Kaal, Hon’ble Shri Narendra Modi. Mr Prime Minister, you took the time to speak to us, we are very grateful.

Prime Minister: Namaskar, my warm greetings to all your viewers.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, the first question that comes to mind is about the Opposition, and it seems that the biggest item on their poll agenda is Narendra Modi. Why, in your opinion, do they talk so much about Narendra Modi?

Prime Minister: To understand why they discuss Narendra Modi, we must first understand the Opposition. To understand them, one can examine the administration between 2004 and 2014.

The Opposition has not been able to play a strong role. Even as the Opposition, the way they are falling apart, they did not play a constructive role of any kind. Despite deep discussions, they haven’t been able to bring serious issues to the public attention. They thought that by their antics, taking up space in the media, they would be able to keep their boat afloat. Even in this election, I have seen that they make fresh attempts every day to acquire media space, be it by making videos, nonsensical statements, or behaving in a way that people don’t normally behave. So they do this to acquire space in the media. Now abusing Modi is one such antic, where, if nothing else, they are guaranteed publicity. Even a small-time politician, if he bad-mouths me, will get about an hour of media attention. Perhaps they see Modi as a ladder to climb up in their political career.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, the I.N.D.I. alliance is talking about wealth redistribution. Do you think this is possible, and will the voters of the country be influenced by such a scheme?

Prime Minister: You can’t examine this in isolation. You must look at their overall thought process. When their (Congress) manifesto was released, I had said the manifesto had the imprint of the Muslim League. There was a statement made by Dr Manmohan Singh… I had attended the meeting in which he said that ‘Muslims have the first right to India’s resources.’ Now when I raised this in public, their media ecosystem raised a storm saying that ‘Modi is lying,’. So two days later, I brought Manmohan Singh’s press conference forward and put it in front of them. Then they stopped talking. So this was one example. Now in their Manifesto, they have said that they will give reservation (to Muslims) even when allotting government contracts.

So today, when a bridge is to be built somewhere, what is the criteria for awarding the contract? The company bidding is evaluated based on how resourceful they are, their experience, their capability, their ability to deliver on time, all these things. Now they say that they want to give reservations to the minorities, to the Muslims, in this process as well. It all adds up. Now when they say that they will impose inheritance tax, it means that taxes that go to the government, who will stand to benefit from it? It’s the same people that Manmohan Singh ji talked about. If you join the dots, this is the logic that comes from it. How will the country accept this? Secondly, has any developing country in the world indulged in such madness? Today, India needs to work hard to rise above its problems. We have made this attempt and pulled 25 crore people out of poverty. Where there used to be a few hundred start-ups, there are now over 1.25 lakh start-ups, and there are Unicorns. You must go among the people and work with energy, and that will bring the right result.

 

Rana Yashwant: Mr Prime Minister, the Ram Mandir has been built in Ayodhya, the consecration of Ram Lalla took place and there was joy among the people. In all this, there is Iqbal Ansari, who has fought the legal battle, and is an important person. He comes, holding a placard that says ‘Modi ka Parivaar’. Today, the minority community identifies with your policies and welfare schemes. Your opinion?

Prime Minister: Since you’ve brought up Ram Mandir and Iqbal Ansari, I will narrate an incident. Ram Mandir should have been built right after Independence. In all these years, it wasn’t built because they (Congress) felt it would affect their vote bank. Attempts were made in the Courts till the very end to stop it. It is a fact that Congress hindered the building of the Ram Mandir. Despite this, when the Supreme Court judgment came through, the Court constituted a trust, and the trust members, let go of all past differences and went to invite the Congress Party members to the consecration ceremony. They rejected the invitation. The same people went to invite Iqbal Ansari. The ironic thing is, that Iqbal Ansari, who fought the Babri Masjid case his entire life, respected the Supreme Court’s verdict and attended the ‘Shilanyas’ and the ‘Pran Prathistha’ ceremony as well. This is what I think, as far as Iqbal Ansari is concerned.

Now if you want to talk about secularism, it is my very serious allegation, that for over 75 years, through a very well-crafted conspiracy, a false narrative has been fed to the nation. It has been embedded in the nation from before our birth. Sardar Patel was targeted by this narrative, and maybe, today it may be my turn, tomorrow someone else… Why do they cry out ‘secularism’ over and over again? It’s because they want to divert the world’s attention from their communal activities.

They cry ‘thief’ over and over when they have defrauded the people, and they do this because they think crying ‘thief’ will divert the public’s attention. This is their ploy. I have called them out in front of everyone, that they are the ones who are communal. India’s constitution does not allow you to indulge in such sectarian acts, and I have brought out several such examples, like I mentioned earlier that they called the Muslims the rightful inheritors of India’s wealth. I am exposing them. They (Congress) hide behind their politics of appeasement and instead accuse me of being communal. I am talking about those communal parties that wear the ‘nikab’ of secularism and indulge in hardcore communalism. I find three things common among these people. They are hardcore sectarians, they are extremely casteist, and they are hardcore dynasts. They are so full of these three things that they can’t come out of it.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have spoken about lifting 25 crore people out of poverty. 80 crore poor people are receiving ration – it is necessary now and will be so in the future as well. What do you have to say about how crucial it will be in the future?

Prime Minister: When Manmohan Singh ji was the Prime Minister, news was rife with reports of food grains getting spoilt. So, the Supreme Court asked the government as to why the grains were not being distributed among the poor. Manmohan Singh ji, who was the Prime Minister then, stated on record that they could not distribute the grains and that it was impossible to do it. That is the consequence of his thinking. I faced the same issue, especially during COVID-19. My first goal was to ensure that a stove should be lit in every poor household. So, I started working on it. I have stated this for the next five years as well because in the lives of those who come out of poverty…

For example, one returns home from the hospital. The treatment has been done but precaution is necessary. A doctor advises you to take rest for a particular duration after returning home, tells you what to eat and what to refrain from consuming, and what to take care of. Why? The illness has already been addressed, but if anything is jeopardized then the condition of the person would return to what it was. That is why poor people who escape poverty need handholding. They should not return to that state in any condition. Once they escape poverty, they should be empowered to stand strong. In my understanding, in the next five years, those who have escaped poverty should be able to firmly stand on their feet. Any unfortunate incident in their family, should not push them to poverty again. And only then will the country eradicate poverty.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, our country is the youngest country. Under your tenure, 10 lakh government jobs have been filled. Now, the Opposition has vowed to fill 30 lakh government jobs. In your third term, how do you plan to boost employment opportunities for the youth?

Prime Minister: You must have read the SKOCH report that was released. I hope your TV channel studies the SKOCH report in detail and conducts a TV debate on this. They have analysed some 20 to 22 schemes of the government. They have published statistics about how many person-year-hours have been obtained. They have revealed how many hours it takes to build 4 crore houses and how many people it employs. They have published data for about 22 different parameters.

They have stated that 50 crore people have accrued benefits. Secondly, we brought the Mudra Yojana. We give bank loans without any guarantee. We have disbursed loans worth Rs 23 Lakh Crore. 80% of those who have received these loans are first-timers. Some have started their businesses and have employed a few people in this process. Start-ups used to be in the thousands and now they are in lakhs. People have been employed in this process, right? Consider that a 1000-kilometre road is being built and think about how many jobs are created. So, if a 2000-kilometre road is being built more people will be employed, right? Today, road and rail construction has doubled, electrification has doubled, and mobile towers are reaching every corner of India. All this is being created by people who have received jobs. That is why a lie is being peddled.

 What’s important is that we must move towards creating jobs for ourselves. The youth in this country are in the mood to do something and be productive and we must help them. We must encourage them. Our Mudra Yojana does exactly that. We also run the SVANidhi scheme. There are countless street hawkers, who are poor people. But today, they are taking money from the bank to run their businesses. Due to this, they can save money and expand their business. Earlier, a street hawker would sit on the footpath and now his goal is to buy a lorry. One who would owned a lorry earlier now wishes to provide home delivery services. Their aspirations are rising. This is why I believe that while people receive the benefits of government schemes, which will eventually result in development, we must also focus on several other areas.

 

Rana Yashwant: Prime Minister, your government works on the principle of ‘Sabka Saath, Sabka Vikas’. Beneficiaries avail welfare schemes without any discrimination – caste, religion, or community. Yet, the Opposition maintains that Muslims do not accrue the same benefits from these welfare schemes.

Prime Minister: You are the first person from whom I’ve heard this. The unique aspect of my government, in terms of delivering welfare schemes, has not raised any questions regarding discrimination.

 

Rana Yashwant: The Opposition has to say this.

Prime Minister: Even the Opposition does not say this. You are the first person from whom I’ve heard this. I have never heard this from anybody because everyone knows… and Muslims themselves say that they receive all benefits.

The primary reason is that I have two principles. First, 100% saturation. For example, if poor people must be given houses, complete delivery must take place. If 100% delivery is the goal, then where does the scope of discrimination even arise? Whether it is providing gas connections, building toilets, ensuring tap water connections, I believe in 100% delivery. Yes, some people will receive the benefits in January, some in April and some in November, but the scheme will apply to all and 100%. I believe that true secularism is when 100% delivery is done. Social justice is when 100% is done. So, if my mission is 100% saturation… and nobody has made this charge yet. They don’t have the courage to say it. I have lived in Gujarat as well, and on this topic, nobody can prop up any charges against me.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have taken out time to sit with us and relay your ‘Mann Ki Baat’. Thank you so much. Best of luck for the polls ahead.

Prime Minister: I thank you all. I have been campaigning day and night…

 

Rana Yashwant: You are constantly on the move. We see you morning until night on the run…

Rishabh Gulati: Today, you had a big rally at 8 in the morning.

Prime Minister: I started my day at 6 am and went to Jagannath Puri temple to offer my prayers. Since then I have been traveling and have at last got time to meet you.

 

Rana Yashwant: Where ever you go, Jagannath or Kashi, there is a sea of people that comes to greet you. You have experienced it yourself.

Prime Minister: I realise that my responsibilities are now increasing. I also see that the public has taken ownership of elections. Political parties are not fighting the elections. The public has taken ownership of this election. And the results will be as desired by the public.

Thank you!