وزیر اعظم نے ری پبلک سمٹ 2024 سے خطاب کیا

Published By : Admin | March 7, 2024 | 20:50 IST
’’یہ دہائی وکست بھارت کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم دہائی ہوگی‘‘
’’ملک کی صلاحیت کے ذریعے ہندوستان کے خوابوں کو پورا کرنے کی یہ دہائی ہے ‘‘
’’یہ دہائی ہندوستان کی تیز رفتارکنکٹیوٹی، تیز رفتار موبلیٹی اور تیز رفتار خوشحالی کی دہائی ہوگی‘‘
’’ہندوستان ایک مضبوط جمہوریت کے طور پر عقیدے کا روشن مینار ہے‘‘
ہندوستان نے ثابت کر دیا کہ اچھی سیاست اچھی معاشیات سے ہی ہو سکتی ہے
’’میری پوری توجہ ملک کی ترقی کی رفتار اور پیمانے کو بڑھانے پر مرکوز ہے‘‘
گزشتہ 10 سال میں لوگوں نے نعرے نہیں بلکہ حل دیکھے ہیں
’’اگلی دہائی میں ہندوستان جن بلندیوں پر پہنچے گا وہ غیرمعمولی اور ناقابل تصور ہوگی‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں ری پبلک سمٹ 2024 سے خطاب کیا۔ اس سمٹ کا موضوع بھارت: اگلی دہائی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دہائی ہندوستان کی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ بیان محض سیاسی نہیں تھا آج دنیا اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ انہوں نے موضوع  کے مطابق، اگلی دہائی کے ہندوستان پر تبادلہ خیال شروع کرنے کے لیے ری پبلک ٹیم کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’’دنیا کا خیال ہے کہ یہ ہندوستان کی دہائی ہے‘‘۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دہائی وکست بھارت کے عزم  کو پورا کرنے کا ذریعہ بنے گی۔

 

آزاد ہندوستان کے لیے موجودہ دہائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے لال قلعہ سے اپنی بات کو یاد کیا اور  کہا، "یہی سمے ہے، صحیح سمے ہے‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دہائی ایک قابل اور وکست بھارت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور لوگوں کی ان خواہشات کو پورا کرنے کا وقت ہے جو کبھی ناممکن سمجھی جاتی تھیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا ’’یہ دہائی ملک کی صلاحیت کے ذریعے ہندوستان کے خوابوں کو پورا کرنے کی دہائی ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگلی دہائی سے پہلے، لوگ ہندوستان کو تیسری سب سے بڑی معیشت بنتے ہوئے دیکھیں گے اور بنیادی ضروریات جیسے پکے گھر، بیت الخلا، گیس، بجلی، پانی، انٹرنیٹ وغیرہ سبھی کے لیے دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ دہائی ایکسپریس ویز، تیز رفتار ٹرینوں اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے تعلق رکھتی ہے اور ہندوستان کو اپنی پہلی بلٹ ٹرین ملے گی، مکمل طور پر آپریشنل  ڈیڈیکیٹڈفریٹ کوریڈورز، اور ہندوستان کے بڑے شہر نمو یا میٹرو  ریل کے ذریعے منسلک ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ دہائی ہندوستان کے تیز رفتار کنکٹیوٹی،  موبلیٹی اور خوشحالی کے لیے وقف ہوگی۔‘‘

موجودہ دور میں عالمی غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے ماہرین کی رائے کا حوالہ دیا کہ موجودہ لمحہ اپنی شدت اور وسعت کے لحاظ سے سب سے زیادہ غیر مستحکم ہے اور دنیا بھر کی حکومتوں کو مخالفت کی لہروں کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ’’اس سب کے درمیان ہندوستان ایک مضبوط جمہوریت کے طور پر اعتماد کی کرن کی طرح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اچھی سیاست اچھی معاشیات سے کی جا سکتی ہے‘‘۔

 

ہندوستان کی کارکردگی کے بارے میں عالمی تجسس کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا،’’یہ اس لیے ہوا کیونکہ ہم نے ملک کی ضروریات کے ساتھ ساتھ خوابوں کو بھی پورا کیا، ہم نے بااختیار بنانے پر کام کرتے ہوئے خوشحالی پر توجہ دی۔’’ انہوں نے ذاتی انکم ٹیکس کو کم کرتے ہوئے کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کی ایک مثال بھی دی۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ جدید انفراسٹرکچر میں ریکارڈ سرمایہ کاری کے ساتھ مفت طبی علاج اور مفت راشن کے ساتھ کروڑوں پکے گھر بنائے جا رہے ہیں۔ اگر صنعت کے لیے پی ایل آئی اسکیمیں تھیں تو کسانوں کے لیے بیمہ اور آمدنی کے  ذرائع بھی تھے۔ ٹیکنالوجی اور اختراع میں سرمایہ کاری کے ساتھ نوجوانوں کی مہارت کی ترقی پر توجہ دی جاتی ہے۔

وزیر اعظم نے خاندانی سیاست کے نتیجے میں ہندوستان کی ترقی کے لیے کئی دہائیوں پر محیط وقت کے ضائع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور وکست بھارت کی تشکیل کے لیے ضائع  ہوئے وقت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے غیرمعمولی پیمانے اور رفتار سے کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے آج ہندوستان کے تمام علاقوں میں جاری ترقیاتی کاموں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کی توجہ ملک کی ترقی کی رفتار اور پیمانے کو بڑھانے پر مرکوز ہے۔ گزشتہ 75 دنوں میں ملک میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کا ذکر کیا، جو کہ 110 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید انفراسٹرکچر پر گزشتہ 75 دنوں میں کی گئی سرمایہ کاری دنیا کے کئی ممالک کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہے۔ گزشتہ 75 دنوں میں وزیر اعظم نے بتایا کہ 7 نئے ایمس، 3 آئی آئی ایم، 10 آئی آئی ٹی، 5 این آئی ٹی، 3 آئی آئی آئی ٹی، 2 آئی سی آر اور 10 مرکزی ادارے، 4 میڈیکل اور نرسنگ کالجز اور 6 نیشنل ریسرچ لیبز کا افتتاح  یا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ خلائی انفراسٹرکچر سیکٹر میں 1800 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا، 54 پاور پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا یا سنگ بنیاد رکھا گیا، اور کاکراپار ایٹمی پاور پلانٹ کے 2 نئے ری ایکٹر قوم کو وقف کیے گئے۔ دیسی فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کی کور لوڈنگ کلپکم میں شروع کی گئی، تلنگانہ میں 1600 میگاواٹ کے تھرمل پاور پلانٹ کا افتتاح کیا گیا، جھارکھنڈ میں 1300 میگاواٹ کے تھرمل پاور پلانٹ کا افتتاح کیا گیا ، اترپردیش  میں  1600 میگاواٹ کے تھرمل پاور پلانٹ ،300 میگاواٹ سولر پاور پلانٹ اور میگا رینیوایبل پارک  اورہماچل میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ تمل ناڈو میں ملک کا پہلا گرین ہائیڈروجن فیول سیل ویسل شروع کیا گیا۔ یوپی کی میرٹھ-سمبھاولی ٹرانسمیشن لائنوں کا افتتاح کیا گیا اور کرناٹک کے کوپل میں ونڈ انرجی زون سے ٹرانسمیشن لائنوں کا افتتاح کیا گیا۔  انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 75 دنوں میں ہندوستان کے سب سے طویل کیبل پر مبنی پل کا افتتاح کیا گیا، لکشدیپ تک زیر سمندر آپٹیکل کیبل کے کام کا افتتاح کیا گیا، ملک کے 500 سے زائد ریلوے اسٹیشنوں کو جدید بنانے کا کام شروع کیا گیا، 33 نئی ٹرینیں چلائی گئیں۔ سڑکوں، اوور برجز اور انڈر پاسز کے 1500 سے زائد منصوبوں کا افتتاح، ملک کے 4 شہروں میں میٹرو سے متعلق 7 منصوبوں کا افتتاح کیا گیا اور کولکتہ کو ملک کی پہلی زیر آب میٹرو کا تحفہ ملا ہے۔ 10,000 ہزار کروڑ روپے کے 30 بندرگاہوں کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ انہوں نے کسانوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی اسٹوریج اسکیم شروع کرنے، 18,000 کوآپریٹیو کے کمپیوٹرائزیشن کی تکمیل اور کسانوں کے بینک کھاتوں میں 21,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی منتقلی کا بھی ذکر کیا۔

 

گورننس کی رفتار کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ بجٹ میں پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے اعلان کے بعد منظوری اور لانچ ہونے میں صرف 4 ہفتے لگے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس پیمانے اور رفتار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے اگلے 25 سال کے روڈ میپ پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ  میرے لئے ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے ، اس لئے انتخابی ماحول کے درمیان بھی ترقیاتی کام جاری ہیں۔وزیراعظم  مودی نے کہا، ’’گزشتہ 10 برسوں میں لوگوں نے نعروں کے بجائے حل دیکھے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی، فرٹیلائزر پلانٹس کی بحالی، برق کاری، اور سرحدی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، پکے مکانات کو یقینی بنانے سے لے کر آرٹیکل 370 کی منسوخی تک ،وزیراعظم نے کہا، حکومت تمام ترجیحات پر بیک وقت کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم  مودی نے واضح کیا کہ پچھلے 10 سال کے دوران سوالات کی نوعیت  کیسے بدل گئی ہے ۔ قومی معیشت کے بارے میں مایوس کن سوالات امید اور تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے انتظار میں بدل گئے، جدید ترین ٹیکنالوجی کے انتظار سے لے کر ڈیجیٹل ادائیگی میں قیادت تک، بے روزگاری سے لے کر اسٹارٹ اپس کے بارے میں سوالات، مہنگائی کے دنوں سے لے کر دنیا کی اتھل پتھل سے مبرا  رہنے  تک اور تیز رفتار ترقی کے بارے میں۔ مزید برآں، انہوں نے گھپلوں، اصلاحات، آرٹیکل 370 اور جموں و کشمیر کی معیشت میں پیشرفت کے بارے میں ناامیدی سے پرامید ہونے کے سوال میں تبدیلی کا ذکر کیا۔ آج صبح سری نگر کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے حاضرین کو  جموں و کشمیر کے بدلے ہوئے مزاج کے بارے میں بتایا۔

 

وزیر اعظم نے کہاکہ  دہائیوں تک حکومتوں نے جنہیں کمزور اور مجبوری سمجھ کر پیچھے چھوڑ دیا تھا ، ان دس برسوں میں ہم نے ان کی ذمہ داری اٹھانے کا کام کیا ہے۔  انہوں نےاُمنگوں والے اضلاع کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان اضلاع میں لوگوں کے نقطہ نظر اور تقدیر کو بدل دیا جنہیں قسمت کے بھروسے  چھوڑ دیا گیا تھا ۔ اسی طرح کے نقطہ نظر نے سرحدی گاؤوں اور دیویانگوں  میں تبدیلی آئی ۔ انہوں نے اشاروں کی زبان کو معیاری بنانے کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ ایک حساس حکومت  گہرے نظریہ  اور سوچ کے ساتھ کام کرتی ہے۔ نظر انداز اور محروم کمیونٹیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش آبادیوں،خوانچہ فروشوں اور وشوکرماوں کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

کامیابیوں کے سفر میں سخت محنت، وژن اور عزم کے کردار کواجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہندوستان بھی اس سفر میں تیز رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگلی دہائی میں ہندوستان جن بلندیوں پر پہنچے گا وہ غیرمعمولی اور تصور سے پرے ہوگی۔ وزیر اعظم نے آخر میں کہاکہ یہ بھی مودی کی گارنٹی  ہے۔‘‘

 

Click here to read full text speech

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades

Media Coverage

Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's interview to News X
May 21, 2024

In an interview to News X, Prime Minister Modi addressed the issue of toxic language in elections, explained why the Opposition frequently discussed him, and shared his views on job creation. He criticized the Congress' tax plans and appeasement politics.

Rishabh Gulati: A very warm welcome to the viewers of NewsX and India News. I’m Rishabh Gulati and with me is Aishwarya Sharma of The Sunday Guardian and Rana Yashwant. In today’s special episode, we proudly welcome a renowned ‘rashtra sevak’, and the Prime Minister of India in this Amrit Kaal, Hon’ble Shri Narendra Modi. Mr Prime Minister, you took the time to speak to us, we are very grateful.

Prime Minister: Namaskar, my warm greetings to all your viewers.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, the first question that comes to mind is about the Opposition, and it seems that the biggest item on their poll agenda is Narendra Modi. Why, in your opinion, do they talk so much about Narendra Modi?

Prime Minister: To understand why they discuss Narendra Modi, we must first understand the Opposition. To understand them, one can examine the administration between 2004 and 2014.

The Opposition has not been able to play a strong role. Even as the Opposition, the way they are falling apart, they did not play a constructive role of any kind. Despite deep discussions, they haven’t been able to bring serious issues to the public attention. They thought that by their antics, taking up space in the media, they would be able to keep their boat afloat. Even in this election, I have seen that they make fresh attempts every day to acquire media space, be it by making videos, nonsensical statements, or behaving in a way that people don’t normally behave. So they do this to acquire space in the media. Now abusing Modi is one such antic, where, if nothing else, they are guaranteed publicity. Even a small-time politician, if he bad-mouths me, will get about an hour of media attention. Perhaps they see Modi as a ladder to climb up in their political career.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, the I.N.D.I. alliance is talking about wealth redistribution. Do you think this is possible, and will the voters of the country be influenced by such a scheme?

Prime Minister: You can’t examine this in isolation. You must look at their overall thought process. When their (Congress) manifesto was released, I had said the manifesto had the imprint of the Muslim League. There was a statement made by Dr Manmohan Singh… I had attended the meeting in which he said that ‘Muslims have the first right to India’s resources.’ Now when I raised this in public, their media ecosystem raised a storm saying that ‘Modi is lying,’. So two days later, I brought Manmohan Singh’s press conference forward and put it in front of them. Then they stopped talking. So this was one example. Now in their Manifesto, they have said that they will give reservation (to Muslims) even when allotting government contracts.

So today, when a bridge is to be built somewhere, what is the criteria for awarding the contract? The company bidding is evaluated based on how resourceful they are, their experience, their capability, their ability to deliver on time, all these things. Now they say that they want to give reservations to the minorities, to the Muslims, in this process as well. It all adds up. Now when they say that they will impose inheritance tax, it means that taxes that go to the government, who will stand to benefit from it? It’s the same people that Manmohan Singh ji talked about. If you join the dots, this is the logic that comes from it. How will the country accept this? Secondly, has any developing country in the world indulged in such madness? Today, India needs to work hard to rise above its problems. We have made this attempt and pulled 25 crore people out of poverty. Where there used to be a few hundred start-ups, there are now over 1.25 lakh start-ups, and there are Unicorns. You must go among the people and work with energy, and that will bring the right result.

 

Rana Yashwant: Mr Prime Minister, the Ram Mandir has been built in Ayodhya, the consecration of Ram Lalla took place and there was joy among the people. In all this, there is Iqbal Ansari, who has fought the legal battle, and is an important person. He comes, holding a placard that says ‘Modi ka Parivaar’. Today, the minority community identifies with your policies and welfare schemes. Your opinion?

Prime Minister: Since you’ve brought up Ram Mandir and Iqbal Ansari, I will narrate an incident. Ram Mandir should have been built right after Independence. In all these years, it wasn’t built because they (Congress) felt it would affect their vote bank. Attempts were made in the Courts till the very end to stop it. It is a fact that Congress hindered the building of the Ram Mandir. Despite this, when the Supreme Court judgment came through, the Court constituted a trust, and the trust members, let go of all past differences and went to invite the Congress Party members to the consecration ceremony. They rejected the invitation. The same people went to invite Iqbal Ansari. The ironic thing is, that Iqbal Ansari, who fought the Babri Masjid case his entire life, respected the Supreme Court’s verdict and attended the ‘Shilanyas’ and the ‘Pran Prathistha’ ceremony as well. This is what I think, as far as Iqbal Ansari is concerned.

Now if you want to talk about secularism, it is my very serious allegation, that for over 75 years, through a very well-crafted conspiracy, a false narrative has been fed to the nation. It has been embedded in the nation from before our birth. Sardar Patel was targeted by this narrative, and maybe, today it may be my turn, tomorrow someone else… Why do they cry out ‘secularism’ over and over again? It’s because they want to divert the world’s attention from their communal activities.

They cry ‘thief’ over and over when they have defrauded the people, and they do this because they think crying ‘thief’ will divert the public’s attention. This is their ploy. I have called them out in front of everyone, that they are the ones who are communal. India’s constitution does not allow you to indulge in such sectarian acts, and I have brought out several such examples, like I mentioned earlier that they called the Muslims the rightful inheritors of India’s wealth. I am exposing them. They (Congress) hide behind their politics of appeasement and instead accuse me of being communal. I am talking about those communal parties that wear the ‘nikab’ of secularism and indulge in hardcore communalism. I find three things common among these people. They are hardcore sectarians, they are extremely casteist, and they are hardcore dynasts. They are so full of these three things that they can’t come out of it.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have spoken about lifting 25 crore people out of poverty. 80 crore poor people are receiving ration – it is necessary now and will be so in the future as well. What do you have to say about how crucial it will be in the future?

Prime Minister: When Manmohan Singh ji was the Prime Minister, news was rife with reports of food grains getting spoilt. So, the Supreme Court asked the government as to why the grains were not being distributed among the poor. Manmohan Singh ji, who was the Prime Minister then, stated on record that they could not distribute the grains and that it was impossible to do it. That is the consequence of his thinking. I faced the same issue, especially during COVID-19. My first goal was to ensure that a stove should be lit in every poor household. So, I started working on it. I have stated this for the next five years as well because in the lives of those who come out of poverty…

For example, one returns home from the hospital. The treatment has been done but precaution is necessary. A doctor advises you to take rest for a particular duration after returning home, tells you what to eat and what to refrain from consuming, and what to take care of. Why? The illness has already been addressed, but if anything is jeopardized then the condition of the person would return to what it was. That is why poor people who escape poverty need handholding. They should not return to that state in any condition. Once they escape poverty, they should be empowered to stand strong. In my understanding, in the next five years, those who have escaped poverty should be able to firmly stand on their feet. Any unfortunate incident in their family, should not push them to poverty again. And only then will the country eradicate poverty.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, our country is the youngest country. Under your tenure, 10 lakh government jobs have been filled. Now, the Opposition has vowed to fill 30 lakh government jobs. In your third term, how do you plan to boost employment opportunities for the youth?

Prime Minister: You must have read the SKOCH report that was released. I hope your TV channel studies the SKOCH report in detail and conducts a TV debate on this. They have analysed some 20 to 22 schemes of the government. They have published statistics about how many person-year-hours have been obtained. They have revealed how many hours it takes to build 4 crore houses and how many people it employs. They have published data for about 22 different parameters.

They have stated that 50 crore people have accrued benefits. Secondly, we brought the Mudra Yojana. We give bank loans without any guarantee. We have disbursed loans worth Rs 23 Lakh Crore. 80% of those who have received these loans are first-timers. Some have started their businesses and have employed a few people in this process. Start-ups used to be in the thousands and now they are in lakhs. People have been employed in this process, right? Consider that a 1000-kilometre road is being built and think about how many jobs are created. So, if a 2000-kilometre road is being built more people will be employed, right? Today, road and rail construction has doubled, electrification has doubled, and mobile towers are reaching every corner of India. All this is being created by people who have received jobs. That is why a lie is being peddled.

 What’s important is that we must move towards creating jobs for ourselves. The youth in this country are in the mood to do something and be productive and we must help them. We must encourage them. Our Mudra Yojana does exactly that. We also run the SVANidhi scheme. There are countless street hawkers, who are poor people. But today, they are taking money from the bank to run their businesses. Due to this, they can save money and expand their business. Earlier, a street hawker would sit on the footpath and now his goal is to buy a lorry. One who would owned a lorry earlier now wishes to provide home delivery services. Their aspirations are rising. This is why I believe that while people receive the benefits of government schemes, which will eventually result in development, we must also focus on several other areas.

 

Rana Yashwant: Prime Minister, your government works on the principle of ‘Sabka Saath, Sabka Vikas’. Beneficiaries avail welfare schemes without any discrimination – caste, religion, or community. Yet, the Opposition maintains that Muslims do not accrue the same benefits from these welfare schemes.

Prime Minister: You are the first person from whom I’ve heard this. The unique aspect of my government, in terms of delivering welfare schemes, has not raised any questions regarding discrimination.

 

Rana Yashwant: The Opposition has to say this.

Prime Minister: Even the Opposition does not say this. You are the first person from whom I’ve heard this. I have never heard this from anybody because everyone knows… and Muslims themselves say that they receive all benefits.

The primary reason is that I have two principles. First, 100% saturation. For example, if poor people must be given houses, complete delivery must take place. If 100% delivery is the goal, then where does the scope of discrimination even arise? Whether it is providing gas connections, building toilets, ensuring tap water connections, I believe in 100% delivery. Yes, some people will receive the benefits in January, some in April and some in November, but the scheme will apply to all and 100%. I believe that true secularism is when 100% delivery is done. Social justice is when 100% is done. So, if my mission is 100% saturation… and nobody has made this charge yet. They don’t have the courage to say it. I have lived in Gujarat as well, and on this topic, nobody can prop up any charges against me.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have taken out time to sit with us and relay your ‘Mann Ki Baat’. Thank you so much. Best of luck for the polls ahead.

Prime Minister: I thank you all. I have been campaigning day and night…

 

Rana Yashwant: You are constantly on the move. We see you morning until night on the run…

Rishabh Gulati: Today, you had a big rally at 8 in the morning.

Prime Minister: I started my day at 6 am and went to Jagannath Puri temple to offer my prayers. Since then I have been traveling and have at last got time to meet you.

 

Rana Yashwant: Where ever you go, Jagannath or Kashi, there is a sea of people that comes to greet you. You have experienced it yourself.

Prime Minister: I realise that my responsibilities are now increasing. I also see that the public has taken ownership of elections. Political parties are not fighting the elections. The public has taken ownership of this election. And the results will be as desired by the public.

Thank you!