کامیابی کے پویلین، سائنس سٹی کی سربراہ کانفرنس کا افتتاح کیا
صنعتی لیڈروں نے وزیراعظم کے وژن کی ستائش کی
’’ وائبرینٹ گجرات صرف برانڈنگ کی تقریب ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ ہے اور یہ جوڑنے کی بھی تقریب ہے‘‘
’’ گجرات کی خاص جاذبیت اچھی حکمرانی ، منصفانہ اور پالیسی پر مبنی حکمرانی، ترقی کا یکساں نظام اور شفافیت ہے ‘‘
’’وائبرینٹ گجرات کی کامیابی کے کلیدی عناصر نے نظریہ ،تصور اور نفاذ شامل ہیں‘‘
’’وائبرینٹ گجرات ایک تقریب سے ایک ادارہ میں تبدیل ہوگیا ہے‘‘
’’ بھارت کو دنیا کا ترقی کا انجن بنانے کا 2014 کا ہدف بین الاقوامی ایجنسیوں اور ماہرین کے ذہنوں میں جگہ بنارہاہے
’’اگلے 20 سال گزشتہ 20 سالوں سے زیادہ اہم ہیں‘‘
’’اگلے 20 سال گزشتہ 20 سالوں سے زیادہ اہم ہیں‘‘

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج احمدآباد کی سائنس سٹی میں وائبرینٹ گجرات گلوبل سمٹ کے 20 سال مکمل ہونے  کے جشن سےمتعلق پروگرام سے خطاب کیا۔ وائبرینٹ گجرات گلوبل سمٹ کا آغاز20 سال پہلے اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت کے تحت 28 ستمبر 2003 کو ہوا تھا  ۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ یہ ایک حقیقی عالمی تقریب میں بدل گیا اور اس کی حیثیت بھارت میں ایک اہم کاروباری سربراہ کانفرنس کی ہوگئی ہے۔

 

صنعت کے لیڈروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ویل  اسپن کے چیئرمین بی کے گوینکا نے وائبرینٹ گجرات کے سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وائبرنٹ گجرات واقعی ایک عالمی تقریب  بن گیا ہے۔ انہوں نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم کے وژن کو یاد کیا جن کے لیے سرمایہ کاری کا فروغ ایک مشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب دیگر ریاستوں کے لئے رول ماڈل بن گئی ہے۔ انہوں نے پہلے وائبرینٹ گجرات کے دوران اپنے تجربے کو یاد کیا جب جناب مودی نے انہیں کچھ کے علاقے میں توسیع کرنے کا مشورہ دیا جو کچھ عرصہ پہلے ہی میں زلزلے سے تباہ ہوا تھا۔ جناب گوئنکا نے کہا کہ وزیر اعظم کا مشورہ تاریخی ثابت ہوا اور تمام تعاون کے ساتھ وہ بہت کم وقت میں پیداوار شروع کرنے کے قابل ہوگئے ۔ انہوں نے موجودہ کچھ کی فعالیت پر روشنی ڈالی، جسے  تباہ حال علاقہ نہیں کہا جاسکتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطہ جلد ہی پوری دنیا کے لیے گرین ہائیڈروجن کا مرکز بن جائے گا۔ انہوں نے عالمی مالیاتی بحران کے درمیان 2009 میں وزیر اعظم کی پر امیدی کو بھی یاد کیا اور اس سال بھی وائبرنٹ گجرات کو بڑی کامیابی ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 70 فیصد سے زیادہ مفاہمت ناموں کے ذریعہ  ریاست میں سرمایہ کاری کی گئی ۔

جیٹرو (جنوبی ایشیا)   کے چیف ڈائرکٹر جنرل جناب تاکاشی سوزوکی نے گجرات حکومت کو وائبرنٹ گجرات کی 20 ویں سالگرہ پر مبارکباد دی  ہےاور کہا کہ میک ان انڈیا پہل میں جاپان کا سب سے بڑا تعاون رہا ہے۔گجرات کے ساتھ 2009 سے جیٹرو کی ساجھیداری کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے جناب سوزوکی نے کہا کہ گجرات کے ساتھ ثقافتی رابطے وقت کے ساتھ  گہرے ہوئے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی کے سرسہرا باندھا ، جن کی سفارش پر جیٹرو نے جاپانی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی سہولت کے لئے 2013 میں  احمدآباد میں اپنا پروجیکٹ دفتر کھولا تھا۔ انہوں نے  بھارت میں ملک پر مرکوز ٹاؤن شب کو بھی اجاگر کیا جس نے سرمایہ کاری کی ہمت افزائی کی ۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ  گجرات  کے پروجیکٹ آفس کو 2018 میں ریجنل آفس کے طور پر ترقی دی گئی ۔ جناب سوزوکی نے بتایا کہ  گجرات میں جاپان کی تقریباً 360 کمپنیاں اور فیکٹریاں موجود ہیں۔ انہوں نے بھارت  میں مستقبل کے کاروباری شعبوں میں جیسے سیمی کنڈکٹرز، گرین ہائیڈروجن، قابل تجدید توانائی  اورا دویہ سازی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کا ذکر کیا اور اگلے  وائبرینٹ گجرات میں سیمی کنڈکٹر الیکٹرانکس پر توجہ مرکوز کرتے  ہوئے جاپانی کاروباری  وفد کو مدعو کرنے کے بارے میں بتایا۔ جناب  سوزوکی نے  بھارت  کو سرمایہ کاری کے لیے ایک  پسندیدہ مقام بنانے میں ان کی رہنمائی کے لیے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔

 

آرسیلر متل کے ایگزیکٹو چیئرمین جناب  لکشمی متل نے کہا کہ وائبرینٹ گجرات سے  شروع ہوئے رجحان  نے دوسری ریاستوں کی بھی ایسی تقریبات کی قیادت کی ہے اور بھارت کو عالمی سرمایہ کاروں کا پسندیدہ مقام بنانے کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے اس کے لئے وزیراعظم کے وژن  کو بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے جی 20 کے لئے وزیراعظم کو مبارکباد دی جو وزیراعظم کی قیادت کے تحت عالمی اتفاق رائے حاصل کرنے والا سمٹ ثابت ہوا ہے۔  جناب متل نے  ممتاز صنعتی ریاست کے طور پر گجرات کی حیثیت کو اجاگر کیا اور یہ کہ کس طرح گجرات موثر طریقے سے عالمی مسابقت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ریاست میں آرسیلر متل کے پروجیکٹوں کے بارے میں بھی بتایا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 20 سال پہلے بوئے گئے بیج نے ایک شاندار اور متنوع وائبرینٹ گجرات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے وائبرینٹ گجرات سمٹ کی 20 ویں سالگرہ کے جشن  کا ایک حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ وائبرینٹ گجرات  ریاست کے لیے محض  برانڈنگ کی ایک مشق نہیں ہے بلکہ رشتوں کو مستحکم کرنے کا ایک موقع ہے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سربراہ  اجلاس ان کے ساتھ جڑے مضبوط رشتے اور ریاست کے 7 کروڑ لوگوں کی صلاحیتوں کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ تعلق میرے لیے لوگوں کی بے پناہ محبت پر مبنی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ 2001 کے زلزلے کے بعد گجرات کی حالت کا تصور کرنا مشکل ہے۔ زلزلے سے پہلے بھی گجرات  کافی طویل عرصے سے خشک سالی سے دوچار تھا۔ مادھو پور مرکنٹائل کوآپریٹو بینک کے ختم ہونے کی وجہ  سے  پیچیدگیاں بڑھ گئیں تھیں۔ جس کے نتیجے میں دیگرکوآپریٹو بینکوں میں بھی سلسلہ وار رد عمل سامنے آیا تھا۔ جناب مودی نے اس بات کو دوہرایا کہ ان کے لیے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ وہ اس وقت حکومت میں نئے تھے۔ اس منظرنامے میں دل دہلا دینے والے گودھرا واقعہ کے بعد گجرات میں تشدد بھڑک اٹھا۔ جناب مودی نے کہا کہ  وزیر اعلی کے طور پر تجربہ کی کمی کے باوجود انہیں گجرات اور اس کی عوام پر پورا بھروسہ تھا۔انہوں نے اس وقت کے ایجنڈے پر چلنے والے ڈوم سیئرز کو بھی یاد کیا کیونکہ گجرات کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ’’میں نے  یہ عہد کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں، میں گجرات کو اس صورتحال سے نکالوں گا۔ ہم صرف تعمیر نو کے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے بلکہ اس کے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے اور ہم نے اس کے لیے وائبرنٹ گجرات سمٹ کو ایک اہم ذریعہ بنایا ‘‘۔  وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وائبرنٹ گجرات ریاست کے حوصلے بلند کرنے اور دنیا کے ساتھ منسلک ہونے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پربھی  زور دیا کہ سربراہی اجلاس ریاستی حکومت کی فیصلہ سازی اور توجہ  کومرکوز کرنے کے طریقہ کار کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملک کی صنعت کی صلاحیت کو بھی سامنے لایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وائبرینٹ گجرات کو بہت سارے شعبوں میں لاتعداد مواقع پیش کرنے، ملک کے ٹیلنٹ پول کو ظاہر کرنے اور ملک کی الوہیت،عظمت اور ثقافتی روایات کو اجاگر کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ سربراہی اجلاس کے انعقاد کے وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نےکہا کہ وائبرنٹ گجرات ریاست کی صنعتی ترقی کے لیے ایک  فیسٹول بن گیا ہے کیونکہ اس کا اہتمام نوراتری اور گربا کی ہلچل کے دوران کیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے گجرات کے تئیں اس وقت کی مرکزی حکومت کی بے حسی کو یاد کیا۔ ’’گجرات کی ترقی کے ذریعے ملک کی ترقی‘‘ کے ان کے رائے کے باوجود، گجرات کی ترقی کو سیاسی منشور سے دیکھا گیاتھا۔غیر ملکی سرمایہ کاروں نے دھمکیوں کے باوجود گجرات کا انتخاب کیا۔ یہ کسی خاص ترغیب کے باوجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی توجہ اچھی حکمرانی، منصفانہ اور پالیسی پر مبنی حکمرانی، اور ترقی اور شفافیت کا مساوی نظام ہے۔

 

وائبرنٹ گجرات کے 2009 کے ایڈیشن کو یاد کرتے ہوئے جب پوری دنیا کساد بازاری سے گزر رہی تھی، وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلی کی حیثیت سے انہوں نے آگے بڑھنے اور اس تقریب کو منظم کرنے پر زور دیا۔ اس کے نتیجے میں، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ گجرات کی کامیابی کا ایک نیا باب   2009 کے وائبرینٹ گجرات سمٹ کے دوران لکھا گیا۔

وزیر اعظم نے اپنے سفر کے ذریعے سمٹ کی کامیابی کی وضاحت کی۔ 2003 ایڈیشن نے صرف چند سو شرکاء کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آج 40000 سے زائد شرکاء اور مندوبین اور 135 ممالک سربراہی اجلاس میں حصہ لیا۔ نمائش کنندگان کی تعداد بھی 2003 میں 30 سے بڑھ کر آج 2000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وائبرینٹ گجرات کی کامیابی کے بنیادی عناصر ہیں ۔نظریہ،سوچ اور نفاذ ۔ انہوں نے وائبرینٹ گجرات کے پیچھے نظریہ اور سوچ کی جرأت کو اجاگر کیا اور کہا کہ دیگر ریاستوں میں بھی اس کی پیروی کی گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ’’البتہ نظریہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظام کو متحرک کریں اور نتائج فراہم کریں‘‘۔انھوں نے کہا کہ اس پیمانے کی اس تنظیم کو شدید منصوبہ بندی، صلاحیت سازی میں  سرمایہ کاری، محتاط نگرانی اور لگن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وائبرینٹ گجرات کے ساتھ ریاستی حکومت نے انہی افسران، وسائل اور ضابطوں کے ساتھ وہ حاصل کیا جو کسی دوسری حکومت کے لیے ناقابل تصور تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج وائبرینٹ گجرات حکومت کے اندر اور باہر ایک جاری نظام اور عمل کے ساتھ ایک وقتی تقریب سے ایک ادارہ بن گیا ہے۔

وزیر اعظم نے وائبرینٹ گجرات کے جذبے پر زور دیا جس کا مقصد ملک کی ہر ریاست کو فائدہ پہنچانا ہے۔ انہوں نے دوسری ریاستوں سے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی درخواست کی جو سربراہی اجلاس نے پیش کی تھی۔

یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ 20ویں صدی میں گجرات کی شناخت تاجروں پر مبنی تھی، وزیر اعظم نے بتایا کہ 20ویں سے 21ویں صدی میں ہونے والی تبدیلی نے گجرات کو زراعت میں پاور ہاؤس اور ایک مالیاتی مرکز بنا دیا اور ریاست کو ایک  صنعتی اور مینوفیکچرنگ ایکو نظام  کے طور پرنئی شناخت حاصل ہوئی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گجرات کی تجارت پر مبنی  شہرت  مضبوط ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے  اس طرح کی پیش رفت کی کامیابی کا سہرا وائبرنٹ گجرات کو دیا جو نظریہ ، اختراعات اور صنعتوں کے لیے ایک انکیوبیٹر کے طور پر کام کر رہا ہے۔گزشتہ 20 سالوں سے کامیابی کی داستانوں اور کیس اسٹڈیز کا ذکر کرتے ہوئے جو کہ موثر پالیسی سازی اور موثر پروجیکٹ پر عمل درآمد سے ممکن ہوپائی ہیں، وزیر اعظم نے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت میں سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافے کی مثال دی اوروزیر اعظم نے برآمدات میں ریکارڈ اضافے کا بھی ذکر کیا۔ جناب مودی نے آٹوموبائل سیکٹر کابھی ذکر کیا جہاں 2001 کے مقابلے میں سرمایہ کاری میں 9 گنا اضافہ ہوا، مینوفیکچرنگ آؤٹ پٹ میں 12 گنا اضافہ ہوا، ہندوستان  میں  ایگرو اور خوراک کوڈبہ بندکرنے کی صنعت  میں سب سے زیادہ اضافہ ہوااور ہندوستان کی ڈائز اور  انٹرمیڈیٹس مینوفیکچرنگ میں 75 فیصد شراکت داری ہوئی۔ 30,000 سے زیادہ آپریشنل فوڈ پروسیسنگ یونٹس،طبی آلات کی مینو فیکچرنگ میں 50 فیصد سے زیادہ حصہ  داری اور کارڈیک اسٹینٹس کی تیاری میں تقریباً 80 فیصد حصہ، دنیا کے ہیرو کی  70 فیصد سے زیادہ پروسیسنگ اور ہندوستان کی ہیروں کی برآمدات میں 80 فیصد شراکت، اور سیرامک ٹائلز، سینیٹری ویئر اور مختلف سیرامک مصنوعات کی تقریباً 10 ہزار مینوفیکچرنگ یونٹس کے ساتھ ملک کی سیرامک مارکیٹ میں 90 فیصد حصہ  داری ہے۔ جناب مودی نے یہ بھی بتایا کہ گجرات 2 ارب امریکی ڈالر کی موجودہ لین دین کی ولیو کے ساتھ ہندوستان  میں سب سے بڑا برآمد کار ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’آنے والے وقت میں دفاعی مینوفیکچرنگ ایک بہت بڑا شعبہ ہو گا‘‘۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہم نے وائبرینٹ گجرات شروع کیا تھا تو ہمارا مقصد یہ تھا کہ یہ ریاست ملک کی ترقی کا انجن بن جائے۔ملک نے اس ویژن کو حقیقت بنتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ہندوستان کو دنیا کا ترقی کاانجن بنانے کا مقصد بین الاقوامی ایجنسیوں اور ماہرین کے درمیان گونج پا رہا ہے۔آج ہندوستان دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن گئی  ہے۔ اب ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہندوستان ایک عالمی اقتصادی پاور ہاؤس بننے جا رہا ہے۔ اب ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننا ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں سے کہا کہ وہ ان شعبوں پر توجہ مرکوز کریں جو ہندوستان کو نئے امکانات فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، ایگری ٹیک،خوراک کو ڈبہ بند کرنے شری انّ کو رفتار دینے کے طریقوں پر بحث کرنے کی اپیل کی۔

مالی تعاون کے اداروں کےلئے بڑھتی ہوئی ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نےگفٹ سٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر تبصرہ کیا۔گفٹ سٹی  ہماری پوری حکومت نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں مرکز، ریاست اورآئی ایف ایس سی حکام دنیا میں بہترین ریگولیٹری ماحول بنانے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ ہمیں اسے عالمی سطح پر مسابقتی مالیاتی منڈی بنانے کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت  ٹھہرنے کا نہیں ہے۔ اگلے 20 سال پچھلے 20 سالوں سے زیادہ اہم ہیں۔ جب وائبرینٹ گجرات کے 40 سال مکمل ہوں گے، ہندوستان اپنی آزادی کی سو سال سے زیادہ دور نہیں ہوگا۔ یہ وہ وقت ہے جب ہندوستان کو ایک خاکہ وضع کرنا ہوگا جو اسے 2047 تک ایک ترقی یافتہ اور خود انحصار ملک بنائے گا۔ وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سربراہی اجلاس اس سمت میں آگے بڑھے گا۔

 

اس موقع پر گجرات کے گورنر جناب آچاریہ دیوورت، گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل، ممبر پارلیمنٹ جناب سی آر پاٹل، حکومت گجرات کے وزراء اور صنعت کے رہنما بھی موجود تھے۔

پس منظر

سائنس سٹی، احمد آباد میں وائبرینٹ گجرات گلوبل سمٹ کے 20 سال مکمل ہونے کی تقریب کے موقع پر پروگرام میں صنعتی انجمنوں، تجارت و تجارت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، نوجوان کاروباری افراد اور اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے کالجوں کے طلباء اور دیگر کی شرکت کا مشاہدہ کیا گیا۔

وائبرینٹ گجرات گلوبل سمٹ کا آغاز 20 سال قبل گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہوا تھا۔ 28 ستمبر 2003 کو وائبرینٹ گجرات گلوبل سمٹ کا سفر شروع ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ ایک حقیقی عالمی ایونٹ میں تبدیل ہو گیا، جس نے ہندوستان میں کاروباری سربراہی اجلاس میں سے ایک ہونے کا درجہ حاصل کیا۔ 2003 میں تقریباً 300 بین الاقوامی شرکاء کے ساتھ، سربراہی اجلاس میں 2019 میں 135 سے زائد ممالک کے ہزاروں سے زائد مندوبین کی زبردست شرکت دیکھنے میں آئی۔

پچھلے 20 سالوں میں، وائبرینٹ گجرات گلوبل سمٹ ’’گجرات کو سرمایہ کاری کی ایک ترجیحی منزل‘‘ سے لے کر ’’نئے ہندوستان کی تشکیل‘‘ تک تیار ہوا ہے۔ وائبرینٹ گجرات کی بے مثال کامیابی پورے ملک کے لیے ایک رول ماڈل بن گئی ہے اور اس نے دیگر ہندوستانی ریاستوں کو بھی اس طرح کی سرمایہ کاری کے اجلاسوں کی تنظیم کو نقل کرنے کی ترغیب دی ہے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Union Cabinet approves amendment in FDI policy on space sector, upto 100% in making components for satellites

Media Coverage

Union Cabinet approves amendment in FDI policy on space sector, upto 100% in making components for satellites
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Proposal for Implementation of Umbrella Scheme on “Safety of Women”
February 21, 2024

The Union Cabinet chaired by Prime Minister Shri Narendra Modi approved the proposal of Ministry of Home Affairs of continuation of implementation of Umbrella Scheme on ‘Safety of Women’ at a total cost of Rs.1179.72 crore during the period from 2021-22 to 2025-26.

Out of the total project outlay of Rs.1179.72 crore, a total of Rs.885.49 crore will be provided by MHA from its own budget and Rs.294.23 crore will be funded from Nirbhaya Fund.

Safety of Women in a country is an outcome of several factors like stringent deterrence through strict laws, effective delivery of justice, redressal of complaints in a timely manner and easily accessible institutional support structures to the victims. Stringent deterrence in matters related to offences against women was provided through amendments in the Indian Penal Code, Criminal Procedure Code and the Indian Evidence Act.

In its efforts towards Women Safety, Government of India in collaboration with States and Union Territories has launched several projects. The objectives of these projects include strengthening mechanisms in States/Union Territories for ensuring timely intervention and investigation in case of crime against women and higher efficiency in investigation and crime prevention in such matters.

The Government of India has proposed to continue the following projects under the Umbrella Scheme for “Safety of Women”:

  1. 112 Emergency Response Support System (ERSS) 2.0;
  2. Upgradation of Central Forensic Sciences laboratories, including setting up of National Forensic Data Centre;
  3. Strengthening of DNA Analysis, Cyber Forensic capacities in State Forensic Science Laboratories (FSLs);
  4. Cyber Crime Prevention against Women and Children;
  5. Capacity building and training of investigators and prosecutors in handling sexual assault cases against women and children; and
  6. Women Help Desk & Anti-human Trafficking Units.