اہم سرکاری اسکیموں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘ کا آغاز کیا
تقریباً 24,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ پی ایم جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان پی ایم-جنمن کا آغاز کیا
پی ایم - کسان کے تحت تقریباً 18,000 کروڑ روپے رقم کی 15ویں قسط جاری کی
جھارکھنڈ میں تقریباً 7,200 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا
وکست بھارت سنکلپ عہد کی قیادت کی
’’بھگوان برسا منڈا کی جدوجہد اور قربانیاں بے شمار ہندوستانیوں کو حوصلہ بخشتی ہیں‘‘
’’دو تاریخی اقدامات – ’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘ اور ’پی ایم جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان‘ کا آغاز آج جھارکھنڈ سے کیا جا رہا ہے‘‘ ;
’’ہندوستان میں ترقی کا درجہ امرت کال کے چار ستونوں - خواتین کی طاقت، نوجوانوں کی طاقت، زرعی طاقت اور ہمارے غریب اور متوسط طبقے کی طاقت کو مضبوط کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے‘‘
’’مودی نے محروموں کو اپنی ترجیح بنایا‘‘
’’میں بھگوان برسا منڈا کی اس سرزمین پر محروموں کا قرض ادا کرنے آیا ہوں‘‘
’’حقیقی سیکولرازم تب ہی آتا ہے جب ملک کے کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کے تمام امکانات ختم ہو جائیں‘‘
’’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘‘ جو اگلے سال 26 جنوری تک جاری رہے گی بھگوان برسا منڈا کی جینتی پر آج شروع ہو رہی ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے جھارکھنڈ کے کھنٹی میں جنجاتیہ گورو دیوس 2023 کی تقریبات کے موقع پر پروگرام سے خطاب کیا۔ اس  پروگرام کے دوران، وزیر اعظم نے ’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘ اور پردھان منتری خاص طور پر کمزور قبائلی گروپو کی ترقی کے مشن کا آغاز کیا۔ انہوں نے پی ایم - کسان کی 15ویں قسط بھی جاری کی۔ جناب مودی نے جھارکھنڈ میں ریل، سڑک، تعلیم، کوئلہ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس جیسے متعدد شعبوں میں 7200 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا۔ انہوں نے اس موقع پر لگائی گئی نمائش کا بھی مشاہدہ  کیا۔

 

اس موقع پر  صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کا ایک ویڈیو پیغام چلایا گیا۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر وکتت بھارت سنکلپ عہد کی بھی قیادت کی۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز آج کے اوائل  میں بھگوان برسا منڈا کی جائے پیدائش اولیہاتو گاؤں کے ساتھ ساتھ رانچی میں برسا منڈا میموریل پارک اور فریڈم فائٹر میوزیم  کے دورے کو یاد کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے دو سال قبل اسی دن فریڈم فائٹر میوزیم کا افتتاح کرنے کا بھی ذکر کیا۔ جناب مودی نے جنجاتیہ گورو دیوس کے موقع پر ہر شہری کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے یوم تاسیس کے موقع پر اپنی مبارکباد بھی پیش کی اور اس کی تشکیل میں سابق وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کے تعاون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے عوام کو ریل، سڑک، تعلیم، کوئلہ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مختلف شعبوں میں آج کے ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جھارکھنڈ میں اب ریاست میں 100 فیصد بجلی سے چلنے والے ریل روٹس ہیں۔

قبائلی فخر کے لیے بھگوان برسا منڈا کی متاثر کن جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے جھارکھنڈ کی سرزمین کے لاتعداد قبائلی ہیروز کے ساتھ تعلق کا ذکر کیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ تلکا مانجھی، سدھو کانہو، چاند بھیرو، پھلو جھانو، نیلمبر، پتامبر، جاترا تانا بھگت اور البرٹ ایکا جیسے کئی ہیروز نے اس سرزمین کو قابل فکر بنایا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آدیواسی بہادروں نے ملک کے کونے کونے میں آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا اور مان گڑھ دھام کے گووند گرو، مدھیہ پردیش کے تانتیا بھیل، بھیما نائک، چھتیس گڑھ کے شہید ویر نارائن سنگھ، ویر گنڈادھور، منی پور کی رانی رانی گیڈینلیو ، تلنگانہ کے ویر رام جی گونڈ، آندھرا پردیش کے الوری سیتارام راجو، گونڈ پردیش کی رانی درگاوتی کا ذکر کیا۔ ایسی شخصیات کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے امرت مہوتسو کے دوران ان ہیروز کو یاد کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

جھارکھنڈ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یاد کیا کہ آیوشمان یوجنا جھارکھنڈ سے شروع کی گئی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج جھارکھنڈ سے دو تاریخی اقدامات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ پہلا وکست بھارت سنکلپ یاترا جو کہ حکومت اہداف کی تکمیل کا ایک ذریعہ ہوگی  اور کے  اور پی ایم  جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان  جو کہ  ان قبائلیوں کی حفاظت کرے گی جو معدومیت کے دہانے پر ہیں  اور ان کو پروان چڑھائے گی۔

جناب مودی نے چار ’وکست بھارت کے امرت استمبھ‘ یا ترقی یافتہ ہندوستان کے ستونوں  یعنی خواتین کی طاقت یا ناری شکتی، ہندوستان کے فوڈ پروڈیوسرز، ملک کے نوجوان اور آخر میں ہندوستان کے نو متوسط طبقے اور غریبوں پر  توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ترقی کا درجہ ترقی کے ان ستونوں کو مضبوط کرنے کی ہماری صلاحیت پر منحصر ہے۔ وزیراعظم مودی نے موجودہ حکومت کے گزشتہ 9 سال میں ان  چار ستونوں کو مضبوط کرنے کے لیے کی گئی محنت اور کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔

 

وزیر اعظم مودی نے 13 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالنے میں حکومت کی اہم کامیابی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا ’’ہمارا سیوا کال اس وقت شروع ہوا جب ہماری حکومت 2014 میں برسراقتدار آئی‘‘۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ایک بڑی آبادی بنیادی سہولیات سے محروم تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی حکومتوں کی لاپرواہی کی وجہ سے غریبوں کی امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ ’’موجودہ حکومت نے خدمت کے جذبے سے کام شروع کیا‘‘، انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غریبوں اور محروموں کو سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تبدیلی کا سہرا حکومت کے نقطہ نظر کو دیا۔ 2014 سے پہلے وزیر اعظم نے بتایا کہ گاؤوں  میں صفائی ستھرائی کا دائرہ محض 40 فیصد تھا جبکہ آج ملک صد فیصد تکمیل  کے لیے کوشاں ہے۔ 2014 کے بعد کی دیگر کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ ایل پی جی کنکشن 50-55 فیصد گاؤوں  سے بڑھ کر آج تقریباً 100 فیصد ہو گئے ہیں، 55 فیصد سے 100 فیصد بچوں کو زندگی بچانے والے ٹیکوں  کی فراہمی،آزادی کے بعد دس دہائیوں میں 17 فیصد سے نل کے پانی کے کنکشن 70 فیصد گھرانوں تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مودی نے محروموں کو اپنی ترجیح‘ بنالیا ہے۔ وزیراعظم نے غربت اور محرومی کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربے کی وجہ سے محروم لوگوں سے اپنی محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ حکومت کی ترجیح بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں بھگوان برسا منڈا کی اس سرزمین پر محروموں کا چکانے آیا ہوں جو مجھ  پر ہے۔‘‘

جناب مودی نے کہا کہ حکومت نے  آسانی کے لئے  لالچ  کرنے کی مزاحمت کی ہے اور طویل عرصے سے زیر التوا مسائل پر توجہ دی ہے۔ انہوں نے 18,000 گاؤوں کی برق کاری کی مثال دی جن پر  تاریک  کےادوار میں رہنے کی لعنت تھی۔ لال قلعہ کی فصیل سے کئے گئے اعلان کے مطابق برق کاری کا کام مقررہ وقت میں کیا گیا ۔ 110 اضلاع میں جنہیں پسماندہ  کہا جاتا تھا ، ان میں تعلیم، صحت اور زندگی میں آسانی کے کلیدی معیارات بلند کئے گئے ۔ خواہش مند ضلعی پروگرام ان اضلاع میں انقلابی تبدیلیوں  کا باعث بنے ہیں۔  انہوں نے  کہا  کہ ان اضلاع میں زیادہ سے زیادہ  قبائلی آبادی تھی۔ اُنہوں نے کہا ’’خواہش مند اضلاع  پروگرام کی کامیابی کوحوصلہ بخش بلاکس پروگرام کے ذریعے بڑھایا جا رہا ہے۔‘‘

 

وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’’حقیقی سیکولرازم تب آتا ہے جب ملک کے کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کے تمام امکانات کو ختم کر دیا جائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سماجی انصاف اسی صورت میں یقینی بنایا جاتا ہے جب تمام سرکاری اسکیموں کا فائدہ ایک ہی پیمانے پر سب تک پہنچے۔ ’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘ کے پیچھے یہی جذبہ ہے جو اگلے سال 26 جنوری تک جاری رہے گا جو آج بھگوان برسا منڈا کی جینتی پر شروع ہورہی ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا ’’اس سفر میں، حکومت مشن موڈ میں ملک کے ہر گاؤں میں جائے گی اور ہر غریب اور محروم شخص کو سرکاری اسکیموں سے مستفید بنائے گی‘‘ ۔

وزیر اعظم نے 2018 میں گرام سوراج ابھیان کے انعقاد کو یاد کیا جہاں ایک ہزار سرکاری افسران کو سات اہم سرکاری اسکیموں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے گاؤں بھیجا گیا تھا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وکست بھارت سنکلپ یاترا بھی اتنی ہی کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا ’’میں اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب ہر غریب کے پاس مفت راشن کا راشن کارڈ ہوگا، اجولا اسکیم سے گیس کا کنکشن ہوگا، گھروں کو بجلی فراہم کی جائے گی، پانی کا کنکشن ہوگا، آیوشمان کارڈ اور پکے گھر ہوں گے۔‘‘  وزیراعظم  مودی نے پنشن اسکیموں میں شامل ہونے والے ہر کسان اور مزدور اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے مدرا یوجنا سے فائدہ اٹھانے والے نوجوانوں کے اپنے وژن کی مزید وضاحت کی۔ انہوں نے کہا ’’وکست بھارت سنکلپ یاترا ہندوستان کے غریبوں، محروموں، خواتین، نوجوانوں اور کسانوں کے لیے مودی کی ضمانت ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کی ایک بڑی بنیاد پی ایم جنمن یا پی ایم جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اٹل جی کی حکومت تھی جس نے قبائلی سماج کے لیے ایک الگ وزارت بنائی اور الگ بجٹ مختص کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قبائلی بہبود کے بجٹ میں پہلے کی نسبت 6 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ پی ایم جنمن کے تحت، وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت قبائلی گروپوں اور قدیم قبائل تک پہنچ جائے گی جن میں سے زیادہ تر اب بھی جنگلوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسی 75 قبائلی برادریوں اور قدیم قبائل کی نشاندہی کی ہے جن کی آبادی لاکھوں کی ہے جو ملک کے 22 ہزار سے زیادہ گاؤوں میں رہائش پذیر ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا ’’پہلے  کی حکومتوں نے اعداد و شمار کو جوڑنے کا کام کیا تھا، لیکن میں زندگیوں کو جوڑنا چاہتا ہوں، اعداد و شمار کو نہیں۔ اس مقصد کے ساتھ، پی ایم جنمن آج شروع ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت اس بڑی  مہم پر 24,000 کروڑ روپے خرچ کرنے جا رہی ہے۔

 

وزیر اعظم نے قبائلی برادریوں کی ترقی کے لیے ان کی ثابت قدمی کے لیے صدر  جمہوریہ دروپدی مرمو کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انہیں خواتین کی زیر قیادت ترقی کی ایک موثر  علامت قرار دیا۔ وزیر اعظم نے حالیہ برسوں میں خواتین کی زیر قیادت ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو بیان کیا۔انہوں نے کہا  ’’ہماری حکومت نے خواتین کے لیے ان کی زندگی کے ہر مرحلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسکیمیں بنائی ہیں‘‘ ۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ، اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے علیحدہ بیت الخلا، پی ایم آواس یوجنا، سینک اسکول اور ڈیفنس اکیڈمی کھولنے ، 70 فیصد  مدرا سے فائدہ اٹھانے والی خواتین ہیں، خود مدد گروپوں کو ریکارڈ امداد اور ناری شکتی وندن ادھینیم جیسے اقدامات زندگیوں کو بدل رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا  ’’آج بھائی دوج کا مقدس تہوار ہے۔ یہ بھائی ملک کی تمام بہنوں کو ضمانت دیتا ہے کہ ہماری حکومت ہماری بہنوں کی ترقی میں ہر رکاوٹ کو دور کرتی رہے گی۔ خواتین کی طاقت کا امرت استمبھ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اہم رول ادا کرے گا۔‘‘

جناب مودی نے کہا کہ پی ایم وشوکرما یوجنا اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مرکزی حکومت ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر میں ہر فرد کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم وشوکرما دوستوں کو جدید تربیت اور آلات فراہم کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسکیم پر 13 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

پی ایم  کسان سمان ندھی کی 15ویں قسط کے بارے میں بات کرتے ہوئے جسے آج جاری کیا گیا، وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک 2,75,000 کروڑ روپے سے زیادہ کسانوں کے کھاتوں میں منتقل کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مویشیوں  پروراور ماہی گیروں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ، مویشیوں کی مفت ویکسینیشن پر 15,000 کروڑ روپے کے سرکاری اخراجات، ماہی پروری  کو فروغ دینے کے لیے متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت مالی امداد، اور ملک میں 10 ہزار نئی کسان پیداوار یونینوں کی تشکیل کا بھی ذکر کیا جو بازار کو مزید قابل رسائی بنا کر کسانوں کے اخراجات میں کمی کا باعث بنتیں ہے۔ وزیراعظم  مودی نے 2023 کو موٹے اناج کا بین الاقوامی سال کے طور پر منائے جانے اور شری انّ کو غیر ملکی بازاروں میں لے جانے کی حکومت کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔

وزیر اعظم نے ریاست میں نکسلی تشدد میں کمی کا سہرا جھارکھنڈ کی مجموعی ترقی کو دیا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ریاست جلد ہی تشکیل کے 25 سال مکمل کرے گی، وزیر اعظم نے جھارکھنڈ میں 25 اسکیموں کو مکمل کرنے کے ہدف کی سمت کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست کی ترقی کو نئی تحریک ملے گی اور زندگی میں آسانی پیدا ہوگی۔  جناب مودی نے  کہا ’’حکومت تعلیم کو وسعت دینے اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے‘‘۔ انہوں نے جدید قومی تعلیمی پالیسی جو طلباء کو اپنی مادری زبان میں طب اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 9 سال میں ملک بھر میں 300 سے زائد یونیورسٹیاں اور 5500 نئے کالجز قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا مہم پر بھی بات کی اور کہا کہ  ایک لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپس کے ساتھ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایکو سسٹم بن گیا۔ وزیراعظم  مودی نے رانچی میں آئی آئی ایم کیمپس اور آئی آئی ٹی-آئی ایس ایم، دھنباد میں نئے ہاسٹلز کے افتتاح کا بھی ذکر کیا۔

 

خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ امرت کال کے چار امرت استمبھ یعنی ہندوستان کی خواتین کی طاقت، نوجوانوں کی طاقت، زرعی طاقت اور ہمارے غریب اور متوسط طبقے کی طاقت ہندوستان کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی اور ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنائیں گے۔

اس موقع پر جھارکھنڈ کے گورنر جناب سی پی رادھا کرشنن، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر ارجن منڈا  منجملہ دیگرمعززین کے موجود تھے۔

پس منظر

وکست بھارت سنکلپ یاترا

  وزیر اعظم کی یہ مسلسل کوشش رہی ہے کہ وہ حکومت کی اہم اسکیموں کی تکمیل  اس بات کو یقینی بناتے ہوئے  حاصل کریں کہ ان اسکیموں کے فائدے تمام مطلوبہ استفادہ کنندگان تک مقررہ وقت میں پہنچیں۔ اسکیموں کی تکمیل کے اس مقصد کو حاصل کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور پر، وزیر اعظم نے جنجاتیہ گورو دیوس کے موقع پر ’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘ کا آغاز کیا۔

 

یاترا کی توجہ لوگوں تک پہنچنے، بیداری پیدا کرنے اور فلاحی اسکیموں جیسے صفائی  ستھرائی کی سہولیات، ضروری مالی خدمات، بجلی کے کنکشن، ایل پی جی سلنڈر تک رسائی، غریبوں کے لیے رہائش، خوراک کی سلامتی، مناسب غذائیت، قابل اعتماد صحت کی دیکھ  ریکھ ، پینے کا صاف پانی وغیرہ پر مرکوز ہوگی۔ ممکنہ استفادہ کنندگان کا اندراج یاترا کے دوران حاصل  شدہ تفصیلات کے ذریعے کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے جھارکھنڈ کے کھنٹی میں آئی ای سی (انفارمیشن، ایجوکیشن اینڈ کمیونیکیشن) وین کو جھنڈی دکھا کر ’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘ کے آغاز کے موقع پر روانہ کیا۔ یاترا ابتدائی طور پر نمایاں قبائلی آبادی والے اضلاع سے شروع ہوگی اور 25 جنوری 2024 تک ملک بھر کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گی۔

پی ایم پی وی ٹی جی مشن

اس پروگرام کے دوران، وزیر اعظم نے اپنی نوعیت کا پہلا اقدام – ’پردھان منتری خاص طور پر کمزور قبائلی گروپس (پی ایم پی وی ٹی جی) ڈیولپمنٹ مشن‘ کا بھی آغاز کیا۔ 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 75 پی وی ٹی جی ہیں جو 22,544 گاؤں (220 اضلاع) میں رہتے ہیں جن کی آبادی تقریباً 28 لاکھ ہے۔

یہ قبائل بکھرے ہوئے، دور دراز اور ناقابل رسائی بستیوں ، اکثر جنگلاتی علاقوں میں رہتے ہیں اور اس لیے تقریباً 24,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ ایک مشن کی،  پی وی ٹی جی خاندانوں اور بستیوں کو سڑک اور ٹیلی کام کنیکٹیویٹی، بجلی، محفوظ رہائش، پینے کا صاف پانی اور صفائی ستھرائی، تعلیم تک بہتر رسائی، صحت اور غذائیت اور پائیدار ذریعہ  معاش کے مواقع  کی تکمیل کے لئے منصوبہ  سازی کی گئی  ہے۔

 

اس کے علاوہ پی ایم جے اے وائی، سکل سیل مرض کے خاتمے، ٹی بی کے خاتمے، 100فیصد  ٹیکہ کاری، پی ایم سرکشت ماترتوا یوجنا، پی ایم ماترو وندنا یوجنا، پی ایم پوشن، پی ایم جن دھن یوجنا وغیرہ کے لیے الگ سے تکمیل  کو یقینی بنایا جائے گا۔

پی ایم - کسان اور دیگر ترقیاتی اقدامات کی 15ویں قسط

ایک  ایسا قدم  جو کسانوں کی فلاح و بہبود کے تئیں وزیر اعظم کے عزم کی ایک اور مثال کو ظاہر کرے گا، پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم - کسان) کے تحت 18,000 کروڑ روپے  کی 15ویں قسط کی رقم براہ راست فوائد کی منتقلی کے ذریعے  8 کروڑ سے زیادہ مستفیدین کو جاری کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت، اب تک  2.62 لاکھ کروڑ روپے  سے زیادہ  کسانوں کے کھاتوں میں 14 قسطوں میں منتقل کیے  جاچکے ہیں۔

وزیر اعظم نے   ریل، سڑک، تعلیم، کوئلہ، پٹرولیم اور قدرتی گیس جیسے  متعدد شعبوں میں   7200 کروڑ روپے کی لاگت  کے  پروجیکٹوں  کا سنگ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اورقوم کے نام وقف کیا ۔

جن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نے رکھا ان میں این ایچ 133 کے مہاگما -ہنسڈیہا  کے  52 کلومیٹر طویل   سڑک کو چار لین بنانا  ؛ این ایچ 114 اے  کے باسوکیناتھ – دیوگھر سیکشن کے   45 کلومیٹر طویل  سڑک کو  چار لین بنانا  ؛ کے ڈی ایچ- پرناڈیہہ کول ہینڈلنگ پلانٹ؛ آئی آئی آئی ٹی  رانچی کی نئی تعلیمی اور انتظامی عمارت شامل ہیں۔

جن پروجیکٹوں کا افتتاح اور قوم کے نام  وقف کیا جائے گا ان میں آئی آئی ایم  رانچی کا نیا کیمپس، آئی آئی ٹی آئی ایس ایم  دھنباد کا نیا ہاسٹل؛ بوکارو میں پیٹرولیم آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) ڈپو؛ کئی ریلوے پروجیکٹ یعنی ہٹیا-پکڑا سیکشن ، تلگاریہ-بوکارو سیکشن اور جارنگڈیہہ-پتراتو سیکشن کو دو ہرا  کرنا شامل ہے۔ مزید برآں، جھارکھنڈ ریاست میں 100فیصد ریلوے الیکٹریفیکیشن کی کامیابی کو بھی وزیر اعظم نے قوم کے نام وقف کیا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende

Media Coverage

India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, who gave new energy to the weak & divided India: PM Modi
February 23, 2024
Unveils new statue of Sant Ravidas
Inaugurates and lays foundation stones for development works around Sant Ravidas Janam Sthali
Lays the foundation stone for the Sant Ravidas Museum and beautification of the park
“India has a history, whenever the country is in need, some saint, sage or great personality is born in India.”
“Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, which gave new energy to the weak and divided India”
“Sant Ravidas ji told the society the importance of freedom and also worked to bridge the social divide”
“Ravidas ji belongs to everyone and everyone belongs to Ravidas ji.”
“Government is taking forward the teachings and ideals of Sant Ravidas ji while following the mantra of ‘Sabka Saath SabkaVikas’”
“We have to avoid the negative mentality of casteism and follow the positive teachings of Sant Ravidas ji”

जय गुरु रविदास।

उत्तर प्रदेश के मुख्यमंत्री योगी आदित्यनाथ जी, पूरे भारत से यहां पधारे सम्मानित संत जन, भक्त गण और मेरे भाइयों एवं बहनों,

आप सभी का मैं गुरु रविदास जी जन्म जयंती के पावन अवसर पर उनकी जन्मभूमि में स्वागत करता हूँ। आप सब रविदास जी की जयंती के पर्व पर इतनी-इतनी दूर से यहां आते हैं। खासकर, मेरे पंजाब से इतने भाई-बहन आते हैं कि बनारस खुद भी ‘मिनी पंजाब’ जैसा लगने लगता है। ये सब संत रविदास जी की कृपा से ही संभव होता है। मुझे भी रविदास जी बार बार अपनी जन्मभूमि पर बुलाते हैं। मुझे उनके संकल्पों को आगे बढ़ाने का मौका मिलता है, उनके लाखों अनुयायियों की सेवा का अवसर मिलता है। गुरु के जन्मतीर्थ पर उनके सब अनुयायियों की सेवा करना मेरे लिए किसी सौभाग्य से कम नहीं।

और भाइयों और बहनों,

यहां का सांसद होने के नाते, काशी का जन-प्रतिनिधि होने के नाते मेरी विशेष ज़िम्मेदारी भी बनती है। मैं बनारस में आप सबका स्वागत भी करूं, और आप सबकी सुविधाओं का खास ख्याल भी रखूं, ये मेरा दायित्व है। मुझे खुशी है कि आज इस पावन दिन मुझे अपने इन दायित्वों को पूरा करने का अवसर मिला है। आज बनारस के विकास के लिए सैकड़ों करोड़ रुपए की विकास परियोजनाओं का लोकार्पण और शिलान्यास होने जा रहा है। इससे यहां आने वाले श्रद्धालुओं की यात्रा और सुखद और सरल होगी। साथ ही, संत रविदास जी की जन्मस्थली के विकास के लिए भी कई करोड़ रुपए की योजनाओं का लोकार्पण हुआ है। मंदिर और मंदिर क्षेत्र का विकास, मंदिर तक आने वाली सड़कों का निर्माण, इंटरलॉकिंग और ड्रेनेज का काम, भक्तों के लिए सत्संग और साधना करने के लिए, प्रसाद ग्रहण करने के लिए अलग-अलग व्यवस्थाओं का निर्माण, इन सबसे आप सब लाखों भक्तों को सुविधा होगी। माघी पूर्णिमा की यात्रा में श्रद्धालुओं को आध्यात्मिक सुख तो मिलेगा ही, उन्हें कई परेशानियों से भी छुटकारा मिलेगा। आज मुझे संत रविदास जी की नई प्रतिमा के लोकार्पण का सौभाग्य भी मिला है। संत रविदास म्यूज़ियम की आधारशिला भी आज रखी गई है। मैं आप सभी को इन विकास कार्यों की अनेक-अनेक शुभकामनाएँ देता हूं। मैं देश और दुनिया भर के सभी श्रद्धालुओं को संत रविदास जी की जन्मजयंती और माघी पूर्णिमा की हार्दिक बधाई देता हूं।

साथियों,

आज महान संत और समाज सुधारक गाडगे बाबा की जयंती भी है। गाडगे बाबा ने संत रविदास की ही तरह समाज को रूढ़ियों से निकालने के लिए, दलितों वंचितों के कल्याण के लिए बहुत काम किया था। खुद बाबा साहब अंबेडकर उनके बहुत बड़े प्रशंसक थे। गाडगे बाबा भी बाबा साहब से बहुत प्रभावित रहते थे। आज इस अवसर पर मैं गाडगे बाबा के चरणों में भी श्रद्धापूवर्क नमन करता हूं।

साथियों,

अभी मंच पर आने से पहले मैं संत रविदास जी की मूर्ति पर पुष्प अर्पित करने, उन्हें प्रणाम करने भी गया था। इस दौरान मेरा मन जितनी श्रद्धा से भरा था, उतनी ही कृतज्ञता भी भीतर महसूस कर रहा था। वर्षों पहले भी, जब मैं न राजनीति में था, न किसी पद पर था, तब भी संत रविदास जी की शिक्षाओं से मुझे मार्गदर्शन मिलता था। मेरे मन में ये भावना होती थी कि मुझे रविदास जी की सेवा का अवसर मिले। और आज काशी ही नहीं, देश की दूसरी जगहों पर भी संत रविदास जी से जुड़े संकल्पों को पूरा किया जा रहा है। रविदास जी की शिक्षाओं को प्रचारित-प्रसारित करने के लिए नए केन्द्रों की स्थापना भी हो रही है। अभी कुछ महीने पहले ही मुझे मध्यप्रदेश के सतना में भी संत रविदास स्मारक एवं कला संग्रहालय के शिलान्यास का सौभाग्य भी मिला था। काशी में तो विकास की पूरी गंगा ही बह रही है।

साथियों,

भारत का इतिहास रहा है, जब भी देश को जरूरत हुई है, कोई न कोई संत, ऋषि, महान विभूति भारत में जन्म लेते हैं। रविदास जी तो उस भक्ति आंदोलन के महान संत थे, जिसने कमजोर और विभाजित हो चुके भारत को नई ऊर्जा दी थी। रविदास जी ने समाज को आज़ादी का महत्व भी बताया था, और सामाजिक विभाजन को भी पाटने का काम किया था। ऊंच-नीच, छुआछूत, भेदभाव, इस सबके खिलाफ उन्होंने उस दौर में आवाज़ उठाई थी। संत रविदास एक ऐसे संत हैं, जिन्हें मत मजहब, पंथ, विचारधारा की सीमाओं में नहीं बांधा जा सकता। रविदास जी सबके हैं, और सब रविदास जी के हैं। जगद्गुरु रामानन्द के शिष्य के रूप में उन्हें वैष्णव समाज भी अपना गुरु मानता है। सिख भाई-बहन उन्हें बहुत आदर की दृष्टि से देखते हैं। काशी में रहते हुए उन्होंने ‘मन चंगा तो कठौती में गंगा’ की शिक्षा दी थी। इसलिए, काशी को मानने वाले लोग, मां गंगा में आस्था रखने वाले लोग भी रविदास जी से प्रेरणा लेते हैं। मुझे खुशी है कि आज हमारी सरकार रविदास जी के विचारों को ही आगे बढ़ा रही है। भाजपा सरकार सबकी है। भाजपा सरकार की योजनाएं सबके लिए हैं। ‘सबका साथ, सबका विकास, सबका विश्वास और सबका प्रयास’, ये मंत्र आज 140 करोड़ देशवासियों से जुड़ने का मंत्र बन गया है।

साथियों,

रविदास जी ने समता और समरसता की शिक्षा भी दी, और हमेशा दलितों, वंचितों की विशेष रूप से चिंता भी की। समानता वंचित समाज को प्राथमिकता देने से ही आती है। इसीलिए, जो लोग, जो वर्ग विकास की मुख्यधारा से जितना ज्यादा दूर रह गए, पिछले दस वर्षों में उन्हें ही केंद्र में रखकर काम हुआ है। पहले जिस गरीब को सबसे आखिरी समझा जाता था, सबसे छोटा कहा जाता था, आज सबसे बड़ी योजनाएं उसी के लिए बनी हैं। इन योजनाओं को आज दुनिया में सबसे बड़ी सरकारी योजनाएं कहा जा रहा है। आप देखिए, कोरोना की इतनी बड़ी मुश्किल आई। हमने 80 करोड़ गरीबों को मुफ्त राशन की योजना चलाई। कोरोना के बाद भी हमने मुफ्त राशन देना बंद नहीं किया। क्योंकि, हम चाहते हैं कि जो गरीब अपने पैरों पर खड़ा हुआ है वो लंबी दूरी तय करे। उस पर अतिरिक्त बोझ न आए। ऐसी योजना इतने बड़े पैमाने पर दुनिया के किसी भी देश में नहीं है। हमने स्वच्छ भारत अभियान चलाया। देश के हर गांव में हर परिवार के लिए मुफ्त शौचालय बनाया। इसका लाभ सबसे ज्यादा दलित पिछड़े परिवारों को, खासकर हमारी SC, ST, OBC माताओं बहनों को ही हुआ। इन्हें ही सबसे ज्यादा खुले में शौच के लिए जाना पड़ता था, परेशानियां उठानी पड़ती थीं। आज देश के गांव- गांव तक साफ पानी पहुंचाने के लिए जल जीवन मिशन चल रहा है। 5 वर्षों से भी कम समय में 11 करोड़ से ज्यादा घरों तक पाइप से पानी पहुंचाया गया है। करोड़ों गरीबों को मुफ्त इलाज के लिए आयुष्मान कार्ड मिला है। उन्हें पहली बार ये हौसला मिला है कि अगर बीमारी आ भी गई, तो इलाज के अभाव में जिंदगी खत्म नहीं होगी। इसी तरह, जनधन खातों से गरीब को बैंक जाने का अधिकार मिला है। इन्हीं बैंक खातों में सरकार सीधे पैसा भेजती है। इन्हीं खातों में किसानों को किसान सम्मान निधि जाती है, जिनमें से करीब डेढ़ करोड़ लाभार्थी हमारे दलित किसान ही हैं। फसल बीमा योजना का लाभ उठाने वाले किसानों में बड़ी संख्या दलित और पिछड़े किसानों की ही है। युवाओं के लिए भी, 2014 से पहली जितनी स्कॉलर्शिप मिलती थी, आज हम उससे दोगुनी स्कॉलर्शिप दलित युवाओं को दे रहे हैं। इसी तरह, 2022-23 में पीएम आवास योजना के तहत हजारों करोड़ रुपए दलित परिवारों के खातों में भेजे गए, ताकि उनका भी अपना पक्‍का घर हो।

और भाइयों बहनों,

भारत इतने बड़े-बड़े काम इसलिए कर पा रहा है क्योंकि आज दलित, वंचित, पिछड़ा और गरीब के लिए सरकार की नीयत साफ है। भारत ये काम इसलिए कर पा रहा है, क्योंकि आपका साथ और आपका विश्वास हमारे साथ है। संतों की वाणी हर युग में हमें रास्ता भी दिखाती हैं, और हमें सावधान भी करती हैं।

रविदास जी कहते थे-

जात पात के फेर महि, उरझि रहई सब लोग।

मानुष्ता कुं खात हई, रैदास जात कर रोग॥

अर्थात्, ज़्यादातर लोग जात-पांत के भेद में उलझे रहते हैं, उलझाते रहते हैं। जात-पात का यही रोग मानवता का नुकसान करता है। यानी, जात-पात के नाम पर जब कोई किसी के साथ भेदभाव करता है, तो वो मानवता का नुकसान करता है। अगर कोई जात-पात के नाम पर किसी को भड़काता है तो वो भी मानवता का नुकसान करता है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

साथियों,

रविदास जी कहते थे-

सौ बरस लौं जगत मंहि जीवत रहि करू काम।

रैदास करम ही धरम है करम करहु निहकाम॥

अर्थात्, सौ वर्ष का जीवन हो, तो भी पूरे जीवन हमें काम करना चाहिए। क्योंकि, कर्म ही धर्म है। हमें निष्काम भाव से काम करना चाहिए। संत रविदास जी की ये शिक्षा आज पूरे देश के लिए है। देश इस समय आज़ादी के अमृतकाल में प्रवेश कर चुका है। पिछले वर्षों में अमृतकाल में विकसित भारत के निर्माण की मजबूत नींव रखी जा चुकी है। अब अगले 5 साल हमें इस नींव पर विकास की इमारत को और ऊंचाई देनी है। गरीब वंचित की सेवा के लिए जो अभियान 10 वर्षों में चले हैं, अगले 5 वर्षों में उन्हें और भी अधिक विस्तार मिलना है। ये सब 140 करोड़ देशवासियों की भागीदारी से ही होगा। इसलिए, ये जरूरी है कि देश का हर नागरिक अपने कर्तव्यों का पालन करे। हमें देश के बारे में सोचना है। हमें तोड़ने वाले, बांटने वाले विचारों से दूर रहकर देश की एकता को मजबूत करना है। मुझे विश्वास है कि, संत रविदास जी की कृपा से देशवासियों के सपने जरूर साकार होंगे। आप सभी को एक बार फिर संत रविदास जयंती की मैं बहुत बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

बहुत-बहुत धन्यवाद !