وبائی مرض سیاست کا موضوع نہیں ہونا چاہئے، یہ پوری انسانیت کے لئے باعث تشویش ہے: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے پیشگی طور پر دستیابی کی معلومات کی بنیاد پر ضلعی سطح پر ٹیکہ کاری مہم کی بہتر منصوبہ بندی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا
متعدد ممالک کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے: وزیر اعظم
تمام جماعتوں کے قائدین نے وبائی مرض کے دوران وزیر اعظم کی کوششوں کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا

نئی دہلی، 20 جولائی 2021: وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بھارت میں کووِڈ۔19 کے حالات اور وبائی مرض سے نمٹنے کے لئے صحت عامہ ردعمل سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے تمام جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔

وزیر اعظم نے میٹنگ میں حصہ لینے اور عملی تدابیر اور سجھاؤ دینے کے لئے تمام قائدین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے حاصل ہوئے اِن پٹ پالیسی سازی میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وبائی مرض سیاست کا موضوع نہیں ہونا چاہئے، یہ پوری انسانیت کے لئے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنی نوع انسان نے گذشتہ 100 برسوں میں ایسا وبائی مرض نہیں دیکھا ہے۔

وزیر اعظم نے ملک کے ہر ضلع میں ایک آکسیجن پلانٹ کو یقینی بنانے کے لئے کی جارہی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا۔

وزیر اعظم نے قائدین کو تیزی سے آگے بڑھتے ٹیکہ کاری پروگرام کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے پہلے 10 کروڑ ٹیکے لگانے میں تقریباً 85 دن لگے تھے جبکہ پچھلے 10 کروڑ ٹیکے 24 دنوں میں ہی لگ گئے۔ انہوں نے لیڈروں کو بتایا کہ روزانہ دن کے آخر حصے تک ملک میں اوسطاً 1.5 کروڑ سے زائد ٹیکوں کا اسٹاک رہتا ہے۔

لوگوں کو کوئی پریشانی نہ ہو، اس امر کو یقینی بنانے کے لئے وزیر اعظم نے مرکزی حکومت کے ذریعہ اشارہ کی گئی پیشگی دستیابی کی بنیاد پر ضلعی سطح پر ٹیکہ کاری مہم کی بہتر منصوبہ وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ باعث تشویش ہے کہ ٹیکہ کاری مہم شروع ہونے کے 6 مہینے بعد بھی بڑی تعداد میں صحتی کارکنان اور ہراول دستے کے کارکنان کو ٹیکہ نہیں لگ سکا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو اس سلسلے میں اور زیادہ فعل ہونے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے مختلف ممالک میں کووِڈ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے چوکنا رہنے کی ضرورت کے بارے میں بتایا۔ وزیر اعظم نے مزید کہاکہ وائرس میں مسلسل رونما ہورہی تبدیلی نے اسے ازحد غیر متوقع فطرت کا حامل بنا دیا ہے اور اس لیے ہمیں مل جل کر اس بیماری سے لڑنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کووِن اور آروگیہ سیتو کی شکل میں اس وبائی مرض کے دوران تکنالوجی کے استعمال کے بھارت کے منفرد تجربے کے بارے میں بات کی۔

سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا نے وبائی مرض کے دوران مسلسل نگرانی اور انتھک کوششوں کے لئے وزیر اعظم کی ستائش کی۔ سبھی جماعتوں نے وبائی مرض کے دوران ان کی کوششوں کے لئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ لیڈروں نے وبائی مرض کو لے کر اپنے تجربات کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے مختلف ریاستوں کے حالات پر روشنی ڈالی اور اپنی اپنی ریاستوں میں ٹیکہ کاری مہم کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے مسلسل کووِڈ مطابق برتاؤ کو یقینی بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ لیڈروں نے دیے گئے پرزنٹیشن کے ذریعہ فراہم کی گئی وافر معلومات کی متفقہ طور پر ستائش کی۔

ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی تاریخ میں صرف 8 ریاستوں میں 10 ہزار سے زائد معاملات ہیں جن میں زیادہ تر مہاراشٹر اور کیرالا میں ہیں۔ محض 5 ریاستوں میں مثبت شرح 10 فیصد سے زائد ہے۔

بتایا گیا کہ وبائی مرض کے دوران وزیر اعظم نے ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ 20 میٹنگیں کیں جبکہ مرکزی وزیر صحت نے ریاستوں کے ساتھ 29 میٹنگیں کیں۔ مرکزی کابینہ کے سکریٹری نے ریاست کے چیف سکریٹریوں کو 34 مرتبہ صورتحال کی جانکاری دی جبکہ 33 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کووِڈ۔19 انتظام کاری میں مدد کے لئے 166 مرکزی ٹیموں کو تعینات کیا گیا۔

بھارت نے وبائی مرض کے دوران اپنی دوا کی دستیابی میں اضافہ کیا۔ ریمڈیسیور ماہ مارچ میں 22 مقامات پر تیار ہوتی تھی، سی ڈی ایس سی او کی منظوری سے ان مقامات کی تعداد بڑھا کر ماہ جون میں 62 کر دیا گیا، جس سے پیداواری صلاحیت 38 سے بڑھ کر 122 لاکھ ٹیکے ماہانہ ہوگئی۔ اسی طرح، لیپوسومل ایمفوٹیریسن کی درآمدات میں اضافہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تخصیص 45050 سے بڑھ کر 14.81 لاکھ ہوگئی۔ ویسے، ابھی معاملات گھٹ رہے ہیں، تاہم ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مرکزی وزارت صحت کے ذریعہ بتائی گئی کم سے کم 8 ادویہ کا بفر اسٹاک بنائے رکھیں، جس سے مستقبل میں کووِڈ کے معاملات بڑھنے کی صورت میں حالات سے نمٹا جا سکے، یہ ہیں: اینکسو پیرن، میتھائل پروڈینو سولون، ڈیکسامیتھاسون، ریمڈیسیور، ٹوسیلی زومیب (کووِڈ۔19 علاج کے لئے)، ایمفوٹیریسن بی ڈی آکسی کولیٹ، پاسکوناجول (کووِڈ میوکرمائیکوسیس معاملات کے لئے)، انٹراوینس امیونوگلوبولن (آئی وی آئی جی) (بچوں میں ملٹی سسٹم انفلیمیٹری سنڈروم کے لئے(ایم آئی ایس۔سی) آئی ایس۔سی)۔ مرکزی وزارت صحت شمال مشرقی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خریداری میں مدد فراہم کرے گی۔

اراکین کو بھارت کی کووِڈ۔19 ٹیکہ کاری حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس حکمت عملی کا مقصد ہے:

  • تمام بالغ ہندوستانیوں کو جلد از جلد محفوظ طریقے سے مفت ٹیکہ کاری فراہم کرانا۔
  • صحتی کارکنان اور ہراول دستے کے کارکنان  کو ترجیحی بنیاد پر تحفظ فراہم کرانا
  • جوکھم والی آبادی یعنی 45 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد کو تحفظ فراہم کرنا (ملک میں کووِڈ سے متعلق 80 فیصد اموات اسی  عمر کے زمرے کی آبادی میں لاحق ہوئی)۔

سائنٹفک اور علم وبائی مرض  سے متعلق ثبوت اور عالمی سطح پر اپنائے جانے والے طور طریقوں کی بنیاد پر، مہم کے ہر ایک مرحلے  کے دوران ملک میں کووِڈ۔19 ٹیکوں کی دستیابی اور پیداواریت کے لئے متحرک منصوبہ بندی کی بنیاد پر نئے ترجی گروپوں میں ٹیکہ کاری کوریج میں اضافہ کیا گیا ہے۔

امریکہ (33.8 کروڑ)، برازیل (12.4 کروڑ)، جرمنی (8.6 کروڑ)، برطانیہ (8.3 کروڑ) کے مقابلے میں بھارت میں سب سے زیادہ ٹیکے کی خوراک (41.2 کروڑ) دی جا چکی ہے۔ یکم مئی سے 19 جولائی کی مدت میں شہری علاقوں میں 12.3 کروڑ (42 فیصد) ٹیکے کی خوراک دی گئی، جبکہ گرامین علاقوں میں 17.11 کروڑ (58 فیصد)۔ اسی مدت میں، 21.75 کروڑ مردوں (53 فیصد)، 18.94 کروڑ خواتین (47فیصد) اور 72834 دیگر افراد کو ٹیکہ لگایا گیا۔

کووِڈ۔19 سے بھارت کی جنگ میں پیش رفت کے لئے اپنائے جانے والے طریقے کے طور پر جانچ، نگرانی، علاج، ٹیکہ کاری اور کووِڈ کے مطابق برتاؤ سے متعلق رہنما اصولوں پر روشنی ڈالی گئی۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
1 in 4 iPhones are now made in India as Apple ramps up production by 53 per cent

Media Coverage

1 in 4 iPhones are now made in India as Apple ramps up production by 53 per cent
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses Akhila Kerala Dheevara Sabha’s Golden Jubilee Sammelan
March 11, 2026
Malayalis for a long time wanted the name of Kerala to be changed to Keralam. I can see the happiness on all your faces: PM Modi
Previous govts have for decades neglected the fisherman community. But now the NDA govt is progressing and boosting them to unlimited capabilities: PM
Under the Pradhan Mantri Matsya Sampada Yojana, a provision of around 1400 crore rupees has been made for Keralam: PM Modi
PM Modi expresses confidence that the growth of Kerala’s coastal economy would contribute to the broader vision of building a Viksit Bharat and a Viksit Keralam

Recalling his recent visit to the state, PM Modi said he was pleased to once again interact with members of the community. He noted that the long-standing aspiration of the people had been fulfilled with the approval to rename the state as ‘Keralam’. He said that the decision had brought immense joy to Malayali brothers and sisters, adding that the beautiful state had now received a name that reflects its cultural identity.

Highlighting the values of the fishermen community, PM Modi described it as a symbol of sustainable living. He observed that the community has long demonstrated a balance between livelihood and nature, progress and environment.

He asserted, “While much of the world views water bodies and oceans merely as resources, the Dheevara community reveres the sea as ‘Amma’, reflecting the deep-rooted Indian philosophy of respecting nature as a divine consciousness.”

Speaking about the spirit of nationalism within the community, PM Modi said the Akhila Kerala Dheevara Sabha has consistently stood for national causes. He observed that members of the fishermen community have served as the first line of guardians along India’s maritime borders and have actively contributed to social harmony and national movements over the years.

Recalling the devastating floods in the state, the PM praised the courage and service of fishermen who played a crucial role in rescue operations. He said the entire country witnessed how members of the community risked their own boats and lives to save stranded families and deliver essential supplies.

The Prime Minister said the hardworking fishermen community has the capability to power India’s growth through the Blue Economy.

Detailing the government’s initiatives, PM Modi said, “The fisheries sector now has dedicated institutional support. Our government created a separate ministry for fisheries and launched several schemes to bring fishermen into the mainstream of development.” He added, “The National Fisheries Digital Platform is transforming the fisheries ecosystem. It allows fishermen, boat owners and exporters to register on a single platform and access government schemes more easily.”

PM Modi noted that satellite-based transponders have been installed on thousands of boats, allowing better tracking and weather alerts, which has significantly enhanced safety for fishermen and reassurance for their families.

Speaking about modernisation efforts, the PM said, “Fishing harbours in the state are being upgraded and dredged to improve efficiency and safety. In recent years, multiple ice plants and cold storage facilities have also been approved to strengthen the fisheries value chain.”

Looking ahead to new economic opportunities, PM Modi stated, “The ocean economy goes beyond traditional fishing. Emerging sectors like seaweed production are opening new possibilities. With government support, seaweed cultivation clusters are being developed in the state, creating new income opportunities for women and youth.”

Concluding his address, the Prime Minister reaffirmed the government’s commitment to prosperity and development. He expressed confidence that the growth of Keralam’s coastal economy would contribute to the broader vision of building a Viksit Bharat and a Viksit Keralam.