عزت مآب وزیر اعظم ڈاکٹر نوین چندر رام غلام جی،

دونوں ممالک کے مندوبین،

میڈیا کے تمام دوست

نمسکار، بونجور!

140 کروڑ ہندوستانیوں کی طرف سے، میں ماریشس کے تمام شہریوں کو قومی دن کی دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ میرے لیے بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ مجھے ماریشس کے قومی دن پر دوبارہ آنے کا موقع مل رہا ہے۔ اس لیے میں وزیر اعظم نوین چندر رام غلام جی اور حکومت ماریشس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

ساتھیو،

ہندوستان اور ماریشس کے درمیان تعلقات نہ صرف بحر ہند سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ ہماری مشترکہ ثقافت، روایات اور اقدار سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں ہم ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں۔ قدرتی آفت ہو یا کووڈ وبا، ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ دفاع ہو یا تعلیم، صحت ہو یا خلا، ہم ہر شعبے میں کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں۔ گزشہ دس سالوں میں ہم نے اپنے تعلقات میں بہت سی نئی جہتیں شامل کی ہیں۔ ترقیاتی تعاون اور صلاحیت سازی میں نئے ریکارڈ قائم کیے گئے ہیں۔ ماریشس کے پاس رفتار کے لیے میٹرو ایکسپریس، انصاف کے لیے سپریم کورٹ کی عمارت، آرام دہ قیام کے لیے سوشل ہاؤسنگ، اچھی صحت کے لیے ای این ٹی اسپتال، کاروبار اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے یو پی آئی اور روپےکارڈ ، کفایتی اور بہتر معیارکی ادویات کے لیے جن اوشدھی کیندر، ایسےکئی لوگوں پر مرکوز اقدامات ہیں، جنہیں ہم نے بروقت مکمل کیا ہے۔ ’اگالیگا‘ میں بہتر رابطے نے سائیکلون ’چیدو‘ سے متاثرہ لوگوں تک انسانی امداد کی تیز تر فراہمی کو ممکن بنایا۔ اس سے کئی جانیں بچائی جا سکیں۔ حال ہی میں ہم نے ’کاپ مالیرے‘ ایریا ہیلتھ سینٹر اور 20 کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کا افتتاح کیا۔ بعد ازاں، وزیر اعظم کے ساتھ ’’اٹل بہاری واجپائی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک سروس اینڈ انوویشن‘‘ کو ملک کے نام وقف کرنے کی سعادت حاصل ہوگی۔

ساتھیو،

آج، وزیر اعظم نوین چندر رام غلام اور میں نے ہندوستان-ماریشس شراکت داری کو ’توسیعی اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘ کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہندوستان ماریشس میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر میں تعاون کرے گا۔ یہ ماریشس کے لیے مدر آف ڈیموکریسی کا تحفہ ہوگا۔ ماریشس میں 100 کلومیٹر طویل پانی کی پائپ لائن کو جدید بنانے کا کام کیا جائے گا۔ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کے دوسرے مرحلے میں 500 ملین ماریشین روپے کے نئے پروجیکٹ شروع کیے جائیں گے۔ اگلے پانچ سالوں میں ماریشس کے 500 سرکاری ملازمین کو ہندوستان میں تربیت دی جائے گی۔ ہم نے باہمی تجارت کو مقامی کرنسی میں طے کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

 

ساتھیو،

وزیراعظم اور میں اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ دفاعی تعاون اور میری ٹائم سیکیورٹی ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم حصہ ہیں۔ آزاد، کھلا، محفوظ، اور محفوظ بحر ہند ہماری مشترکہ ترجیح ہے۔ ہم ماریشس کے خصوصی اقتصادی زون کی حفاظت میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس تناظر میں کوسٹ گارڈ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ ماریشس میں پولیس اکیڈمی اور نیشنل میری ٹائم انفارمیشن شیئرنگ سینٹر کے قیام میں ہندوستان مدد کرے گا۔ وائٹ شپنگ، بلیو اکنامی اور ہائیڈروگرافی پر تعاون کو مضبوط کیا جائے گا۔ ہم چاگوس کے حوالے سے ماریشس کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ ہم کولمبو سیکورٹی کانکلیو، انڈین اوشین رم ایسوسی ایشن اور انڈین اوشین کانفرنس جیسے فورمز کے تحت تعاون میں اضافہ کریں گے۔

ساتھیو،

لوگوں کے درمیان تعلقات ہماری شراکت داری کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، ڈیجیٹل صحت، آیوش مراکز، اسکولی تعلیم، ہنر مندی اور نقل و حرکت میں تعاون کو بڑھایا جائے گا۔ ہم انسانی ترقی کے لیے اے آئی اور ڈی پی آئی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو استعمال کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ ماریشس کے لوگوں کے لیے ہندوستان میں چار دھام یاترا اور رامائن ٹریل کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ گرمٹ ورثے کے تحفظ اور فروغ پر زور دیا جائے گا۔

 

ساتھیو،

خواہ چاہے وہ گلوبل ساؤتھ ہو، بحر ہند ہو یا افریقی براعظم، ماریشس ہمارا اہم شراکت دارہے۔ دس سال پہلے، وژن ساگر، یعنی ’’علاقے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی‘‘ کی بنیاد یہاں ماریشس میں رکھی گئی تھی، ہم نے اس پورے خطے کے استحکام اور خوشحالی کے لیے ساگر کے وژن لے کر چلے ہیں۔ آج اس کو آگے بڑھاتے ہوئے،میں یہ کہنا چاہوں گا کہ گلوبل ساؤتھ کے لیے ہمارا وژن رہے گا، ساگر سے آگے بڑھ کر مہاساگر یعنی ’’علاقوں کے آس پاس کی حفاظت اور ترقی کےلیے باہمی اور مجموعی پیش رفت‘‘ہوجائے گا۔ اس میں ترقی کے لیے تجارت، پائیدار ترقی کے لیے صلاحیت سازی  اور مشترکہ مستقبل کے لیے باہمی تحفظ کاجذبہ پنہاں ہے۔ اس کے تحت ٹیکنالوجی کا اشتراک، رعایتی قرض اور مالی معاونت کے ذریعے تعاون فراہم کیا جائے گا۔

 

عالیجناب،

ایک بار پھر، ماریشس سے ملے، اپنائیت بھرے استقبال کے لیے میں آپ کا اور ماریشس کے لوگوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں آپ کو ہندوستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم ہندوستان میں آپ کے استقبال کے منتظر رہیں گے۔

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach

Media Coverage

India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs valedictory session of National Departmental Summit on Water
September 02, 2026
This marks the first in a series of Summits envisioned by PM to strengthen spirit of Team India and deepen cooperative federalism
PM stresses adoption of a continuous process of review and follow up to act on actionable and time-bound outcomes
Emphasising Jan Bhagidari, PM calls for promoting Jal Utsav to deepen public awareness on water conservation
PM calls for greater adoption of water-saving technologies and learning from global best practices
PM calls for robust water data governance through effective use of AI
PM suggests structured inter-State Study-visits involving public representatives, officials and farmers on water related issues

Prime Minister Shri Narendra Modi today chaired the valedictory session of the two-day National Departmental Summit on Water, organised by the Ministry of Jal Shakti. The Summit is the first in a series of Departmental Summits envisioned by Prime Minister to strengthen the spirit of Team India, deepen cooperative federalism and foster collective ownership of national priorities through closer collaboration between the Centre and the States. It brought together Ministers and senior officials from States and Union Territories for focused deliberations on various dimensions of India’s water security.

Prime Minister appreciated the intensive two-day deliberations and emphasised that the actionable and time-bound action points emerging from the Summit should be pursued through a continuous process of review and learning. He suggested that the Summit should not remain a one-time exercise and called for a continuous process of review and follow-up.

Prime Minister called for sensitising Urban Local Bodies to the challenges arising from urbanisation, including population growth and future water requirements, and suggested organising similar Chintan Shivirs for Urban Local Bodies. He called for greater adoption of water-saving technologies. He also suggested dedicated exhibitions and workshops, including exposure to global best practices, to enable Indian manufacturers and stakeholders to develop and scale efficient solutions.

Emphasising Jan Bhagidari, Prime Minister suggested promoting “Jal Utsav” to create greater awareness among people. Prime Minister called for making de-silting a regular programme and developing clear criteria and SOPs for de-silting. On dam safety, he stressed rigorous preparedness before every monsoon, adherence to prescribed precautions and creating awareness among school students, including through suitable incorporation in educational curricula.

Prime Minister further called for strengthening knowledge and capacity on water management and governance in universities and higher educational institutions. He suggested structured inter-State study-visits involving public representatives, officials and farmers to facilitate practical learning and replication of successful interventions.

Prime Minister called for robust water data governance, with water-sector data brought together, systematically managed, analysed and effectively utilised. He recommended the use of AI for data collection and analysis through a uniform format. He also stressed anticipatory and integrated planning to address water scarcity through suitable utilisation of treated water for agriculture and industrial purposes.

Drawing upon his experience as Chief Minister of Gujarat, Prime Minister noted that instances of water scarcity could be transformed into opportunities through systematic planning, commitment and deployment of adequate resources and capable officers.

Union Minister for Jal Shakti Shri C. R. Patil highlighted four key outcomes of the summit: accelerated completion of water infrastructure projects; strengthening water conservation as a sustained people’s movement; ensuring long-term sustainability of drinking-water sources; and institutionalising effective operation and maintenance of rural drinking-water schemes.