‘‘ہمارے لئےٹکنالوجی ملک کے لوگوں کو با اختیار بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمارے لئے ٹکنالوجی ملک کو آتم نربھر بنانے کے لئے بنیاد ہے۔اسی نظریہ کی عکاسی اس سال کے بجٹ میں بھی کی گئی ہے’’
‘‘بجٹ میں 5 جی اسپکٹرم کی نیلامی کے لئے ایک واضح روڈ میپ پیش کیا گیا ہے اور مضبوط 5 جی ایکو سسٹم سے منسلک ڈیزائن پر مبنی مینوفیکچرنگ کے لئے پی آئی ایل اسکیمیں تجویز کی گئی ہیں’’
‘‘ہمیں اس بات پر زور دینا ہوگا کہ زندگی کو آسان بنانے کے لئے ٹکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیسے کیا جائے ’’
‘‘دنیا نے کووڈ کے دور میں ہماری خودکفالت سے ویکسین کی تیاری تک ہمارے اعتماد کامشاہدہ کیا۔ ہمیں ہر سیکٹر میں اس کامیابی کو دہرانا ہوگا’’

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج بجٹ کے بعد کے و یبنار کی سیریز میں ساتویں ویبنار سے خطاب کیا تاکہ اسٹیک ہولڈرس سے صلاح و مشورہ کیا جاسکے اور   مقررہ مدت میں  بجٹ کے موضوعات کو مکمل طور پر نافذ  کرنے کے لئے  ان کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ انہوں نے  ان ویبناروں کے انعقاد کی  وجہ بتاتے ہوئے  کہا کہ یہ اس   امر کو یقینی بنانے کے لئے ایک مشترکہ کوشش ہے کہ بجٹ کی روشنی میں  ہم کس طرح تیزی کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے اور بہترین نتائج کے ساتھ بجٹ کے التزامات کو  لاگو کرسکتے ہیں ۔

وزیراعظم نے زورر دے کر کہاکہ اس حکومت کے لئے سا ئنس اور ٹکنالوجی کوئی الگ تھلگ شعبہ نہیں ہے ۔ معیشت کے میدان میں نظریہ ڈجیٹل معیشت او رمالیاتی ٹکنالوجی  جیسے شعبوں سے  منسلک ہے۔ اس طرح اعلیٰ ترین ٹکنالوجی کابنیادی ڈھانچہ اور  سرکاری خدمات  کی فراہمی سے متعلق وژن میں بہت بڑا  رول ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ‘‘ ہمارے لئے ٹکنالوجی ملک کے لوگوں کو با اختیار بنانے کا  ذریعہ ہے ۔ ہمارےلئے ٹکنالوجی ملک کوآتم نربھر (خوف کفیل) بنانے کے لئے بنیاد ہے ۔  اس سال کے بجٹ میں  اسی نظریہ کی عکاسی کی گئی ہے’’۔ انہوں نے امریکی صدربائڈن  سے تازہ خطاب کے بارے میں بات کی  جس میں  آتم نربھرتا  (خودکفالت) کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ، امریکہ جیسے  ترقی یافتہ ممالک میں  اس کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ ابھرتے ہوئے نئے عالمی  نظام کے تناظر میں  یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم  آتم نربھرتا پر  توجہ مرکوز کرتے ہوئے  آگے بڑھیں’’۔

جناب مودی نے آرٹیفیشل انٹلی جینٹ جی او – اسپیشل سسٹمس، ڈرونس، سیمی کنڈکٹر، خلائی ٹکنالوجی، جنومکس، ادویہ سازی اور 5 جی کے لئے آلودگی سے پاک  ٹکنالوجیز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کے بارے میں اور 5 جی کے بارے میں بجٹ کے زور کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ  بجٹ میں  5 جی اسپکٹرم کی نیلامی کے لئے ایک واضح روڈ میپ پیش کیا گیا ہے اور  مضبوط 5 جی ایکو سسٹم سے منسلک ڈیزائن پر مبنی مینوفیکچرنگ کے لئے  پیداوار پر مبنی ترغیبات (پی ایل  آئی) اسکیمیں تجویز کی گئی ہیں ۔

 انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر سےکہاکہ وہ اس شعبے میں  اپنی کوششوں کو بڑھائیں ۔ ‘‘سائنس آفاقی ہے اور ٹکنالوجی مقامی ہے ’’ کہاوت کاحوالہ دیتے  ہوئے  وزیراعظم نے کہاکہ  ہم سائنس کے اصولوں سے  اچھی طرح واقف ہیں  لیکن ہمیں اس بات پر زور دینا ہوگا کہ زندگی کو  آسان بنانے کے لئے ٹکنالوجی کازیادہ سے زیادہ استعمال کیسے کیاجائے’’۔ انہوں نے  مکانات  کی تعمیر، ریلوے،  ایئرویز، آبی گزرگاہوں اور ا ٓپٹکل فائبر میں سرمایہ کاری کاذکر کیا ۔انہوں نے ان اہم شعبوں میں ٹکنالوجی کے استعمال کے تصورات پر زور دیا۔

گیمنگ کے لئے وسیع  ہوتے ہوئے عالمی بازارکاذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بجٹ میں  انیمیشن ویزوول  ایفیکٹ گیمنگ  کومک ( اے وی جی سی)  پر  توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔  اسی طرح انہوں نے کھلونوں کو  ہندوستانی ماحول اور  ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ مواصلاتی مراکز اور فنٹیک (مالیاتی ٹکنالوجی)  کی مرکزیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے  دونوں کے لئے  غیر ملکوں پر  کم انحصار کے ساتھ  اندرون ملک ایکو سسٹم کے لئے  کہا۔ وزیراعظم نے پرائیویٹ سیکٹر پر زور دیا کہ  وہ جی او اسپیشل ڈیٹا کے استعمال کےلئے قوانین میں تبدیلی اور اصلاحات کی وجہ سےپیدا ہونے و الے لامحدود مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے کہاکہ  ‘‘دنیا نے کووڈ کے دور میں  ہماری  خودکفالت سے  ویکسین کی تیاری تک  ہمارے اعتماد کامشاہدہ کیا۔ ہمیں ہر سیکٹر میں اس کامیابی کو دہرانا ہوگا’’۔

وزیراعظم نے  ملک کے لئے ایک مضبوط ڈیٹا سیکورٹی فریم ورک کی اہمیت  پر بھی زور دیا  اور حاضرین سے  اس کے لئے معیارات اور اصول طے کرنے کے لئے  ایک روڈ میپ  کے لئے کہا ۔

تیسرے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم  یعنی  بھارتی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کاحوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے  اس شعبے کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کایقین دلایا۔وزیراعظم نے مطلع کیا کہ  ‘‘ بجٹ میں  نوجوانوں کی ہنرمندی، ری اسکلنگ اوراپ اسکلنگ کے لئے ایک پورٹل بھی  تجویز کیا گیا ہے ، اس کے ذریعہ نوجوان  اے پی آئی پر مبنی قابل اعتماد مہارت کی اسناد ادائیگی اور دریافت  کی سطحوں کے ذریعہ  مناسب ملازمتیں اور  مواقع حاصل کرسکیں گے’’۔

وزیراعظم نے  ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینےکے لئے 14 اہم شعبوں میں دولاکھ کروڑ روپئے کی مالیت  کی پی ایل آئی اسکیموں کے بارے میں بھی بات کی ۔  وزیراعظم نے شہریوں کے لئے خدمات ، ای فضلات بندوبست، سرکلراکنومی اور  الیکٹرک موبلٹی جیسے شعبوں میں آپٹکل فائبر کے استعمال کے لئے اسٹیک ہولڈرس کو عملی تجاویز دینے کی واضح ہدایت دی ۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.