‘‘ہمارے لئےٹکنالوجی ملک کے لوگوں کو با اختیار بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمارے لئے ٹکنالوجی ملک کو آتم نربھر بنانے کے لئے بنیاد ہے۔اسی نظریہ کی عکاسی اس سال کے بجٹ میں بھی کی گئی ہے’’
‘‘بجٹ میں 5 جی اسپکٹرم کی نیلامی کے لئے ایک واضح روڈ میپ پیش کیا گیا ہے اور مضبوط 5 جی ایکو سسٹم سے منسلک ڈیزائن پر مبنی مینوفیکچرنگ کے لئے پی آئی ایل اسکیمیں تجویز کی گئی ہیں’’
‘‘ہمیں اس بات پر زور دینا ہوگا کہ زندگی کو آسان بنانے کے لئے ٹکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیسے کیا جائے ’’
‘‘دنیا نے کووڈ کے دور میں ہماری خودکفالت سے ویکسین کی تیاری تک ہمارے اعتماد کامشاہدہ کیا۔ ہمیں ہر سیکٹر میں اس کامیابی کو دہرانا ہوگا’’

نمسکار!

آپ سب کو پتہ ہے کہ ہم نے پچھلے دو سالوں سے ایک نئی روایت شروع کی ہے۔ ایک تو بجٹ کو ہم نے ایک مہینے پہلے پری پون کیا اور یکم اپریل سے بجٹ لاگو ہوتا ہے تو ان بٹوین ہمیں 2 مہینے تیاری کے لیے مل جاتے ہیں اور ہم کوشش یہ کررہے ہیں کہ بجٹ کی روشنی میں سارے  شراکت دار مل کر نجی، سرکاری، ریاستی سرکار ، مرکزی سرکار، سرکار کے مختلف محکمے  بجٹ کی  روشنی میں ہم جلدی سے جلدی  چیزوں کو زمین پر کیسے اتاریں۔ بلاروک ٹوک کیسے اتاریں اور مناسب نتائج، اس پر ہمارا زور کیسے ہو۔ اس میں جتنی آپ لوگوں کی تجاویز ملیں گی، اس سے شاید سرکار کو اپنے فیصلے کو لاگو کرنے میں بھی آسانی سے سہولت حاصل ہوگی۔  نفاذ کا روڈ میپ بھی اچھا بنے گا اور فل اسٹاپ ، کوما کے سبب کبھی کبھی ایک آدھ چیز 6-6 مہینوں تک فائلوں میں لٹکی رہتی ہے، ان ساری چیزوں سے بچنے کے لیے ہم آپ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کی تجاویز کو لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ یہ گفتگو بجٹ میں ایسی ہونی چاہیے  تھی اور ایسا ہونا چاہیے تھا، اس کےلیے تو ممکن نہیں، کیونکہ وہ کام پارلیمنٹ نے کرلیا ہے، لیکن جو کچھ بھی ہے، اس کا اچھے سے اچھا فائدہ عوام تک کیسے پہنچے، ملک کو کیسے ملے اور ہم سب مل کر کیسے کام کریں، اس لیے ہماری یہ چرچا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس بار بجٹ میں سائنس و ٹیکنالوجی سے جڑے جو فیصلے ہوئے ہیں، یہ سارے فیصلے واقعی بہت اہم ہیں۔ بجٹ کے اعلانات کا نفاذ بھی اتنی ہی تیزی سے ہو، یہ ویبینار اس سمت میں ایک مشترکہ کوشش ہے۔

دوستو!

ہماری سرکار کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی صرف ایک الگ تھلگ (آئیسولیٹیڈ) سیکٹر نہیں ہے۔ آج معیشت کی فیلڈ میں ہمارا وژن ڈیجیٹل معیشت اور فن ٹیک جیسی بنیادوں سے جڑا ہوا ہے۔ انفراسٹراکچر کی فیلڈ میں ہمارا ڈیولپمنٹ وژن، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ پبلک سروسیز (سرکاری خدمات) اور لاسٹ مائل ڈیلیوری بھی اب ڈاٹا کے ذریعے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے جڑ رہی ہیں۔ ہمارے لیے ٹیکنالوجی، ملک کے عام سے عام  شہری کو بااختیار کرنے کا طاقتور وسیلہ ہے۔ ہمارے  لیے ٹیکنالوجی ملک کو خود کفیل بنانے کی اہم بنیاد ہے اور جب میں بھارت کو خود کفیل (آتم نربھر) بنانے کی بات کرتا ہوں تو آج بھی آپ  نے امریکہ کے صدر جوبائیڈن کی تقریر صبح  سنی ہوگی، انہوں نے بھی امریکہ کو آتم نربھر بنانے کی بات کہی ہے۔ امریکہ میں ’میک ان امریکہ‘ کے لیے انہوں نے آج بڑا زور دیا ہےا ور اس لیے ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں جو نئے انتظامات  بن رہے ہیں، اس میں ہمارے لیے بھی بہت ضروری ہے کہ ہم آتم نربھرتا کے ساتھ آگے بڑھیں اور اس بجٹ میں ان چیزوں پر ہی زور دیا گیا ہے، آپ دیکھتے ہوں گے۔

دوستو!

اس بار ہمارے بجٹ میں سن رائز سیکٹرس پر خاص زور دیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت جیوزپیسیل سسٹمس، ڈرون سے لے کر سیمی کنڈکٹرس اور اسپیس ٹیکنالوجی تک، جیونومکس، فارمیسیٹکلس اور کلین ٹیکنالوجیز سے لے کر فائیو جی تک یہ سبھی  سیکٹرس آج ملک کی ترجیحات ہیں۔ بجٹ میں سن رائز سیکٹرس کے لیے تھیمیٹک فنڈس کو بھی پرموٹ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ بجٹ میں اسی سال 5 جی اسپیکٹرم کی بولیوں کو لے کر بہت واضح روڈ میپ بنایا گیا ہے۔ ملک میں مضبوط 5 جی ایکوسسٹم نے اس سے جڑی ہوئی ڈیزائن – لیڈ مینوفیکچرنگ کے لیے بھی بجٹ میں پی ایل آئی اسکیم پرپوز (تجویز) کی گئی ہے۔ میں اپنے پرائیویٹ سیکٹر کو خاص طور پر اپیل کروں گا کہ ان فیصلوں سے جو نئے امکانات بن رہے ہیں،ا س پر تفصیلی بحث ومباحثے آپ لوگ ضرور کریں اور ٹھوس تجاویز کے ساتھ ہم ایک اجتماعی کوشش سے آگے بڑھیں۔

ساتھیو!

کہا جاتا ہے کہ سائنس پوری دنیا کے لئے ہے لیکن ٹیکنالوجی مقامی ہونی چاہئے سائنس کے اصولوں سے ہم واقف ہیں لیکن ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال طرز زندگی میں آسانی پیدا کرنے کےلئے کیسے کریں،ہمیں اس پر بھی زور دینا ہوگا۔ آج ہم تیزی سے گھروں کی تعمیر کررہے ہیں ،ریل راستے،فضائی راستے ،آبی راستے اور آپٹیکل فائبر  میں بھی غیر معمولی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔اس میں اور جہت حاصل کرنے کے لئے پی ایم گتی شکتی کے ویژن کے ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس ویژن کو ٹیکنالوجی سے مسلسل کیسے مدد مل سکتی ہے اس پر ہمیں کام کرنا ہوگا۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں ملک میں 6 بڑے لائٹ ہاؤس پروجیکٹ پر کام کیا جارہا ہے ۔ گھروں کی تعمیر میں ہم جدید ٹیکنالوجی کو جوڑ رہے ہیں ،ہم ٹیکنالوجی کے ذریعہ سے اس کی رفتار اور کیسے تیز کرسکتے ہیں ،اور اسے کیسے وسعت دے سکتے ہیں اس پر بھی ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ سرگرم شراکتداری کی ضرورت ہے اور اختراعی نظریات کی ضرورت ہے ۔آج ہم طبی سائنس کا مشاہدہ کررہے ہیں ،طبی سائنس بھی تقریباً ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگئی ہے ۔اب زیادہ سے زیادہ طبی آلات بھارت میں تیار ہوں اور بھارت کی ضرورتوں کو ذہن میں رکھ کر  ہوں ،اس میں ٹیکنالوجی کی کس طرح مدد لی جاسکتی ہے اس طرف بھی ہم سب کو مل کر دھیان دینا ہے۔اور شاید آپ زیادہ اس میں اپنا تعاون دے سکتے ہیں ۔آج آپ دیکھئے کہ گیمنگ کاایک شعبہ جو اتنی تیزی سے پروان چڑھا ہے اب دنیا میں اس کا بہت بڑا مارکیٹ بن گیا ہے۔نوجوان نسل بڑی تیزی سے جڑ گئی ہے اس بجٹ میں ہم نے اے وی جی سی یعنی اینی میشن ویژویل افیکٹس گیمنگ کامک پر بہت زور دیا ہے ۔اس سمت میں بھی جب بھارت کے آئی ٹی کے اشتراک نے دنیا میں اپنی عزت حاصل کی ہے ۔ہم ایسے خصوصی شعبے میں اپنی طاقت آزما سکتے ہیں ۔کیا آپ اس میں اپنی کوششوں کو بڑھا سکتے ہیں اسی طرح بھارتی کھلونوں کا بھی بہت بڑا مارکیٹ ہےاور آج کے دور کے جو بچے ہیں  وہ کھلونوں میں کسی نہ کسی  ٹیکنالوجی کے ہونے کو پسند کرتے ہیں ۔کیا ہم ہمارے ملک کے بچوں کے مطابق ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے کھلونے اور دنیا میں انہیں مارکیٹ میں پہنچانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں ۔ایسے ہی  مواصلاتی شعبے میں نئی ٹیکنالوجی لانے کے لئے بھی ہم سبھی کو اپنی کوششوں کو اور تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔سروربھارت میں ہی ہو بیرونی ملکوں پر انحصار کم سے کم ہو اور کمیونیکیشن کے تعلق سے نئے نئے سیکورٹی اینگل جڑتے چلے جارہے ہیں ،ہمیں بڑی بیداری کے ساتھ اس طرف اپنی کوششوں کو بڑھانا ہوگا ۔فنٹیک کے تعلق سے بھی بھارت نے پچھلے دنوں کمال کردیا ہے لوگ مانتے تھے کہ ہمارے ملک میں یہ شعبہ ؟لیکن موبائل فون سے بھی مالیاتی سرگرمی میں جس طرح سے ہمارے گاؤں جڑ رہے ہیں اس کا مطلب ہوا کہ فنٹیک میں بھی زیادہ سے زیادہ جدید ٹیکنالوجی کی آمیزش آج ہمارے لئے وقت کی ضرورت ہے اس میں سیکورٹی بھی ہے فروری 2020 میں ملک نے جیو اسپیٹیل کے لئے ڈاٹا کو لیکر پرانے طور طریقے بدل دئے ہیں اس سے جیو اسپیٹیل کے لئے لا محدود نئے امکانات اور نئے مواقع کھل گئے ہیں۔ ہمارے پرائیویٹ سیکٹر کو اس کاپورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔

ساتھیو!

کووڈ کے وقت ہماری سیلف سسٹنیبلٹی سے لیکر ویکسین کی تیاری تک ہماری ریلائیبلیٹی کو دنیا نے دیکھا ہے اسی  طرح کی کامیابی کو ہمیں ہر سیکٹر میں دکھانا ہے۔اس میں ہماری صنعت کی آپ سب کی بہت بڑی ذمہ داری ہے  ۔ ملک میں ایک بہتر ڈیٹا سیکورٹی فریم ورک بھی بہت ضروری ہے ۔ڈیٹا کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے حکمرانی بھی ضروری ہے۔ ایسے میں اس کے معیارات اور ضابطے بھی ہمیں سیٹ کرنے ہوں گے۔ ہم اس سمت میں کیسے آگے بڑھیں ،آپ سبھی مل کر ایک روڈ میپ تیار کرسکتے ہیں۔

فرینڈس!

آج بھارت کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے ،میں اپنے اسٹارٹ اپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت ان کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہے ۔بجٹ میں نوجوانوں کی ہنر مندی اور از سر نو ہنر مندی اور اپنے ہنر کو بڑھانے کے لئے پورٹل کی بھی تجویز رکھی گئی ہے۔ ا س سے نوجوانوں کو اے پی آئی پر مبنی بھروسے مند ہنر مندی سے متعلق اسناد ادائیگی اور دریافت کی تہہ کے ذریعہ صحیح روزگاراور مواقع حاصل ہوں گے۔

فرینڈس!

ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے ہم نے 14 کلیدی شعبوں میں دو لاکھ کروڑ روپے کی پی ایل آئی اسکیم شروع کی ہے۔اس ویبنار سے اس سمت میں آگے بڑھنے کے لئے مجھے عملی نظریات کی امید ہے۔بلا رکاوٹ نفاذ کے طریقے آپ  ہمیں تجویز کیجئے۔ شہریوں کی خدمات کے لئے ہم آپٹک فائبر کا اور بہتر استعمال کیسے کرسکتے ہیں ،ہمارے گاؤں کا دور دراز کا طالب علم بھی ہندوستان کی اعلیٰ تعلیمی نظام کا فائدہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ سے اپنے گھر میں کیسے لے سکتا ہے۔طبی خدمات کیسے حاصل کرسکتا ہے  ،زراعت میں اختراع کا فائدہ کسان میرا چھوٹا کسان کیسے لے سکتا ہے جب اس کے ہاتھ میں موبائل ہے ۔دنیا میں سبھی چیزی میسر ہیں ہمیں اس کو بلا رکاوٹ کنکٹ کرنا ہے۔ میں چاہتا ہوں اور اس کے لئے مجھے آپ سبھی تجربہ کاروں سے اختراعی تجاویز کی ضرورت ہے۔

ساتھیو!

ای ویسٹ جیسی ٹیکنالوجیوں سے جڑے جو چیلنجز دنیا کے سامنے ہیں ان کا حل بھی ٹیکنالوجی سے ہی ہوگا ۔میرا آپ سے خاص التماس ہے کہ اس ویبنار میں آپ مدور معیشت ای ویسٹ بندو بست اور الیکٹرک موبلیٹی جیسے حل پر بھی توجہ مرکوز کریں ۔ملک کو فیصلہ کن حل پیش کریں ،مجھے پورا بھروسہ ہےآپ کی کوششوں سے ملک اپنے ہدف تک ضرور پہنچے گا اور میں پھر سے کہوں گا کہ یہ ویبنار حکومت کی طرف سے آپ کو معلومات دینے کا نہیں ہے اس ویبنار میں آپ سے حکومت کو نئے نئے طور طریقے چاہئے تاکہ رفتار کیسے بڑھے اور ہم نے جلدی سے جلدی  جو پیسے لگائے ہیں ،جو بجٹ خرچ کیا ہے ،جو سوچا ہے اس پر ہم پہلی سہ ماہی میں ہی کچھ کرکے دکھا سکتے ہیں کیا؟۔مقررہ مدت پروگرام بنا سکتے ہیں کیا؟۔مجھے یقین ہے آپ اس شعبے میں ہیں آپ کوسبھی باریکیوں کے بارے میں پتہ ہے ،کہاں مشکلیں ہیں اس کا پتہ ہے ، کیا کرنے سے اچھے  سے اچھے طریقے سے  یہ ہوسکتا ہے ،تیز رفتار سے ہوسکتا ہے ،آپ کو سب پتہ ہے۔ہم مل کر ،بیٹھ کر اس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔میں آپ کو اس ویبنار کے لئے بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔

شکریہ

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.