انہوں نے زرعی سیکٹر میں تحقیق و ترقی کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کے مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا
چھوٹے کاشتکاروں کو بااختیار بنانا حکومت کے وژن کامرکز ہے: وزیراعظم
ڈبہ بند خوراک کے لئے ہمیں ملک کے زرعی سیکٹر کو عالمی بازار میں تبدیل کرنا ہوگا: وزیراعظم

نئی دہلی ،یکم مارچ2021: وزیراعظم جناب نریندرمودی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ زراعت اور کسانوں کی بہبود سے متعلق بجٹ التزامات کے موثر نفاذ کے لئے ایک ویبنار سے خطاب کیا۔  اس ویبنار میں  زراعت ،ڈیری اور ماہی پروری سیکٹر کے  ماہرین، سرکاری، پرائیویٹ اور امداد باہمی کےسیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز اور  دیہی معیشت کو فنڈ د ینے والے بینکوں کے نمائندوں نے  حصہ لیا۔اس کے علاوہ  زراعت کے مرکزی وزیر بھی اس ویبنار میں موجود تھے۔

اس موقع پر  ا ظہار خیال کرتے ہوئے  وزیراعظم نے  چھوٹے کسانوں کو مرکز میں رکھنے کے حکومت کے وژن کاخاکہ پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ان چھوٹے کسانوں کو با اختیار بنانے سے  ہندوستانی زراعت کو  بہت سے مسائل سے نجات حاصل کرنے میں  بڑی مدد ملے گی۔ انہوں نے  اس مرکزی بجٹ میں زراعت کے لئے  کچھ التزامات مثلا  مویشی پروری، ڈیری اور ماہی پروری کےسیکٹر کو ترجیح دیتے ہوئے زرعی قرض کے نشانہ کو بڑھا کر  1650000 کروڑ روپے کرنا، دیہی بنیادی ڈھانچہ کے فنڈ کو بڑھا کر 40000 کرور روپے کرنا ، مائکرو  آبپاشی کے لئے بجٹ کو دوگنا کرنا، آپریشن گرین  اسکیم کے د ائرہ کار  کو توسیع دے کر خراب ہونے والی مصنوعات تک بڑھانا اور  مزید1000 منڈیوں کو ای – نیم  کے ساتھ جوڑنے جیسے امور پر روشنی ڈالی۔انہوں نے  21 ویں صدی میں مسلسل بڑھتی ہوئی زرعی پیداوار کے دوران  فصل کی کٹائی کے بعد کے انقلاب یا خوراک کی ڈبہ بندی کے انقلاب اورقدر میں اضافہ کے لئے  ہندوستان کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ  اگر یہ کام دو تین دہائیاں قبل ہوگیا ہوتا تو  یہ ملک کے لئے بے حد اچھا ہوا ہوتا۔

وزیراعظم نے  زراعت سے منسلک ہر ایک سیکٹر مثلا غذائی  اجناس، سبزیوں، پھلوں اور مچھلیوں میں  ڈبہ بندی کے فروغ پر زور دیا۔  انہوں نے کہا کہ اس کےلئے ضروری ہے کہ کاشتکاروں کو  اپنے گاؤں کے نزدیک اسٹوریج کی سہولتیں دستیاب ہوں۔  انہوں نے  پیداوار کو  کھیتوں سے ڈبہ بندی کی اکائیوں تک لے جانے کے نظام میں بہتری لانے پر زور دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ  ان یونٹوں کی مدد فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او) کے ذریعہ کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ملک کے کسانوں کو اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کے لئے  متبادلوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ‘‘ڈبہ بند خوراک کے لئے ہمیں اپنے ملک کے زرعی سیکٹر کو عالمی بازار تک  توسیع دینی ہوگی۔  ہمیں گاؤں کے نزدیک زرعی- صنعتوں کے کلسٹرز کی تعداد  کو ضرور بڑھانا چاہئے تاکہ گاؤں کے لوگ گاؤں ہی میں کاشتکاری سے متعلق روزگار حاصل کرسکیں۔  انہوں نے کہاکہ  نامیاتی کلسٹرز اور  درآمداتی کلسٹرز  بھی اس سلسلے  اہم رول ادا کریں گے۔ انہوں نے وژن پیش کیا کہ  ہمیں ایک ایسے منظرنامہ کی طرف بڑھنا ہوگا جہاں زراعت پر مبنی مصنوعات گاؤں سے شہروں میں  منتقل ہوں اور  صنعتی مصنوعات شہروں سے گاؤں تک پہنچیں۔  انہوں نے  اپنی مصنوعات کو عالمی بازاروں تک لے جانے کے لئے ایک ضلع، ایک پروڈکٹ  اسکیم کا  فائدہ اٹھانے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

 وزیراعظم نے  اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ  اگرچہ ہندوستان دنیا کے چھلی پیداوار کرنے والے  اوربرآمد کرنے والے  بڑے ملکوں میں سے ایک ہے لیکن بین الاقوامی بازاروں میں ڈبہ بند مچھلی میں ہماری موجودگی  نہایت محدود ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس منظر نامہ کو تبدیل کرنے کے لئے اصلاحات کے علاوہ حکومت نے کھانے کےلئے پوری طرح تیار، پکانے کے لئے پوری طرح تیار ڈبہ بند پھلوں اور سبزیاں، ڈبہ بند  سمندری خوراک اور موزاریلا پنیر جیسی مصنوعات کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے تقریبا 11000 کروڑ کی پیداوار سے منسلک ترغیبات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے آپریشن گرینس کے بارے میں  بات کی جس کے تحت تمام پھلوں اور سبزیوں کے نقل و حمل کے لئے 50 فیصد سبسڈی دی جاتی  ہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف  گزشتہ 6 مہینہ کے دوران ہی تقریبا 350 کسان  ریل چلائی گئیں اوران ٹرینوں کے ذریعہ تقریبا ایک لاکھ میٹرک ٹن پھل اور سبزیاں پہنچائی گئیں۔ یہ کسان ریل پورے ملک کے لئے کولڈ اسٹوریج کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ   آتم نربھر بھارت مہم کے تحت ملک  بھرکے ضلعوں میں پھلوں اور سبزیوں کی ڈبہ بندی کےلئے کلسٹر زتعمیر کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔  وزیراعظم مائکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اپ گریڈیشن اسکیم کے تحت  لاکھوں مائکروفوڈ پروسیسنگ یونٹوں کی مدد کی جارہی ہے۔  انہوں نے چھوٹے کاشتکاروں کو ٹریکٹروں، بھوسے و الی مشینوں، یا دیگر فارم مشینریوں کے  گھنٹہ وار کرایہ کے لئے  سستے اور موثر متبادل فراہم کرنے کے لئے جدید ٹکنالوجی کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔زرعی پیداوار کو بازار تک پہنچانے کے لئے سستے اور موثر وسائل فراہم کرنے کے لئے  ٹریکٹر کے استعمال  پر زور دیا۔انہوں نے ملک میں سوائل ہیلتھ کارڈ کی سہولت کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اپنی زمین کی صحت کے بارے میں شعور میں اضافہ فصل کی پیداوار میں بہتری لائے گا۔

وزیر اعظم نے زراعت کے شعبے میں تحقیق اور ترقی( آر اینڈ ڈی )کے لئے  پرائیویٹ سیکٹر کے مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمیں کاشتکاروں کو ایسے متبادل فراہم کرنے ہوں گے جس میں وہ گندم اور چاول اگانے تک ہی محدود نہ ر ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ ہم نامیاتی خوراک سے لے کر سلاد سے متعلق سبزیوں تک کی کوشش کر سکتے ہیں ، اس میں متعدد فصلیں ہیں۔ انہوں نے سی فوڈ اور شہد کی کاشتکاری  کے لئے مارکیٹ کودستک دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ  سی فوڈ  کی شتکاری اور شہد کی کاشتکاری ہمارے ماہی گیروں اور شہد کی کھیتی کرنے والے کسانوں کے لئے اضافی آمدنی فراہم کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ  پرائیویٹ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی شراکت داری سے کسان کا اعتماد بڑھے گا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ  ٹھیکہ پرکھیتی باڑی بہت عرصہ سے کسی نہ کسی شکل میں ہندوستان میں موجودرہی  ہے۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ  ٹھیکہ پرکاشتکاری صرف ایک کاروباری  تصور ہی نہیں رہے گی بلکہ ہمیں زمین کے متعلق اپنی  ذمہ داری  کوبھی پوری کرنی چاہئے۔

وزیر اعظم نے ملک کے اندر کاشتکاری میں ٹھوس کوششیں کرنے کی اپیل کی،تاکہ آبپاشی سے لے کر بوائی تک ، فصل کی کٹائی اور کمائی تک ایک جامع تکنیکی حل تلاش کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں زراعت کے شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اپ کو فروغ دینا ہوگا اور نوجوانوں کواس سے جوڑنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ  برسوں کے دوران ، کسان کریڈٹ کارڈ کاشتکاروں ، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں تک تھوڑا  تھوڑا کرکے بڑھایا گیا ہے اور گذشتہ ایک سال میں 1.80 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ دیئے گئے ہیں۔  گزشہ 6-7 برسوں کے مقابلے میں  قرض کی فراہمی بھی دگنی ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعمیر کیے جانے والے 10،00 ایف پی اوز  کے ساتھ انتظامات کوآپریٹیو کو مضبوط کررہے ہیں

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Flash composite PMI up at 61.7 in May, job creation strongest in 18 years

Media Coverage

Flash composite PMI up at 61.7 in May, job creation strongest in 18 years
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses massive public meetings in Gurdaspur & Jalandhar, Punjab
May 24, 2024
INDI alliance people are a great danger to the security of country: PM Modi in Gurdaspur, Punjab
The problem with Congress is that it has no faith in India: PM Modi in Gurdaspur, Punjab
Skewed version of history left generations unaware of the true events, such as the tragedy of partition in Punjab: PM Modi slams Congress party
The Jhadu Party has learned the lesson of Emergency from Congress: PM Modi against the ruling party in Punjab
Where there is Congress, there are problems and where there is BJP, there are solutions: PM Modi in Jalandhar

Prime Minister Narendra Modi addressed spirited public gatherings in Gurdaspur and Jalandhar, Punjab, where he paid his respects to the sacred land and reflected upon the special bond between Punjab and the Bharatiya Janata Party.

Addressing the gathering PM Modi highlighted, the INDI alliance’s misgovernance in the state and said, “Who knows the real face of the INDI alliance better than Punjab? They've inflicted the most wounds on our Punjab. The wound of division after independence, the long period of instability due to selfishness, a long period of unrest in Punjab, an attack on the brotherhood of Punjab, and an insult to our faith, what hasn't Congress done in Punjab? Here, they fueled separatism. Then they orchestrated a massacre of Sikhs in Delhi. As long as Congress was in the Central government, they saved the rioters. It's Modi who opened the files of the Sikh riots. It's Modi who got the culprits punished. Even today, Congress and its ally party are troubled by this. That's why these people keep abusing Modi day and night."

Speaking about the INDI alliance governance and its strategy concerning National Security, PM Modi said, “These INDI alliance people are a great danger to the security of the country. They are talking about reintroducing Article 370 in Kashmir. They want terrorism back in Kashmir. They want to hand over Kashmir to separatists again. They will send messages of friendship to Pakistan again. They will send roses to Pakistan. Pakistan will carry out bomb blasts.”

“There will be terrorist attacks on the country. Congress will say, we have to talk no matter what. For this, Congress has already started creating an atmosphere. Their leaders are saying, Pakistan has an atomic bomb. Their people are saying, we'll have to live in fear of Pakistan. These INDI alliance people are speaking Pakistan's language,” he added.

Discarding the anti-national thought process of the Congress and INDI alliance, PM Modi said, “The problem with Congress is that it has no faith in India. The scions of Congress tarnish the country's image when they go abroad. They say that India is not a nation. Therefore, they want to change the nation's identity. The mentor of the scions has said that the construction of the Ram temple and celebrating Ram Navami in the country threatens the identity of India.”

Emphasizing the need for rapid development, PM Modi assured the people of Gurdaspur, Punjab, and the entire country of his unwavering commitment to their progress and prosperity. He said, “Punjab's development is Modi's priority. The BJP government is building highways like the Delhi-Katra highway and the Amritsar-Pathankot highway here. BJP is developing railway facilities here.”

“Our effort is to create new opportunities in Punjab, to benefit the farmers. In the last 10 years, we have procured record amounts of rice and wheat across Punjab. The MSP, which was fixed during the Congress government, has been increased by two and a half times. Farmers are receiving PM Kisan Samman Nidhi for seeds, fertilizers, and other necessities,” PM Modi added.

Regarding the ongoing elections, PM Modi urged the citizens to choose leadership that prioritizes the nation's interests. Contrasting the BJP-led NDA’s clear vision for a developed India with the divisive and dynastic politics of the INDI alliance, PM Modi called for support for the BJP to ensure continued progress and stability.

In his second mega rally of the day in Jalandhar, Punjab, PM Modi highlighted the shifting political sentiments. He noted that people no longer want to vote for Congress and the INDI Alliance, as it would mean wasting their votes. Emphasizing the strong support in Punjab, he concluded with a resonant call, ‘Phir Ek Baar, Modi Sarkar’!

PM Modi criticized the Congress for its appeasement politics, claiming that the party favored its vote bank at the expense of accurate historical narratives. He noted that Congress had favoured its own family and Mughal families in history books, neglecting the sacrifices of our Sahibzadas. The PM also asserted that this skewed version of history left generations unaware of the true events, such as the tragedy of partition in Punjab. ‘Congress’, he said, “hid these truths to protect its vote bank and avoid exposing its misdeeds”.

PM Modi underscored the BJP-NDA government's commitment to Hindu and Sikh families left behind during the partition, citing the CAA law as a significant step towards granting them Indian citizenship. He heavily disregarded Congress for opposing the CAA and stated that Congress intends to repeal the law if they come to power, denying these communities their rightful citizenship.

The PM explicitly compared the Jhadu Party (AAP) to Congress, calling it a "photocopy party" that has adopted Congress's oppressive tactics. He strongly condemned their actions against media houses that resist their threats, exposing their true nature. He also made the audience aware of the destructive alliance between Congress and the Aam Aadmi Party in Punjab, stressing that voting for either party is voting against Punjab's interests.

Highlighting the Congress party's lack of faith in India and its attempts to undermine the nation's identity, PM Modi urged voters to reject such divisive politics. He underscored the BJP's commitment to Punjab's development, citing initiatives to improve infrastructure, support farmers, and promote food processing industries. PM Modi sought the blessings of the people of Gurdaspur and Jalandhar, and urged them to vote for BJP candidates in the upcoming elections to secure a brighter future for Punjab and the nation.