امرت کال میں ایک ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے ہندوستان کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے میں ہندوستان کی لیبر فورس کا بہت بڑا کردار ہے
ہندوستان کو ایک بار پھر تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک بنانے کا سہرا ہمارے کارکنوں کو جاتا ہے
گزشتہ آٹھ سالوں میں حکومت نے غلامی کے دور کے اور غلام ذہنیت کی عکاسی کرنے والے قوانین کو ختم کرنے کا اقدام کیا ہے
وزارت محنت امرت کال میں سال 2047 کے لیے اپنا وژن تیار کر رہی ہے
لچکدار کام کی جگہیں، گھر سے کام کرنے والا ماحولیاتی نظام، اور لچکدار کام کے اوقات مستقبل کی ضرورت ہیں
ہم لچکدار کام کی جگہوں جیسے نظام کو خواتین لیبر فورس کی شمولیت کے مواقع کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں
عمارت اور تعمیراتی کارکنوں کے لیے ’محصول‘ کا مکمل استعمال ضروری ہے۔ ریاستوں کے ذریعہ 38000 کروڑ روپے سے زیادہ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تمام ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کے وزرائے محنت کی قومی کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزرا جناب بھوپیندر یادو اور رامیشور تیلی اور ریاستوں کے وزرائے محنت بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم نے بھگوان تروپتی بالاجی کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنے خطاب کا آغاز کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ امرت کال میں ایک ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے ہندوستان کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے میں ہندوستان کی لیبر فورس کا بہت بڑا کردار ہے اور اس سوچ کے ساتھ ملک منظم اور غیر منظم شعبے کے کروڑوں مزدوروں کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے پردھان منتری شرم-یوگی ماندھن یوجنا، پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا جیسی حکومت کی طرف سے کی جانے والی مختلف کوششوں کو دہرایا جنھوں نے کارکنوں کو ایک قسم کا تحفظ فراہم کیا ہے۔ ان اسکیموں نے مزدوروں کو ان کی محنت اور شراکت کے اعتراف کا یقین دلایا ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ، ”ایمرجنسی کریڈٹ گارنٹی اسکیم نے، ایک تحقیق کے مطابق، وبائی امراض کے دوران 1.5 کروڑ نوکریوں کو بچایا۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح ملک نے اپنے محنت کشوں کا ان کی ضرورت کے وقت ساتھ دیا، اسی طرح محنت کشوں نے اس وبا سے صحت یاب ہونے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہندوستان ایک بار پھر دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن گیا ہے، اس کا بہت سا سہرا ہمارے کارکنوں کو جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ ای-شرم پورٹل لیبر فورس کو سماجی تحفظ کے دائرے میں لانے کے اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔ صرف ایک سال میں 400 علاقوں کے تقریباً 28 کروڑ کارکنان پورٹل پر رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ اس سے خاص طور پر تعمیراتی کارکنوں، مہاجر مزدوروں اور گھریلو ملازمین کو فائدہ پہنچا ہے۔ انھوں نے تمام وزرا سے ریاستی پورٹل کو ای شرم پورٹل کے ساتھ مربوط کرنے کی درخواست کی۔

انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں حکومت نے غلامی کے دور کے ایسے قوانین کو ختم کرنے کا اقدام کیا ہے جو غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ”ملک اب بدل رہا ہے، اصلاحات کر رہا ہے، ایسے لیبر قوانین کو آسان بنا رہا ہے۔“، وزیر اعظم نے کہا۔ ”اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، 29 لیبر قوانین کو 4 سادہ لیبر ضابطوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے“۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کم از کم اجرت، ملازمت کی حفاظت، سماجی تحفظ، اور صحت کی حفاظت کے ذریعے کارکنوں کو با اختیار بنانے کو یقینی بنائے گا۔

وزیر اعظم نے بدلتے ہوئے منظر نامے کے مطابق تبدیلی کی ضرورت کو دہرایا۔ انھوں نے فوری فیصلے کرنے ان پر تیزی سے عمل درآمد کرنے کے ذریعہ چوتھے صنعتی انقلاب سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پلیٹ فارم اور آزاد معیشت کے نظام اور آن لائن سہولیات کی روشنی میں وزیر اعظم نے کام کی ابھرتی ہوئی جہتوں کے تئیں باخبر رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا، ”اس علاقے میں صحیح پالیسیاں اور کوششیں ہندوستان کو عالمی رہنما بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔“

وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک کی وزارت محنت امرت کال میں سال 2047 کے لیے اپنا وژن تیار کر رہی ہے۔ اس بات کو دہراتے ہوئے کہ مستقبل کو لچکدار کام کی جگہوں، گھر سے کام کرنے والے ماحولیاتی نظام، اور لچکدار کام کے اوقات کی ضرورت ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ ہم لچکدار کام کی جگہوں جیسے نظام کو خواتین لیبر فورس کی شمولیت کے مواقع کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے اپنے خطاب کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے ملک کی خواتین کی طاقت کی بھرپور شرکت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا، ”خواتین کی طاقت کا صحیح استعمال کرکے، ہندوستان اپنے مقاصد کو تیزی سے حاصل کر سکتا ہے۔“ وزیر اعظم نے اس سمت میں سوچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ ملک میں نئے ابھرتے ہوئے شعبوں میں خواتین کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستان کی آبادیاتی تقسیم پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں ہندوستان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ اسے کس حد تک استعمال کیا جاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ، ”ہم ایک اعلیٰ معیار کی ہنر مند افرادی قوت بنا کر عالمی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔“ وزیر اعظم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ہندوستان دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ ہجرت اور نقل و حرکت کی شراکت داری کے معاہدوں پر دستخط کر رہا ہے اور ملک کی تمام ریاستوں کو تاکید کی کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ ”ہمیں اپنی کوششوں کو بڑھانا ہوگا، ایک دوسرے سے سیکھنا ہوگا“، انھوں نے کہا۔

وزیر اعظم نے سب کو اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ ہمارے عمارت اور تعمیراتی کارکن ہماری افرادی قوت کا لازمی حصہ ہیں، اس موقع پر موجود ہر فرد سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے لگائے گئے ’محصول‘ کا بھرپور استعمال کریں۔ ”مجھے بتایا گیا ہے کہ اس محصول میں سے تقریباً 38,000 کروڑ روپے ابھی تک ریاستوں کے ذریعہ استعمال نہیں کیے گئے ہیں“، وزیر اعظم نے کہا۔ انھوں نے ہر ایک کو تاکید کی کہ وہ اس بات پر توجہ دیں کہ آیوشمان بھارت اسکیم کے ساتھ ESIC کس طرح زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا اختتام سب کو یقین دلاتے ہوئے کیا کہ ہماری یہ اجتماعی کوششیں ملک کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

پس منظر

اس دو روزہ کانفرنس کا اہتمام مرکزی وزارت محنت اور روزگار کے ذریعے 25 سے 26 اگست 2022 کو تروپتی، آندھرا پردیش میں کیا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس کوآپریٹو فیڈرلزم کے جذبے کے تحت بلائی جا رہی ہے تاکہ مزدوروں سے متعلق مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اس سے مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان بہتر پالیسیاں بنانے اور کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لیے اسکیموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے میں مزید ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

اس کانفرنس کے چار موضوعاتی اجلاس ہوں گے: سماجی تحفظ کو عالمگیر بنانے کے مد نظر لاگو کی جا رہی سوشل سیکورٹی کی اسکیموں کے لیے ای-شرم پورٹل کو مربوط کرنا؛ ریاستی حکومتوں کے ذریعے چلائے جا رہے ای ایس آئی اسپتالوں اور پی ایم جے اے وائی کے ساتھ انضمام کے ذریعے طبی نگہداشت  کو بہتر کرنے کے لیے سواستھ سے سمردھی؛  چار لیبر قوانین کے تحت ضابطوں کی تشکیل اور ان کے نفاذ کے لیے طریقہ کار؛ کام کے منصفانہ اور مساوی حالات، آزاد معیشت کا نظام اور پلیٹ فارم کے کارکنوں سمیت تمام کارکنوں کو سماجی تحفظ، کام کی جگہ پر جنسی مساوات وغیرہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وژن شرمیو جیتے @2047۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
'Best Never The Loudest': Bear Grylls Gives Shoutout To ‘Powerful Leader’ PM Modi

Media Coverage

'Best Never The Loudest': Bear Grylls Gives Shoutout To ‘Powerful Leader’ PM Modi
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves infrastructure projects between National Highway-19 and Varanasi Ring Road in Uttar Pradesh worth Rs.14447.64 crore
July 15, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved the development of a Link/Connector Corridor between National Highway-19 (NH-19) and the Varanasi Ring Road with riverbank connectivity along the River Ganga for the decongestion of Varanasi City in Uttar Pradesh. The 46.039 km project, comprising a six-lane elevated main carriageway, an iconic cable-stayed bridge, an extradosed Foot Over Bridge-cum-Major Bridge, loops, ramps, link roads and service roads, will be implemented under the Hybrid Annuity Model (HAM) at a total capital cost of Rs.14,447.64 crore including a civil construction cost of Rs.6,037.85 crore (including utility shifting, excluding GST) and a land acquisition cost of Rs.541.11 crore under NH(O).

The project will provide seamless connectivity between NH-19 and the Varanasi Ring Road, significantly decongesting the city’s road network and improving urban mobility. Designed for an operating speed of 80–100 km/h, it is expected to reduce the average travel time across the project influence area from approximately 60 minutes to 20 minutes, representing a reduction of nearly 67 per cent. Travel time between NH-19 and Kashi Railway Station will be reduced from approximately 50 minutes to about 25 minutes, resulting in a saving of about 25 minutes (nearly 50 per cent).

Aligned with the PM Gati Shakti National Master Plan, the corridor will strengthen multimodal connectivity by providing seamless access to major highways, railway stations, Lal Bahadur Shastri Airport and Ramnagar IWAI Port, while significantly improving connectivity to key religious, educational and cultural landmarks, including the Kashi Vishwanath Temple, Banaras Hindu University (BHU), Namo Ghat, Ramnagar Fort and the Ghats of Varanasi. By linking important economic, social and logistics nodes, the project will improve logistics efficiency, enhance road safety, facilitate tourism and pilgrimage, and support sustainable regional economic growth across eastern Uttar Pradesh.

The corridor has been conceived as a transformative urban mobility project to decongest the road network of Varanasi & Chandauli by providing a high-speed, access-controlled connection between NH-19, the Varanasi Ring Road (NH-135B), Ramnagar/ BHU and other major urban destinations. With more than 15 crore tourists and pilgrims visiting Varanasi every year, the project will significantly improve connectivity to major religious, educational and cultural landmarks, including the Kashi Vishwanath Temple, Banaras Hindu University (BHU), Namo Ghat, Ramnagar Fort, the Ghats of Varanasi, and Kashi Railway Station, while substantially reducing congestion on the existing city road network. An elevated spur between BHU/Lanka and Samne Ghat will further ease traffic congestion at the heavily trafficked Lanka Junction by separating through traffic from local traffic movements.

The project will improve road safety through controlled-access movement, reduce vehicle operating costs and emissions, enhance travel reliability, and facilitate the efficient movement of passenger and freight traffic. It will also decongest NH-19, the BHU-Ramnagar Corridor and NH-35 by diverting through traffic away from the densely developed urban core.

The project incorporates several landmark engineering features, including an iconic 910 m cable-stayed bridge across the River Ganga, a 1.32 km extradosed Foot Over Bridge-cum-Major Bridge with travelators providing seamless pedestrian connectivity to the Kashi Vishwanath Temple, a Rail Over Bridge over the existing/proposed Malviya Bridge, dedicated emergency parking bays, noise barriers, façade lighting and architectural elements inspired by the cultural heritage of Varanasi. These features will not only improve transportation efficiency but also enhance the city’s urban landscape, create an iconic addition to Varanasi’s skyline, and reinforce its position as one of India’s foremost religious and cultural destinations.

Planned in accordance with the PM Gati Shakti National Master Plan, the corridor will strengthen multimodal connectivity by linking one Economic Node (Chandauli SEZ), one Social Node (Chandauli Aspirational District) and six major Logistics Nodes, namely Lal Bahadur Shastri Airport, Kashi Railway Station, Banaras Railway Station, Varanasi City Railway Station, Pt. Deen Dayal Upadhyay Junction and Ramnagar IWAI Port. By providing seamless connectivity between these transport hubs and key destinations such as the Kashi Vishwanath Temple, Banaras Hindu University (BHU), Namo Ghat, Ramnagar Fort and the Ghats of Varanasi, the project will enhance multimodal integration, improve logistics efficiency, facilitate tourism and pilgrimage, and support sustainable regional economic development across eastern Uttar Pradesh.

Overall, the proposed Ganga Elevated Corridor will create a modern, high-capacity urban transport corridor that transforms mobility in Varanasi by providing faster, safer and more reliable connectivity, significantly reducing congestion, strengthening multimodal integration, enhancing tourism and pilgrimage infrastructure, and supporting sustainable economic growth in line with the vision of PM Gati Shakti and Viksit Bharat.

Map of Corridor: