’’ہم ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرنے کے عزم اور ارادے کے ساتھ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی طرف گامزن ہورہے ہیں‘‘
’’پارلیمنٹ کا سنٹرل ہال ہمیں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ترغیب دیتا ہے‘‘
’’ہندوستان نئی توانائی سے بھرا ہوا ہے۔ ہم تیزی سے ترقی کر رہے ہیں‘‘
’’نئی امنگوں کے درمیان نئے قوانین بنانا اور فرسودہ قوانین سے جان چھڑانا ارکان پارلیمنٹ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے‘‘
’’ہمیں امرت کال میں ایک آتم نربھر بھارت بنانا ہے‘‘
’’ہمیں ہر ہندوستانی کی امنگوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اصلاحات نافذکرنی ہوں گی‘‘
’’ ہندوستان کو ایک بڑے کینوس پر کام کرنا ہوگا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کا وقت گزر چکا ہے‘‘
’’جی 20 کے دوران ہم ایک ’ وشو مترا‘ کے طور پر گلوبل ساؤتھ کی آواز بن گئے ہیں ‘‘
’’ہمیں آتم نربھر بھارت کی قرارداد کو پورا کرنا ہے‘‘
’’سمودھان سدن ہماری رہنمائی کرتا رہے گا اور ہمیں ان عظیم شخصیات کے بارے میں یاد دلاتا رہے گا جو دستور ساز اسمبلی کا حصہ تھیں‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج خصوصی اجلاس کے دوران سینٹرل ہال میں اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔

وزیر اعظم نے گنیش چترتھی کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے خطاب کا آغاز کیا۔ انہوں نے آج کے اس موقع کونمایاں کیا جب ایوان کی کارروائی پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں شروع ہو گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ’’ہم ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرنے کے عزم اور ارادے کے ساتھ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی طرف گامزن ہو رہے ہیں۔‘‘

 

پارلیمنٹ کی عمارت اور سنٹرل ہال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس کی متاثر کن تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ابتدائی سالوں میں عمارت کا یہ حصہ ایک قسم کی لائبریری کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ انہوں نے یاد کیا  کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں آزادی کے وقت آئین نے شکل اختیار کی تھی اور اقتدار کی منتقلی ہوئی تھی۔ انہوں نے  یاد کیا کہ اس سینٹرل ہال میں ہندوستان کا قومی پرچم اور قومی ترانہ  کو اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 1952 کے بعد دنیا بھر سے تقریباً 41 سربراہان مملکت اور حکومتوں نے سنٹرل ہال میں ہندوستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کے مختلف صدور نے سنٹرل ہال سے 86 مرتبہ خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے گزشتہ سات دہائیوں میں تقریباً چار ہزار قانون منظور کئے ہیں۔ انہوں نے مشترکہ اجلاس کے طریقہ کار کے ذریعے منظور ہونے والے قوانین کے بارے میں بھی گفتگو کی اوراس سلسلے میں جہیز کی روک تھام کے ایکٹ، بینکنگ سروس کمیشن بل دہشت گردی سے لڑنے کے قوانین کا ذکر کیا۔ انہوں نے تین طلاق پر پابندی کے قانون کا بھی ذکر کیا۔ جناب مودی نے خواجہ سراؤں اور دیویانگوں کے لیے قوانین پر روشنی ڈالی۔

آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے میں عوامی نمائندوں کے تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بڑے فخر کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ ہمارے بزرگوں کے ذریعہ ہمیں فراہم کردہ آئین اب جموں و کشمیر میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ جناب مودی نے تبصرہ کیا  ’’آج جموں و کشمیر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اب یہاں کے لوگ مزید مواقع کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے‘‘۔

 

یوم آزادی 2023 کے دوران لال قلعہ سے اپنے خطاب کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اب صحیح وقت ہے اور یہ ایک نئے شعور کے ساتھ ہندوستان کے دوبارہ ابھرنے کو اجاگر کرتا ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا ، ’’بھارت توانائی سے بھرا ہوا ہے۔ انہوں نے  یہ بھی کہا کہ یہ جدید شعور ہر شہری کو لگن اور محنت کے ساتھ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے قابل بنائے گا۔ وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان کو یقینی طور پر منتخب کردہ راستے پر چلنے کا انعام ملے گا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، تیز ترقی کی شرح کے ساتھ تیز تر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے اوپر کی پانچ معیشتوں میں ہندوستان کی شمولیت  کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا اور ہندوستان کو سب سے اوپر کی تین معیشتوں میں شامل ہونے کا مکمل یقین ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے بینکنگ سیکٹر کی مضبوطی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہندوستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، یو پی آئی اور ڈیجیٹل اسٹیکس کے لیے دنیا کی دلچسپی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی دنیا کے لیے حیران کن،پر کشش اور قبولیت کا معاملہ ہے۔

وزیر اعظم نے موجودہ دور کی اہمیت کو اجاگر کیا جب ہندوستانی امنگیں ہزار سالوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جس کی خواہشات کو ہزار سالوں سے جکڑ کر رکھا گیا تھا ، اب انتظار کرنے کو تیار نہیں ہے وہ خواہشات کے ساتھ آگے بڑھنا اور نئے اہداف طے کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی امنگوں کے درمیان نئے قوانین بنانا اور فرسودہ قوانین سے جان چھڑانا ارکان پارلیمنٹ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ہر شہری کی توقع ہے اور ہر ارکان پارلیمنٹ کا یقین ہے کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ تمام قوانین، مباحثے اور پیغامات ہندوستانی امنگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ ’’پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی ہر اصلاح کے لیے ہندوستانی امنگوں کی جڑوں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔‘‘

وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا چھوٹے کینوس پر بڑی پینٹنگ بنائی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اپنی سوچ کے کینوس کو وسیع کیے بغیر ہم اپنے خوابوں کا عظیم ہندوستان نہیں بنا سکتے۔ ہندوستان کے عظیم ورثے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہماری سوچ اس عظیم وراثت سے جڑ جائے تو ہم اس عظیم ہندوستان کی تصویر بنا سکتے  ہیں۔ ، جناب مودی نے کہا   کہ ’’ہندوستان کو ایک بڑے کینوس پر کام کرنا ہوگا۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں الجھنے کا وقت گزر گیا ہے‘‘۔

انہوں نے آتم نربھر بھارت کی تشکیل کی اولین اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی خدشے کو ٹالتے ہوئے دنیا ہندوستان کے آتم نربھر ماڈل کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاع، مینوفیکچرنگ، توانائی اور خوردنی تیل کے شعبے میں کون خود انحصار نہیں ہونا چاہے گا اور اس  کے حصول میں پارٹی سیاست کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔

 

مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے ہندوستان کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے ’زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ‘ کے ماڈل پر روشنی ڈالی، جہاں ہندوستانی مصنوعات کو کسی بھی قسم کی خرابی سے پاک ہونا چاہیے اور مینوفیکچرنگ کے عمل کا ماحول پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زرعی، ڈیزائنر، سافٹ ویئر، دستکاری وغیرہ جیسی مصنوعات کے لیے ہندوستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں نئے عالمی معیارات قائم کرنے کے مقصد  سے آگے بڑھنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا  ’’ ہرکسی کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ہماری مصنوعات نہ صرف ہمارے گاؤں میں بہترین ہوں گی، بلکہ شہر، اضلاع اور ریاستوں  بلکہ دنیا میں سب سے بہترین ہوں۔‘‘

وزیر اعظم نے نئی تعلیمی پالیسی کے کھلے پن کا ذکر کیا اور کہا کہ اسے عالمی سطح پر قبول کیا گیا ہے۔ قدیم نالندہ یونیورسٹی کی تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے جسے جی20 سمٹ کے دوران نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، وزیر اعظم نے بتایا کہ غیر ملکی معززین کے لیے یہ سمجھنا ناقابل یقین بات ہے کہ یہ ادارہ 1500 سال پہلے ہندوستان میں کام کرتا تھا۔ جناب مودی نے مزید کہا، ’’ہمیں اس سے تحریک حاصل کرنی چاہیے اور موجودہ دور میں اپنے اہداف کو حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔‘‘

ملک کے نوجوانوں کی طرف سے کھیلوں کی بڑھتی ہوئی کامیابی کو چھوتے ہوئے، وزیر اعظم نے درجے کے 2 اور درجے کے 3 شہروں میں کھیلوں کے ماحول کے عروج کا ذکرکیا۔ جناب مودی نے کہا  ’’یہ قوم کا عہد ہونا چاہئے کہ ہر کھیل کے پوڈیم پر ہمارا ترنگا ہونا چاہئے‘‘۔انہوں نے عام شہریوں کے معیار زندگی کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے معیار پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے نوجوان آبادی والے ملک ہونے کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا اور کہا کہ ہم ایک ایسا منظر نامہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ہندوستان کے نوجوان ہمیشہ سب سے آگے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی سطح پر مہارت کی ضروریات کی نقشہ سازی کے بعد نوجوانوں میں ہنرمندی کی ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے 150 نرسنگ کالج کھولنے کے حالیہ اقدام کا ذکر کیا جو ہندوستان کے نوجوانوں کو صحت کے پیشہ ور افراد کی عالمی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تیار کرے گا۔

درست وقت پر درست فیصلے لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’’فیصلہ سازی میں تاخیر نہیں کی جا سکتی‘‘ اور اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی نمائندے سیاسی فائدے یا نقصان کے پابند نہیں ہوسکتے۔ ملک کے شمسی توانائی کے شعبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ یہ اب ملک کے توانائی کے بحران سے بچنے کی ضمانت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مشن ہائیڈروجن، سیمی کنڈکٹر مشن اور جل جیون مشن پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ ایک بہتر مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ ہندوستانی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ تک رسائی اور مسابقتی رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے لاگت کو کم کرنے اور اسے ہر شہری کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے ملک کے لاجسٹک سیکٹر کو ترقی دینے پر زور دیا۔ علم اور اختراع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے تحقیق اور اختراع سے متعلق قانون کا ذکر کیا جو حال ہی میں منظور کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چندریان کی کامیابی سے پیدا ہونے والی رفتار اور کشش کو ضائع نہیں کیا جانا چاہئے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ ’’سماجی انصاف ہماری بنیادی شرط ہے‘‘ اور کہا کہ سماجی انصاف پر بحث بہت محدود ہوچکی ہے اور اس پر جامع نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف میں محروم طبقات کو کنیکٹیویٹی، صاف پانی، بجلی، طبی علاج اور دیگر بنیادی سہولیات سے بااختیار بنانا شامل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترقی میں عدم توازن سماجی انصاف کے بھی خلاف ہے اور ملک کے مشرقی حصے کی پسماندگی کا ذکر کیا۔  جناب مودی نے کہا ’’اپنے مشرقی حصے کو مضبوط کرکے ہمیں وہاں سماجی انصاف کی طاقت فراہم کرنی ہوگی‘‘۔ انہوں نے خواہش مند اضلاع کی اسکیم کا ذکر کیا جس نے متوازن ترقی کو آگے بڑھایا ہے۔ اس اسکیم کو 500 بلاکوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔

 

وزیر اعظم نے تبصرہ کیا کہ ’’ پوری دنیا ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے‘‘ اور کہا کہ  سرد جنگ کے دور میں ہندوستان کو غیر جانبدار ملک سمجھا جاتا تھا لیکن آج ہندوستان کو 'وشوا مترا' کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں ہندوستان دوستانہ تعلقات کے لیے دیگر ممالک تک پہنچ رہا ہے۔ تعلقات جبکہ وہ ہندوستان میں ایک دوست کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایسی خارجہ پالیسی کا فائدہ اٹھا رہا ہے کیونکہ  ملک ، دنیا کے لیے ایک مستحکم سپلائی چین کے طور پر ابھرا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ جی20 چوٹی کانفرنس عالمی جنوب کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آنے والی نسلیں اس اہم کامیابی پر بے حد فخر محسوس کریں گی۔ جناب مودی نے مزید کہا ’’جی 20 سربراہی اجلاس کے ذریعے لگائے گئے بیج دنیا کے لیے اعتماد کے ایک بڑے برگد کے درخت میں تبدیل ہو جائیں گے‘‘ ۔ وزیر اعظم نے بائیو فیول الائنس کا ذکر کیا جسے جی 20 سربراہی اجلاس میں باقاعدہ شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی قیادت میں عالمی سطح پر بائیو فیول کی ایک بہت بڑی تحریک چل رہی ہے۔

وزیراعظم نے نائب صدرجمہوریہ اور اسپیکر سے درخواست کی کہ موجودہ عمارت کی شان و شوکت کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے اور اسے پرانی پارلیمنٹ کی عمارت کا درجہ نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمارت کو ’سمودھان سدن‘ کہا جائے گا۔ وزیراعظم نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کہ ’’ سمودھان سدن کے طور پر، پرانی عمارت ہماری رہنمائی کرتی رہے گی اور ہمیں ان عظیم شخصیات کے بارے میں یاد دلاتی رہے گی جو آئین ساز اسمبلی کا حصہ تھیں‘‘۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore

Media Coverage

GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit: PM Modi
March 02, 2024
Dedicates to nation and lays foundation stone for multiple oil and gas projects worth about Rs 1.48 lakh crore
Dedicates to nation and lays foundation stone for several development projects in Bihar worth more than Rs 13,400 crores
Inaugurates Hindustan Urvarak & Rasayan Ltd (HURL) fertilizer plant in Barauni
Inaugurates and lays foundation stone for several railway projects worth about Rs 3917 crores
Dedicates to nation ‘Bharat Pashudhan’ - a digital database for livestock animals in the country
Launches ‘1962 Farmers App’
“Bihar is full of enthusiasm and confidence due to power of double engine government”
“If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit”
“History is proof that India has remained empowered when Bihar and Eastern India have been prosperous”
“True social justice is achieved by ‘santushtikaran’, not ‘tushtikaran’. True social justice is achieved by saturation”
“Bihar is bound to be Viksit with the double efforts of the double-engine government”

बिहार के राज्यपाल श्रीमान राजेंद्र अर्लेकर जी, मुख्यमंत्री श्रीमान नीतीश कुमार जी, मंत्रिमंडल के मेरे सहयोगी गिरिराज सिंह जी, हरदीप सिंह पुरी जी, उपमुख्यमंत्री विजय सिन्हा जी, सम्राट चौधरी जी, मंच पर विराजमान अन्य सभी महानुभाव और बेगुसराय से पधारे हुए उत्साही मेरे प्यारे भाइयों और बहनों।

जयमंगला गढ़ मंदिर और नौलखा मंदिर में विराजमान देवी-देवताओं को मैं प्रणाम करता हूं। मैं आज विकसित भारत के लिए विकसित बिहार के निर्माण के संकल्प के साथ बेगुसराय आया हूं। ये मेरा सौभाग्य है कि इतनी विशाल संख्या में आप जनता-जनार्दन, आपके दर्शन करने का मुझे सौभाग्य मिला है।

साथियों,

बेगूसराय की ये धरती प्रतिभावान युवाओं की धरती है। इस धरती ने हमेशा देश के किसान और देश के मज़दूर, दोनों को मजबूत किया है। आज इस धरती का पुराना गौरव फिर लौट रहा है। आज यहां से बिहार सहित, पूरे देश के लिए 1 लाख 60 हज़ार करोड़ रुपए उससे भी अधिक के प्रोजेक्ट्स का शिलान्यास और लोकार्पण हुआ है, डेढ़ लाख करोड़ से भी ज्यादा। पहले ऐसे कार्यक्रम दिल्ली के विज्ञान भवन में होते थे, लेकिन आज मोदी दिल्ली को बेगुसराय ले आया है। और इन योजनाओं में करीब-करीब 30 हज़ार करोड़ रुपए के प्रोजेक्ट्स सिर्फ और सिर्फ ये मेरे बिहार के हैं। एक ही कार्यक्रम में सरकार का इतना बड़ा निवेश ये दिखाता है कि भारत का सामर्थ्य कितना बढ़ रहा है। इससे बिहार के नौजवानों को यहीं पर नौकरी के, रोजगार के अनेकों नए अवसर बनेंगे। आज के ये प्रोजेक्ट, भारत को दुनिया की तीसरी बड़ी आर्थिक महाशक्ति बनाने का माध्यम बनेंगे। आप रूकिए भैया बहुत हो गया आपका प्यार मुझे मंजूर है, आप रूकिए, आप बैठिए, आप चेयर पर से नीचे आ जाइए, प्लीज, मेरी आपसे प्रार्थना है, आप बैठिए...हां। आप बैठ जाइए, वो कुर्सी पर बैठ जाइए आराम से, थक जाएंगे। आज की ये परियोजनाएं, बिहार में सुविधा और समृद्धि का रास्ता बनाएंगी। आज बिहार को नई ट्रेन सेवाएं मिली हैं। ऐसे ही काम है, जिसके कारण आज देश पूरे विश्वास से कह रहा है, बच्चा-बच्चा कह रहा है, गांव भी कह रहा है, शहर भी कह रहा है- अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार! NDA सरकार...400 पार!

साथियों,

2014 में जब आपने NDA को सेवा का अवसर दिया, तब मैं कहता था कि पूर्वी भारत का तेज़ विकास ये हमारी प्राथमिकता है। इतिहास गवाह रहा है, जब-जब बिहार और ये पूर्वी भारत, समृद्ध रहा है, तब-तब भारत भी सशक्त रहा है। जब बिहार में स्थितियां खराब हुईं, तो देश पर भी इसका बहुत बुरा असर बड़ा। इसलिए मैं बेगुसराय से पूरे बिहार की जनता को कहता हूं- बिहार विकसित होगा, तो देश भी विकसित होगा। बिहार के मेरे भाई-बहन, आप मुझे बहुत अच्छी तरह जानते हैं, और जब आपके बीच आया हूं तो मैं दोहराना चाहता हूं- ये वादा नहीं है- ये संकल्प है, ये मिशन है। आज जो ये प्रोजेक्ट बिहार को मिले हैं, देश को मिले हैं, वो इसी दिशा में बहुत बड़ा कदम हैं। इनमें से अधिकतर पेट्रोलियम से जुड़े हैं, फर्टिलाइज़र से जुड़े हैं, रेलवे से जुड़े हैं। ऊर्जा, उर्वरक और कनेक्टिविटी, यही तो विकास का आधार हैं। खेती हो या फिर उद्योग, सब कुछ इन्हीं पर निर्भर करता है। और जब इन पर तेजी से काम चलता है, तब स्वाभाविक है रोजगार के अवसर भी बढ़ते हैं, रोजगार भी मिलता है। आप याद कीजिए, बरौनी का जो खाद कारखाना बंद पड़ चुका था, मैंने उसे फिर से चालू करने की गारंटी दी थी। आपके आशीर्वाद से मोदी ने वो गारंटी पूरी कर दी। ये बिहार सहित पूरे देश के किसानों के लिए बहुत बड़ा काम हुआ है। पुरानी सरकारों की बेरुखी के कारण, बरौनी, सिंदरी, गोरखपुर, रामागुंडम, वहां जो कारखाने थे, वो बंद पड़े थे, मशीन सड़ रहे थे। आज ये सारे कारखाने, यूरिया में भारत की आत्मनिर्भरता की शान बन रहे हैं। इसलिए तो देश कहता है- मोदी की गारंटी यानि गारंटी पूरा होने की गारंटी। मोदी की गारंटी यानि गारंटी जे पूरा होय छय !

साथियों,

आज बरौनी रिफाइनरी की क्षमता के विस्तार का काम शुरु हो रहा है। इसके निर्माण के दौरान ही, हजारों श्रमिकों को महीनों तक लगातार रोजगार मिला। ये रिफाइनरी, बिहार में औद्योगिक विकास को नई ऊर्जा देगी और भारत को आत्मनिर्भर बनाने में मदद करेगी। मुझे आपको ये बताते हुए खुशी है कि बीते 10 साल में पेट्रोलियम और प्राकृतिक गैस से जुड़े 65 हज़ार करोड़ रुपए से अधिक के प्रोजेक्ट्स बिहार को मिले हैं, जिनमें से अनेक पूरे भी हो चुके हैं। बिहार के कोने-कोने में जो गैस पाइपलाइन का नेटवर्क पहुंच रहा है, इससे बहनों को सस्ती गैस देने में मदद मिल रही है। इससे यहां उद्योग लगाना आसान हो रहा है।

साथियों,

आज हम यहां आत्मनिर्भर भारत से जुड़े एक और ऐतिहासिक पल के साक्षी बने हैं। कर्नाटक में केजी बेसिन के तेल कुओं से तेल का उत्पादन शुरु हो चुका है। इससे विदेशों से कच्चे तेल के आयात पर हमारी निर्भरता कम होगी।

साथियों,

राष्ट्रहित और जनहित के लिए समर्पित मजबूत सरकार ऐसे ही फैसले लेती है। जब परिवारहित और वोटबैंक से बंधी सरकारें होती हैं, तो वो क्या करती हैं, ये बिहार ने बहुत भुगता है। अगर 2005 से पहले के हालात होते तो बिहार में हज़ारों करोड़ की ऐसी परियोजनाओं के बारे में घोषणा करने से पहले सौ बार सोचना पड़ता। सड़क, बिजली, पानी, रेलवे की क्या स्थिति थी, ये मुझसे ज्यादा आप जानते हैं। 2014 से पहले के 10 वर्षों में रेलवे के नाम पर, रेल के संसाधनों को कैसे लूटा गया, ये पूरा बिहार जानता है। लेकिन आज देखिए, पूरी दुनिया में भारतीय रेल के आधुनिकीकरण की चर्चा हो रही है। भारतीय रेल का तेज़ी से बिजलीकरण हो रहा है। हमारे रेलवे स्टेशन भी एयरपोर्ट की तरह सुविधाओँ वाले बन रहे हैं।

साथियों,

बिहार ने दशकों तक परिवारवाद का नुकसान देखा है, परिवारवाद का दंश सहा है। परिवारवाद और सामाजिक न्याय, ये एक दूसरे के घोर विरोधी हैं। परिवारवाद, विशेष रूप से नौजवानों का, प्रतिभा का, सबसे बड़ा दुश्मन है। यही बिहार है, जिसके पास भारत रत्न कर्पूरी ठाकुर जी की एक समृद्ध विरासत है। नीतीश जी के नेतृत्व में NDA सरकार, यहां इसी विरासत को आगे बढ़ा रही है। वहीं दूसरी तरफ RJD-कांग्रेस की घोर परिवारवादी कुरीति है। RJD-कांग्रेस के लोग, अपने परिवारवाद और भ्रष्टाचार को उचित ठहराने के लिए, दलित, वंचित, पिछड़ों को ढाल बनाते हैं। ये सामाजिक न्याय नहीं, बल्कि समाज के साथ विश्वासघात है। ये सामाजिक न्याय नय, समाज क साथ विश्वासघात छय। वरना क्या कारण है कि सिर्फ एक ही परिवार का सशक्तिकरण हुआ। और समाज के बाकी परिवार पीछे रह गए? किस तरह यहां एक परिवार के लिए, युवाओं को नौकरी के नाम पर उनकी जमीनों पर कब्जा किया गया, ये भी देश ने देखा है।

साथियों,

सच्चा सामाजिक न्याय सैचुरेशन से आता है। सच्चा सामाजिक न्याय, तुष्टिकरण से नहीं संतुष्टिकरण से आता है। मोदी ऐसे ही सामाजिक न्याय, ऐसे ही सेकुलरिज्म को मानता है। जब मुफ्त राशन हर लाभार्थी तक पहुंचता है, जब हर गरीब लाभार्थी को पक्का घर मिलता है, जब हर बहन को गैस, पानी का नल, घर में टॉयलेट मिलता है, जब गरीब से गरीब को भी अच्छा और मुफ्त इलाज मिलता है, जब हर किसान लाभार्थी के बैंक खाते में सम्मान निधि आती है, तब सैचुरेशन होता है। और यही सच्चा, सामाजिक न्याय है। बीते 10 वर्षों में मोदी की ये गारंटी, जिन-जिन परिवारों तक पहुंची हैं, उनमें से सबसे अधिक दलित, पिछड़े, अतिपिछड़े वही मेरे परिवार ही हैं।

साथियों,

हमारे लिए सामाजिक न्याय, नारीशक्ति को ताकत देने का है। बीते 10 सालों में 1 करोड़ बहनों को, मेरी माताएं-बहनें इतनी बड़ी तादाद में आशीर्वाद देने आई हैं, उसका कारण है। 1 करोड़ बहनों को हम लखपति दीदी बना चुके हैं। मुझे खुशी है इसमें बिहार की भी लाखों बहनें हैं, जो अब लखपति दीदी बन चुकी हैं। और अब मोदी ने 3 करोड़ बहनों को, आंकड़ा सुनिए जरा याद रखना 3 करोड़ बहनों को लखपति दीदी बनाने की गारंटी दी है। हाल में हमने बिजली का बिल जीरो करने और बिजली से कमाई करने की भी योजना शुरु की है। पीएम सूर्यघर- मुफ्त बिजली योजना। इससे बिहार के भी अनेक परिवारों को फायदा होने वाला है। बिहार की NDA सरकार भी बिहार के युवा, किसान, कामगार, महिला, सबके लिए निरंतर काम कर रही है। डबल इंजन के डबल प्रयासों से बिहार, विकसित होकर रहेगा। आज इतना बड़ा विकास का उत्सव हम मना रहे हैं, और आप इतनी बड़ी तादाद में विकास के रास्ते को मजबूत कर रहे हैं, मैं आपका आभारी हूं। एक बार फिर आप सभी को विकास की, हजारों करोड़ की इन परियोजनाओं के लिए मैं बहुत-बहुत बधाई देता हूं। इतनी बड़ी तादाद में माताएं-बहनें आई हैं, उनको विशेष रूप से प्रणाम करता हूं। मेरे साथ बोलिए-

भारत माता की जय !

दोनों हाथ ऊपर करके पूरी ताकत से बोलिए-

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

बहुत-बहुत धन्यवाद।