Share
 
Comments
وزیر اعظم نے پنچایتی راج کےقومی دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے جموں و کشمیر کا دورہ کیا
سانبا ضلع کی پلّی پنچایت سے ملک بھر کی تمام گرام سبھا ؤں سے خطاب
بیس ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی اقدامات کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا
بانہال قاضی گنڈ روڈ ٹنل کا افتتاح کیا جس سے جموں و کشمیر کے علاقوں کو قریب لانے میں مدد ملے گی
دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے اور رتلے اور کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹوں کے تین روڈ پیکجوں کا سنگ بنیاد رکھا
امرت سروور کا آغاز کیا – ایک ایسی پہل جس کا مقصد ملک کے ہر ضلع میں 75 آبی ذخائر کو ترقی دینا اور ان کی تجدید ہے
’’جمہوریت ہو یا ترقی کا عزم، آج جموں و کشمیر ایک نئی مثال پیش کر رہا ہے۔ گزشتہ3-2 سالوں میں جموں و کشمیر میں ترقی کی نئی جہتیں پیدا ہوئی ہیں
جن لوگوں کو جموں و کشمیر میں برسوں سے ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملا تھا وہ بھی اب ریزرویشن کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں
"فاصلے چاہے دلوں کے ہوں، زبانوں کے ہوں، رسم و رواج کے ہوں یا وسائل کے ہوں، ان کا خاتمہ آج ہماری اولین ترجیح ہے"
’’آزادی کا یہ' امرت کال' ہندوستان کا سنہری دور ہونے والا ہے‘‘
"وادی کے نوجوانوں کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جن کا ان کے والدین اور دادا دادی کو سامنا کرنا پڑا"
’’اگر ہمارے گاؤں قدرتی کھیتی کی طرف بڑھیں تو پوری انسانیت کو فائدہ پہنچے گا‘‘
گرام پنچایتیں 'سب کا پرایاس' کی مدد سے غذائی قلت سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کریں گی

نئی دہلی۔ 24 اپریل         وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج پنچایتی راج کے قومی دن کی تقریب میں شرکت کے لیے جموں و کشمیر کا دورہ کیا اور ملک بھر کی تمام گرام سبھا ؤں سے خطاب کیا۔ انہوں نے سانبا ضلع میں پلّی پنچایت کا  بھی ورہ کیا۔ وزیر اعظم نے تقریباً 20,000 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی منصوبے کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے 'امرت سروور 'پہل  کا بھی آغاز کیا۔ جموں و کشمیر  کےلیفٹیننٹ گورنر، جناب منوج سنہا، مرکزی وزراء جناب گری راج سنگھ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور جناب کپل موریشور پاٹل اس موقع پر موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج جموں و کشمیر کی ترقی کے سفر میں ایک تاریخی دن ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے جوش و خروش پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کی وجہ سے، اسے در پیش مسائل کو سمجھتے ہیں اور آج جن پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا اور سنگ بنیاد رکھا گیا، ان  میں کنیکٹیویٹی پر توجہ مرکوز کرنے پر خوشی کا اظہار کیا ۔ "کنیکٹیویٹی اور بجلی سے متعلق 20 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کی ترقی کو ایک نئی تحریک دینے کے لیے، کام تیز رفتاری سے جاری ہےانہوں نے کہاکہ ان کوششوں سے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو روزگار فراہم ہوں گے۔ آج بہت سے خاندانوں کو گاؤں  میں اپنے مکانات کے پراپرٹی کارڈ بھی مل گئے ہیں۔ یہ ملکیت کے کارڈ گاؤں میں نئے امکانات پیدا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 100 جن اوشدھی کیندر جموں و کشمیر کے غریب اور متوسط ​​طبقے کے خاندانوں کو سستی دوائیں اور جراحی کی اشیاء فراہم کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔  وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ مرکزی حکومت کی تمام اسکیمیں جموں و کشمیر میں نافذ کی جارہی ہیں اور لوگ ان سے مستفید ہورہے ہیں۔ گاؤں کے لوگ ایل پی جی، بیت الخلا، بجلی، زمین کے حقوق اور پانی کے کنکشن کی اسکیموں سے سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔ ڈائس پر پہنچنے سے قبل وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے وفود سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی کی ایک نئی کہانی لکھی جا رہی ہے اور بہت سے نجی سرمایہ کار جموں و کشمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آزادی کی 7 دہائیوں تک جموں و کشمیر میں صرف 17 ہزار کروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری ہو سکی۔ لیکن اب یہ تقریباً 38,000 کروڑ روپے تک پہنچ رہی ہے۔ وزیر اعظم نےبتایا کہ سیاحت بھی ایک بار پھر پروان چڑھ رہی ہے۔

وزیر اعظم نے جموں و کشمیر میں کام کرنے کے بدلے ہوئے نظام کو اجاگر کیا،تین ہفتوں میں نصب کیے جا رہے  500 کلو واٹ کے سولر پلانٹ کی مثال دیتے ہوئے  کہا کہ پہلے دہلی سے فائل کی نقل و حرکت میں بھی 3-2ہفتے لگتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پلّی پنچایت کے تمام گھروں کو شمسی توانائی مل رہی ہے جو گرام ارجا سوراج کی ایک بہترین مثال ہے اور کام کرنے کا بدلا ہوا طریقہ جموں و کشمیر کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ وزیر اعظم نے جموں کے نوجوانوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ دوستو، میری باتوں پر یقین کرو، وادی کے نوجوان میری باتوں کو نشان زد کرلیں، آپ کے والدین اور دادا دادی کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، آپ کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اسے میں پورا کروں گا اور میں آپ کو اس بات کا یقین دلانے آیا ہوں۔"

جناب مودی نے بین الاقوامی ماحولیاتی اور آب و ہوا کی تبدیلی کے پلیٹ فارم پر ہندوستان کی قیادت کا حوالہ دیا اور اس پیش رفت پر فخر کا اظہار کیا جو پلی پنچایت پہلی کاربن نیوٹرل پنچایت بننے کی طرف گامزن ہے۔ "پلّی پنچایت ملک کی پہلی کاربن نیوٹرل پنچایت بننے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آج مجھے پلی گاؤں میں ملک کے گاؤں کے عوامی نمائندوں سے بات چیت کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو اس بڑی کامیابی اور ترقیاتی کاموں کے لیے بہت بہت مبارکباد۔

وزیر اعظم نے کہا کہ "جموں و کشمیر میں پنچایتی راج کےقومی دن کا جشن ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔" جناب مودی نے اس بات پر گہرے اطمینان اور فخر کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت نے نچلی سطح تک رسائی حاصل کی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دے کر کہا  "جمہوریت ہو یا ترقی کا عزم، آج جموں و کشمیر ایک نئی مثال پیش کر رہا ہے۔ گزشتہ 3-2 سالوں میں جموں و کشمیر میں ترقی کی نئی جہتیں پیدا ہوئی ہیں۔" جموں و کشمیر میں پہلی بار تین زمرے  پنچایتی راج نظام- گرام پنچایت، پنچایت سمیتی اور ڈی ڈی سی کے انتخابات ہوئے ہیں۔

ملک کی ترقی کے سفر میں جموں و کشمیر کو شامل کرنے کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 175 سے زیادہ مرکزی قوانین لاگو ہو چکے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ علاقے کی خواتین، غریب اور محروم طبقہ کو ہوا ہے۔ انہوں نے ریزرویشن کی شقوں میں بے ضابطگیوں کو دور کرنے کی بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ والمیکی سماج کو کئی دہائیوں سے پیروں میں ڈالی گئی بیڑیوں سے آزاد کرایا گیا ہے۔ آج ہر سماج کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے خواب پورا کرنے کے قابل ہیں، جن لوگوں کو جموں و کشمیر میں برسوں سے ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملا، وہ بھی اب ریزرویشن کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔

'یک بھارت شریشٹھ بھارت' کے اپنے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ یہ وژن رابطے اور فاصلوں کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "فاصلے چاہے دلوں کے ہوں، زبان کے ہوں، رسم و رواج کے ہوں یا وسائل کے ہوں، ان کا خاتمہ آج ہماری اولین ترجیح ہے۔"

وزیر اعظم نے ملک کی ترقی میں پنچایتوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "آزادی کا یہ 'امرت کال' ہندوستان کا سنہری دور ثابت ہونے والا ہے۔ اس عزم کو 'سب کا پریاس'  پورا کرنے جا رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس میں گرام پنچایت کا کردار ، جمہوریت کی سب سے نچلی سطح کی اکائی اور آپ تمام لوگ بہت اہم ہے۔ وزیر اعظم نےزور دے کر کہا کہ یہ حکومت کی کوشش ہے کہ پنچایت کے کردار کو گاؤں کی ترقی سے متعلق منصوبہ بندی اور ہر منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی لانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسی کے ساتھ، پنچایت قومی قراردادوں کے حصول میں ایک اہم کڑی کے طور پر ابھرے گی۔"  وزیر اعظم نے کہا کہ 15 اگست 2023 تک ہر ضلع میں 75 سروور بن جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان سرووروں کو شہداء اور مجاہدین آزادی کے ناموں سے منسوب درختوں سےآراستہ  کیا جائےگا۔ جناب مودی نے شفافیت اور گرام پنچایتوں کو بااختیار بنانے پر زور دیا۔ ای گرام سوراج جیسے اقدامات منصوبہ بندی سے ادائیگی تک کے عمل کو جوڑ رہے ہیں۔ پنچایتوں کا آن لائن آڈٹ کیا جائے گا اور تمام گرام سبھا ؤں کے لیے شہری چارٹر کا ایک نظام ان گرام  سبھاؤں کو بہت سی ذمہ داریاں لینے کی ترغیب دے رہا ہے۔ انہوں نے ان اداروں اور دیہی نظم و نسق خصوصاً پانی کی حکمرانی میں خواتین کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔

قدرتی کھیتی کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ماں دھرتی کو کیمیائی مادوں سے پاک کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ زمین اور زیر زمین پانی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے گاؤں قدرتی کھیتی کی طرف بڑھیں گے تو اس سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے یہ دریافت کرنے کو کہا کہ کس طرح گرام پنچایتوں کی سطح پر قدرتی کھیتی کو فروغ دیا جا سکتا ہے، اس کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح گرام پنچایتیں 'سب کا پریاس' کی مدد سے غذائی قلت سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ "زمین پر موجود لوگوں کو مرکزی حکومت کے ذریعہ  ملک کو غذائی قلت اور خون کی کمی سے بچانے کے لیے کی گئی پہل کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اب سرکاری اسکیموں کے تحت دیئے جانے والے چاول کو مستحکم  کیا جا رہا ہے۔

اگست 2019 میں جموں و کشمیر کے حوالے سے آئینی اصلاحات متعارف کرائے جانے کے بعد سے، حکومت کی توجہ وسیع پیمانے پر اصلاحات کرنے پر مرکوز ہے تاکہ نظم و نسق میں خاطر خواہ بہتری لائی جا سکے اور خطے کے لوگوں کے لیے زندگی کی آسانی کو بے مثال رفتار سے بڑھایا جا سکے۔ جن منصوبوں کا افتتاح کیا گیا اور جن کا سنگ بنیاد رکھا گیا وہ بنیادی سہولیات کی فراہمی، نقل و حمل  کی آسانی کو یقینی بنانے اور خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو یقینی بنانے میں بہت اہم ثابت ہوں گے۔

وزیر اعظم نے 3100 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کردہ بانہال قاضی گنڈ روڈ ٹنل کا افتتاح کیا۔ 8.45 کلومیٹر لمبی سرنگ بانہال اور قاضی گنڈ کے درمیان سڑک کی دوری کو 16 کلومیٹر کم کر دے گی، اور سفر کے وقت میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی کمی کرے گی۔ یہ ایک جڑواں ٹیوب سرنگ – سفر کی ہر سمت کے لیے ایک – ہے جس میں دیکھ بھال اور ہنگامی انخلاء کے لیے یہ جڑواں ٹیوب ہر 500 میٹر کے ایک کراس راستے کے ذریعہ آپس میں منسلک ہوجاتی ہیں۔ یہ سرنگ جموں اور کشمیر کے درمیان  ہر موسم میں رابطہ قائم کرنے اور دونوں خطوں کو قریب لانے میں مدد دے گی۔

وزیر اعظم نے دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے کے تین سڑک پیکجوں کا سنگ بنیاد رکھا، جو  7500 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔یہ  این ایچ – 44 پرواقع  بلسوا سے گورہ بیلدارن، ہیرا نگرتک ؛ گڑہ بیلداران، ہیرا نگر سے جکھ، وجے پورتک ؛ اور جکھ، وجئے پور سے کنجوانی، جموں تک جموں ہوائی اڈے کی کنکٹیویٹی  کے  ساتھ 4/6 لین تک کے کنٹرول والے دہلی-کٹرا-امرتسر ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے ہیں ۔

وزیراعظم نے رتلے اور کوار ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ 850 میگاواٹ کا رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کشتواڑ ضلع میں دریائے چناب پر تقریباً 5300 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ 540 میگاواٹ کا کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بھی ضلع کشتواڑ میں دریائے چناب پر 4500 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ دونوں منصوبے خطے کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

جموں و کشمیر میں جن اوشدھی کیندروں کے نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے اور سستی قیمتوں پر اچھے معیار کی جنرک ادویات دستیاب کرانے کے لیے، وزیر اعظم نے 100 کیندروں کو فعال اور قوم کے لیے وقف کیا ہے۔ یہ کیندر مرکز کے زیر انتظام خطوں کے دور دراز علاقوں میں واقع ہیں۔ وہ کاربن نیوٹرل بننے والی ملک کی پہلی پنچایت بننے جا رہی پلّی میں 500 کلو واٹ کے سولر پاور پلانٹ کا بھی افتتاح کریں گے۔

وزیر اعظم نے مستفیدین کے مابین سوامتو کارڈ سونپے ۔ انہوں نے ایوارڈ کی رقم ان پنچایتوں کو بھی منتقل کی جو ان کی کامیابیوں کے لیے پنچایتی راج کے قومی دن کے موقع پر مختلف زمروں میں دیے گئے ایوارڈز کے فاتح ہیں۔ وزیر اعظم نے ان ٹیک فوٹو گیلری کا بھی دورہ کیا جس میں خطے کے دیہی ورثے کی تصویر کشی کی گئی ہے، اور ، ایک دیہی انٹرپرینیورشپ پر مبنی ماڈل نوکیا اسمارٹ پور  بھی شامل ہے جسے ہندوستان میں مثالی اسمارٹ گاؤں بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

آبی ذخائر کی بحالی کو یقینی بنانے کے مقصد سے ، وزیر اعظم نے امرت سروور کے نام سے ایک نئی پہل بھی شروع کی۔ اس کا مقصد' آزادی کا امرت مہوتسو 'کے جشن کے تحت ملک کے ہر ضلع میں 75 آبی ذخائر کی ترقی اور ان کی تجدید ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Share your ideas and suggestions for 'Mann Ki Baat' now!
Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
India's support to poor during Covid-19 remarkable, says WB President

Media Coverage

India's support to poor during Covid-19 remarkable, says WB President
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Social Media Corner 6th October 2022
October 06, 2022
Share
 
Comments

India exports 109.8 lakh tonnes of sugar in 2021-22, becomes world’s 2nd largest exporter

Big strides taken by Modi Govt to boost economic growth, gets appreciation from citizens