سب سے پہلے میں صدر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آج وہ خود ایئرپورٹ پر مجھے لینے کے لیے آئے تھے۔ بزنس لیڈر کے ساتھ اتنا بڑا راؤنڈ ٹیبل انہوں نے آرگنائز کیا، میں اس کے لیے بہت شکرگزار ہوں۔ انہوں نے میرے لیے اور ہماری ساجھے داری کے لیے جو مثبت خیالات رکھے ہیں، میں اس کے لیے بھی آپ کا تہہِ دل سے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ساتھیو!

23 سال کے بعد بھارت کے وزیر اعظم کا قبرص میں آنا ہوا ہے۔ اور سب سے پہلا پروگرام بزنس راؤنڈ ٹیبل کا ہو رہا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ بھارت اور قبرص کے تعلقات میں اقتصادی میدان سے جڑے لوگوں کا کتنی اہمیت ہے۔ آپ کے خیالات کو میں نے بہت غور سے سنا ہے۔ بھارت قبرص اقتصادی تعلقات کے لیے آپ کے پختہ عزم کو میں نے محسوس کیا ہے۔ آپ کے نظریات میں صرف امکان ہی نہیں، ہدف کو بھی میں محسوس کر رہا ہوں۔ یہ واضح ہے کہ ہمارے تعلقات میں آگے بڑھنے کے بے شمار امکانات ہیں۔

ساتھیو!

قبرص لمبے عرصے سے ہمارا بھروسے مند شراکت دار رہا ہے، جس کا آپ لوگوں نے بھی ذکر کیا۔ اور بھارت میں یہاں سے قابل ذکر سرمایہ کاری بھی ہوئی ہے۔ کئی بھارتیہ کمپنیوں نے بھی قبرص میں اور ایک طرح سے قبرص کو یوروپ کے گیٹ وے کے روپ میں ہی دیکھا ہے۔ آج باہمی تجارت 150 ملین ڈالر پہنچ گئی ہے۔ لیکن ہمارے رشتوں کی حقیقی صلاحیت اس سے بہت زیادہ ہے۔ آپ میں سے زیادہ تر لوگ بھارت سے جڑے ہوئے ہیں اور پچھلے 11 سال میں بھارت کے ترقی کے سفر کو بھی دیکھا ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں بھارت دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بنا اور مستقبل قریب میں ہم دنیا کی تیسری معیشت بننے کی سمت میں بہت تیز رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ آج دنیا میں بھارت بہت تیزی سے ترقی کرنے والی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں اس کا مقام ہے۔

 

ساتھیو!

آپ اچھی طرح جانتے ہیں، ہم نے ٹیکس اصلاحات کی ہیں۔ جی ایس ٹی کے ساتھ ایک ملک ایک ٹیکس پالیسی لائی گئی ہے، کارپوریٹ ٹیکس ریشنلائز کیا گیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں قانونوں میں ڈی کرمنلائزیشن کرنے کا کام ہم نے کیا ہے۔ ہم نے ایز آف ڈوئنگ بزنس کے ساتھ ساتھ ٹرسٹ آف ڈوئنگ بزنس، اس پر بھی اتنا ہی زوردیا ہے۔ آج بھارت میں واضح پالیسی ہے، اس کے ساتھ ساتھ مستحکم  نظام حکومت بھی ہے۔ چھ دہائی کے بعد ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی سرکار لگاتار تیسری بار چُن کر کے آئی ہے۔ بھارت کی ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ اور ٹیلنٹ سے آپ اچھی طرح واقف ہیں اور آپ کی بات چیت میں بھی اس کا ذکر ہوا ہے۔ پچھلے 10 سال میں ڈیجیٹل انقلاب آیا ہے، مالی شمولیت ایک مثال بنی ہے۔ یونفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس یعنی یوپی آئی کے وسیلے سے آج دنیا کا 50فیصد ڈیجیٹل ٹرانزیکشن بھارت میں ہوتا ہے۔ فرانس جیسے کئی ملک اس سے جڑے ہیں، قبرص کو بھی اس سے جڑنے کے لیے بات چل رہی ہے اور میں اس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ بھارت میں مستقبل پر مبنی بنیادی دھانچے کی ترقی میں ہم 100 بلین ڈالر سے زیادہ کی سالانہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس سال کے بجٹ میں ہم نے مینوفیکچرنگ مشن کی شروعات کی ہے۔ دنیا میں ویکسینز، جینیرک میڈیسنز اور میڈیکل ڈیوائسز کی مینوفیکچرنگ میں بھارت ورلڈ لیڈرز میں سے ایک ہے۔ میریٹائم اور بندرگاہوں کی ترقی پر ہماری توجہ ہے۔ ہم شپ بلڈنگ اور شپ بریکنگ کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کے لیے ایک نئی پالیسی بھی لائی جا رہی ہے۔ شہری ہوابازی کا شعبہ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ بھارتیہ کمپنیوں نے ہزار سے زیادہ طیارے، اس کا نیا آرڈر دیا ہے۔ جدت طرازی بھارت کی اقتصادی طاقت کا مضبوط ستون بنی ہے۔ ہمارے ایک لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپس صرف خواب نہیں حل بھیجتے ہیں۔ ان میں سے 100 یونی کارن بن چکے ہیں۔ بھارت اکنامی اور ایکالوجی کے توازن میں یقین کرتا ہے اور اس پر ہم عہد بند ہیں۔ ایک شفاف اور سبز مستقبل کا راستہ بن رہا ہے۔ 2030 تک ہم 500 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کے ہدف کی سمت میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ گرین شپنگ کی ترقی اور 2030 تک ریلوے کو 100فیصد کاربن نیوٹرل بنانے کی جانب تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اے آئی مشن، کوانٹم مشن، سیمی کنڈکٹر مشن، کرٹیکل منرل مشن، نیوکلیئر پاور مشن، ہمارے گروتھ انجن کے نئے انجن بن رہے ہیں۔ مجھے جان کر خوشی ہے کہ قبرص کی اسٹاک ایکسچینج اور این ایس ای نے میری آبائی ریاست گجرات میں گفٹ سٹی میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ قبرص ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔ بھارت میں بھی ہم ڈیسٹی نیشن ڈیولپمنٹ اور مینجمنٹ پر زور دے رہے ہیں۔ ہمارے ٹور آپریٹرز کے درمیان نزدیکی تعاون الگ الگ ہو سکتا ہے۔ ایسے کئی اور شعبے ہیں، جن میں آپسی تعاون کے لیے بہت ہی صلاحیت ہے۔

 

ساتھیو!

پچھلے مہینے بھارت اور برطانیہ کے درمیان ایک جرأت مندانہ ایف ٹی اے پر اتفاق ہوا ہے۔ اب ہم بھارت اور ای یو کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ کو اس سال کے اواخر  تک مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس کی بات چیت میں تیزی آئی ہے، اس کا فائدہ آپ سب ساتھیوں کو ضرورملے گا۔ میں بھارت قبرص اور  یونان بزنس اور انویسٹمنٹ کاؤنسل کے قیام کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ یہ ایک بہت اچھی پہل ہے اور اقتصادی تعاون کا اہم پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ فرینڈز آپ سبھی نے جو نظریات رکھے ہیں، جو مشورے دیے ہیں، ان کو میری ٹیم نے نوٹ کیا ہے، ہم ان پر ایکشن پلان بنا کر فالو اپ کریں گے۔ میں آپ کو بھارت آنے کی دعوت بھی دیتا ہوں۔ آخر میں میں ایک بار پھر صدر کا شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے اس میٹنگ کے لیے اپنا وقت نکالا۔ اس گول میز کا منصوبہ بند طریقےسے اہتمام کرنے کے لیے میں قبرص، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور انویسٹمنٹ قبرص کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
'Will Not Let Bengalis Become Minority': PM Modi Promises Speedy Implementation Of UCC In Bengal

Media Coverage

'Will Not Let Bengalis Become Minority': PM Modi Promises Speedy Implementation Of UCC In Bengal
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to address ‘Nari Shakti Vandan Sammelan’ on 13th April
April 12, 2026
Sammelan to witness participation of eminent personalities and women achievers from diverse fields
Sammelan to highlight the government’s commitment towards women-led development in the journey towards Viksit Bharat 2047
Sammelan underscores the importance of enhanced representation of women in decision-making processes

Prime Minister Shri Narendra Modi will attend a national level ‘Nari Shakti Vandan Sammelan’ on 13th April 2026 at Vigyan Bhawan, New Delhi at around 11 AM. He will also address the gathering on the occasion.

The programme will witness participation of eminent personalities and women achievers from diverse fields. It will bring together representatives from different sectors such as government, academia, science, sports, entrepreneurship, media, social work and culture.

In September 2023, Parliament passed the ‘Nari Shakti Vandan Adhiniyam’ marking a significant step towards enhancing women’s representation in legislative bodies. The Act provided for reservation of one-third of seats for women in Lok Sabha and State Legislative Assemblies. Now, with a focus on implementation of women’s reservation across the country, a Parliament session is being convened on 16th April.

The Sammelan is being organised to reinforce the commitment towards greater participation of women in shaping India’s development trajectory. It will also highlight the increasing role of women in governance and leadership across all levels, from Panchayats to Parliament. The programme will underscore the importance of enhanced representation of women in decision-making processes.

The Sammelan will highlight the role of women in the journey towards Viksit Bharat 2047. It will reflect the government’s continued commitment towards women-led development as a central pillar of the vision for Viksit Bharat 2047.