وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا

Published By : Admin | November 19, 2021 | 09:09 IST
Share
 
Comments
مقدس گورو پرب اور کرتارپور صاحب گلیارے کو دوبارہ کھولنے کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کی
’’میں آج آپ کو ، پورے ملک کو یہ بتانے کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ ہم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے جارہے پارلیمانی اجلاس کے دوران، ہم ان تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے آئینی عمل مکمل کریں گے ‘‘
’’2014 میں جب مجھے ملک کی خدمت انجام دینے کا موقع حاصل ہوا تھا، تو ہم نے زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دی تھی‘‘
’’ہم نے نہ صرف کم از کم امدادی قیمت میں اضافہ کیا، بلکہ ریکارڈ تعداد میں سرکاری خریداری مراکز بھی قائم کیے۔ ہماری حکومت کے ذیعہ انجام دی گئی زرعی پیداوار کی خریداری نے گذشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے‘‘
’’ان تین زرعی قوانین کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے ملک کے کاشتکاروں ،خصوصاً چھوٹے کاشتکاروں کو تقویت حاصل ہو، انہیں اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کے لیے صحیح قیمت اور زیادہ سے زیادہ متبادل حاصل ہوں‘‘
’’ان قوانین کو کاشتکاروں، خصوصاً چھوٹے کاشتکاروں کے لیے،زرعی شعبے کے مفاد میں، گاؤں کے غریبوں کے روشن مستقبل کے لیے، پوری دیانت داری کے ساتھ ، نیک نیتی کے ساتھ اور کاشتکاروں کے تئیں سچی لگن کے ساتھ لایا گیا تھا ‘‘
’’اپنی کوششوں کے بعد بھی ہم چند کاشتکاروں کو ،اتنی مقدس بات ، جو کہ خالص تھی اور جو کاشتکاروکے مفاد میں تھی، اسے سمجھا نہ سکے۔ زرعی ماہرین اقتصادیات، سائنس دانوں، ترقی پسند کاشتکاروں نے بھی انہیں زرعی قوانین کی اہمیت کے بارے میں سمجھانے کی اپنی جانب سے تمام تر کوششیں کیں‘‘
صفر بجٹ پر مبنی زراعت کو فروغ دینے، ملک کی بدلتی ضرورتوں کے مطابق فصل کے پیٹرن میں تبدیلی لانے، اور ایم ایس پی کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمیٹی مرکزی حکومت ، ریاستی حکومتوں، کاشتکاروں، زرعی سائنسدانوں، اور زرعی ماہرین اقتصادیات کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنس کے توسط سے قوم سے خطاب کیا۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے گورونانک جینتی کے موقع پر عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ ڈیڑھ برسوں کے وقفے کے بعد کرتارپور صاحب گلیارہ ایک مرتبہ پھر کھول دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ، ’’ عوامی خدمت کے لیے پانچ دہائیوں پر محیط اپنی زندگی میں، میں نے کاشتکاروں کی چنوتیوں کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے۔ اسی لیے، جب ملک نے مجھے 2014 میں وزیر اعظم کے طور پر خدمت کا موقع فراہم کیا،تو ہم نے زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دی۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے کاشتکاروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ہم نے بیج، بیمہ، بازار اور بچت، ان تمام امور پر چوطرفہ کام کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بہتر قسم کے بیج کے ساتھ ہی نیم کوٹیڈ یوریا، سوائل ہیلتھ کارڈ، چھڑکاؤ والی آبپاشی جیسی سہولتوں سے بھی کاشتکاروں کو مربوط کیا۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کے عوض پیداوار کی صحیح قیمت حاصل ہو، اس کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ملک نے اپنی دیہی منڈیوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ ہم نے نہ صرف کم از کم امدادی قیمت میں اضافہ کیا، بلکہ ریکارڈ تعداد میں سرکاری خریداری مراکز بھی قائم کیے۔ ہماری حکومت کے ذریعہ انجام دی گئی زرعی پیداوار کی خریداری نے گذشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ  دیے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ کاشتکاروں کی صورتحال کو بہتر بنانے کی اس زبردست مہم کے تحت ملک میں تین زرعی قوانین متعارف کرائے گئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کاشتکاروں خصوصاً چھوٹے کاشتکاروں کو مزید طاقت حاصل ہو، انہیں اپنی پیداوار کی صحیح قیمت اور پیداوار کی فروخت کے لیے زیادہ سے زیادہ متبادل حاصل ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے کاشتکار، زرعی ماہرین اور کاشتکار گروپ برسوں سے یہ مطالبہ مسلسل کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی حکومتوں نے اس پر غور و فکر کیا تھا۔ اس مرتبہ بھی پارلیمنٹ میں تبادلہ خیات ہوئے ، غور و فکر ہوا اور یہ قوانین لائے گئے۔ ملک کے کونے کونے میں، متعدد کاشتکار گروپوں نے اس کا خیرمقدم کیا اور حمایت کی۔ وزیر اعظم نے اس قدم کی حمایت کرنے کے لیے تنظیموں، کاشتکاروں  اور لوگوں کے تئیں اظہار تشکر کیا۔

وزیر اعظم نے کہا، ’’ہماری حکومت، کاشتکاروں خصوصاً چھوٹے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے، ملک کے زرعی شعبے کے مفاد میں، گاؤں کے ناداروں کے روشن مستقبل کے لیے، پوری دیانت داری سے، کاشتکاروں کے تئیں سچی لگن  کے احساس کے ساتھ، نیک نیتی سے یہ قانون لے کر آئی تھی۔‘‘انہوں نے کہا کہ، ’’اتنی مقدس بات، مکمل طورپر خالص، کاشتکاروں کے مفاد کی بات، ہم اپنی کوششوں کے باوجود چند کاشتکاروں کو سمجھا نہیں پائے۔ زرعی ماہرین اقتصادیات نے، سائنس دانوں نے، ترقی پسند کاشتکاروں نے بھی انہیں زرعی قوانین کی اہمیت کے بارے میں سمجھانے کی پوری کوشش کی۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا، ’’آج میں آپ کو، پورے ملک کو، یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہینے کے آخر میں شروع ہونے جارہے پارلیمانی اجلاس میں، ہم ان تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے آئینی عمل کو مکمل کریں گے۔‘‘

مقدس گوروپرب کے جذبے کے تحت وزیر اعظم نے کہا کہ آج کا دن کسی پر الزام لگانے کا نہیں ، بلکہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے لیے خود کو وقف کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے کے لیے ایک اہم پہل قدمی کا اعلان کیا۔ انہوں نے صفر بجٹ پر مبنی زراعت کو فروغ دینے، ملک کی بدلتی ضرورتوں کے مطابق فصل پیٹرن کو تبدیل کرنے اور ایم ایس پی کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ کمیٹی میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں ، کاشتکاروں، زرعی سائنسدانوں اور زرعی ماہرین اقتصادیات کے نمائندے شامل ہوں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops

Media Coverage

Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 6th February
February 04, 2023
Share
 
Comments
PM to inaugurate India Energy Week 2023 in Bengaluru
Moving ahead on the ethanol blending roadmap, PM to launch E20 fuel
PM to flag off Green Mobility Rally to create public awareness for green fuels
PM to launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil - each uniform to support recycling of around 28 used PET bottles
PM to dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System - a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously
In yet another step towards Aatmanirbharta in defence sector, PM to dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru
PM to lay foundation stones of Tumakuru Industrial Township and of two Jal Jeevan Mission projects in Tumakuru

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 6th February, 2023. At around 11:30 AM, Prime Minister will inaugurate India Energy Week 2023 at Bengaluru. Thereafter, at around 3:30 PM, he will dedicate to the nation the HAL helicopter factory at Tumakuru and also lay the foundation stone of various development initiatives.

India Energy Week 2023

Prime Minister will inaugurate the India Energy Week (IEW) 2023 in Bengaluru. Being held from 6th to 8th February, IEW is aimed to showcase India's rising prowess as an energy transition powerhouse. The event will bring together leaders from the traditional and non-traditional energy industry, governments, and academia to discuss the challenges and opportunities that a responsible energy transition presents. It will see the presence of more than 30 Ministers from across the world. Over 30,000 delegates, 1,000 exhibitors and 500 speakers will gather to discuss the challenges and opportunities of India's energy future. During the programme, Prime Minister will participate in a roundtable interaction with global oil & gas CEOs. He will also launch multiple initiatives in the field of green energy.

The ethanol blending programme has been a key focus areas of the government to achieve Aatmanirbharta in the field of energy. Due to the sustained efforts of the government, ethanol production capacity has seen a six times increase since 2013-14. The achievements in the course of last eight years under under Ethanol Blending Programe & Biofuels Programe have not only augmented India’s energy security but have also resulted in a host of other benefits including reduction of 318 Lakh Metric Tonnes of CO2 emissions and foreign exchange savings of around Rs 54,000 crore. As a result, there has been payment of around Rs 81,800 crore towards ethanol supplies during 2014 to 2022 and transfer of more than Rs 49,000 crore to farmers.

In line with the ethanol blending roadmap, Prime Minister will launch E20 fuel at 84 retail outlets of Oil Marketing Companies in 11 States/UTs. E20 is a blend of 20% ethanol with petrol. The government aims to achieve a complete 20% blending of ethanol by 2025, and oil marketing companies are setting up 2G-3G ethanol plants that will facilitate the progress.

Prime Minister will also flag off the Green Mobility Rally. The rally will witness participation of vehicles running on green energy sources and will help create public awareness for the green fuels.

Prime Minister will launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil. Guided by the vision of the Prime Minister to phase out single-use plastic, IndianOil has adopted uniforms for retail customer attendants and LPG delivery personnel made from recycled polyester (rPET) & cotton. Each set of uniform of IndianOil’s customer attendant shall support recycling of around 28 used PET bottles. IndianOil is taking this initiative further through ‘Unbottled’ - a brand for sustainable garments, launched for merchandise made from recycled polyester. Under this brand, IndianOil targets to meet the requirement of uniforms for the customer attendants of other Oil Marketing Companies, non-combat uniforms for Army, uniforms/ dresses for Institutions & sales to retail customers.

Prime Minister will also dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System and flag-off its commercial roll-out. IndianOil had earlier developed an innovative and patented Indoor Solar Cooking System with single cooktop. On the basis of feedback received, twin-cooktop Indoor Solar Cooking system has been designed offering more flexibility and ease to the users. It is a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously, making it a reliable cooking solution for India.

PM in Tumakuru

In yet another step towards Aatmanirbharta in the defence sector, Prime Minister will dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru. Its foundation stone was also laid by the Prime Minister in 2016. It is a dedicated new greenfield helicopter factory which will enhance capacity and ecosystem to build helicopters.

This helicopter factory is Asia’s largest helicopter manufacturing facility and will initially produce the Light Utility Helicopters (LUH). LUH is an indigenously designed and developed 3-ton class, single engine multipurpose utility helicopter with unique feature of high manoeuvrability.

The factory will be expanded to manufacture other helicopters such as Light Combat Helicopter (LCH) and Indian Multirole Helicopter (IMRH) as well as for repair and overhaul of LCH, LUH, Civil ALH and IMRH in the future. The factory also has the potential for exporting the Civil LUHs in future.

This facility will enable India to meet its entire requirement of helicopters indigenously and will attain the distinction of enabling self-reliance in helicopter design, development and manufacture in India.

The factory will have a manufacturing set up of Industry 4.0 standards. Over the next 20 years, HAL is planning to produce more than 1000 helicopters in the class of 3-15 tonnes from Tumakuru. This will result in providing employment for around 6000 people in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of Tumakuru Industrial Township. Under the National Industrial Corridor Development Programme, development of the Industrial Township spread across 8484 acre in three phases in Tumakuru has been taken up as part of Chennai Bengaluru Industrial Corridor.

Prime Minister will lay the foundation stones of two Jal Jeevan Mission projects at Tiptur and Chikkanayakanahalli in Tumakuru. The Tiptur Multi-Village Drinking Water Supply Project will be built at a cost of over Rs 430 crores. The Multi-village water supply scheme to 147 habitations of Chikkanayakanahlli taluk will be built at a cost of around Rs 115 crores. The projects will facilitate provision of clean drinking water for the people of the region.