نئی  دہلی۔26؍ستمبر۔کیریبین ممالک کے ساتھ بھارت کے تاریخی اور گرم جوشانہ تعلقات کو اس وقت ایک نئی فعالیت حاصل ہوئی جب وزیراعظم مودی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  منعقدہ 25 ستمبر 2019  کے شانہ بہ شانہ  سی اے آر آئی سی او ایم ممالک کے 14 قائدین سے ملاقات کی۔ سینٹ لوسیا کے وزیراعظم اور سی اے آر آئی سی او ایم کے موجودہ چیئرمین عالی جناب ایلین چیسٹر نیٹ  نے اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کی۔ میٹنگ میں  اینٹی گوا اور باربوڈا ، باربڈوس، ڈومینیکا، جمیکا، سینٹ کٹس اور نیوس ، سینٹ لوسیا، سینٹ ونسینٹ  اور گریناڈائنس،     ترینیداد اور ٹوبیگو کے سربراہان مملکت ، سورینام کے نائب صدر  اور برہماس ، بیلائز ، گرینیڈا ، ہیتی اور گویانا کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

وزیراعظم مودی کی  سی اے آر آئی سی او ایم قائدین کے ساتھ علاقائی  فارمیٹ کی شکل میں یہ اولین ملاقات تھی اور اس ملاقات کے ذریعے بھارت اور کیریبین کے شراکت دار ممالک کے مابین مستحکم ہوتے ہوئے نیز ترقی سے ہمکنار تعلقات بھی اجاگر ہوئے۔ یہ تعلقات محض باہمی پیمانے پر ہی اجاگر نہیں ہوئے بلکہ انہیں علاقائی پس منظر میں بھی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ وزیراعظم مودی نے سی آر آئی سی او ایم کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی  تعلقات مستحکم بنانے کیلئے بھارت کے عزم مصمم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر یاد دہانی کرائی کہ دس لاکھ سے زائد بھارت نژاد افراد ایک فعال اور متحرک قوت کے طور پر ان ممالک میں موجود ہیں اور کیریبین کے ساتھ دوستانہ روابط کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

 

میٹنگ میں سیاسی اور ادارہ جاتی گفت وشنید کو مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون بڑھانے ، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور عوام سے عوام کے مابین افزوں ترین تعلقات کو تقویت پہنچانے کے موضوعات پر بھی گفت وشنید ہوئی۔ وزیراعظم مودی نے صلاحیت سازی ، ترقیاتی امداد اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظامات کے سلسلے میں باہمی تعاون اور لچکدار رویے کے شعبوں میں بھی  سی اے آر آئی سی او ایم ممالک کے ساتھ شراکت داری بڑھانے پر زور دیا ۔ انہوں نے سی اے آر آئی  سی او ایم ممالک کو مدعو کیا کہ وہ قدرتی آفات جھیل سکنے والے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کیلئے بین الاقوامی شمسی اتحاد میں شریک ہوں۔ وزیراعظم نے اپنی جانب سے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس خطے میں سمندری طوفان سے  جو تباہی رونما ہوئی ہے اور اس سے برہماس جزیرے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے جس میں بھارت کی جانب سے فوری طور پر دس لاکھ امریکی ڈالر کی امداد فراہم کی گئی تھی ، اس کے تمام مضر اثرات پر قابو پالیا جائیگا۔

وزیراعظم مودی نے سی اے آر آئی سی او ایم میں کمیونٹی ترقیاتی پروجیکٹوں کیلئے  14 ملین امریکی ڈالر کی امداد دینے کااعلان کیا، ساتھ ہی  ساتھ شمسی، قابل احیاء توانائی اور موسمیاتی تبدیلی  سے متعلق پروجیکٹوں کیلئے   بھی 150 ملین امریکی ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جارج ٹاؤن ، گویانا  میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی کاایک علاقائی عمدگی کا مرکز قائم کیا جائیگا اور بیلائز میں موجودہ بھارتی سرمائے سے چلنے والے مراکز کو امداد فراہم کرکے علاقائی پیشہ ورانہ تربیتی مرکز کی شکل دی جائے گی۔ بھارت کی جانب  سے خصوصی صلاحیت سازی کورس، تربیت اور بھارتی ماہرین کی ڈپوٹیشن پر تعیناتی کے سلسلے میں جو سی اے آر آئی سی او ایم ممالک میں ہونی ہے ، کے لئے بھی اعلان کیا۔ انہوں نے سی اے آر آئی سی او ایم کے پارلیمانی وفد کو مستقبل قریب میں بھارت  کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

 

سی اے آر آئی سی او ایم قائدین نے وزیراعظم مودی کی جانب سے طرفین کے مابین تعلقات بڑھانے اور تعاون میں اضافے کیلئے مجوزہ پہل قدمیوں کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ حکومتوں کی جانب سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

فیصلہ کیا گیا کہ اس سلسلے میں تعاون کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی  اور آگے کا راستہ شناخت کرنے کیلئے  ایک مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.