عزت مآب، میرے دوست، صدر پوتن،
دونوں ممالک کے نمائندگان،
میڈیا کے ساتھیوں،
نمسکار
’’دوبری دین!‘‘

آج ہندوستان اور روس کے 23 ویں سربراہی اجلاس میں صدر پوتن کا استقبال کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ان کا دورہ ایسے وقت  میں ہو رہا ہے ،جب ہمارے دوطرفہ تعلقات کئی تاریخی سنگِ میل سے گزر رہے ہیں۔ ٹھیک 25 سال پہلے صدر پوتن نے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد رکھی تھی۔ 15 برس قبل 2010 میں ہماری شراکت داری کو ’خصوصی اور خاص اسٹریٹجک شراکت داری‘ کا درجہ ملا۔

گزشتہ ڈیڑھ سے دو دہائیوں سے انہوں نے اپنی قیادت اور دور اندیشی سے اس تعلقات کو مسلسل پروان چڑھایا ہے۔ ہر موقع پر ان کی قیادت نے باہمی تعلقات کو نئی بلندی فراہم کی ہے۔  ہندوستان کے لیے اس گہری دوستی اور غیر متزلزل عزم کے لیے میں صدر پوتن کا، میرے دوست کا، دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

دوستو،

گزشتہ آٹھ دہائیوں میں دنیا میں کئی اتار چڑھاؤآئے ہیں۔ انسانیت کو متعدد چیلنجز اور بحرانوں سے گزرنا پڑا ہے۔ اور ان سب کے درمیان بھی ہندوستان–روس دوستی ایک قطبی ستارے کی مانند قائم رہی ہے۔ باہمی احترام اور گہرے اعتماد پر مبنی یہ تعلقات وقت کی ہر آزمائش پر ہمیشہ کھرے اترے ہیں۔ آج ہم نے اس بنیاد کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تعاون کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہماری مشترکہ ترجیح ہے۔ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آج ہم نے 2030 تک کے لیے ایک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے ہمارا تجارتی اور سرمایہ کاری کا شعبہ متنوع، متوازن اور پائیدار بنے گا اور تعاون کے شعبوں میں نئے جہتیں بھی شامل ہوں گی۔

آج صدر پوتن اور مجھے انڈیا–روس بزنس فورم میں شرکت کرنے کا موقع ملے گا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ پلیٹ فارم ہمارے کاروباری تعلقات کو نئی طاقت دے گا۔ اس سے برآمدات، مشترکہ پیداوار اور مشترکہ جدت کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

دونوں فریق یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ ایف ٹی اے کے جلد از جلد اختتام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ زراعت اور کھاد کے شعبے میں ہمارا قریبی تعاون، خوراک کی سلامتی اور کسانوں کی فلاح کے لیے اہم ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کو آگے بڑھاتے ہوئے اب دونوں فریق ساتھ مل کر یوریا پیداوار کے اقدامات کر رہے ہیں۔

دوستو،

دونوں ممالک کے درمیان رابطہ بڑھانا ہماری بنیادی ترجیح ہے۔ ہم آئی ایس ٹی سی، شمالی سمندری راستے ، چنئی – ولادی وسٹوک کوریڈورز پر نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اب ہم  ہندوستان کے سمندری سیاحوں کی  پولر واٹر(polar waters) میں تربیت کے لیے تعاون کریں گے۔ یہ آرکٹک میں ہمارے تعاون کو نئی طاقت دے گا ہی، بلکہ اس سے ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اسی طرح شپ بلڈنگ میں ہمارا گہرا تعاون میک ان انڈیا کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ہمارے وِن- وِن تعاون کی ایک اور بہترین مثال ہے، جس سے روزگار، مہارتیں اور علاقائی رابطہ کاری – سبھی کو تقویت ملے گی۔

توانائی کی حفاظت ہند–روس شراکت داری کا ایک مضبوط اور اہم ستون رہی ہے۔ عوامی جوہری توانائی کے شعبے میں ہمارا دہائیوں پرانا تعاون، کلین انرجی کے ہمارے مشترکہ ترجیحات کو عملی شکل دینے میں اہم رہا ہے۔ ہم اس وِن- وِن تعاون کو جاری رکھیں گے۔

اہم معدنیات میں ہمارا تعاون دنیا بھر میں محفوظ اور متنوع سپلائی چینز کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔ اس سے صاف تونائی، ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ اور نئے دور کی صنعتوں میں ہماری شراکت داری کو مضبوط سہارا ملے گا۔

دوستو،

ہندوستان اور روس کے تعلقات میں ہمارے ثقافتی تعاون اور عوامی رابطےکی خاص اہمیت رہی ہے۔ دہائیوں سے دونوں ممالک کے عوام میں ایک دوسرے کے لیے محبت، احترام اور قربت کا جذبہ رہا ہے۔ ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ہم نے کئی نئے اقدامات کیے ہیں۔

حال ہی میں روس میں ہندوستان کے دو نئے قونصل خانے کھولے گئے ہیں۔ اس سے دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان رابطہ آسان ہوگا اور باہمی قربت بڑھے گی۔ رواں برس اکتوبر میں لاکھوں عقیدت مندوں کو ’کالمکیا‘ میں انٹرنیشنل بدھسٹ فورم میں بھگوان بدھ کے مقدس باقیات کا  آشیرواد ملا۔

مجھے خوشی ہے کہ بہت جلد ہم روسی شہریوں کے لیے 30 روزہ مفت ای-ٹوریسٹ ویزا اور 30 روزہ گروپ ٹورسٹ ویزا کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔

افرادی قوت کی نقل و حرکت نہ صرف ہمارے لوگوں کو جوڑے گی بلکہ دونوں ممالک کے لیے نئی طاقت اور نئے مواقع پیدا کرے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ اسے فروغ دینے کے لیے آج دو معاہدے کیے گئے ہیں۔ ہم مل کر پیشہ ورانہ تعلیم، مہارت کی تربیت اور ٹریننگ پر بھی کام کریں گے۔ ہم دونوں ممالک کے طلباء، اسکالرس اور کھلاڑیوں کے تبادلے کو بھی بڑھائیں گے۔

دوستو،

آج ہم نے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی بات چیت کی۔ یوکرین کے حوالے سے ہندوستان نے آغاز سے ہی امن کے موقف کو اپنایا ہے۔ ہم اس موضوع کے پرامن اور مستقل حل کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہندوستان ہمیشہ اپنا تعاون دینے کے لیے تیار رہا ہے اور آگے بھی رہے گا۔

دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں  ہندوستان اور روس  نےطویل عرصے سے کندھے سے کندھا ملا کر تعاون کیا ہے۔ چاہے پہلگام میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ ہو یا کروکس سٹی ہال پر کیا گیا بزدلانہ حملہ — ان تمام واقعات کی جڑ ایک ہی ہے۔ ہندوستان غیر متزلزل یقین ہے کہ دہشت گردی انسانیت کے بنیادی اقدار پر براہِ راست حملہ ہے اور اس کے خلاف عالمی یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

ہندوستان اور روس کے درمیان اقوام متحدہ،جی-20، برکس، ایس سی او اور دیگر فورمز پر قریبی تعاون رہا ہے۔ مضبوط ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے، ہم ان تمام فورمز پر اپنی بات چیت اور تعاون جاری رکھیں گے۔

عالی مرتبت

مجھے پورا یقین ہے کہ آنے والے وقت میں ہماری دوستی ہمیں عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی طاقت دے گی — اور یہی اعتماد ہمارے مشترکہ مستقبل کو مزید خوشحال بنائے گا۔

میں ایک بار پھر آپ اور آپ کے تمام وفد کا ہندوستان کے دورے کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Visit of His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of UAE to India
January 19, 2026
S.NoAgreements / MoUs / LoIsObjectives

1

Letter of Intent on Investment Cooperation between the Government of Gujarat, Republic of India and the Ministry of Investment of the United Arab Emirates for Development of Dholera Special Investment region

To pursue investment cooperation for UAE partnership in development of the Special Investment Region in Dholera, Gujarat. The envisioned partnership would include the development of key strategic infrastructure, including an international airport, a pilot training school, a maintenance, repair and overhaul (MRO) facility, a greenfield port, a smart urban township, railway connectivity, and energy infrastructure.

2

Letter of Intent between the Indian National Space Promotion and Authorisation Centre (IN-SPACe) of India and the Space Agency of the United Arab Emirates for a Joint Initiative to Enable Space Industry Development and Commercial Collaboration

To pursue India-UAE partnership in developing joint infrastructure for space and commercialization, including launch complexes, manufacturing and technology zones, incubation centre and accelerator for space start-ups, training institute and exchange programmes.

3

Letter of Intent between the Republic of India and the United Arab Emirates on the Strategic Defence Partnership

Work together to establish Strategic Defence Partnership Framework Agreement and expand defence cooperation across a number of areas, including defence industrial collaboration, defence innovation and advanced technology, training, education and doctrine, special operations and interoperability, cyber space, counter terrorism.

4

Sales & Purchase Agreement (SPA) between Hindustan Petroleum Corporation Limited, (HPCL) and the Abu Dhabi National Oil Company Gas (ADNOC Gas)

The long-term Agreement provides for purchase of 0.5 MMPTA LNG by HPCL from ADNOC Gas over a period of 10 years starting from 2028.

5

MoU on Food Safety and Technical requirements between Agricultural and Processed Food Products Export Development Authority (APEDA), Ministry of Commerce and Industry of India, and the Ministry of Climate Change and Environment of the United Arab Emirates.

The MoU provides for sanitary and quality parameters to facilitate the trade, exchange, promotion of cooperation in the food sector, and to encourage rice, food products and other agricultural products exports from India to UAE. It will benefit the farmers from India and contribute to food security of the UAE.

S.NoAnnouncementsObjective

6

Establishment of a supercomputing cluster in India.

It has been agreed in principle that C-DAC India and G-42 company of the UAE will collaborate to set up a supercomputing cluster in India. The initiative will be part of the AI India Mission and once established the facility be available to private and public sector for research, application development and commercial use.

7

Double bilateral Trade to US$ 200 billion by 2032

The two sides agreed to double bilateral trade to over US$ 200 billion by 2032. The focus will also be on linking MSME industries on both sides and promote new markets through initiatives like Bharat Mart, Virtual Trade Corridor and Bharat-Africa Setu.

8

Promote bilateral Civil Nuclear Cooperation

To capitalise on the new opportunities created by the Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India (SHANTI) Act 2025, it was agreed to develop a partnership in advance nuclear technologies, including development and deployment of large nuclear reactors and Small Modular Reactors (SMRs) and cooperation in advance reactor systems, nuclear power plant operations and maintenance, and Nuclear Safety.

9

Setting up of offices and operations of UAE companies –First Abu Dhabi Bank (FAB) and DP World in the GIFT City in Gujarat

The First Abu Dhabi Bank will have a branch in GIFT that will promote trade and investment ties. DP World will have operations from the GIFT City, including for leasing of ships for its global operations.

10

Explore Establishment of ‘Digital/ Data Embassies’

It has been agreed that both sides would explore the possibility of setting up Digital Embassies under mutually recognised sovereignty arrangements.

11

Establishment of a ‘House of India’ in Abu Dhabi

It has been agreed in Principle that India and UAE will cooperate on a flagship project to establish a cultural space consisting of, among others, a museum of Indian art, heritage and archaeology in Abu Dhabi.

12

Promotion of Youth Exchanges

It has been agreed in principle to work towards arranging visits of a group of youth delegates from either country to foster deeper understanding, academic and research collaboration, and cultural bonds between the future generations.