کورونا کے دوران غیرمعمولی خدمات کے لئے خواتین کے اپنی مدد آپ گروپوں کی تعریف کی
حکومت مستقل ایسا ماحول اور صورتحال پیدا کررہی ہے جہاں تمام بہنیں خوشحالی کے ساتھ اپنے گاؤں سے جڑسکتی ہیں : وزیراعظم
بھارت میں بنے کھلونوں کو بڑھاوا دینے میں اپنی مدد آپ گروپوں کے لئے کافی امکانات ہیں :وزیراعظم
وزیراعظم نے 4 لاکھ سے زیادہ ایس ایچ جیز کو 1625 کروڑ روپئے کے کیپٹلائزیشن سپورٹ فنڈ جاری کئے

نمسکار ،

          آج  جب ملک  اپنی آزادی کا امرت  مہوتسو منا رہا ہے  تو یہ  تقریب  بہت اہم ہے ۔  آنے والے برسوں میں آتم نربھر بھارت کو ، ہماری آتم نربھر  ناری شکتی  ایک   نئی توانائی  دینے والی ہے ۔ آپ سب سے بات کرکے  آج مجھے بھی  تحریک  حاصل ہوئی ہے ۔ آج کے اِس پروگرام میں موجود  مرکزی  کابینہ کے میرے  ساتھی  ، راجستھان کے معزز  وزیر اعلیٰ جی   ،  ریاستی سرکاروں کے   کابینی  ارکان ،  ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کے ساتھی  ، ضلع پریشد کے چیئرمین  اور   ارکان  ، ملک کی  تقریباً لاکھ   مقامات  سے جڑی  خود امدادی گروپ کی  کروڑوں بہنیں  اور بیٹیاں  اور  دیگر سبھی  اہم شخصیات !

بھائیو اور بہنو ،

          ابھی جب میں   ، خود امدادی گروپوں سے جڑی بہنوں سے بات کر رہا تھا تو اُن کی خود اعتماد کا میں  مشاہدہ کر رہا تھا ۔ آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ اُن کے اندر  آگے بڑھنے کا جذبہ کیسا ہے ، کچھ کرنے کا  جذبہ  کیسا  ہے  ۔  یہ واقعی ہم سب کے لئے  تحریک کا باعث ہے ۔ اس سے ہمیں ملک بھر میں  جاری  ناری  شکتی ( خواتین کی قوت ) کی با اختیار مہم  کا مشاہدہ  ہوتا ہے ۔ 

ساتھیو ،

کورونا دور میں  ، جس طرح سے ہماری  بہنوں نے خود امدادی گروپوں کے ذریعے  ہم وطنوں کی  خدمت  کی ، وہ بے مثال ہے ۔  ماسک اور سینیٹائزر بنانا ہو ، ضرورت مندوں تک کھانا  پہنچانا ہو   ،   بیداری پیدا  کرنے کاکام ہو ، ہر طرح سے   آپ  کی سہیلیوں  کے گروپوں   کا تعاون  بیش قیمت  رہا ہے ۔  اپنے خاندان کو  بہتر زندگی  دینے  کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی کو  آگے بڑھانے  والی ہماری  کروڑوں بہنوں کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ 

ساتھیو ،

          خواتین میں  صنعت کاری کا دائرہ  بڑھانے کے لئے آتم نربھر بھارت کے عہد میں   زیادہ  شراکت داری  کے لئے ، آج بڑی  اقتصادی  امداد جاری کی گئی ہے ۔  خوراک کی ڈبہ  بندی  سے جڑی صنعت ہو ، خواتین کسان    پیداواری  یونین ہو ، یا پھر  دیگر  خود امدادی گروپ ہوں ، بہنوں  کے ایسے  لاکھوں گروپوں کے لئے 1600   کروڑ روپئے سے زیادہ  کی رقم بھیجی گئی ہے ۔ رکشا بندھن سے پہلے جاری ، اِس  رقم سے کروڑوں بہنوں کی زندگی  میں خوشیاں آئیں ، کام کاج پھلے پھولے   ، اس کے لئے آپ کو میری  بہت بہت نیک خواہشات ۔

 

ساتھیو ،

          خود امدادی گروپ اور دین  دیا ل انتودیا یوجنا   آج دیہی بھارت میں ایک نیا  انقلاب لا رہی ہیں  اور اس انقلاب کی مشعل   خواتین   خود امدادی گروپوں سے ممکن  ہوئی   ہے اور انہوں نے سنبھال رکھی ہے ۔  گذشتہ 6 – 7  برسوں میں خواتین خود امدادی گروپوں  کی یہ مہم   اور تیز ہوئی ہے ۔ آج ملک بھر میں  تقریباً 70 لاکھ  خود امدای گروپ ہیں  ، جن سے  تقریباً 8 کروڑ بہنیں جڑی ہیں ۔ گذشتہ 6 – 7 برسوں کے دوران خود امدادی گروپوں میں تین گنا سے زیادہ اضافہ  ہوا ہے ، تین گنا زیادہ  بہنوں کی ساجھیداری   یقینی ہوئی ہے ۔  یہ اس لئے  اہم ہے کیونکہ  کئی  برسوں تک  بہنوں کو  اقتصادی  طور پر  با اختیار بنانے  کی  اتنی کوشش ہی نہیں  کی گئی ، جتنی کہ ہونی  چاہیئے تھی ۔ جب ہماری حکومت آئی تو ہم نے دیکھا کہ ملک کی کروڑوں بہنیں  ایسی تھیں ، جن  کے پاس بینک  کھاتہ تک نہیں تھا     ، وہ بینکنگ نظام سے کوسوں دور تھیں ۔ اس لئے ہی ہم نے سب سے پہلے   جن دھن کھاتے  کھولنے کی بہت  بڑی  مہم شروع کی ۔ آج ملک بھر میں  42 کروڑ سے زیادہ  جن  دھن کھاتے ہیں ۔ ان میں سے  تقریباً 55 فی صد کھاتے  ہماری  ماؤں بہنوں کے ہیں ۔ ان کھاتوں میں ہزاروں کروڑ روپئے جمع ہیں  ۔  اب باورچی خانوں کے ڈبوں میں نہیں ، ورنہ معلوم  ہے کہ نہیں   ،  گاؤں میں  کیا کرتے ہیں ،  باورچی خانے میں ، جو ڈبے ہوتے ہیں  ، کچھ بچے کچے  پیسے اُن میں رکھ دیتے ہیں ۔ اب پیسے  باورچی خانوں کے ڈبوں میں نہیں ، پیسے بینک کے کھاتوں میں جمع ہو رہے ہیں ۔ 

بہنو اور بھائیو ، 

          ہم نے بینک  کھاتے بھی کھولے اور بینکوں سے قرض  لینا بھی آسان  کر دیا ۔ ایک طرف   مُدرا یوجنا کے تحت لاکھوں خاتون صنعت کاروں کو بغیر ضمانت کا  آسان قرض  دستیاب کرایا  ، وہیں دوسری طرف   خود امدادی گروپ کو بغیر  ضمانت   قرض میں بھی کافی اضافہ کیا ۔ قومی   روزی مشن  کے تحت جتنی مدد سرکار  نے بہنوں کے لئے بھیجی ہے ، وہ پہلے کی حکومت کے مقابلے  کئی گنا زیادہ ہے ۔ اتنا ہی نہیں  تقریباً پونے چار لاکھ  کروڑ روپئے کا بغیر  ضمانت کا قرض بھی خود امدادی گروپوں کو  دستیاب کرایا گیا ۔ 

ساتھیو ،

          ہماری بہنیں  ، کتنی ایماندار اور کتنی  با صلاحیت  صنعت  کار ہوتی ہیں ، اس کا ذکر  کرنا بھی بہت ضروری ہے   ۔ 7 برسوں میں خود امدادی گروپوں نے بینکوں کے قرض   واپس کرنے میں بھی  بہت اچھا   کام کیا ہے ۔ ایک دور تھا  ، جب بینک  قرض کا تقریباً   ،   ابھی گری راج  جی  بتا رہے تھے ، 9  فی صد تک مشکل  میں  پھنس جاتا تھا یعنی  اس رقم کی واپسی  نہیں ہو پاتی تھی ، اب یہ گھٹ کر  دو -  ڈھائی فی صد رہ گیا ہے ۔ آپ کی اِس کاروباری  صلاحیت ، آپ کی ایمانداری کا  آج ملک  شکر گزار ہے ۔ اس لئے  اب ایک اور اہم فیصلہ کیا گیا ہے   ۔ اس خود امدادی  گروپ کو   پہلے جہاں  10 لاکھ روپئے تک کا قرض  بغیر  ضمانت کے ملتا تھا ،  اب یہ حد دوگنی  یعنی 20 لاکھ روپئے کی گئی ہے ۔  پہلے جب آپ  بینک سے  قرض لینےجاتے تھے ،  تو بینک آپ سے  اپنے بچت  کھاتے کو قرض  سے جوڑنے  کو کہتے تھے  اور  کچھ پیسے  جمع کرنے کو بھی کہتے تھے ۔   اب اس شرط کو بھی ختم  کر دیا گیا ہے ۔ ایسی بہت سی کوششوں سے   اب آپ  خود کفالت کی مہم میں  زیادہ   جوش کے ساتھ  آگے بڑھ پائیں گی ۔ 

ساتھیو ،

          آزادی کے  75 سال کا  یہ دور  نئے ہدف طے کرنے  اور نئی  توانائی کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے ۔ بہنوں کے گروپوں کی توانائی کو بھی اب نئی قوت کے  ساتھ آگے بڑھانا ہے ۔ حکومت لگاتار  وہ ماحول  ، وہ  صورتِ حال  تیار کر رہی ہے  ، جہاں سے آپ سبھی  بہنیں  ہمارے گاؤوں کو خوشحالی  سے جوڑ سکتی  ہیں ۔ زراعت  اور زراعت پر مبنی  ہمیشہ  سے  ایسا  شعبہ رہا ہے  ، جہاں خواتین  خود امدادی گروپوں کے لئے  بے شمار امکانات ہیں ۔  گاؤوں میں ذخیر ہ  اور کولڈ چین   کی سہولت  شروع کرنی ہو ، کھیتی کی مشینیں  لگانی ہوں ، دودھ ،  پھل ، سبزی   کو برباد ہونے سے  روکنے کے لئے کوئی پلانٹ  لگانا ہو ،  ایسے بہت سے  کاموں  کے لئے  خصوصی فنڈ  تشکیل  دیا گیا ہے ۔  اس فنڈ سے مدد  لے کر  خود امدادی گروپ بھی سہولیات  تیار کر سکتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں  ،جو سہولیات  آپ تیار کریں گی ،  مناسب  شرح  طے کرکے  سبھی ممبر  اِس کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور  دوسروں کو بھی  کرائے پر دے سکتی ہیں ۔  کاروباری بہنوں   ، ہماری  حکومت  خواتین کسانوں کی   خصوصی ٹریننگ   اور بیداری کو بھی   مسلسل بڑھاوا دے رہی ہے  ۔ اس سے ابھی تک  تقریباً 1.25 کروڑ  کسان اور  مویشی  پالنے  والی بہنیں فائدہ حاصل کر چکی ہیں  ، جو نئی زرعی اصلاحات ہیں ، اُن سے ملک کی  زراعت  ، ہمارے کسانوں کو تو  فائدہ ہوگا ہی ،  اس میں   خود  امدادی گروپوں کے لئے بھی  بے شمار امکانات  پیدا ہو رہے ہیں ۔  اب آپ  براہ راست کسانوں سے  کھیت پر ہی  ساجھیداری  کرکے  اناج اور  دال  جیسی پیداوار کی   براہ راست  ہوم ڈلیوری کر سکتی ہیں ۔  اِدھر  ، کورونا کے دور میں ہم نے ایسا   کئی جگہ  ہوتے ہوئے دیکھا بھی ہے ۔ اب آپ کے پا س ذخیرہ  کرنے کی سہولت   بنانے کی سہولت ہے   ، آپ کتنا  ہی ذخیرہ  کر سکتی ہیں  ، یہ بندش بھی نہیں   ہے ۔ آپ چاہے کھیت سے  براہ راست  پیداوار  بیچیں  یا پھر   خوراک کی ڈبہ بندی  کے یونٹ لگاکر  بڑھیا پیکنگ کرکے بیچیں  ،  ہر متبادل  آپ کے پاس ہے ۔ آن لائن بھی  آج کل  ایک بڑا ذریعہ بن رہا ہے  ، جس کا  استعمال  آپ کو زیادہ سے زیادہ  کرنا چاہیئے ۔ آپ آن لائن کمپنوں کے ساتھ تال میل کرکے  بڑھیا پیکنگ میں آسانی سے  شہروں تک  اپنی مصنوعات بھیج سکتی ہیں  ۔  اتنا ہی نہیں    ، بھارتی حکومت  میں بھی   جی ای ایم پورٹل ہے ۔ آپ اِس پورٹل پر  جاکر  ، حکومت کو جو چیزیں خریدنی ہے ، اگر آپ کے پاس وہ چیزیں ہیں تو  آپ براہ راست  حکومت کو بھی بیچ   سکتی ہیں ۔ 

ساتھیو ،

          بھارت میں بنے کھلونوں کی بھی حکومت  بہت ہمت افزائی  کر رہی ہے ۔ اس کے لئے  ہر ممکن  مدد  بھی دے رہی ہے ، خاص طور سے ہمارے قبائلی علاقوں کی  بہنیں  تو روایتی  طور  پر اس سے جڑی ہیں ۔ اس میں بھی  خود  امدادی گروپوں کے لئے بہت امکانات  ہیں ۔ اسی طرح آج ملک  کو سنگل یوز  پلاسٹک    سے  پاک کرنے کی ابھی مہم چل رہی ہے اور ابھی ہم نے   تمل ناڈو کی بہنوں سے  سنا  ۔  بہن جیتنی  ، جس طرح سے  اعداد و شمار بتا رہی تھیں  ، ہر کسی کو  تحریک دینے والی  تھیں ۔ اس میں   خود امدادی  گروپوں  کا دوہرا  رول ہے ۔ آپ کو   سنگل یوز  پلاسٹک کے بارے میں   بیداری بھی بڑھانی ہے اور اس کے متبادل کے لئے بھی کام  کرنا ہے ۔  پلاسٹک کے تھیلے  کی جگہ  جوٹ یا دوسرے خوبصورت   بیگ آپ  زیاہ سے زیادہ بنا سکتی ہیں ۔ آپ اپنا  سامان  براہ راست  حکومت کو بیچ  سکیں ، اس کے لئے بھی   ایک   سسٹم  دو – تین برسوں سے چل  رہا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے  کہا کہ اس کو جی ای ایم  یعنی  گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس   کہتے  ہیں ، اس کا بھی خود امدادی گروپوں کو پورا  فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔

ساتھیو ،

          آج بدلتے ہوئے بھارت  میں ملک کی بہنوں  - بیٹیوں کے پاس بھی   آگے بڑھنے کے موقع بڑھ رہے ہیں ۔  گھر ، بیت الخلاء  ، بجلی ، پانی ، گیس  جیسی سہولیات  سے سبھی بہنوں کو جوڑا جا رہا ہے ۔  بہنوں – بیٹیوں کی تعلیم  ، صحت   ،  تغذیہ  ، ٹیکہ کاری اور دوسری ضرورتوں  پر بھی   حکومت پوری سنجیدگی  سے کام کر رہی ہے ۔ اس سے  نہ صرف خواتین کے  وقار میں اضافہ  ہوا ہے بلکہ  بہن – بیٹیوں کی  خود اعتمادی بھی بڑھ رہی ہے ۔ یہ خود اعتمادی   ہم کھیل کے میدان  سے  لے کر سائنس اور ٹیکنا لوجی  اور جنگ کے میدان تک  دیکھ رہے ہیں ۔  یہ  خود کفیل بھارت کے لئے  اچھی علامت  ہے ۔  اس خود اعتمادی   ، قومی تعمیر   کی اِن کوششوں کو  اب آپ کو امرت مہوتسو  سے بھی جوڑنا ہے ۔ آزادی کے  75 سال ہونے کے موقع پر جاری  آزادی  کا امرت مہوتسو  15 اگست  ، 2023  ء تک چلے گا ۔ 8 کروڑ سے زیاہ  بہنوں – بیٹیوں کی مجموعی قوت  امرت مہوتسو کو  نئی  اونچائی   پر لے جائے گی ۔  آپ سبھی غور کریں  کہ آپ کی  اقتصادی   ترقی تو   چل رہی ہے   ۔ اتنی بہنوں کا گروپ  ہے  ۔ کیا کوئی نہ کوئی  سماجی کام  ہاتھ  میں لے سکتی ہیں کیا ؟ جس میں روپئے پیسے کا  کاروبار نہیں ہے ، صرف  خدمت  کا جذبہ ہے  کیونکہ سماجی  زندگی میں ، اِس کا بہت اثر ہوتا ہے ۔ جیسے آپ اپنے علاقے کی  دوسری  خواتین کو  تغذیہ کی کمی کی وجہ سے بہنوں کو کیا  پریشانی  آتی ہے  ، 12 ، 15  ، 16 سال کی بیٹیاں ، اگر اُن میں  تغذیہ  کی کمی ہو ،   تو کیا  تکلیف ہے ،  تغذیہ کے لئے   کیسے بیداری  پیدا کی جا سکے ، کیا آپ اپنی ٹیم  کے ذریعے یہ  مہم چلا سکتی ہیں ؟ ابھی ملک   کورونا ویکسین کی ٹیکہ کاری   مہم چلا رہا ہے ۔ سبھی کو مفت  ٹیکہ  لگایا جا رہا ہے ۔ اپنی باری  آنے پر  آپ  بھی ٹیکہ لگوائیں اور اپنے گاؤں کے  دوسرے لوگوں کی بھی اِس کے لئے ہمت افزائی کریں ۔ 

          آپ اپنے گاؤوں میں طے کر سکتے ہیں کہ آزادی کے 75 سا ل ہیں ، ہم کم سے کم ایک  سال   میں 75 گھنٹے ،  میں زیادہ نہیں کہہ  رہا ہوں ، ایک سال میں 75 گھنٹے  ، اِس 15 اگست سے اگلی 15 اگست تک 75 گھنٹے  ، ہم سبھی جو  سہیلی   گروپ کی بہنیں ہیں ، کوئی نہ کوئی صفائی  ستھرائی  کا کام کریں گی گاؤوں میں ۔ کوئی   پانی  کے تحفظ  کا کام کریں گے  ،  اپنے گاؤں کے کنویں  ، تالاب کی مرمت   ، ان کی جدید کاری کی مہم  بھی  چلا سکتے ہیں تاکہ  صرف پیسے  اور  اس کے لئے  گروپ   ایسا نہیں ۔     سماج  کے لئے بھی گروپ ، ایسا بھی ہو سکتا  ہے کیا ۔  ایسا بھی ہو سکتا ہے  کہ آپ سبھی   اپنے   خود امدادی گروپ میں  مہینے  - دو مہینے میں کسی ڈاکٹر کو بلائیں ،  ڈاکٹر کو بلاکر  ، اُن سے کہیں  کہ بھائی  خواتین  کو  کس طرح  کی بیماریاں  ہوتی ہیں ، چوپال  لگائیں ، خواتین کی صحت کے لئے ڈاکٹر  آکر  گھنٹے دو گھنٹے کی تقریر کریں تو آپ سب بہنوں کو بھی فائدہ ہوگا ، اُن کے اندر  بیداری پیدا ہوگی ،  بچوں کی دیکھ بھال کے  لئے   کوئی ٹور  کرنی چاہیئے  ۔ میں مانتا ہوں کہ آپ  سبھی سہیلی گروپوں  کو سال میں ایک بار  آپ جس کام کو کرتے ہیں ، ویسا  کہیں بڑا کام چلتا ہے تو اس کو دیکھنے کے لئے جانا چاہیئے ۔ پوری بس  کرائے پر لے کر جانا چاہیئے  ، دیکھنا چاہیئے    ، سیکھنا چاہیئے ۔ اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے ۔ آپ کسی بڑے  ڈیری پلانٹ  کو دیکھنے   جا سکتی ہیں   ۔ کسی گوبر  گیس پلانٹ کو  یا آس پاس   کسی سولر پلانٹ کو دیکھنے  جا سکتی ہیں ۔ جیسے ابھی   ہم نے پلاسٹک  کا سنا  ، آپ وہاں جاکر  جینتی جی سے مل کر  ، کام کیسے کر رہے ہیں ، دیکھ سکتے ہیں  ۔ آپ نے ابھی   اتراکھنڈ   میں بیکری   کا دیکھا ، بسکٹ کا دیکھا  ، آپ   کی بہنیں  وہاں جاکر دیکھ سکتی ہیں ۔ یعنی یہ   ایک دوسرے  کا جانا   ، سیکھنا  اور اس میں  زیادہ  خرچ نہیں ہوگا ، اس کی وجہ سے آپ کی  ہمت بڑھے گی ۔  اس سے  آپ کو  جو سیکھنے کو ملےگا ، وہ  بھی ملک کے لئے   بہت اہم ہوگا ۔  میرے کہنے کا مطلب ہے  کہ جو کام آپ ابھی  کر رہی ہیں ، اُس کے ساتھ ہی   کچھ ایسے   کام کے لئے بھی  وقت نکالئے ، جو سماج کو لگے  کہ ہاں   آپ اس کے لئے کچھ کر رہے ہیں ، کسی کا بھلا  کرنے کے لئے کر رہے ہیں  ،  کسی کی بھلائی کرنے کے لئے کر رہے ہیں ۔  آپ کی ایسی کوششوں سے ہی   امرت مہوتسو  کی کامیابی  کا امرت  سب طرف پھیلے گا ، ملک کو  اس  کا  فائدہ ملے گا   اور آپ سوچیئے ، بھارت کی 8 کروڑ خواتین  کی مجموعی  قوت   کتنے بڑے نتائج لا سکتی ہے ، ملک کو  کتنا آگے لے جا سکتی ہے ۔ میں تو ان 8 کرور  ماؤں – بہنوں  سے کہوں گا کہ یہ  آپ طے کریئے ، آپ گروپ    میں  کوئی ایسی بہن یا  ماتا ہے ، جس کو لکھنا  پڑھنا نہیں آتا ، آپ اُس کو  پڑھائیے لکھائیے ۔ بہت زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، تھوڑا بہت  ، دیکھئے کتنی بڑی سیوا ہو جائے گی ۔   ان بہنوں کے ذریعے اوروں  کو سکھائیے  ۔   میں تو آپ سے سن رہا تھا ، ایسا لگ رہا تھا  ، جیسے  آپ سے بھی  مجھے بہت  کچھ سیکھنا چاہیئے ، ہم سب کو سیکھنا چاہیئے ۔  کتنی خود اعتمادی کے ساتھ ، کتنی مشکل صورتِ حال میں آپ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ذاتی زندگی میں کتنی  پریشانیاں آئیں ، پھر بھی آپ نے ہار نہیں مانی  اور کچھ  نیا  کرکے دکھایا ۔   آپ کی ایک ایک بات ملک کی ہر ایک ماں بہنوں کو ہی نہیں ،  مجھ جیسے لوگوں کو بھی  تحریک دینے والی ہے ۔ آپ سبھی بہنوں کی بہتر صحت کی  امید کرتے ہوئے  آنے والے رکشا بندھن تہوار  پر  آپ کے آشیرواد بنے رہیں ، آپ کے  آشیرواد  ہمیں نئے نئے کام  کرنے کی تحریک دیں  ، مسلسل کام کرنے کی تحریک دیں  ، آپ کے آشیرواد کی امید کرتے ہوئے  رکشا بندھن کی  پیشگی مبارکباد   دیتے  ہوئے  ، میں اپنی بات  ختم کرتا ہوں ۔

بہت بہت شکریہ !

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India Inc backs Modi’s appeal to cut gold buying and foreign travel amid West Asia tensions

Media Coverage

India Inc backs Modi’s appeal to cut gold buying and foreign travel amid West Asia tensions
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Visit of Prime Minister to UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy (May 15 - 20, 2026)
May 11, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will pay an official visit to the United Arab Emirates on May 15, 2026, where he will meet the President of the UAE, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan. The two leaders will have the opportunity to exchange views on bilateral issues, in particular energy cooperation, as well as regional and international issues of mutual interest. They will also discuss ways to advance the bilateral Comprehensive Strategic Partnership underpinned by strong political, cultural, economic and people-to-people links. The visit will serve to promote the significant trade and investment linkages between the two countries. The UAE is India’s third largest trade partner and its seventh largest source of investment cumulatively over the past 25 years. With the UAE hosting over 4.5 million - strong Indian community, the visit will also be an opportunity to discuss their welfare.

For the second leg of his visit, at the invitation of the Prime Minister of the Netherlands, H.E. Mr. Rob Jetten, Prime Minister Modi will pay an official visit to the Netherlands from May 15-17, 2026. This will be Prime Minister’s second visit to the Netherlands after his previous visit in 2017. During the visit, Prime Minister will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Rob Jetten. Prime Minister’s visit will build on the momentum of high-level engagements and close cooperation spanning diverse sectors, including defence, security, innovation, green hydrogen, semiconductors and a Strategic Partnership on Water. Prime Minister’s visit early in the tenure of the new Government will provide an opportunity to further deepen and expand the multifaceted partnership. Netherlands is one of India's largest trade destinations in Europe, with bilateral trade worth USD 27.8 billion (2024-25); and India's 4th largest investor with cumulative FDI of USD 55.6 billion.

For the third leg of the visit, at the invitation of the Prime Minister of the Kingdom of Sweden, H.E. Mr. Ulf Kristersson, Prime Minister will travel on 17-18 May 2026 to Gothenburg, Sweden. Prime Minister had earlier visited Sweden in 2018 for the first-ever India-Nordic Summit. PM Modi will hold bilateral talks with PM Kristersson to review the entire gamut of bilateral relations and explore new avenues of cooperation to enhance bilateral trade, which has reached USD 7.75 billion (2025), and Swedish FDI into India which has reached USD 2.825 billion (2000 – 2025), as well as collaboration in green transition, AI, emerging technologies, startups, resilient supply chains, defence, space, climate action and people-to-people ties. The two Prime Ministers will also address the European Round Table for Industry, a leading pan-European business leaders forum, along with H.E. Ms. Ursula von der Leyen, President of the European Commission.

In the fourth leg of his visit, Prime Minister will pay an official visit to Norway from 18 - 19 May 2026 for the 3rd India-Nordic Summit and bilateral engagements. This will be the first visit of Prime Minister Modi to Norway, and will mark the first Prime Ministerial visit from India to Norway in 43 years. Prime Minister will call on with Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, and hold bilateral talks with Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre. Prime Minister will also address the India-Norway Business and Research Summit along with the Norwegian Prime Minister. The visit will provide an opportunity to review the progress made in India-Norway relations and explore avenues to further strengthen them, with a focus on trade and investment, capitalizing on the India – EFTA Trade and Economic Partnership Agreement, as well as on clean & green tech and blue economy. The visit will also be an opportunity to induce momentum in bilateral trade worth around USD 2.73 billion (2024), and investments by Norway’s Government Pension Fund (GPFG) of close to USD 28 billion in the Indian capital market.

The 3rd India-Nordic Summit will take place in Oslo on 19 May 2026. Prime Minister Shri Narendra Modi will be joined by the Prime Minister of Norway, H.E. Mr. Jonas Gahr Støre; Prime Minister of Denmark, H.E. Ms. Mette Frederiksen; Prime Minister of Finland, H.E. Mr. Petteri Orpo; Prime Minister of Iceland, Ms. Kristrún Frostadóttir; and Prime Minister of Sweden, Mr. Ulf Kristersson for the Summit. The Summit will build upon the two previous Summits held in Stockholm in April 2018 and in Copenhagen in May 2022, and will impart a more strategic dimension to India’s relationship with the Nordic countries, especially in technology and innovation; green transition and renewable energy; sustainability; blue economy; defence; space and the Arctic. The visit will also provide an impetus to India’s bilateral trade (USD 19 billion in 2024) and investment ties with Nordic countries as well as help build resilient supply chains following the India-EU FTA and India-EFTA TEPA.

In the final leg of his visit, at the invitation of Prime Minister of the Italian Republic, H.E. Ms. Giorgia Meloni, Prime Minister will undertake an official visit to Italy from 19–20 May 2026. Prime Minister had last visited Italy in June 2024 for the G7 Summit. During the visit, he will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella and hold talks with Prime Minister Meloni. The visit takes place in the backdrop of a strong momentum in bilateral ties with both sides proactively implementing the Joint Strategic Action Plan 2025-2029, a comprehensive road map for cooperation in various sectors including in bilateral trade which reached USD 16.77 in 2025; boosting investment, which has recorded a cumulative FDI of USD 3.66 billion (April 2000-September 2025); defence and security; clean energy; innovation; science and technology; and people - to - people ties.

Prime Minister’s upcoming visit will further deepen India’s partnership with Europe across sectors, particularly trade and investment ties in light of the recently concluded India-EU FTA.