سینٹر میں سردار پٹیل کا مجسمہ لگایا گیا
‘‘سردار پٹیل کا مجسمہ نہ صرف ہماری ثقافتی اقدار کو مضبوط کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی علامت بھی بنے گا’’
‘‘بھارت نہ صرف ایک قوم ہے، بلکہ ایک خیال اور ثقافت بھی ہے’’
‘’بھارت دوسروں کے نقصان کی قیمت پر اپنی ترقی کا خواب نہیں دیکھتا’’
‘‘مجاہدین آزادی نے ایک ایسے بھارت کا خواب دیکھا جو جدید اور ترقی پسند ہو اور اپنی سوچ، فلسفے اور اس کی جڑوں سے گہرائی کے ساتھ جڑا ہوا ہو’’
‘‘سردار پٹیل نے سومناتھ مندر کی بازیابی ہزاروں سالوں کی وراثت کی یاد دلانے کے لیے کی’’
‘آزادی کا امرت مہوتسو کے دوران ہم سردار پٹیل کے خوابوں کا نیا بھارت بنانے کے عہد کے لیے دوبارہ خود کو وقف کر رہے ہیں’’
‘‘بھارت کے امرت کے عہد اور وعدے عالمی سطح پر پھیل رہے ہیں اور دنیا کو جوڑ رہے ہیں’’
‘‘ہماری محنت صرف ہمارے لیے نہیں ہے۔ بھارت کی ترقی سے پوری انسانیت کی فلاح و بہبود جڑی ہوئی ہے’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے سناتن مندر کلچرل سینٹر (ایس ایم سی سی)، مارخم، اونٹاریو، کینیڈا میں سردار پٹیل کے مجسمے کے افتتاح کے موقع پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا۔

آغاز میں وزیر اعظم نے آزادی کا امرت مہوتسو اور یوم گجرات پر اپنی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے اپنے دوروں کے دوران سناتن مندر کلچرل سینٹر کے مثبت اثرات کو انہوں نے محسوس کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے 2015 کے دورے کے دوران بھارت نژاد لوگوں کے پیار اور محبت کو یاد کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘سناتن مندر میں سردار پٹیل کا یہ مجسمہ نہ صرف ہماری ثقافتی اقدار کو مضبوط کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی علامت بھی بنے گا۔’’

بھارت نژاد لوگوں میں ہندوستانی اخلاقیات اور اقدار کی گہرائی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی دنیا میں کہیں بھی نسلوں تک رہ سکتے ہیں لیکن ہندوستان کے تئیں ان کی ہندوستانیت اور وفاداری میں کبھی کمی نہیں آتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی اپنی سکونت والے ملکوں کے لیے پوری لگن اور دیانتداری کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اپنی جمہوری اقدار اور فرض کے احساس کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ‘‘بھارت نہ صرف ایک قوم ہے بلکہ ایک نظریہ اور ایک ثقافت بھی ہے۔ بھارت اس اعلیٰ سطح کی سوچ کا حامل ملک ہے- جو ‘واسودھیو کٹم بکم’ کی بات کرتا ہے۔ بھارت دوسروں کے نقصان کی قیمت پر اپنی ترقی کا خواب نہیں دیکھتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کینیڈا یا کسی دوسرے ملک میں سناتن مندر اس ملک کی اقدار کو بھی فروغ دیتا ہے۔ جب آزادی کا امرت مہوتسو کینیڈا میں منایا جاتا ہے، تو یہ مشترکہ جمہوری اقدار کا جشن بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ‘‘مجھے یقین ہے کہ بھارت کی آزادی کے امرت مہوتسو کا یہ جشن کینیڈا کے لوگوں کو بھارت کو مزید قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا۔’’

وہاں پر سردار پٹیل کے مجسمے اور مقام کو نئے بھارت کی وسیع تصویر بتاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے مجاہدین آزادی نے ایک ایسے بھارت کا خواب دیکھا تھا جو جدید اور ترقی پسند ہو، نیز اس کی سوچ اور فلسفہ اس کی جڑوں سے گہرائی کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسی لیے نئے آزاد بھارت میں سردار پٹیل نے سومناتھ مندر کی بازیابی اور تعمیر نو ہزاروں سالوں کی وراثت کی یاد دلانے کے لیے کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘آج آزادی کا امرت مہوتسو کے دوران ہم خود کو سردار پٹیل کے خواب کا نیا بھارت بنانے کے عہد کے لیے خود کو دوبارہ وقف کر رہے ہیں اور ‘اسٹیچو آف یونٹی’ (مجسمہ اتحاد) اس سلسلے میں ایک اہم تحریک ہے۔’’ سناتن مندر کلچرل سینٹر میں ‘اسٹیچو آف یونٹی’ کی نقل کا مطلب ہے کہ بھارت کے امرت کے عہد اور وعدے بھارت کی حدود تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عہد عالمی سطح پر پھیل رہا ہے جو دنیا کو جوڑ رہا ہے۔

وزیر اعظم نے امرت کے عہد کے عالمی جہت کو دہرایا اور کہا کہ جب ہم آتم نربھر بھارت کی بات کرتے ہیں تو ہم دنیا کی ترقی کے نئے امکانات کھولنے کی بات کرتے ہیں۔ اسی طرح یوگا کی تشہیر و ترویج میں ہر ایک کا بیماری سے پاک ہونے کا احساس فطری ہے۔ پائیدار ترقی اور آب و ہوا کی تبدیلی جیسے مسائل میں بھارت پوری انسانیت کی نمائندگی کر رہا ہے۔ ‘‘ہماری محنت صرف ہمارے لیے نہیں ہے۔ پوری انسانیت کی فلاح و بہبود بھارت کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے’’، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا اور اس پیغام کو آگے لے جانے میں بھارتی تارکین وطن کے بڑھے ہوئے کردار پر زور دیتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کیا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”