مالدیپ سے آئے ہوئے دیگر معزز وزراء اور مہمان،

   محترمہ صدر صالح اور ان کی اہلیہ محترمہ فازنا احمد اور آپ کے وفد کے ارکان کا بھارت میں خیر مقدم کرتے ہوئے مجھے انتہائی خوشی ہو رہی ہے۔ جمہوریہ مالدیپ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر آپ کو ایک بار پھر مبارکباد۔ مالدیپ کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں جمہوریت کے لئے آپ کی جدوجہد اور آپ کی کامیابی لوگوں کے لئے باعث تحریک ہے۔ پچھلے مہینے آپ کی حلف برداری کی تقریب میں شامل ہونا میرے لئے ہی نہیں بلکہ بھارت کے لئے ایک اعزاز کی بات  ہے۔  صدر کا عہدہ سنبھالنے کے ایک مہینے کے اندر اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے آپ نے بھارت کو منتخب کیا ہے یہ ہمارے لئے بہت اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ آپ کے اس دورے سے اُس آپسی گہرے بھروسے اور دوستی کی جھلک ملتی ہے جن پر بھارت –مالدیپ تعلقات  مبنی ہیں۔ ہماری دوستی صرف ہماری جغرافیائی قربت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ سمندر کی لہروں نے ہمارے ساحلوں کو جوڑا ہے۔

تاریخ ، تہذیب ،تجارت اور سماجی تعلقات ہمیں ہمیشہ اور بھی نزدیک لائے ہیں۔ دونوں ملکوں کے لوگ آج جمہوریت میں اپنے اعتماد اور ترقی کی امید سے بھی آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان ان تعلقات کی تاریخ میں ایک نئے باب کی شروعات ہوگی۔

دوستو!

صدر صالح اور میرے درمیان آج بہت ہی سازگار اور دوستی بھرے ماحول میں کامیاب بات چیت ہوئی ہے۔ ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان روایتی اور دوستانہ تعلقات کو اور زیادہ مستحکم کرنے کے اپنے عہد کا اعادہ کیا ۔

معزز صدر،

آپ کی حکومت کے عوام پر مرکوز ترقی کے نظریئے کی میں بہت زیادہ ستائش کرتا ہوں ۔ ایک قریبی دوست اور پڑوسی کی شکل میں ہم مالدیپ  کی کامیابی کی دعا کرتے ہیں۔ مالدیپ کے لوگوں کے زندگی کو بدلنے کی آپ کی سرکار کے اہم منصوبوں کو انجام دینے میں ، مالدیپ میں ترقی کی انسانی صورتحال کو اور بھی بہتر بنانے کی آپ کی کوششوں میں بھارت ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گا۔

مجھے خوشی ہے کہ اس عزم کو پورا کرنے کی خاطر مالدیپ کی سماجی –اقتصادی ترقی کیلئے بھارت بجٹ اجلاس ، کرنسی کی ادلا بدلی اوررعایتی سلسلہ قرض کی صورت  میں 1.4 ارب امریکی ڈالر کی اقتصادی امداد بھارت مالدیپ کو فراہم کرے گا۔

دونوں ملکوں کے درمیان  کنکٹی ویٹی کو بہتر بنانے کیلئے بھی بھارت کا مکمل تعاون رہے گا۔ بہتر کنکٹی وٹی سے اشیا اور خدمات ، اطلاعات ، نظریات ، تہذیب  اور لوگوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوگا۔ بہتر کنکٹی وٹی سے اشیاء اور خدمات ، اطلاعات ، نظریات ، تہذیب اور لوگوں کی آمدورفت  کو بڑھاوا ملے گا۔ صحت ، انسانی وسائل کا فروغ ، بنیادی ڈھانچہ ، زراعت ،صلاحیت سازی ، آئی سی ٹی اور سیاحت میں بھی ہماری ساجھیداری کو اور زیادہ مضبوط بنانے  کیلئے  میں نے  صدر صالح کو یقینی دہائی کرائی ہے۔

ہم نے  اگلے پانچ برسوں میں مالدیپ کے شہریوں کی تربیت اور صلاحیت سازی کیلئے اضافی ایک ہزار سیٹیں دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے شہریوں کے درمیان سازگار ماحول ہمارے تعلقات کا خصوصی پہلو ہیں۔ اس لئے آج ہم نئے ویزا سمجھوتے پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ہم اپنے تجارتی تعلقات کے علاوہ دو طرفہ تجارت کو بڑھاوا دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔  مالدیپ نے مختلف شعبوں میں بھارتی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کیلئے بڑے مواقعے کا میں خیر مقدم کرتا ہوں۔ یہ دونوں ملکوں کیلئے فائدے مند ہے۔

مالدیپ میں شفاف ، جوابدہ اور اصولوں پر مبنی انتظامیہ کا ویژن ہندوستانی کاروباریوں کا خیر مقدم کرنے کا پیغام دیتا ہے ۔ محترم صدر ، بھارت کو فخر ہے کہ ہمارے دوست اور پڑوسی مالدیپ نے ’ایل ڈی سی ‘ زمرے سے اوسط درجے کی آمدنی والا ملک بننے کی مثال قائم کی ہے اور مالدیپ کی یہ کامیابی ، پائیدار ترقی ،آب و ہو ا میں تبدیلی کے سنگین چیلنجوں کے باوجود ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے میں اور سمندری وسائل کی پائیدار ترقی میں مالدیپ کا رول دنیا بھر میں اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس لئے بھارت اور مالدیپ کے درمیان بحری تعاون کے مختلف زمروں میں  ہم باہمی تعاون بڑھانے پر متفق ہوئے ہیں۔

 عزت مآب،

دولت مشترکہ میں پھر سے شامل ہونے کے آپ کے فیصلے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے۔ ہم بحرہ  ہند کے دائرے کی انجمن (آئی او آر اے) میں بھی  آپ کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔  صدر صالح اور میں اس پر بھی متفق ہیں کہ بحرہ ہند کے خطے میں امن اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لئے ہمیں اپنے تعاون کو اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے دفاعی مفاد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس خطے کے استحکام کیلئے  ایک دوسرے کے مفاد اورتشویش کے تئیں چوکس رہنے پر بھی ہم اتفاق رکھتے ہیں ۔

ساتھ ہی ایسی کسی بھی سرگرمیوں کیلئے ہم اپنے ملکوں کا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ جس سے ایک دوسرے کو نقصان ہو۔ہمارے خطے کی ترقی اور استحکام میں بھارت اور مالدیپ دونوں کی برابر کی دلچسپی اور حصہ داری ہے۔ میں مالدیپ اور ہمارے علاقے کے ایک ایسے تابناک مستقبل کے لئے صدر صالح کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہوں جس میں بھارت اور مالدیپ کے تعلقات کے تمام امکانات کو فروغ دیا جا سکے ۔ اور ان کا پورا پورا فائدہ دونوں ملکوں کے شہریوں کو اور اس خطے کے لوگوں کو حاصل ہو۔

بہت بہت شکریہ

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
AI could contribute over $500 bn to India's economy by 2030: IBM-IndiaAI study

Media Coverage

AI could contribute over $500 bn to India's economy by 2030: IBM-IndiaAI study
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Prime Minister’s Visit to the UAE
May 15, 2026

S.No.

MoU/Agreement

Objectives

1.

MoU on Strategic Collaboration between Indian Strategic Petroleum Reserves Limited (ISPRL) and Abu Dhabi National Oil Company (ADNOC)

(a) Potential ADNOC crude oil storage in India’s Strategic Petroleum Reserves upto 30 million barrels, including through its participation in facilities in Vishakhapatnam, Andhra Pradesh; and development of reserve facilities in Chandikol, Odisha.

(b) Potential storage of crude oil in Fujairah, UAE, to form part of the Indian strategic petroleum reserve;

(c) Potential collaboration in Liquid Natural Gas and Liquid Petroleum Gas storage facilities in India

2.

Strategic Collaboration Agreement between Indian Oil Limited (IOCL) Company and Abu Dhabi National Oil Company (ADNOC) on supplies of Liquified Petroleum gas (LPG)

Explore potential opportunities in the sale and purchase of LPG, including long term supply of LPG, and entry into a long-term LPG sale and purchase agreement between ADNOC Gas Limited and IOCL.

3.

Framework for the Strategic Defence Partnership

A Strategic Framework for Defence Industrial collaboration, innovation and advanced technology, training, exercises, education and doctrine, special operations and interoperability, maritime security, cyber defence, secure communications and information exchange.

4.

MoU between Cochin Shipyard Limited (CSL) and Drydocks World (DDW) on setting up Ship Repair Cluster at Vadinar

 

Cooperation for setting up a Ship Repair Cluster at Vadinar, including offshore fabrication, under the Maritime Development Fund Scheme launched by the Government of India.

5.

MoU between Cochin Shipyard Limited (CSL), Drydocks World (DDW) and Centre of Excellence in Maritime & Shipbuilding (CEMS) on Skill Development in Ship Repair

The tripartite agreement establishes a framework to mobilize, train and employ skilled maritime workforce. The MoU seeks to enhance capabilities of Indian maritime workforce and position India as a hub for skilled shipbuilding and ship repair professionals.

6.

Term Sheet for setting up 8 Exaflop Super Computing Cluster in partnership between CDAC, India and G-42, UAE

 

Pave the way for collaboration between CDAC and G-42 to set up super computing cluster as part of AI Mission India.

Announcement

7.

Investment from UAE to India

(i) Abu Dhabi Investment Authority (ADIA) and National Infrastructure & Investment Fund (NIIF) of India to explore investments upto US$ 1 bn in India’s infrastructure sector.

(ii) Emirates New Development Bank (ENBD) to invest US$ 3 billion in RBL BANK of India

(iii) International Holding Company to invest US$ 1 billion in Sammaan Capital of India.