Share
 
Comments

نئی دہلی،26؍جون،وزیراعظم نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں صدر کے خطبے سے متعلق شکریہ کی تحریک پر اپنا جواب دیا۔ انہوں نے ایوان بالا میں ہونے والی بحث میں شا مل ہونے کے لئے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے ایم پی آنجہانی مدن لال سینی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے شہری استحکام کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستحکم حکومت منتخب کرنے کا رجحان کئی ریاستوں میں بھی نظر آرہا ہے۔
حالیہ لوک سبھا انتخابات کے دوران انتخابی عمل کی ستائش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پورے عمل کا پیمانہ انتہائی وسیع ہے۔ انہوں نے کچھ لیڈروں کے اس بیا ن کو کہ ’’جمہوریت ہارگئی ہے‘‘، افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ وہ ووٹروں کی دانائی پر سوال کھڑے نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے انتخابی عمل اور جمہویت کا احترام ضروری ہے۔

وزیراعظم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں ( ای وی ایم) پر اٹھائے گئے سوالوں کی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم نے بوتھوں پر قبضہ کرنے اور تشدد کے واقعات کو بہت کم کردیا ہے۔ اب جو خبر آتی ہے وہ ووٹنگ میں اضافے کے بارے میں آتی ہے اور یہ جمہوریت کے لئے ایک صحت مند علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وی وی پیٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر اعتماد کو مستحکم کیا ہے۔

انتخابی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں انتخابی عمل کو مستحکم کرنے کے لئے اصلاحات بہت ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ذکر کیا کہ یہ بہت اہم ہے کہ ’’ایک ملک – ایک انتخاب‘‘ جیسی انتخابی اصلاحات کی تجویز پر تبادلہ کیا جائے اور معلومات فراہم کی جائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تمام عمل کو آسان بنانے کے لئے کوشش کی ہے کہ جس سے بھارت کے عوام کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عام آدمی کو باختیار بنانے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے ملک کے شہریوں کے لئے مکان ، بجلی ، گیس کنکشن ، بیت اخلاء وغیرہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کے کام کو اجاگر کیا۔

جناب مودی نے ہر ایک پر زور دیا کہ وہ بھارت کو پانچ ٹریلین ڈالر والی معیشت بنانے کے لئے کام کریں۔ انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے کہا کہ وہ مثبت ذہنیت کے ساتھ کام کریں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنے مشورے اور نظریات پیش کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ جھارکھنڈ میں ہوئے حالیہ واقعے پر بہت افسردہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قصور واروں کو ملک کے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک واقعے کے لئے پوری ریاست کو بدنام کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہئے اور ایسے واقعات سے ، اس امر کے برعکس کہ وہ کس ریاست میں ہوئے ہیں، قانون کے مطابق یکساں طور پر نمٹا جانا چاہئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ آیوشمان بھارت کو مستحکم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے غریب اعلیٰ معیار کا اور قابل بردا شت علاج حاصل کرسکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ امنگوں والے اضلاع کی ترقی پر سختی سے توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔

امداد باہمی پر مبنی وفاقیت کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی امنگوں کے ساتھ قومی خواہش بہت اہم ہے۔
وزیراعظم نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ملک کو زیادہ بہتر اور مضبوط بنانے کے لئے جو کچھ کر سکتے ہیں، کریں۔ انہوں نے ہر ایک پر زور دیا کہ وہ بھارت کو نئی اونچائیوں تک لے جانے اور ایک نیا بھارت تشکیل دینے کے لئے مل کر کام کریں۔

 

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
How India is building ties with nations that share Buddhist heritage

Media Coverage

How India is building ties with nations that share Buddhist heritage
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM interacts with CEOs and Experts of Global Oil and Gas Sector
October 20, 2021
Share
 
Comments
Our goal is to make India Aatmanirbhar in the oil & gas sector: PM
PM invites CEOs to partner with India in exploration and development of the oil & gas sector in India
Industry leaders praise steps taken by the government towards improving energy access, energy affordability and energy security

Prime Minister Shri Narendra Modi interacted with the CEOs and Experts of the global oil and gas sector earlier today, via video conferencing.

Prime Minister discussed in detail the reforms undertaken in the oil and gas sector in the last seven years, including the ones in exploration and licensing policy, gas marketing, policies on coal bed methane, coal gasification, and the recent reform in Indian Gas Exchange, adding that such reforms will continue with the goal to make India ‘Aatmanirbhar in the oil & gas sector’.

Talking about the oil sector, he said that the focus has shifted from ‘revenue’ to ‘production’ maximization. He also spoke about the need to enhance  storage facilities for crude oil.  He further talked about the rapidly growing natural gas demand in the country. He talked about the current and potential gas infrastructure development including pipelines, city gas distribution and LNG regasification terminals.

Prime Minister recounted that since 2016, the suggestions provided in these meetings have been immensely useful in understanding the challenges faced by the oil and gas sector. He said that India is a land of openness, optimism and opportunities and is brimming with new ideas, perspectives and innovation. He invited the CEOs and experts to partner with India in exploration and development of the oil and gas sector in India. 

The interaction was attended by industry leaders from across the world, including Dr. Igor Sechin, Chairman & CEO, Rosneft; Mr. Amin Nasser, President & CEO, Saudi Aramco; Mr. Bernard Looney, CEO, British Petroleum; Dr. Daniel Yergin, Vice Chairman, IHS Markit; Mr. Olivier Le Peuch, CEO, Schlumberger Limited; Mr. Mukesh Ambani, Chairman & Managing Director, Reliance Industries Limited; Mr Anil Agarwal, Chairman, Vedanta Limited, among others.

They praised several recent achievements of the government towards improving energy access, energy affordability and energy security. They appreciated the leadership of the Prime Minister towards the transition to cleaner energy in India, through visionary and ambitious goals. They said that India is adapting fast to newer forms of clean energy technology, and can play a significant role in shaping global energy supply chains. They talked about ensuring sustainable and equitable energy transition, and also gave their inputs and suggestions about further promotion of clean growth and sustainability.