یہ پورے تلنگانہ میں بہتر بنیادی ڈھانچے اور ہموار رابطہ کاری کی جانب ایک بڑا قدم ہے: وزیر اعظم
آج بھارت ”ریفارمز ایکسپریس“ پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے؛ اسی کے ساتھ آج کا بھارت جدید بنیادی ڈھانچہ بھی تعمیر کر رہا ہے: وزیر اعظم
ماضی میں جب بھارت ایک بڑی عالمی معیشت تھا، ہماری ٹیکسٹائل صنعت نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا؛ اب ہم اس ورثے کو دوبارہ مضبوط بنا رہے ہیں؛ وارنگل میں پی ایم مترا پارک ملک میں ٹیکسٹائل انقلاب کو تیز کرے گا: وزیر اعظم
گزشتہ 12 برسوں کے دوران جدید رابطہ کاری بھی حکومت ہند کی ایک بڑی ترجیح رہی ہے؛ چاہے سڑکیں ہوں، ریلوے ہو یا ہوائی اڈے، ہر قسم کے رابطہ نظام میں بے مثال سرمایہ کاری کی جا رہی ہے: وزیر اعظم
آج دنیا بھر کا ہر فرد توانائی کے تحفظ کی اہمیت کو محسوس کر رہا ہے؛ اسی لیے ہماری مرکزی حکومت بھارت کے توانائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی سرمایہ کاری کر رہی ہے: وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج حیدرآباد، تلنگانہ میں تقریباً 9,400 کروڑ روپے مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اور ملک کے نام وقف کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے حیدرآباد کی اس تبدیلی آمیز اہمیت کو اجاگر کیا جو اسے قومی اور عالمی سطح پر ایک نمایاں مرکز بناتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ خطہ تلنگانہ اور پورے ملک کی تیز رفتار ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اور آج شروع کیے گئے متعدد بڑے منصوبے تلنگانہ کو ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر قائم کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان منصوبوں سے ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقائی رابطہ کاری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے ان منصوبوں پر تلنگانہ کے عوام کو مبارکباد بھی پیش کی۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت ”ریفارمز ایکسپریس“ پر آگے بڑھتے ہوئے مختلف شعبوں میں جدید بنیادی ڈھانچہ بھی تعمیر کر رہا ہے۔ انہوں نے ظہیرآباد انڈسٹریل ایریا کو اس تبدیلی کا ایک اہم ستون قرار دیا، جو حکومتِ ہند کے صنعتی کوریڈور کی ترقی کے قومی مشن کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھرنے والا یہ کمپلیکس ایک ”انڈسٹریل اسمارٹ سٹی“ کے طور پر کام کرے گا، جہاں عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ، بہترین بجلی کی فراہمی اور جدید آئی سی ٹی نیٹ ورکس دستیاب ہوں گے، تاکہ عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے ادارے قائم کرنے کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ مالیاتی عزم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت ان سہولیات کے لیے ہزاروں کروڑ روپے فراہم کر رہی ہے، جس سے تلنگانہ اور حیدرآباد کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس کے وسیع اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ”یہاں تیار ہونے والی گاڑیاں، مشینری، اور اس زون میں قائم فوڈ پروسیسنگ صنعتیں تلنگانہ کے مزدوروں اور کسانوں دونوں کو بااختیار بنائیں گی۔“

 

بھارت کے اُس تاریخی دور کو یاد کرتے ہوئے جب ملک ایک بڑی عالمی معیشت تھا اور ٹیکسٹائل صنعت نے تبدیلی آمیز کردار ادا کیا تھا، وزیر اعظم نے اس اسٹریٹجک شعبے کو جدید اقدامات کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وارنگل میں قائم ہونے والا پی ایم مترا پارک ملک میں ٹیکسٹائل انقلاب کو نئی رفتار دے گا، جبکہ اس میں شامل یونٹس کو مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں، بشمول پی ایل آئی اسکیم، کے تحت جامع فوائد حاصل ہوں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مستفید ہونے والے ادارے پہلے ہی پی ایل آئی اسکیم کے فوائد حاصل کرنا شروع کر چکے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ”یہ ٹیکسٹائل پارک بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے لیے۔“

سڑکوں، ریلوے اور ہوائی اڈوں سمیت جدید رابطہ کاری کے بنیادی ڈھانچے میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران حکومت ہند کی غیر معمولی سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ صرف قومی شاہراہوں کی ترقی کے لیے تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو اس قومی ترجیح سے نمایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں، اور گزشتہ 12 برسوں میں ریاست کے قومی شاہراہی نیٹ ورک میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ-کرناٹک قومی شاہراہ کی توسیع کے منصوبے کے فوری فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے سفر کا وقت کم ہوگا اور نقل و حمل کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منظم بنیادی ڈھانچہ جاتی سرمایہ کاری کے عملی نتائج عوام تک براہِ راست پہنچ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا، ”تلنگانہ اور کرناٹک کو جوڑنے والی قومی شاہراہ کی توسیع سے عوام کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔“

 

تلنگانہ میں ریلوے سرمایہ کاری کی موجودہ صورتحال کا 2014 سے پہلے کے دور سے موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نمایاں اضافے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے قبل متحدہ آندھرا پردیش کا ریلوے بجٹ ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھا، جبکہ آج تلنگانہ کے لیے سالانہ ریلوے مختص رقم ساڑھے پانچ ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے مالیت کے ریلوے منصوبے بیک وقت زیر عمل ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ تلنگانہ میں پانچ وندے بھارت اور چھ امرت بھارت ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں، جو جدید ریل نقل و حمل میں تبدیلی کی واضح مثال ہیں۔ کازی پیٹ-وجے واڑہ ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹ کے منتخب حصوں کے افتتاح اور کازی پیٹ ریل انڈر بائی پاس لائن کو ملک کے نام وقف کرنے کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا، ”یہ سہولیات سفر کو آسان بنائیں گی اور نقل و حمل کی رفتار میں اضافہ کریں گی۔“

اکیسویں صدی کے عالمی تناظر میں توانائی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، جہاں توانائی میں رکاوٹ پورے معاشی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا بھر کا ہر فرد توانائی کے تحفظ کی تزویراتی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہند قومی توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے غیر معمولی سرمایہ کاری کر رہی ہے، اور ملکاپور میں انڈین آئل کے نئے ٹرمینل کے افتتاح کو ایک اہم قدم قرار دیا۔ اس منصوبے کی علاقائی ترقی کے لیے اہمیت بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ”یہ ٹرمینل تلنگانہ کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کرے گا اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنائے گا۔“

 

حالیہ برسوں میں بھارت کے عالمی سطح پر شمسی توانائی پیدا کرنے والے سرِفہرست ممالک میں شامل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک نے اس شعبے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش میں نمایاں کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی مرحلہ وار توانائی تنوع حکمتِ عملی کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں توجہ سب کے لیے ایل پی جی کی فراہمی پر مرکوز تھی، جو اب سستی پائپ والی نیچرل گیس کی تقسیم اور ملک بھر میں سی این جی پر مبنی نظاموں کے فروغ کی جانب بڑھ چکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسی نوعیت کے جامع اقدامات بھارت کو موجودہ عالمی توانائی بحران کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔ انہوں نے توانائی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درآمد شدہ توانائی مصنوعات کو صرف حقیقی ضرورت کے مطابق اور محتاط انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ زرمبادلہ کے تحفظ اور جنگی بحرانوں کے منفی اثرات میں کمی کے مالیاتی اور جغرافیائی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب مودی نے کہا، ”ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ صرف اتنی ہی توانائی استعمال کریں جتنی ضرورت ہو، تاکہ زرمبادلہ کی بچت ہو اور جنگی بحرانوں کے منفی اثرات کم کیے جا سکیں۔“

 

تلنگانہ کے نوجوانوں کو نئی امنگوں کا معمار اور ریاست کے کسانوں کو نئی امید کی علامت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے صنعتوں، ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپ کے اس اجتماعی عزم کو سراہا کہ وہ ایک ترقی یافتہ تلنگانہ کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بنیادی اصول پر زور دیا کہ تلنگانہ کی ترقی دراصل قومی ترقی کا لازمی حصہ ہے، اور ریاست کی خوشحالی براہِ راست ملک کی خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے۔ تلنگانہ کے ہر خاندان کو یقین دہانی کراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتِ ہند ریاست کے عوام کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی ترقیاتی کوششیں جاری رکھے گی۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ”اگر تلنگانہ ترقی کرے گا، تو بھارت بھی ترقی کرے گا۔“

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates

Media Coverage

PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 52nd PRAGATI Meeting
June 24, 2026
PM reviews four key infrastructure projects worth around ₹30,000 crore spanning four states across Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors
PM emphasises use of PM GatiShakti National Master Plan and timely updation of project, utility and infrastructure data on the portal for efficient planning
PM asks Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring
PM reviews TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasizes need to leverage latest digital technologies including AI
PM reviews grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest and stresses timely action, coordinated response and e-Zero FIR registration mechanism

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 52nd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State Governments, earlier today at Seva Teerth.

During the meeting, the Prime Minister reviewed four critical infrastructure projects across the Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors, covering four States and costing around ₹30,000 crore. These projects, important for economic growth, regional connectivity, industrial development and public welfare, were reviewed with focus on timelines, inter-agency coordination, issue resolution and timely completion.

Prime Minister underlined that delays in infrastructure projects not only lead to cost escalation, but also deprive people and industries of timely benefits. He asked the concerned Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring at the highest level.

Prime Minister emphasised the use of PM GatiShakti National Master Plan for efficient planning and timely implementation of infrastructure projects. He also underlined the need for regular and timely updation of project details, utilities, infrastructure layers, clearances and other field-level information on the portal. He further emphasised that the platform must reflect the latest ground situation so that bottlenecks can be identified in advance, inter-agency coordination can be improved and decisions can be taken on the basis of reliable, real-time data.

Prime Minister reviewed TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasised the need to leverage latest digital technologies including Artificial Intelligence. He suggested a team of NCC cadets and MY Bharat volunteers, for awareness, patient follow-up and community mobilisation.

Prime Minister also reviewed grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest. He expressed concern over the rising misuse of digital platforms to defraud citizens and stressed that such matters require coordinated, sensitive and time-bound handling by all concerned agencies. He noted that citizens should not be made to run from one department or agency to another. He also emphasized the need for clear ownership, faster response, better coordination among law enforcement agencies, banks and digital platforms, and stronger public awareness campaigns.

Prime Minister observed that in cases involving cyber fraud, timely action is crucial to prevent financial loss and restore public confidence. He asked all stakeholders to work in close coordination to strengthen prevention, reporting, investigation and grievance redressal mechanisms. He also emphasised that States should work towards enabling e-Zero FIR mechanisms for faster registration and response in cyber fraud cases.