نئی دہلی،10/ فروری وزیر اعظم جناب نریندرمودی نے تمل ناڈو کے تیروپ پور کا دورہ کیا اور ریاست میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔

وزیر اعظم نے تیروپ پور کے پیرومانلّورگاؤں میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔

انھوں نے تیروپ پور میں ملازمین کے اسٹیٹ انشورینس کارپوریشن (ای ایس آئی سی)کے کثیر جہتی اسپیشلیٹی اسپتال کا سنگ بنیاد رکھا۔ای ایس آئی ایکٹ کے تحت 100 بستروں والا جدید ترین سہولیات سے آراستہ یہ اسپتال تیروپ پور اور آس پاس کے علاقوں میں رہ رہے ایک لاکھ سے زائد ملازمین اور ان کے خاندانوں کی طبی ضروریات پوری کرے گا۔ اس سے پہلے شہرمیں کام کر رہے دو ای ایس آئی سی ڈسپنسری کے ذریعہ مذکورہ لوگوں کی ضروریات پوری ہوتی تھی۔ کسی ایڈوانس طبی ضرورت کے لیے انھیں کوئمبٹور میں واقع ای ایس آئی سی میڈیکل کالج ہاسپیٹل پہنچنے کے لیےکم از کم 50 کلو میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا۔

وزیر اعظم نے ای ایس آئی سی اسپتال ، چنئی کو قوم کے نام وقف کیا۔ 470 بستروں والے جدید ترین سہولیات سے آراستہ یہ اسپتال میڈیکل کے ہر شعبہ میں معیاری علاج مہیا کرے گا۔

وزیر اعظم نے تریچی ایئرپورٹ پر نئی مربوط عمارت اور چنئی ایئرپورٹ کی تجدید کاری کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ تریچی کی اِس نئی مربوط ٹرمینل عمارت کے ساتھ یہ ایئرپورٹ سالانہ 3.63 ملین مسافروں اور مشغول ترین اوقات میں 2900 مسافروں کو سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنئی ایئرپورٹ کی تجدید کاری کی جائے گی جس میں ای-گیٹس اور بایومیٹرک پر مبنی مسافروں کی اسکریننگ کے نظام، دیگر متعدد سہولیات شامل ہوں گے۔ اور موجودہ بین الاقوامی روانگی ٹرمینل میں بھیڑکم ہوجائے گی۔

بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) کے اِنّور ساحلی ٹرمینل کو وزیر اعظم نے اِس موقع پر قوم کے نام وقف کیا۔یہ ٹونڈیار پیٹھ فیسلیٹی کا ایک بڑا اور بہتر متبادل ثابت ہوگا۔ اِس ٹرمینل کی شروعات سے پیداوار کو کوچی کے ساحل سے منتقل کیا جاسکتا ہے جس سے بذریعہ روڈ آمد ورفت کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

وزیر اعظم نے چنئی پورٹ سے چنئی پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ(سی پی سی ایل) کے منالی ریفائنری تک کے لیے نئی خام تیل کی پائپ لائن کا بھی افتتاح کیا۔جدید ترین تحفظاتی سہولیات سے آراستہ یہ پائپ لائن خام تیل کی محفوظ اور قابل اعتماد سپلائی کو یقینی بنائے گا نیز تمل ناڈو اور پڑوسی ریاستوں کی ضروریات بھی پوری کرے گا۔

وزیر اعظم نے اے جی – ڈی ایم ایس میٹرو اسٹیشن اور واشرمین پیٹھ میٹرو اسٹیشن کے مابین چلنے والی چنئی میٹرو کے ایک سیکشن کے لیے مسافرین خدمات کا بھی افتتاح کیا۔ 10 کلو میٹر کا یہ سیکشن چنئی میٹرو کے پہلے مرحلہ کا ایک حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرحلہ ایک کا 45 کلو میٹر آپریشنل ہوگیا ہے۔

بعد ازاں وزیر اعظم اپنے دورے کے آخری مرحلے میں ہبلی کے لیے روانہ ہوگئے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.