نئی دہلی، 07: فروری 2021: وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج مغربی بنگال میں ہلدیہ کا دورہ کیا اور 348 کلومیٹر دوبھی – درگاپور قدرتی گیس پائپ لائن سیکشن کے ایل پی جی درآمداتی ٹرمنل کو قوم کے نام وقف کیا ، جوکہ پردھان منتری اورجا گنگا پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ انہوں نے ہلدیہ ریفائنری کے دوسرے کیٹالیٹک - آئیسو ڈی ویکسین یونٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا نیزاین ایچ 41پرہلدیہ کے رانی چک کے مقام پر چار لین والے آر او بی – کم – فلائی اوور کو قوم کے نام وقف کیا۔اس تقریب میں مغربی بنگال کے گورنر اور مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان کے علاوہ دیگر نے بھی شرکت کی ۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نےکہا کہ آج کا دن، کنکٹوٹی اور صاف تیل کی دستیابی کے آتم نربھر بھارت کے ضمن میں مغربی بنگال اور پورے مشرقی ہندوستان کے لئے ایک بڑا اہم دن ہے ۔ یہ چاروں پروجیکٹ خطے میں سکونت کی آسانی اور کاروبار کرنے کی آسانی ، دونوں کو بہتر بنائیں گے۔یہ پروجیکٹس ہلدیہ کو برآمدات -درآمدات کا ایک اہم مرکز بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ گیس پر مبنی معیشت ہندوستان کے لئے وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ،ایک قوم –ایک گرڈ ایک اہم قدم ہے۔ اس کے لئے قدرتی گیس کی لاگت کو کم کرنے اور گیس پائپ لائن کے نیٹ ورک کو توسیع دینے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ ہماری کاوشوں نے ایک ایسی صورتحال تک رہنمائی کی ہے، جہاں ہندوستان سب سے زیادہ گیس استعمال کرنے والی اقوام کے مابین کھڑا ہے۔سستی اور صاف توانائی کو فروغ دینے کے لئے، بجٹ میں ہائیڈروجن مشن کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ریل ،سڑک ، ہوائی اڈوں ، بندرگاہوں ،آبی شاہراہوں کے شعبوں میں کاموں کی فہرست ظاہر کی ، جن کا مقصد مشرقی ہندوستان میں زندگی اور کاروبار،دونوں کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ گیس کی کمی سے خطے میں صنعت معدوم ہوتی جارہی تھی ، اس کا ازالہ کرنے کی غرض سے مشرقی ہندوستان کو مشرقی اور مغربی بندرگاہوں سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پردھان منتری اورجا گنگا پائپ لائن اس پروجیکٹ کا حصہ ہے،جس کا بڑا حصہ آج قوم کے نام وقف کیا گیا۔350 کلومیٹر طویل دوبھی - درگاپور پائپ لائن ، براہ راست نہ صرف مغربی بنگال بلکہ بہار اور جھارکھنڈ کے 10 اضلاع کو بھی فائدہ پہنچائے گی۔ اس کی تعمیر کے کام میں 11 لاکھ افرادی کام کرنے کے دن کا روزگار، مقامی لوگوں کو فراہم کیا گیا۔اس سے باورچی خانوں میں صاف پائپ ایل پی جی پہنچائی جائے گی اور صاف سی این جی گاڑیاں بھی چلیں گی۔سِندری اور درگاپور فرٹیلائزر کی فیکٹریاں تسلسل کے ساتھ گیس سپلائی حاصل کرے گی۔ وزیراعظم جناب مودی نے جی اے آئی ایل اور مغربی بنگال سرکار سے کہا ہے کہ وہ جگدیش پور –ہلدیہ کے درگاپور - ہلدیہ سیکشن اور بوکارو – دھمرا پائپ لائن کے کام کو تیزی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

اجولا اسکیم نے خطے میں ایل پی جی کے لئےبہت زیادہ بڑے علاقے کا احاطہ کیا ہے اورخطے میں ایل پی جی کے مطالبے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خطے میں ایل پی جی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے کام جاری ہے ۔مغربی بنگال میں خواتین کو 90 لاکھ مفت ایل پی جی کے کنکشن دئے گئے ، جن میں 36 لاکھ سے زیادہ خواتین کا تعلق در ج فہرست ذاتوں / درج فہرست قبائل کے زمرے سے ہے۔گزشتہ 6 برسوںمیں مغربی بنگال میں ایل پی جی کے احاطے میں 40فیصد سے اضافہ ہوکر یہ 99 فیصد ہوگیا ہے۔ اس سال کے بجٹ میں اجولا اسکیم کے تحت ایک کروڑ مزید مفت گیس کنکشن فراہم کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے ۔ہلدیہ کا ایل پی جی درآمداتی ٹرمنل وسیع مطالبے کو پورا کرنے میں بڑا کردار ادا کرے گا کیونکہ یہ مغربی بنگال ،اوڈیشہ ، بہار ، جھارکھنڈ ،چھتیس گڑھ ، اترپردیش اور شمال مشرق میں کروڑوں خاندان کو خدمات فراہم کرے گا کیونکہ یہاں سے دو کروڑ سے زیادہ افراد گیس حاصل کرسکیں گے ، جن میں سے ایک کروڑ اجولا اسکیم کے مستفدین ہوں گے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے مزید کہا کہ صاف تیل کے لئے ہمارے عز م کے حصے کےطورپر بی ایس -6 تیل کے پلانٹ کی صلاحیت سازی کی مزین کاری کا کام آج سے شروع کردیا گیا ہے۔ یہ دوسرا کیٹالیٹک ڈی ویکسین یونٹ ، لیوب –پر مبنی تیل کے تعلق سے برآمدات پر ہمارے انحصار میں کمی لائے گا۔وزیر اعظم نے کہا ’’ ہم ایک ایسی صورتحال کی جانب گامزن ہیں، جہاں ہم برآمداتی صلاحیت وضع کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔‘‘

وزیر اعظم جناب مودی نے زور دےکر کہا کہ مرکزی سرکار مغربی بنگال کو ایک اہم تجارتی اور صنعتی مرکز بنانے کے لئے مسلسل کام کررہی ہے۔اس کے لئے ساحلی قیادت والی ترقیات ایک اچھا ماڈل ہے ۔کولکتہ کے سیاما پرساد مکھرجی پورٹ ٹرسٹ کی جدید کاری کے لئے بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں۔وزیراعظم نے ہلدیہ ڈوک کمپلیکس کی صلاحیت اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کنکٹوٹی کو مستحکم کرنے پر بھی زوردیا۔نیا فلائی اوور اور مجوزہ اندرون ملک آبی شاہراہوں کے ملٹی –ماڈل کی اتھارٹی کنکٹوٹی کو بہتر بنائے گی۔وزیراعظم جناب نریندر مودی نے اختتامیہ کلمات میں کہا ’’ اس سے، ہلدیہ ،آتم نربھر بھارت کے لئے، بےشمار توانائی کے ایک مرکز کے طور پر ابھر کرسامنے آئے گا۔‘‘

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.